English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

حیدر آباد میں جوتا سازی کی تربیت دینے کے سرکاری ادارے پر 27 سال سے تالے، شہر میں جوتوں کی مشہور صنعت زوال پذیر

راشد لغاری

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

حیدر آباد میں جوتا سازی کی تربیت دینے کے سرکاری ادارے پر 27 سال سے تالے، شہر میں جوتوں کی مشہور صنعت زوال پذیر

راشد لغاری

loop

انگریزی میں پڑھیں

حیدر آباد کے پچاس سالہ محمد فرید 'مرزا حیدر آبادی' جوتا اور چپل بنانے کے ماہر ہیں۔ یہ ہنر انہیں ان کے اجداد سے ملا ہے۔انہوں نے حیدرآباد کے مرکزی علاقے سوچی پاڑہ میں اپنے گھر کے قریب  جوتوں کی دکان اور چھوٹا سا کارخانہ بنا رکھا ہے۔

فرید بتاتے ہیں کہ 25 سال پہلے تک حیدرآباد جوتے اور چپل بنانے کی صعنت کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ شاہی بازار کے قریب واقع گنجان آباد محلہ سوچی پاڑہ (سندھ میں جوتے مرمت کرنے والے کو 'موچی' اور نئے جوتے بنانے والے کو 'سوچی' کہا جاتا ہے) کی تنگ گلیوں میں واقع گھروں میں چپل اور جوتے بنائے جاتے تھے۔ یہ جوتے ناصرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی شوق سے خریدے جاتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ حیدرآباد کی چوڑی کی طرح یہاں کے 'مرزا حیدرآبادی' و دیگر چپل جوتے آج بھی بہت پسند کیے جاتے ہیں لیکن اب جوتا سازی کی صنعت اور منڈی لاہور منتقل ہو چکی ہے۔حیدر آباد میں جتنے بھی چھوٹے کارخانے ہیں ان سب میں ہاتھ سے کام کیا جاتا ہے۔جبکہ لاہور میں مشینوں پر جوتے بنتے ہیں۔

فرید نے بتایا کہ حیدرآباد میں جوتا سازی گھریلو صنعت ہے۔ دکانوں پر مرد اور گھر میں خواتین مل کر بھی روزانہ صرف دو سو جوتے بنا پاتے ہیں۔لیکن لاہور کا ایک کارخانہ روزانہ 10 ہزار سے زیادہ جوتے تیار کر لیتا ہے جو سستے بھی بنتے ہیں اس لیے اب بیشتر دکاندار لاہور ہی سے جوتے منگوا کر بیچتے ہیں۔

 حیدرآباد میں اس وقت جوتوں کے تقریباً دو ہزار چھوٹےکارخانے کام کر رہے ہیں۔ ہاتھ سے بنائے جانے والے یہ جوتے مضبوط ہوتے ہیں اور اسی لیے مہنگے بھی بنتے ہیں۔ لاہور کے مصنوعی لیدر کی  مشینی چپل ڈیڑھ سے دو سو روپے میں بنتی ہیں جبکہ ہاتھ سے بنی چپل ڈھائی سو سے کم میں نہیں بنائی جا سکتی۔

 حیدرآباد میں خواتین کے فینسی چپل بھی بنائے جاتے ہیں مگر یہ آرڈر پر بنتے ہیں۔موچی بازار کے علاوہ سرفراز کالونی، لطیف آباد اور پکا قلعہ میں خواتین جوتے بناتی ہیں۔

پاکستان میں سالانہ چار کروڑ جوتوں کی مانگ ہے اور اس طلب کو ملکی پیداوار کے علاوہ چین سے درآمدات کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔

سندھ حکو مت نے لگ بھگ 35 سال قبل مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے اور مقامی صنعت کے فروغ کے لیے حیدرآباد میں 'لیدر فٹ ویئر انسٹیٹیوٹ' بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کے لیے یہاں رشی گھاٹ کے علاقے میں سندھ سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے تحت ایک تین منزلہ فیکٹری نما عمارت بنائی گئی تھی۔

اس انسٹیٹیوٹ' کے لیے عالمی ادارہ برائے اطفال (یونیسف)نے جدید مشینری عطیہ کی۔ 1990ء میں اس ادارے نے کام شروع کر دیاتھا۔ عملی طور پر یہ جوتے بنانے کا سرکاری کارخانہ تھا جس کا سب سے بڑا ہدف بیروزگار نوجوانوں کو جوتے تیار کرنے کی تربیت دینا تھا۔لیکن یہ ادارہ پچھلے 27 سال سے بند پڑا ہے۔ 

سمال انڈسٹرییز کارپوریشن ایمپلائز یونین کے رہنما جمن چنا اسی محکمے میں چار عشروں تک ملازمت کرنے کے بعد ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس ادارے میں کام کا آغاز ہوا تو یہاں گریڈ 18 کے پراجیکٹ ڈائریکٹر،گریڈ 17 کے 10 انسٹرکٹر اور سٹور کیپر سمیت میں20 سے زیادہ افراد پر مشتمل عملہ تعینات تھا۔ ہر چھ ماہ بعد ڈیڑھ سو نوجوان یہاں تربیتی کورس مکمل کر کے ڈپلوما سرٹیفکیٹ حاصل کرتے تھے۔

 ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے میں آٹھ سال تک سندھ کے بیروزگار نوجوانوں کو تربیت دی جاتی رہی۔یہاں جوتوں کے کاریگر بھی بھرتی کیے گئے تھے اور یہاں سے تربیت یافتہ لوگ اپنے شہروں میں جا کر یہی کاروبار کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 96-1995ء میں اس وقت ادارےکا بجٹ نو لاکھ روپے تھا۔اس میں سے چھ لاکھ ملازمین کی تنخواہوں اور تین لاکھ روپے چمڑے و دھاگے کی خریداری کے لیے دیے جاتے تھے۔  1997ء تک یہاں سندھ پولیس اور مختلف شوز کمپنیوں کے  لیے جوتے بھی تیار ہوتے تھے۔

جمن چنا کے مطابق اس انسٹیٹیوٹ میں  بننے والے جوتوں کو مارکیٹ میں متعارف نہیں کرایا گیا۔ اگر ایسا ہوتا یہ 'برانڈ'بن جاتا۔ اس کے علاوہ مختلف شوز کمپنیوں کے جوتے بنانے  کا کام بھی مبینہ کمیشن اور ٹھیکے کی لالچ میں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد مالی بحران کو جواز بنا کر اس ادارے کو بند کر دیا گیا۔

جب یہ ادارہ بند ہوا تو اس کا پورا عملہ 'سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن' کراچی کے حوالے کر دیا گیا ۔اب عمارت کی دیکھ بھال کے لیے صرف دو چوکیدار رہ گئے ہیں اور جدید آٹومیٹک مشینیں کمروں میں بند پڑی زنگ آلود ہو چکی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

حیدر آباد میں زرعی اراضی پر پھیلتی ہاوسنگ سکیمیں، بلڈرز نے کاشت کاروں کی زندگی اجیرن کر دی

سندھ سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ادارے کے افسروں نے حکومت کو خط لکھا تھا کہ انسٹیٹیوٹ کو بحال کیا جائے مگر بجٹ جاری نہیں کیا گیاتھا۔ 2018ء میں انسٹیٹوٹ کی کروڑوں مالیت کی عمارت کو حکام نے دو لاکھ روپے کرائے پر دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لیے اسی عمارت کے باہر بینر آویزاں کیےگئے اور اخبارات میں اشتہارات  دیے گئے تھے مگر تاحال کسی نے اسے کرایے پر نہیں لیا۔

سندھ سمال انڈسٹریز کارپویشن کے جوائنٹ ڈائریکٹر انجینئر علاؤالدین جونیجو نے اس بارے میں موقف دینے سے انکار کر دیا۔  ان کے اسسٹنٹ کامران نے بتایا کہ انہیں اس انسٹیٹیوٹ کے بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سابق صوبائی وزیر برائے سمال انڈسٹریز  محمدعلی ملکانی بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی وزارت کے دوران اس ادارے کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی مگر کام ادھورا رہ گیا۔اب وہ اس پر مزید  کچھ نہیں کہہ سکتے۔

جمن چنا  کا ماننا ہے کہ اگر اس ادارے کو سندھ سمال انڈسٹریز کارپوریشن بحال کرے تو حیدرآباد میں جوتوں کے صنعت میں دوبارہ جان پڑسکتی ہے اور نوجوانوں کو  روزگار بھی مل سکتا ہے۔

محمد فرید بھی جمن چنا سے اتفاق  کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت مصنوعی چمڑا بہت مہنگا ہے اس لیے فینسی جوتے بنانے والی خواتین کو اجرت بھی پوری نہیں ملتی۔اگر فٹ ویئر انسٹیٹوٹ کو فعال کر دیا جائے تو کاریگروں کی زندگی آسان ہو سکتی ہے۔

 

تاریخ اشاعت 21 اکتوبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

راشد لغاری حيدرآباد سنده سے تعلق رکھتے ہیں. بطور رپورٹر صحافی. ماحولیات, انسانی حقوق اور سماج کے پسے طبقے کے مسائل کے لیے رپورٹنگ کرتے رہیں ہیں۔

آخر کب تک اپنے بے گناہ بچوں کی لاشیں اٹھائیں گے

نہ دیکھنے کی اتنی سخت سزا نہ دی جائے