صحرائے تھل میں چوبارہ برانچ نہر کی تعمیر: مصیبت ہے کوئی مسرت نہیں ہے۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

صحرائے تھل میں چوبارہ برانچ نہر کی تعمیر: مصیبت ہے کوئی مسرت نہیں ہے۔

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

صحرائے تھل میں چوبارہ برانچ نہر کی تعمیر: مصیبت ہے کوئی مسرت نہیں ہے۔

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

مرید حسین کا چہرہ  ایسے کِھلا ہوا ہے جیسے بہار میں سرسوں کا پھول۔ اُن کی خوشی کی وجہ 6 جنوری 2022 کی سرد سہ پہر کو ہونے والی ہلکی ہلکی بارش ہے جو ان کے سامنے پھیلے تھل کے ٹیلوں پر پڑ کر ریت میں جذب ہو رہی ہے۔ 

انہوں نے 10 ایکڑ اراضی پر چنے کی فصل بیج رکھی ہے جس کے سبز پودے بارش میں دھل کر اور بھی سبز ہو گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "یہ بارش صحیح وقت پر ہو رہی ہے کیونکہ اس سے چنےکی پیداوار دگنی تگنی ہو جائے گی"۔ 

ان کے مطابق نومبر-دسمبر میں کاشت ہونے والی چنے کی فصل کو عام طور پر زیادہ پانی درکار نہیں ہوتا لیکن اگر اپریل سے پہلے اس پر تین بارشیں پڑ جائیں تو اس کی پیداوار ایک ہزار کلوگرام فی ایکڑ تک چلی جاتی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ پیداوار دو سو کلوگرام تک ہی رہتی ہے۔ 

مرید حسین کی عمر 52 سال ہے اور وہ پچھلے پانچ سال سے اپنی بیوی، دو بیٹیوں اور ایک کم عمر بیٹے کے ساتھ جنوب مغربی پنجاب کے ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں واقع نواں کوٹ نامی قصبے کے قریب رہ رہے ہیں۔ ان کی رہائش گاہ پکی اینٹوں سے بنے دو کمروں پر مشتمل ہے جو بغیر کسی چاردیواری کے ریت کے ٹیلوں اور چنے کے کھیتوں کے بیچوں بیچ کھڑے ہیں۔ ان کی کل جائیداد 10 بکریاں اور دو اونٹ ہیں۔

وہ فیصل آباد کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسر کی 25 ایکڑ زمین پر کاشت کاری کرتے ہیں جو اونچے نیچے ٹیلوں پر مشتمل ہے اور جسے سیراب کرنے کے لیے انہیں پانی دستیاب نہیں۔ اس لیے وہ اکثر اس کا بڑا حصہ کاشت ہی نہیں کر پاتے۔

ایسی زمینوں کو دریائی پانی فراہم کرنے کے لیے پنجاب حکومت چوبارہ برانچ نامی نہر کھودنا چاہتی ہے۔ یہ نہر گریٹر تھل کینال سے نکالی جا رہی ہے جو خود ضلع خوشاب کے مقام آدھی کوٹ پر چشمہ-جہلم لنک کینال سے نکلتی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق موجود صدی کی پہلی دہائی میں بنائی گئی گریٹر تھل کینال میں سے چار شاخیں نکالی جائیں گی جو میانوالی، خوشاب، بھکر، لیہ اور جھنگ کے اضلاع کو سیراب کریں گی۔ تاہم ابھی تک ان میں سے صرف منکیرہ برانچ مکمل کی گئی ہے۔ 

چوبارہ برانچ کے منصوبے کے تحت بنائی جانے والی مرکزی نہر کی لمبائی 71 کلومیٹر ہو گی جبکہ اس سے دو سو 51 کلومیٹر لمبی ایسی نہریں نکالی جائیں گی جو اس کا پانی ایک سو 24 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی چھوٹی چھوٹی نہروں میں تقسیم کریں گی۔

حکومتی منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ 2028 میں اس سارے نظام کی تکمیل سے دو لاکھ 94 ہزار ایکڑ زرعی اراضی سیراب ہو گی۔

چوبارہ برانچ کی تعمیر پر لگ بھگ 25 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے جن میں سے 20 کروڑ ڈالر ایشیائی ترقیاتی بنک قرض کی شکل میں فراہم کر رہا ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق نہر سے تقریباً 38 ہزار کسان خاندان مستفید ہوں گے جن میں سے اکثر ساڑھے 12 ایکڑ سے کم اراضی کے مالک ہیں۔

مقامی لوگوں کے اعتراضات

صوبہ پنجاب کے مغربی ضلع میانوالی میں دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان واقع علاقے سے شروع ہونے والا تھل کا صحرا خوشاب، جھنگ، بھکر اور لیہ کے اضلاع سے ایک مثلث کی شکل میں گزرتا ہوا ضلع مظفرگڑھ میں ختم ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی تین سو چھ کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی ایک سو 13 کلومیٹر ہے۔

تھل کے بیشتر کسانوں کے پاس یا تو بہت کم زرعی رقبہ ہے یا پھر مرید حسین کی طرح وہ دوسروں کی زمین کاشت کرتے ہیں۔ ان میں سے احمد علی بصیر کی طرح کے کچھ آسودہ حال کسانوں نے اپنی زمینوں کو ہموار کر لیا ہے اور ٹیوب ویل لگا لیے ہیں اور وہ چنوں کے ساتھ ساتھ گندم اور باجرے جیسی کچھ دوسری فصلیں بھی کاشت کر رہے ہیں۔ 

ان کا آبائی ضلع اوکاڑہ ہے لیکن محکمہ مال میں پٹواری کے طور پر کام کرنے والے ان کے والد نے 50 سال پہلے ضلع بھکر کی تحصیل منکیرہ کے گاؤں 10 ایم آر میں 60 ایکڑ اراضی الاٹ کرا لی تھی۔ اُس سے چند سال پہلے ہی گریٹر تھل کینال کی تعمیر کا منصوبہ پہلی بار سامنے آیا تھا۔

گریٹر تھل کینال میں سے نکلنے والی منکیرہ برانچ کی تعمیر وفاقی حکومت کے ادارے، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)،  نے 2002 میں شروع کی اور 2008 میں مکمل کی۔ چوبارہ برانچ کے لیے بھی زمین کے حصول کا کام 2006 میں شروع کیا گیا لیکن مالی وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کی تعمیر التوا کا شکار ہو گئی۔ اس کا دوبارہ آغاز 2018 میں ہوا جب ایشیائی ترقیاتی بنک نے اس کے لیے درکار پیسے اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی حامی بھری۔

چوبارہ برانچ کے لیے حکومت کو پانچ ہزار چھ سو 16 ایکڑ زمین درکار ہے۔ اگست 2021 میں اس کی تعمیر کے حوالے سے جاری کی گئی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ اس میں سے چار ہزار چار سو 10 ایکڑ زمین "لوگوں کی مرضی کے بغیر ان سے  لے لی گئی ہے"۔ باقی کی زمین کی مالک سرکار خود ہے۔ اس کا بڑا حصہ ایسی 'رکھوں' پر مشتمل ہے جنہیں اجتماعی مقاصد کے لیے 'رکھا' یا مختص کیا گیا ہے۔   

سرکاری دستاویزات کے مطابق چوبارہ برانچ کی تعمیر اسی سال شروع ہو رہی ہے تاہم حال ہی میں اس کے ڈیزائن میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک تبدیلی منکیرہ سے سات کلو میٹر مشرق میں ایک پولٹری فارم کی وجہ سے کی جا رہی ہے جس کے مالک کراچی سے منتخب شدہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی محمد اکرم چیمہ ہیں۔ 

ابتدائی ڈیزائن کے مطابق ان کے فارم میں سے تقریباً ساڑھے پانچ ایکڑ رقبہ نہر کی مجوزہ گزرگاہ میں آ رہا تھا۔ اس رقبے پر مرغیوں کے تین شیڈ، کچھ دفاتر اور ایک کھلا صحن بنے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد اکرم چیمہ نے اس کے بدلے میں کروڑوں روپے طلب کیے تھے لیکن حکومت نے یہ رقم دینے کے بجائے نہر کا ڈیزائن تبدیل کرنا مناسب سمجھا۔ 

سرکاری دستاویزات کے مطابق اس تبدیلی کی وجہ سے حکومت کو ساڑھے 12 ایکڑ اضافی اراضی خریدنا پڑی ہے جس کی لاگت 44 لاکھ 57 ہزار روپے ہے۔ اس اضافی زمین میں ممتاز حسین کا 13 کنال تجارتی رقبہ بھی شامل ہے جو چک 9 آر ایم میں واقع ہے اور جس پر انہوں نے کریانے کی دکان اور موٹر سائیکل مرمت کی ورکشاپ تعمیر کر رکھی ہے۔ 

ان کا الزام ہے کہ حکومت نے "پولٹری فارم کے بااثر مالک کو نقصان سے بچانے کے لیے ان کا روزگار داؤ پر لگا دیا ہے"۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پرانے نقشے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ زمین خریدی تھی تاکہ نہر کے کنارے پر آجانے سے اس کی مالیت میں اضافہ ہو جائے۔ لیکن اب انہیں آٹھ لاکھ 15 ہزار روپے بطور زرِ تلافی دیے جا رہے ہیں جو، ان کے بقول، ان کی زمین کی اصل قیمت سے بہت کم ہے۔

ان کے بیٹے منظر حسین نے پنجاب کے محکمہ آب پاشی کو ایک درخواست دے رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نہر کو پرانے نقشے کے مطابق ہی بنایا جائے ورنہ وہ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ 

احمد علی بصیر بھی نہر کے نقشے سے خوش نہیں۔ وہ کہتے ہیں 2017 میں کیے گئے سروے کے مطابق ان کی چار ایکڑ اراضی اس کا حصہ بن رہی تھی لیکن "اب ان سے چھ ایکڑ اراضی لی جا رہی ہے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

جنگل کی زمین پر بجلی کی پیداوار: رکھ چوبارہ کے باسی اور سرکاری محکمے آپس میں الجھ پڑے۔

حکومت کی طرف سے اڑھائی لاکھ روپے سے  لے کر چار لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے دی جانے والی زرِتلافی بھی ان کے خیال میں بہت کم ہے کیونکہ، ان کے مطابق، ان کے علاقے میں ایک ایکڑ زمین کی قیمت دس لاکھ روپے تک ہے۔ 

لیہ کی تحصیل چوبارہ کے قریب کھوہ محمد والا کے رہائشی غلام حسین اور محمد خالد بھی نہر کے راستے میں آنے والی اپنی زمین کی زرِتلافی سے خوش نہیں۔ ان کے بقول انہیں اڑھائی ایکڑ اراضی کے بدلے میں صرف ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے حالانکہ ان کی زمین کے ایک ایکڑ کی موجودہ قیمت 20 لاکھ روپے سے 25 لاکھ روپے تک ہے۔

تاہم اس طرح کے انفرادی اعتراضات کے باوجود تحصیل منکیرہ میں متعین ایک پٹواری، محمد وارث، کہتے ہیں کہ مرکزی نہر کی گزرگاہ کے لیے حاصل کی گئی تمام اراضی پر سفید برجیاں لگا کر اس کا تعین کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے تقریباً 50 فیصد مالکان کو زرِتلافی بھی ادا کر دی گئی ہے۔ 

جنگل بمقابلہ زراعت

فاریسٹ ایکٹ 1927 (ترمیم شدہ) کے مطابق صوبائی کابینہ جنگل کے لیے مختص زمین کے استعمال میں تبدیلی صرف ایک ایسے منصوبے کے لیے کر سکتی ہے جو قومی سلامتی کے لیے ضروری ہو۔ اگرچہ یہ سوال بحث طلب ہے کہ چوبارہ برانچ قومی سلامتی کے لیے کتنی ضروری ہے لیکن مقامی لوگوں کو شکایت ہے کہ 'رکھوں' کی ایسی زمین بھی چوبارہ برانچ کا حصہ بنائی جا رہی ہے جسے جنگل اُگانے کے لیے مختص کیا گیا ہے اور جس کے اردگرد رہنے والے لوگ اسے مشترکہ چراگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔    

ان لوگوں کو خدشہ ہے کہ نہر کے بننے سے یہ چراگاہیں ان سے چھن جائیں گی۔ 

چوبارہ سے چند کلومیٹر شمال مشرق میں واقع بستی ملانہ کے رہنے والے نذیر حسین، جو دوسرے لوگوں کی بھیڑ بکریاں پال پوس کر روزی روٹی کماتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ نہر کے بننے کےبعد تھل میں موجود کئی 'رکھیں' زرعی زمینوں میں تبدیل ہو جائیں گی۔ ان کے بقول اس عمل کے نتیجے میں بیشتر "چراگاہیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی"۔ 

چوبارہ کے قریب ایک جھگی میں رہنے والے 60 سالہ اونٹ بان عاشق علی ان کی تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان چراگاہوں کے خاتمے سے ان کی طرح کے ہزاروں مویشی بان خاندان متاثر ہوں گے۔

مقامی لوگوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ نہر کی تعمیر کے بعد 'رکھوں' کی زمینیں فوجی افسروں کو الاٹ کر دی جائیں گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دراصل یہ عمل گریٹر تھل کینال کی تعمیر کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا جب بہت سے غیر مقامی فوجی افسران کو ان 'رکھوں' میں ہزاروں ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی تھی۔ 

منکیرہ کے پٹواری ان کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فوجی افسروں کی ملکیتی زمینیں پورے تھل میں ہر اس جگہ موجود ہیں جہاں نہروں کا پانی دستیاب ہے۔ 

ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں متعین محکمہ جنگلات کے ایک اہل کار بھی اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت (2008-1999) میں صرف بھکر کی تحصیل منکیرہ کے پاس واقع رکھ ڈگر کوٹلی میں 20 ہزار ایکڑ کے لگ بھگ رقبہ ان افسروں کو دیا گیا۔ اسی طرح، ان کے مطابق "رکھ کارلو والا، رکھ بابا ہوندا لال اور رکھ چھیکن میں بھی بہت ساری زمین انہیں دی گئی"۔ 

ان کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مقامی لوگوں نے اس الاٹمنٹ کے خلاف بہت سے احتجاجی مظاہرے کیے اور لاہور میں ایک احتجاجی دھرنا بھی دیا جس کے باعث یہ عمل کچھ سست روی کا شکار ہوا۔ ورنہ، ان کے بقول، "اب تک اس علاقے کی ساری زمین یونہی الاٹ ہو جاتی"۔ 

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس الاٹمنٹ کا سب سے شدید منفی اثر مقامی جنگلات پر پڑا ہے کیونکہ جن لوگوں کو یہ زمینیں ملی ہیں انہوں نے بڑے پیمانے پر درخت کاٹ کر ان کی جگہ فصلیں بونا شروع کر دی ہیں۔ اس ضمن میں وہ  رکھ ڈگر کوٹلی کا ذکر کرتے ہیں جہاں، ان کے مطابق، اتنا بڑا اور گھنا جنگل تھا کہ "اسے دیکھ کر خوف آتا تھا لیکن اب وہ سارے کا سارا کاٹ دیا گیا ہے"۔

تاریخ اشاعت 14 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔