لیہ: سیہڑ، جھکڑ اور پیر خاندانوں میں مقابلے کیا پارٹی ووٹ کوئی رنگ دکھائے گا۔۔۔؟

postImg

فیصل شہزاد

postImg

لیہ: سیہڑ، جھکڑ اور پیر خاندانوں میں مقابلے کیا پارٹی ووٹ کوئی رنگ دکھائے گا۔۔۔؟

فیصل شہزاد

ضلع لیہ میں دو قومی اور پانچ صوبائی نشستوں پر پولنگ ہو گی جہاں حسب روایت پیروں اور سیاسی خاندانوں کے درمیان زبردست دوڑ جاری ہے۔ جلسوں اور جوڑ توڑ کے ساتھ ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم بھی شروع ہو چکی ہے۔

اس ضلعے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 11 لاکھ 21 ہزار 985 ہے جن میں پانچ لاکھ 96 ہزار 645 مرد اور پانچ لاکھ 25 ہزار 340 خواتین ووٹرز ہیں۔

2018ء کے انتخابات میں لیہ کے دونوں قومی حلقے تحریک انصاف نے زور دار مقابلے کے بعد جیت لیے تھے۔

این اے 181 زیادہ تر تحصیل کروڑ لعل عیسن اور چوبارہ کے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں سے پی ٹی آئی کے عبدالمجید خان نیازی نے آزاد امیدوار سردار بہادر خان سیہڑ کو ہرایا تھا۔ جبکہ ن لیگ کے صاحبزادہ فیض الحسن تیسرے نمبر پر نظر آئے تھے۔

اس بار اس حلقے سے مجید خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد ان کی اہلیہ امبر نیازی پی ٹی آئی کی آزاد ہیں جبکہ بہادر خان پیپلز پارٹی اور صاحبزادہ فیض الحسن ن لیگ کے امیدوار ہیں۔

بہادر خان سیہڑ یہاں سے ذاتی ووٹ بینک کی بنیاد پر دو مرتبہ ق لیگ کے رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں اور اس بار پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ جبکہ صاحبزادہ فیض الحسن پیر (سواگ شریف)ہیں جو 2013ء میں یہ نشست جیت چکے ہیں اور یہاں ان کے مریدوں کی خاصی تعداد ہے۔


لیہ نئی حلقہ بندیاں 2023

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 187 لیہ 1 اب این اے 181 لیہ 1 ہے
یہ حلقہ تحصیل چوبارہ اور کروڑ لعل عیسن کی آبادیوں پر مشتمل ہے اس حلقے میں تحصیل لیہ کا قصبہ مرہان قانون گو بھی شامل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، 2018ء کے انتخابات میں جو قصبے، دیہات اس حلقے میں شامل تھے 2024ء کے انتخابات میں بھی وہی رہیں گے۔

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 188 لیہ 2 اب این اے 182 لیہ 2 ہے
یہ حلقہ تحصیل لیہ کا شہری اور دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں سوائے مرحان قانون گو کے علاوہ پوری تحصیل کی آبادی شامل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، 2018ء کے انتخابات میں جو قصبے، دیہات اس حلقے میں شامل تھے 2024ء کے انتخابات میں بھی وہی رہیں گے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 280 لیہ 1 اب پی پی 279 لیہ 1 ہے
لیہ ضلع کا یہ حلقہ تحصیل کروڑ لعل عیسن کی آبادی پر مشتمل ہے۔ جس میں قصبہ فتح پور، کروڑ تھل اور موج گڑھ بھی شامل ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں کروڑ نشیب پٹی بہاؤالدین اور نشیب پٹی یوسف قانون گو حلقے کو نکال دیا گیا ہے جبکہ اسی تحصیل کے منگر  پٹوار سرکل کو شامل کیا گیا ہے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 281 لیہ 2 اب پی پی 280 لیہ 2 ہے
یہ لیہ اور کروڑ لعل عیسن کا مشترکہ حلقہ ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں کروڑ لعل عیسن کے کروڑ نشیب پٹی بہاؤالدین اور نشیب پٹی یوسف قانون گوحلقے کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لیہ تحصیل کے چک نمبر 129 ٹی ڈی اے، چک نمبر 277 ٹی ڈی اے، 282 ٹی ڈی اے، چک نمبر 117 ٹی ڈی اے، چک نمبر 120 ٹی ڈی اے اور چک نمبر 128 ٹی ڈی اے پٹوار سرکل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ اسی کروڑ لعل عیسن تحصیل کے منگر، چوبارہ تحصیل کے چک نمبر 318 ٹی ڈی اے اور لیہ تحصیل کے چک نمبر 127 ٹی ڈی اے پٹوار سرکل کو نکال دیا گیا ہے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 282 لیہ 3 اب پی پی 281 لیہ 3 ہے
یہ حلقہ چوبارہ تحصیل کی آبادی پر مشتمل ہے۔ جس میں چوک اعظم میونسپل کمیٹی بھی شامل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں چوبارہ تحصیل کے چک نمبر 318 پٹوار سرکل کو شامل اور لیہ تحصیل کے چک نمبر 129 ٹی ڈی اے، چک نمبر 277 ٹی ڈی اے اورچک نمبر 282 ٹی ڈی اے پٹوار سرکل کو نکال دیا گیا ہے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 283 لیہ 4 اب پی پی 283 لیہ 5 ہے
یہ حلقہ لیہ تحصیل کے قصبات کوٹ سلطان، سرشتہ تھل جنڈی،172 ٹی ڈی اے اور مرہان قصبوں کی آبادیوں پر مشتمل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 284 لیہ 5 اب پی پی 282 لیہ 4 ہے
یہ حلقہ لیہ تحصیل کی دیہی آبادی پر مشتمل حلقہ ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں  127 ٹی ڈی اے اور 133 ٹی ڈی اے پٹوار سرکل کو شامل کیا گیا ہے جبکہ منڈی ٹاؤن ٹو قانون گو حلقے کو نکال دیا گیا ہے۔


محمد تنویر احمد لیہ کے سیاسی کارکن ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ امبر نیازی کے ساتھ پارٹی سپورٹ ہے جبکہ روایتی ووٹ بنک (پیری مریدی) پر انحصار کے باعث صاحبزادگان کی انتخابی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ اس حلقے میں فائنل ریس امبر نیازی اور سردار بہادر خان کے درمیان ہوتی نظر آ رہی ہے تاہم ن لیگ بھی مقابلے میں موجود ہے۔

این اے 182 میں تحصیل لیہ کے علاقے آتے ہیں جہاں گزشتہ انتخابات میں تحریکِ انصاف کے ملک نیاز جھکڑ نے ن لیگ کے ثقلین شاہ بخاری کو شکست دی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کے رمضان بھلر تیسرے نمبر پر تھے۔

اس حلقے کی سیاست دو دہائیوں سے ملک نیاز جھکڑ اور سید ثقلین شاہ بخاری کے گرد گھوم رہی ہے۔ سید ثقلین بخاری پرانے مسلم لیگی اور پیر جگی شریف کے گدی نشینوں میں سے ہیں جو دو مرتبہ یہاں سے ن لیگ کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔

نیاز احمد جھکڑ پہلے پیپلز پارٹی سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے لیکن پھر ق لیگ میں شامل ہو گئے۔ اب  کی بار ان کے بیٹے اویس حیدر جھکڑ  پی ٹی آئی سے امیدوار ہیں جن کو ذاتی ووٹ بینک کے ساتھ پارٹی سپورٹ بھی حاصل ہے۔ یہاں پیپلز پارٹی کے رمضان بھلر بھی میدان میں ہیں تاہم اویس جھکڑ اور ثقلین بخاری میں ٹکر کا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

پی پی 279 میں کروڑ لعل عیسن اور فتح پور کے علاقے شامل ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں ملک احمد علی اولکھ نے اس حلقے سے آزاد حیثیت میں تحریک انصا ف کے ملک اطہر مقبول کو لگ بھگ چار ہزار ووٹوں کی برتری سے ہرایا تھا۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار انعام الحق 17 ہزار سے زائد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر نظر آئے تھے۔

اس بار ملک اطہر مقبول پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور احمد علی اولکھ ن لیگ کے امیدوار ہیں جبکہ پیپلز  پارٹی نے اس نشست پر کسی امیدوار کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ البتہ ثوبیہ انعام بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہی ہیں۔

اس حلقے کے رہائشی محمد شعیب جٹ بتاتے ہیں کہ احمد علی اولکھ یہاں سے مسلسل کئی بار منتخب چکے ہیں جن کا اس علاقے میں ذاتی ووٹ بینک ہے اور وہ بطور وزیر کئی ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کرا چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ملک اطہر مقبول کا بھی علاقے میں خاصا اثر و رسوخ ہے مگر ان کی اصل طاقت پارٹی ووٹ ہے۔ اس نشست پر ان دونوں امیدواروں میں ایک بار پھر زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

پی پی 280 میں تحصیل لعل کروڑ عیسن اور لیہ کے علاقے آتے ہیں جہاں گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے شہاب الدین سیہڑ نے ن لیگ کے عبدالشکور سواگ کو ہرایا تھا۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے ملک ریاض حسین تیسرے نمبر پر تھے۔

اس بار اس حلقے میں ن لیگ کے عبدالشکور سواگ، پی ٹی آئی سے شہاب سیہڑ آزاد، پیپلز پارٹی کے ملک سجاد خان سیہڑ اور تھند خاندان کے سلال تھند بطور آزاد نمایاں امیدوار ہیں۔ ملک سجاد این اے 181 پر پی پی امیدوار بہادر خان کے بھائی اور شہاب سیہڑ کے کزن ہیں جبکہ سلال تھند بھی شہاب سیہڑ کے قریبی عزیز ہیں۔

تھند خاندان کا مشرف دور تک اس علاقے میں زبردست اثر و رسوخ تھا جس کے سربراہ ملک غلام حیدر تھند یہاں سے رکن اسمبلی اور ضلع ناظم رہے۔ سلال حیدر تھند ان کے بیٹے اور شہاب سیہڑ ان کے داماد ہیں۔

سیاسی ورکر اور اس حلقے کے ووٹر ساجد خان بتاتے ہیں کہ تھند خاندان اب اس علاقے میں سیاسی طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ اب یہاں شہاب سیہڑ سب سے مضبوط امیدوار ہیں اور انہیں پی ٹی آئی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تاہم سیہڑ خاندان سے دو امیدوار ہونے سے ووٹ تقسیم ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ سے شہاب سیہڑ اور شکور سواگ میں زبردست جوڑ پڑے گا۔

پی پی 281 تحصیل چوبارہ اور چوک اعظم کے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں 2018ء میں آزاد امیدوار محمد طاہر رندھاوا نے تحریک انصاف کے قیصر خان مگسی کو شکست دی تھی جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد ریاض تیسرے نمبر پر آئے تھے۔

طاہر رندھاوا الیکشن کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے لیکن 2022ء میں انہوں نے اپنا ووٹ پارٹی پالیسی کے برعکس حمزہ شہباز شریف کو دیا تھا جس کی وجہ سے اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہو گئے تھے۔ بعد ازاں ضمنی انتخابات میں یہ سیٹ تحریک انصاف کے قیصر عباس خان نے جیت لی تھی۔

اب یہاں طاہر ر ندھاوا، قیصر خان سمیت تمام نمایاں امیدوار آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں تاہم پی ٹی آئی نے کرنل شعیب عوان کی حمایت کر رکھی ہے جو پہلی بار الیکشن لڑیں گے۔ جبکہ قیصر خان مگسی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے کے باوجود آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

سیاسی کارکن محمد اعظم کاشف بتاتے ہیں کہ ن لیگ نے آئی پی پی سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ یا طاہر رندھاوا سے سمجھوتے کے تحت یہ حلقہ اوپن چھوڑ دیا ہے لیکن ن لیگ کے سابق ٹکٹ ہولڈر محمد ریاض بھی یہاں سے آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں۔

 وہ کہتے ہیں کہ طاہر رندھاوا اور قیصر مگسی دونوں کا مضبوط ووٹ بینک ہےجبکہ کرنل شعیب نووارد ہیں لیکن انہیں پاپولر پارٹی سپورٹ کا فائدہ ہو رہا ہے جس کے باعث اس نشست پر کسی کی جیت کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔

پی پی 282 میں لیہ شہر اور نواحی دیہات کے علاقے آتے ہیں۔ پچھلی بار ن لیگ کے مہر اعجاز اچلانہ صرف دو ہزار ووٹوں کی سبقت سے یہ نشست پی ٹی ائی کے سجاد حسن خان سے جیت گئے تھے۔ اس بار بھی یہاں ن لیگ کے امیدوار اعجاز اچلانہ ہیں۔

اس حلقے میں اصغر گورمانی تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ اور اسحاق خان پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں جبکہ پچھلی بار کے رنر اپ سجاد حسن خان آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔

مہراعجاز اچلانہ مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر ہیں اور مسلسل چار بار یہاں سے ایم پی اے منتخب ہو چکے ہیں جبکہ اصغر گورمانی نووارد ہیں اور انہیں پارٹی ووٹ پر بھروسا ہے۔

پروفیسر منظر عباس کا خیال ہے کہ اس حلقے میں مہر اعجاز اور سجاد حسن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔ لیکن پارٹی ووٹ کو دیکھا جائے تو علی اصغر گورمانی دونوں کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔

پی پی 283 میں کوٹ سلطان، سرشتہ تھل جنڈی اور چک 172 وغیرہ کے علاقے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ن لیگ، پیپلز پارٹی، 'آزاد' اور ٹی ایل پی ضلع اٹک میں کس کی کیا پوزیشن ہے؟

گزشتہ الیکشن میں یہ نشست آزاد امیدوار سید رفاقت گیلانی نے جیتی تھی اور دوسرے آزاد میدوار ہاشم حسین رنر اپ تھے۔ جبکہ جماعت اسلامی کے اصغر گجر تیسری اور پی ٹی آئی کی سعیدہ بیگم چوتھی پوزیشن پر نظر آئی تھیں۔

رفاقت گیلانی الیکشن جیتنے کے بعد تحریکِ انصاف میں شامل ہو گئے تھے لیکن پھر فارورڈ بلاک کاحصہ بن کر آئی پی پی میں چلے گئے تھے۔ ن لیگ نے آئی پی پی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت اس بار یہاں سے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا۔

اب اس حلقے میں رفاقت گیلانی آئی پی پی، غلام فرید میرانی پیپلز پارٹی، اسامہ اصغر علی گجر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اور ہاشم حسین آزاد امیدوار ہیں۔

اسامہ گجر جماعت اسلامی کے اصغر علی گجر کے بیٹے ہیں جو 90ء کی دہائی میں یہاں سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوتے رہے۔ جبکہ رفاقت گیلانی کو پیر ہونے کی وجہ سے اپنے مریدوں اور ن لیگ کی سپورٹ حاصل ہے تاہم ہاشم حسین کے ووٹ بینک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

شعیب عالم اس حلقے کے ووٹر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ رفاقت گیلانی پچھلی بار بڑے مارجن سے جیتے تھے مگر اس بار ان کی پوزیشن اتنی مضبوط نظر نہیں آتی۔ اس لیے اس بار گیلانی اور گجر میں زبردست مقابلہ ہو گا۔

ضلع لیہ کے تقریبا ہر حلقے میں حسب روایت نامور سیاسی گھرانوں کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف مدِ مقابل ہیں تاہم پارٹی ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

تاریخ اشاعت 27 جنوری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فیصل شہزاد کا تعلق میانوالی سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی ہیں اور گزشتہ 5 سال سے محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.