حیدرآباد: "لوگ صرف پارٹی نشان کو ووٹ دیتے ہیں" کیا یہاں نتائج میں کوئی تبدیلی آئے گی؟

postImg

محمد وسیم

postImg

حیدرآباد: "لوگ صرف پارٹی نشان کو ووٹ دیتے ہیں" کیا یہاں نتائج میں کوئی تبدیلی آئے گی؟

محمد وسیم

فروری 2024ء کے عام انتخابات میں ضلع حیدر آباد میں قومی اسمبلی کی تین اور سندھ اسمبلی کی چھ نشستوں پر امیدواروں کے درمیان معرکہ ہو گا۔

اس ضلع میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 لاکھ 25 ہزار 147 ہے جن میں چھ لاکھ 62 ہزار 713 مرد اور پانچ لاکھ 62 ہزار 434 خواتین ووٹر ہیں۔

سندھ میں اردو بولنے والی بیشتر آبادی مذہبی رہنماؤں کو ووٹ دیا کرتی تھی اس لیے ایک زمانے تک حیدرآباد مذہبی جماعتوں کا شہر کہلاتا تھا۔ جمیعت علماء پاکستان کے شاہ احمد نورانی، محمد علی رضوی اور جماعت اسلامی کے میاں محمد شوکت یہیں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

85ء کے غیر جماعتی انتخابات میں نواب یامین خان اور وصی مظہر ندوی ایم این اے بنے۔ پھر ایم کیو ایم وجود میں آ  گئی جو مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ بننے تک حیدرآباد کے شہری علاقوں میں حکمرانی کرتی آ رہی ہے۔

سینیئر صحافی اقبال ملاح بتاتے ہیں کہ 1987ء کے بلدیاتی الیکشن میں ایم کیو ایم پہلی بار یہاں سے جیتی جس میں آفتاب شیخ میئر اور رشید خان ڈپٹی میئر منتخب ہوئے۔ 1988ء کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم نے واضح اکثریت حاصل کر لی جس کے نتیجے میں آفتاب شیخ اور رشید خان رکن قومی اسمبلی بنے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد بھارت سے حیدر آباد آنے والوں کی بڑی تعداد شہر کے مرکزی علاقوں میں آباد ہوئی۔ ٹنڈو ولی محمد، دو آبہ، کھوکھر محلہ، تین نمبر تالاب، پھلیلی، گئوشالہ، ٹمبر مارکیٹ وغیرہ میں سندھی بولنے والے رہتے تھے۔ یہ تمام لوگ مدتوں ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہتے رہے۔


حیدر آباد نئی حلقہ بندیاں 2023

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 225 حیدر آباد 1 اب این اے 218 حیدر آباد 1 ہے
اس حلقے میں حیدر آباد کا مکمل تعلقہ اور قاسم آباد تعلقہ کی کچھ آبادی شامل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت ضلع حیدرآباد کے اس حلقے میں معمولی تبدیلی کرکے حیدر آباد تعلقے کی ہوسری ٹاون کمیٹی کو نکال دیا ہے۔

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 226 حیدر آباد 2 اب این اے 219 حیدر آباد 2 ہے
یہ حلقہ لطیف آباد تعلقہ کی آبادیوں پر مشتمل ہے۔نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں تبدیلی یہ آئی ہے کہ لطیف آباد تعلقہ کے چارج نمبر1 کو اس کاحصہ بنادیا گیا ہے اور حیدرآباد تعلقے کی ہوسری ٹاون کمیٹی کو اس حلقے میں شامل کیا گیا ہے۔  جبکہ حیدر آباد سٹی تعلقہ کے چارج نمبر 26 کو نکال دیا گیا ہے۔

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 227 حیدر آباد 3 اب این اے 220 حیدر آباد 3 ہے
اس حلقے میں مکمل حیدر آباد سٹی تعلقہ شامل ہے، نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں حیدر آباد سٹی تعلقہ کے چارج نمبر 02 کو شامل کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح لطیف آباد تعلقہ کے چارج نمبر 1 کو نکال دیا گیا ہے۔


لیکن 1988ء میں حیدرآباد میں لسانی فسادات بھڑک اٹھے اور شہر دو سال تک میدان جنگ بنا رہا۔ اس دوران اردو بولنے والی آبادیوں میں گھری سندھی بستیاں ویران ہونے لگیں اور لوگ یہاں سے نقل مکانی کرکے باہر آ گئے۔ جس کے نتیجے میں پرانے شہر کی قریب ہی نئی بستی قاسم آباد وجود میں آئی۔

تب سے یہ ضلع سیاسی طور پر دو واضح حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے جہاں ایک طرف اردو اور دوسری طرف سندھی بولنے والے رہتے ہیں۔

پرانے شہر اور لطیف آباد کے علاقوں ہیر آباد، ٹنڈو ولی محمد، پریٹ آباد، پھلیلی وغیرہ میں اردو بولنے والوں کی اکثریت قریشی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ان میں زیادہ تر روحانی طور پر مولانا شاہ احمد نورانی کے پیروکار رہے ہیں۔ یہاں قائم خانی، خانزادہ، گدی پٹھان اور دیگر برادریاں بھی موجود ہیں۔

اس ضلعے کا دوسرا حصہ 1988ء میں آباد ہونے والے شہری علاقے قاسم آباد اور ارد گرد کے دیہات پر محیط ہے جہاں سندھی بولنے والوں کی اکثریت ہے۔ اگرچہ ان علاقوں میں قوم پرست جماعتوں کا خاصا اثر و رسوخ ہے تاہم سیاسی غلبہ ہمیشہ سے پیپلز پارٹی ہی کا رہا ہے۔

اقبال ملاح کا کہنا ہے کہ 1993ء میں ایم کیو ایم نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو حیدر آباد شہر کی قومی نشستوں پر ن لیگ کے شبیر انصاری اور پیپلز پارٹی کے قاضی اسد عابد منتخب ہوئے تھے۔ پھر یہاں سے ایم کیو ایم کے طارق جاوید، خالد مقبول صدیقی، خالد وہاب اور جے یو پی کے ابوالخیر محمد زبیر بھی رکن قومی اسمبلی رہے۔

 انہوں نے بتایا کہ مشرف دور میں یہاں ایک نشست کا اضافہ کیا گیا تو نیا حلقہ قاسم آباد اور متصل دیہات پر مشتمل تھا۔ یہ نشست پیپلز پارٹی کے امیر علی شاہ جاموٹ جیت گئے۔ اور پھر 2018ء تک یہی صورتحال برقرار رہی۔

حیدر آباد کی شہر کی دو قومی اور چار صوبائی نشستیں ایم کیو ایم جبکہ قاسم آباد اور دیہی علاقوں پر مشتمل ایک قومی اور دو صوبائی نشستیں پیپلز پارٹی جیتتی آ رہی ہے۔ تاہم ایک بار شہری علاقوں سے جے یو پی کے امیدوار بھی منتخب ہوئے جن میں ابوالخیر زبیر قومی اور عبدالرحمان راجپوت صوبائی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن کے مطابق اب ان تین قومی نشستوں کے لیے 159کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔ یہاں ہر حلقے میں ایک جماعت کے کئی کئی رہنماؤں و کارکنوں اور آزاد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

قومی حلقہ این اے 218 قاسم آباد اور نواحی دیہات پر مشتمل ہے جہاں سے پچھلی بار پیپلز پارٹی کے سید طارق جاموٹ کامیاب ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کے امیدوار خاوند بخش جہیجو دوسرے نمبر پر آئے تھے۔آئندہ الیکشن کے لیے دوںوں امیدوار میدان میں موجود ہیں۔

جی ڈی اے کے رکن اور قومی عوامی پارٹی کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو بھی اسی قومی اور نیچے صوبائی حلقے سے امیدوار ہیں۔

 ٹاور مارکیٹ کے رہائشی ریٹائرڈ ہیڈماسٹر محمد علی خواجہ بتاتے ہیں کہ قوم پرست جماعتوں سندھ ترقی پسند پارٹی اور قومی عوامی تحریک کے مرکزی دفاتر یہیں قاسم آباد میں ہیں۔ دونوں جماعتوں کے سربراہ یہاں سے الیکشن بھی لڑتے رہے ہیں مگر جیت نہیں پائے جس کی وجہ پیپلز پارٹی ہے۔

قاسم آباد کے یو سی چیئرمین خالد چانڈیو کا خیال ہے کہ ڈاکٹر قادر مگسی اور ایاز لطیف پلیجو دونوں نے کیوں کہ پچھلا چناؤ ایک ہی حلقے سے الیکشن لڑا تھا۔ اس لیے قوم پرست ووٹ تقسیم ہونے کے باعث دونوں ہار گئے تھے۔ اس بار قادر مگسی یہاں سے الیکشن نہیں لڑ رہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس قومی حلقے میں شورو، سومرا، ڈومرا اور چانڈیو بڑی برادریاں رہتی ہیں اور یہ پیپلز پارٹی کی حامی ہیں۔ دوسری بات، پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کا ان علاقوں میں ذاتی اثرو رسوخ ہے۔ ان میں سے ایک صوبائی نشست پر امیدوار اور سابق ایم پی اے جام خان شورو ہیں جن کے بھائی کاشف شورو اب میئر حیدرآباد بن چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ قوم پرست جماعتوں کے جلسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے لیکن انتخابی نتائج ان کے حق میں نہیں ہوتے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قاسم آباد میں کئی چھوٹے شہروں سے روزگار اور تعلیم کے لیے آنے والے لوگ بھی رہائش پذیر ہیں جو اپنے آبائی حلقوں میں ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔

 این اے 219 میں لطیف آباد اور ملحقہ علاقے آتے ہیں جہاں سے پچھلی بار ایم کیو ایم کے صابر قائم خانی کامیاب ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کے جمشید شیخ رنر اپ تھے۔

اس نشست پر اب پیپلزپارٹی سے علی محمد سہتو امیدوار ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے جمشید علی شیخ اور ڈاکٹر مستنصر باللہ، ایم کیو ایم کے سہیل محمود اور صابر قائم خانی پارٹی ٹکٹوں کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

محمد علی خواجہ بتاتے ہیں کہ یہ قومی نشست روایتی طور پر ایم کیو ایم ہی کی ہے۔ لیکن اس حلقے کے علاقوں حسین آباد، ہوسڑی، حالی روڈ اور سائٹ ایریا میں سندھی بولنے والی برادیوں کی اکثریت کے باعث پیپلز پارٹی کا زیادہ اثر ہے۔اس لیے یہاں سے پچھلی بار پیپلز پارٹی صوبائی نشست نکال گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے بعد یہاں سے پیپلز پارٹی کے نمائندے منتخب ہو گئے ہیں جن کا پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب پچھلی بار ایم کیو ایم کو تنظیمی اختلافات کا نقصان ہوا تھا مگر اب یہ پارٹی متحد ہو کر ازالہ کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔

این اے 220 اندرون شہر کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ گزشتہ انتخابات میں یہ نشست ایم کیو ایم کے حصے میں آئی تھی اور یہاں سے صلاح الدین شیخ منتخب ہوئے تھے۔ تحریک انصاف کے امیدوار محمد حاکم دوسرے نمبر پر رہے۔

اب یہاں سے جے یو پی کے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، ایم کیو ایم کے سید وسیم حسین، صلاح الدین اور محمد دلاور امیدوار ہیں۔ یہاں پیپلزپارٹی کے عرفان گل مگسی، میر حیدر تالپور اور عاجز دھامرہ نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں لیکن کسی کو ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔

 یہ حلقہ اردو بولنے والوں کی اکثریت کے باعث ایم کیو ایم کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہاں گھمن آباد کی پنجابی برادری ن لیگ سے وابستہ ہے اور بلدیاتی الیکشن میں اسی برادری کے رانا راشد یوسی چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ اسی طرح ہالا ناکہ اور سائٹ میں پختون برادری کے اچھے خاصے ووٹ ہیں۔

"یہاں اردو بولنے والی قریشی برادری کا اس مرتبہ زیادہ جھکاؤ تحریک لبیک کی جانب ہے۔ جے یو پی اور تحریک لبیک کے درمیان اتحاد کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں"۔

 تجزیہ کار اور صحافی محمد حسین سمجھتے ہیں کہ لوگ صرف پارٹی نشان کو ووٹ دیتے ہیں اس لیے یہاں نتائج میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی۔ تاہم حیدرآباد میں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلے کی توقع ہے۔ کیوں کہ گذشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی تمام نشستوں پر دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی۔

"این اے 220 میں مذہبی ووٹ زیادہ ہے اور پچھلی بار تحریک لبیک نے کافی ووٹ لیے تھے۔  اگر مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی بیل منڈھے چڑھتی ہے تو وہ اس نشست پر ایم کیو ایم کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔"

اسی طرح صوبائی حلقے پی ایس 60 اور 61 میں قاسم آباد اور دیہی علاقے آتے ہیں جبکہ پی ایس 62، 63، 64 اور 65 شہری علاقوں پر مشتمل ہیں۔

حلقہ پی ایس 60 سے جی ڈی اے کے ایاز لطیف پلیجو، پی ٹی آئی کی افروز شورو اور انیسہ صدیقی جبکہ پیپلزپارٹی کے جام خان شورو نمایاں امیدوار ہیں۔ یہاں اس بار قادر مگسی الیکشن نہیں لڑ رہے۔ اس لیے قوم پرست پر امید ہیں کہ ان کا ووٹ تقسیم نہیں ہو گا جبکہ پی پی کے امیدوار کو مقامی برادریوں کی حمایت حاصل ہے۔

 حیدرآباد ٹو پی ایس 61 میں پیپلز پارٹی کے شرجیل انعام میمن اور پی ٹی آئی کے خاوند بخش جہیجو کے درمیان اچھا مقابلہ متوقع ہے۔ شرجیل میمن اس سے پہلے بھی متعدد بار منتخب ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ضلع خانیوال: روایتی سیاسی خاندان ہراج، ڈاہا، سید، پیر اور چودھری آمنے سامنے، کون کس کو مات دے گا؟

 پی ایس 62 میں پچھلی بار پیپلز پارٹی نے غیر متوقع کامیابی حاصل کی تھی اور عبدالجبار خان منتخب ہو گئے تھے۔ اب بھی وہی پی پی کے امیدوار ہیں، ایم کیو ایم کے صابر حسین قائم خانی اور محمد راشد خان جبکہ پی ٹی آئی کے خاوند بخش سمیت کئی امیدوار میدان میں ہیں۔
 اس صوبائی حلقے میں پی پی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں سہ طرفہ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پی ایس 63 سے پچھلی بار ندیم صدیقی منتخب ہوئے تھے اور یہ نشست طویل عرصے سے ایم کیو ایم جیتتی چلی آ رہی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے مستنصر باللہ دوسرے اور پیپلزپارٹی کی صنم تالپور تیسرے نمبر پر آئی تھیں۔ اب ان تینوں کے علاوہ اس نشست پر کئی امیدوار ہیں لیکن فائنل ریس انہیں پارٹیوں میں ہو گی۔

پی ایس 64 سے ایم کیو ایم کے سلیم خلجی جیتے تھے۔ پی ٹی آئی دوسرے اور پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر تھی۔ جبکہ ٹی ایل پی کے امیدوار نے ساڑھے پانچ ہزار اور مجلس عمل نے ساڑھے چار ہزار ووٹ لیے تھے۔

اب یہاں ایم کیو ایم کے سید وسیم حسین اور محمد دلاور، پی پی کے عرفان گل مگسی اور جمیعت علماء پاکستان کے عبدالرحمن راجپوت و دیگر امیدوار ہیں۔

پی ایس 65 سے ایم کیو ایم کےامید وار اور قریشی برادری کے ناصر قریشی منتخب ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی اور پی پی اگرچہ یہاں بھی دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھیں تاہم ٹی ایل پی نے آٹھ ہزار سے زائد اور ایم ایم اے نے ڈھائی ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اب بھی سابقہ امیدوار نمایاں ہیں۔

پی ایس 64 اور پی ایس 65 میں اردو بولنے والوں کی اکثریت کے ساتھ مذہبی ووٹر خاصی تعداد میں ہے۔ جبکہ پنجابی اور پشتون برادریوں کے پیکٹس بھی اپنا وجود رکھتے ہیں۔ ان حلقوں میں ایک طرف تو مذہبی جماعتوں میں اتحا د کی بات بھی ہور ہی ہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی نے ان صوبائی حلقوں اور اوپر قومی نشست پر اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا۔ یہاں پیپلز پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی اس کا ان دونوں حلقوں کے نتائج پر فرق پڑ سکتا ہے۔

ریٹائرڈ ٹیچر عبدالرشید بتاتے ہیں کہ زندگی میں کئی انتخابات دیکھے اور ووٹ بھی ڈالے ہیں لیکن حیدرآباد کے حالات بہتر نہیں ہوئے۔ پہلے یہاں مذہبی جماعتوں اور پھر ایم کیو ایم کے نمائندے کامیاب ہوتے رہے۔ مگر وہی ٹوٹی سڑکیں، پینے کا صاف پانی نہ سیوریج، تعلیم نہ علاج لوگوں کو کچھ بھی تو نہیں ملا۔

سرے گھاٹ سے بلدیہ اعلیٰ کے کونسلر ناکیش راٹھوڑ کہتے ہیں کہ حیدرآباد کی تاریخ میں پہلی بار میئر، ڈپٹی میئر اور چھ ٹاؤنز کے چیئرمین پیپلز پارٹی سے ہیں۔ اگر بلدیاتی نمائندوں کی کارکردگی اچھی رہی تو یہ آئندہ انتخابات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

تاریخ اشاعت 13 جنوری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد وسیم گذشتہ تین دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ مختلف اخبارات اور نیوز چینلز سے وابستگی رہی ہے_

thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

ہجرت کر جانے والے برکی قبائل اپنی مادری زبان 'ارمڑی' اپنے گاؤں میں ہی چھوڑ جاتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceارشد مومند
thumb
سٹوری

ٹانکہ بہ ٹانکہ: سواتی شالوں پر پھول کھلانے والی محنت کش خواتین اپنی خودمختاری کا راستہ بُن رہی ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعظمیٰ اقبال
thumb
سٹوری

خود سوزی: کیلے کے کاشتکار ایک سو ارب روپے سالانہ جلا کر راکھ کیوں کر رہے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

دلہا دلہن راضی اور پنڈت غائب: ہندو میرج ایکٹ کا اطلاق کس صوبے میں کہاں رکا ہوا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں کرپشن: بجلی کے غریب صارفین کی سولر بیٹری کتنا عرصہ چل پائے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے: کیا 'ائیرپورٹ ناکے' پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بلند کر پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب

بھجن میں ہم بارش مانگتے ہیں کوئلہ نہیں

thumb
سٹوری

ضلع لوئر دیر جہاں پوری دہائی میں کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو سکا

arrow

مزید پڑھیں

User Faceحلیم اسد
thumb
سٹوری

برف کی خشک سالی: خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اترتا ہوا معاشی و آبی بحران

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

مقامی کوئلے کی سستی بجلی کا مہنگا فسانہ: قومی مفاد کی گونج میں دبی تھر واسیوں کی بپتا

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.