'ہراس کے خلاف آواز اٹھائی تو نوکری سے نکال دیا گیا' فیصل آباد میں خواتین ٹیکسٹائل ورکر جنسی بدسلوکی کے سامنے بے بس
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'ہراس کے خلاف آواز اٹھائی تو نوکری سے نکال دیا گیا' فیصل آباد میں خواتین ٹیکسٹائل ورکر جنسی بدسلوکی کے سامنے بے بس

نعیم احمد

postImg

'ہراس کے خلاف آواز اٹھائی تو نوکری سے نکال دیا گیا' فیصل آباد میں خواتین ٹیکسٹائل ورکر جنسی بدسلوکی کے سامنے بے بس

نعیم احمد

فیصل آباد کی معروف گارمنٹ فیکٹری میں بطور سٹیچنگ مشین آپریٹر ملازمت کرنے والی 22 سالہ نورین اسلم کی زندگی اب گھر کے ایک کمرے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ 

وہ نا صرف ملازمت سے محروم ہو چکی ہیں بلکہ اہل خانہ اور رشتہ داروں کا سامنا کرنے سے بھی کتراتی ہیں۔ 

انہیں اس صورتحال کا سامنا اس لئے کرنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے فیکٹری میں کام کے دوران اس کے ایڈمن مینیجر واجد علی کے خلاف جنسی ہرسانی کے الزام میں مقدمہ درج کروایا تھا۔ 

تھانہ سرگودھا روڈ میں 17 جولائی 2022 کو درج ہونے والے اس مقدمے کے اگلے ہی روز انہیں اپنی برادری کے "معززین" کے دباو پر مجسٹریٹ کی عدالت میں جا کر یہ بیان دینا پڑا کہ وہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتیں۔ 

فیصل آباد کے نواحی گاؤں کی رہائشی نورین نے ملازمت کا آغاز اپنی ایک سہیلی کے کہنے پر کیا تھا۔

"میری سلائی اچھی تھی لیکن گاوں میں اتنا کام نہیں ملتا تھا، میری سہیلی نے بتایا کہ شہر کی ایک بڑی گارمنٹ فیکٹری میں مشین آپریٹر کی ملازمتیں آئی ہیں تم کرنا چاہو تو اچھی تنخواہ بھی ملے گی اور پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی ہے۔"

نورین کے مطابق انہوں نے اہل خانہ سے اصرار کر کے یہ ملازمت کرنے کی اجازت لی تھی کیونکہ ان کے دو چھوٹے بھائی ابھی زیر تعلیم ہیں اور وہ اپنے والد کا سہارا بننا چاہتی تھیں جو کہ گاؤں میں کھیت مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ 

"فیکٹری میں کام کے آغاز میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا لیکن پھر فیکٹری کے ایڈمن آفیسر واجد علی نے سٹیچنگ یونٹ میں چیکنگ کے دوران آتے جاتے اور مجھے کسی نہ کسی بات پر تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا"۔

پہلے پہل اس نے میرے کام  پر اعتراضات اٹھائے، پھر میرے گھر والوں سے متعلق باتیں کرنے لگا اور پھر اس نے "میرے لباس اور شخصیت کے بارے میں فقرے بازی شروع کر دی"۔

نورین کے مطابق جب انہوں نے اس بارے میں اپنی ساتھی لڑکیوں اور سپروائزر سے بات کی تو سب نے خاموش رہنے اور اس شخص کو نظر انداز کرکے کام پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔

مجھے کہا گیا کہ اگر میں ایشو بناوں گی تو فیکٹری کی انتظامیہ میرا ساتھ دینے کی بجائے نوکری  سے برخاست کر کے جان چھڑا لے گی۔

کچھ عرصے بعد واجد علی نے نورین کے ساتھ رویہ تبدیل کر کے ایک ہمدرد ہونے کا تاثر دینا شروع کر دیا اور پھر ایک دن انہیں شادی کی پیشکش کر دی۔ 

بعدازاں ملزم نے نورین کو اپنے والدین سے ملانے کے بہانے گھر لے جا کر جنسی طور پر ہراساں کیا اور بلیک میل کرنا شروع کر دیا جس پر انہیں ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا پڑی۔ 

اس وقت نورین کو اپنے ساتھ ہونے والے ایک ایسے جرم پر گھر والوں اور معاشرے کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے جس کا ذمہ دار کوئی اور ہے۔ 

وہ کہتی ہیں کہ "اب تو مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ غلطی میری ہی ہے کیونکہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ہراسانی پر آواز اٹھانے سے نوکری بھی گئی اور عزت بھی"۔

اسی طرح کا ایک واقعہ دسمبر 2020 میں پیش آیا تھا جس میں ایک  مقامی ہوزری فیکٹری کے سپروائزر محمد سلیم پر 14 سالہ ہوزری ورکر ایلس نے جنسی ہراسانی کی کوشش کا الزام لگا یا تھا۔ 

ورکنگ ویمن الائنس کی عہدیدار پروین لطیف نے سجاگ کو بتایا کہ اس واقعے کے مرتکب  شخص کے خلاف قانونی کاروائی کروانے کے لیے ان کی تنظیم نے کافی کوشش کی تھی لیکن پولیس اور متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کے عدم تعاون کی وجہ سے ملزم کے خلاف ایف آئی آر ہی درج نہ ہو سکی۔ 

"واقعے کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے بچی کو کام سے ہٹا لیا۔ان کا ہم سے بھی یہی مطالبہ تھا کہ ہم ان کی عزت کی خاطر چپ ہو جائیں۔ اس طرح کے بیشتر واقعات میں لڑکیوں کے گھر والے اس لئے بھی سمجھوتہ کر لیتے ہیں کہ ان کے پاس تھانے ، کچہری کے چکر لگانے کے وسائل نہیں ہوتے"۔ 

پروین لطیف کے مطابق ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خواتین ورکرز کو درپیش ہراسانی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔ 

مگر بعض اوقات بات جنسی ہراس سے آگے بڑھ جاتی ہے۔

بیس دسمبر 2022 کوفیصل آباد کے صنعتی مرکز کھرڑیانوالہ کی کاٹن ملز میں ٹھیکیدار شہباز نے 500 روپے یومیہ اجرت پر کام کرنے والی دو کم عمر لڑکیوں 13 سالہ عائشہ اور اس کی رشتہ دار 12 سالہ ناہید کو زنا بالجبر کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گیا۔

تھانہ بلوچنی میں درج مقدمے کی تفتیشی افسر اے ایس ائی سفینہ ممتاز کے مطابق متاثرہ لڑکیوں کا میڈیکل کروا لیا گیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ 

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس طرح کے مقدمات میں زیادہ تر فریقین کے مابین پیسوں کے عوض "صلح" ہو جاتی ہے اور بہت کم ایسے واقعات ہیں جہاں ملزموں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

سفینہ ممتاز بتاتی ہیں کہ یہ غریب لوگ ہوتے ہیں ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ ملزم کو سزا دلوانے کے لیے تھانے، کچہریوں کے چکر لگا سکیں اور پھر معاشرہ بھی زیادہ تر ملزم کا ہی ساتھ دیتا ہے۔

ہراسانی سے تحفظ کا قانون

پاکستان میں کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسانی کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے پہلا قانون 2010 میں منظور کیا گیا تھا۔

قانون کے مطابق:

خوف و ہراس کے ذریعے کسی طرح کی ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی کرنا، جنسی تعلق کی استدعا یا دیگر زبانی یا تحریری روابط یا جنسی نوعت کا جسمانی طرز عمل یا جنسی تذلیل جو کام کی انجام دہی میں رکاوٹ کا سبب بننے یا خوف وہراس یا جارحانہ یا مخالفانہ ماحول کا باعث بنے، یا مذکورہ مدعا پورا نہ کرنے پر مستغیث کو سزا دینے کے لیے شرط رکھنا ہراسانی کی ذیل میں آتا ہے۔

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اس قانون میں کچھ سقم موجود تھے اور کام کی جگہ، ہراسانی، ملازم، ملازمت کی قانونی تعریف مبہم اور محدود تھی۔
ہراسانی کی تعریف میں صرف جنسی ہراسانی کو شامل کیا گیا تھا۔

نئے قانون (Protection Against Harassment of Women at the Workplace (Amendment) Act, 2022) کا دائرہ کار وسیع ہے اور اس میں ملازمت کے نئے پیشوں، غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والے افراد اور گھریلو ملازمین کو بھی تحفظ مل سکے گا۔

نئے قانون میں 'ملازم' کی قانونی تعریف میں فری لانسر، فنکار، پرفارمر، کھلاڑی، طلبا، آن لائن کام کرنے والے افراد، گھریلو ملازمین، انٹرن، یومیہ، ہفتہ وار یا ماہانہ اجرت پر کام کرنے والے کانٹریکٹ یا بغیر کانٹریکٹ کے کام کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کسی کے پاس بغیر اجرت کے بھی کام کرتے ہیں۔

نئے قانون میں ان افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کسی بھی ادارے یا شخص کے سابق ملازم تھے اور کسی بھی وجہ کے باعث نوکری چھوڑ چکے ہیں وہ بھی اب اپنی سابقہ جگہِ ملازمت کے خلاف ہراسانی کی درخواست دے سکیں گے۔

"ہراسانی" کی قانونی تعریف میں بھی وسعت لائی گئی ہے۔ پہلے قانون میں ہراسانی سے مراد صرف جنسی ہراسانی تھا جبکہ نئے قانون میں جنسی ہراسانی کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ایسا اشارہ، عمل یا فقرہ جو کام کی جگہ پر کسی کے لیے باعث ہتک یا زحمت بنے، ذومعنی الفاظ یا فقرے، کسی کو گھورنا یا سائبر سٹاکنگ یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے کسی کی نگرانی کرنا بھی اب ہراسانی کے زمرے میں آئے گا۔

کام کی جگہوں پر خواتین کے خلاف ہراسانی کے تحفظ کے نئے قانون میں خواتین کے ساتھ مردوں، بچوں اور خواجہ سراؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

جنسی ہراس کی شکایت کے خلاف ہر ادارے میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دینا لازم ہے جس کی کم سے کم ایک ممبر خاتون ہوگی۔ کمیٹی کو شکایت ملنے کے 30 روز کے اندر انکوائری شروع کرنا ہوگی۔  

پروین ممتاز نے بتایا بہت کم فیکٹریاں ہیں جہاں پر انسداد ہراسمنٹ کمیٹیاں موجود ہیں۔ 

جن فیکٹریوں میں ایسی کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں وہاں پر خواتین ورکرز کو اس بارے میں آگاہی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس قانون کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہراسانی کے خلاف کارروائی کے لئے کس فورم سے رجوع کریں۔

قانون جوتی کی نوک پر 

فیصل آباد میں مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم لیبر قومی موومنٹ کے سیکرٹری جنرل اسلم معراج نے سجاگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کو ٹیکسٹائل ملز میں کام کرنے والی خواتین ورکرز کی طرف سے ہراسانی کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں جس پر وہ انہیں فیکٹری انتظامیہ سے رابطہ کر کے حل کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں درجنوں ٹیکسٹائل ملز میں سیکڑوں کی تعداد میں خواتین کام کرتی ہیں لیکن ان میں سے صرف 27 ایسے ادارے ہیں جہاں ہراسمنٹ کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں لیکن  وہ ان کی کارکردگی سے بھی لاعلم ہیں۔ 

کھرڑیانوالہ کا علاقہ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ایک بڑا مرکز ہےجہاں پاکستان کے بڑے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے پروڈکشن یونٹس میں ہزاروں خواتین ورکر کام کرتی ہیں۔ 

فیصل آباد کی جی سی یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی کی طرف سے 2018 میں کھرڑیانوالہ کی 30 بڑی ٹیکسٹائل ملز میں کام کرنے والی خواتین ورکروں سے کئے گئے ایک سروے کے دوران 15.7فیصد نے سپروائزرز کی جانب سے جنسی ہراسانی جبکہ 40 فیصد نے غلط زبان کے استعمال کی شکایت کی تھی۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رائے یاسین سرفراز کھرل نے سجاگ کو بتایا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے قوانین میں ہراسانی کا شکار ٹیکسٹائل ورکرز کی شکایات کے ازالے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'امداد نہ آئی تو اپنے زور بازو پر زندگی بحال کرنے کی ٹھان لی': جعفر آباد میں سیلاب سے متاثرہ کسان کے عزم کی داستان

متاثرہ خواتین کی قانونی امداد کا واحد فورم پولیس کا محکمہ ہے اور پولیس بھی ان خواتین کے کیسز پر قانونی کارروائی کرتی ہے جو باقاعدہ درخواست دے کر ملزم کےخلاف ایف آئی آر کا اندراج کرواتی ہیں"۔

جنسی ہراس کی شکایات میں اضافہ 

اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائیلنس سیل فیصل آباد کی انچارج سب انسپکٹر ثنا نذیر گلناز کے مطابق فیصل آباد میں رواں سال ہراسانی کے واقعات کی پانچ سو سے زائد شکایات درج کروائی گئی تھیں تاہم ان میں سے کام کے مقام پر ہراسانی سے متعلق شکایات کی تعداد ایک درجن سے بھی کم ہے۔

"زیادہ تر شکایات گھریلو تشدد سے متعلق تھیں جبکہ یونیورسٹی طالبات کی جانب سے بھی ہراسانی کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ہراسانی اور ڈومیسٹک وائلینس کے زیادہ تر واقعات میں ابتدائی طور پر ہی صلح ہو جاتی ہے اور اگر مقدمہ درج ہو بھی جائے تو پہلی پیشی پر ملزم کی ضمانت ہو جاتی ہے"۔

ان کا کہنا تھا کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والی زیادہ تر خواتین کو اس قانون کے بارے میں آگاہی نہیں ہے اور اگر کوئی خاتون کسی بڑے جرم یعنی زیادتی وغیرہ کی ایف آئی آر درج کروانے پولیس سٹیشن پہنچ بھی جائے تو وہاں ایف آئی آر کا اندراج کرتے وقت صرف زیادتی یا زیادتی کی کوشش کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی  کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق کام کی جگہ پر خواتین سے ہراسانی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ 

اس رپورٹ کے مطابق وفاقی محتسب کے سیکرٹریٹ کو 18-2013 کے دوران ہراسانی کے واقعات سے متعلق مجموعی طور پر 398 شکایات موصول ہوئیں جبکہ 22-2018 کے دوران اس نوعیت کی شکایات کی تعداد بڑھ کر پانچ ہزار آٹھ تک پہنچ گئی ہے۔

ان میں سے ایک ہزار 689 شکایات سرکاری شعبے جبکہ تین ہزار 319 شکایات نجی اداروں سے متعلق تھیں۔ ہراسانی کی شکایت کرنے والوں میں تین ہزار 601 خواتین اور ایک ہزار 407 مرد شامل تھے۔ 

فیصل آباد میں قائم شہید بینظربھٹو ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن کی مینیجر کنول شہزادی نے سجاگ کو بتایا کہ اس طرح کے کیسز میں ان کا ادارہ متاثرہ خواتین کو قانونی مدد فراہم کرتا ہے۔

"زیادہ تر واقعات میں متاثرہ خواتین سماجی دباؤ کے باعث معاملہ عدالت تک جانے سے پہلے ہی اپنی درخواست واپس لے لیتی ہیں جس کے بعد ہمارے پاس ملزم کے خلاف مزید کارروائی کرنے کا جواز نہیں بچتا"۔

ان کا کہنا تھا کہ قوانین میں بہتری آئی ہے مگر کوئی بھی متاثرہ خواتین کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار نہیں جس کی وجہ سے وہ خاموش رہنے یا ملازمت چھوڑ دینے کو بہتر سمجھتی ہیں۔

تاریخ اشاعت 29 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

نعیم احمد فیصل آباد میں مقیم ہیں اور سُجاگ کی ضلعی رپورٹنگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ