تونسہ میں سیلاب کی تباہ کاریاں: رود کوہی نے 'ہمیں اتنا وقت ہی نہیں دیا کہ ہم اپنے مویشیوں اور گھر والوں کے سوا کچھ اور بچا سکتے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

تونسہ میں سیلاب کی تباہ کاریاں: رود کوہی نے 'ہمیں اتنا وقت ہی نہیں دیا کہ ہم اپنے مویشیوں اور گھر والوں کے سوا کچھ اور بچا سکتے'۔

تنویر احمد

postImg

تونسہ میں سیلاب کی تباہ کاریاں: رود کوہی نے 'ہمیں اتنا وقت ہی نہیں دیا کہ ہم اپنے مویشیوں اور گھر والوں کے سوا کچھ اور بچا سکتے'۔

تنویر احمد

آمنہ بی بی اپنے آنسوؤں کو روکنے کی بہت کوشش کر رہی ہیں لیکن جب وہ کہتی ہیں کہ "میرے گھر کا سارا سامان اور تمام اناج بہہ گیا ہے" تو غم کی شدت سے ان کی آواز لرزنے لگتی ہے۔ 

وہ 21 اگست 2022 کو جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی کی تحصیل تونسہ کے گاؤں منگڑوٹھہ میں عین اس جگہ پلاسٹک کے لال تھیلوں سے بنے ایک عارضی چھپر تلے بیٹھی ہیں جہاں کبھی 10 کمروں پر مشتمل ان کا بڑا سا گھر کھڑا تھا۔ اب اس کے آٹھ کچے کمرے مکمل طور پر گر چکے ہیں اور دو پختہ کمروں کی دیواروں میں اتنی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں کہ وہ کسی وقت بھی زمین پر آ سکتے ہیں۔

وہ اس تباہی کا سبب کُکوواہ نامی برساتی نالے کو قرار دیتی ہیں جو گہرے مٹیالے پانی سے بھرا اب بھی ان کے منہدم گھر کے عین سامنے سے گزر رہا ہے۔ یہ نالہ عام طور پر خشک رہتا ہے اگرچہ ہر برسات کے موسم میں کچھ روز کے لیے اس میں پانی ضرور آتا ہے۔ تاہم اس سال 14 اگست کو جب ملک کے باقی حصوں میں یوم آزادی کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں منگڑوٹھہ اس نالے میں آنے والے سیلاب میں ڈوب رہا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کی وجہ گاؤں کے مغرب میں واقع کوہِ سلیمان میں ہونے والی غیرمعمولی بارشیں ہیں۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس قدرتی آفت کی زد میں آنے سے بچ سکتے تھے اگر پہاڑوں کے دامن میں واقع بجری بنانے والے تین کارخانوں نے بارشی پانی کا قدرتی راستہ نہ روکا ہوتا۔ اس رکاوٹ کی وجہ سے پہاڑوں سے اترنے والے ندی نالوں نے (جنہیں مقامی زبان میں رود کوہی کہا جاتا ہے) منگڑوٹھہ اور اس کی نواحی آبادیوں کو سیلاب سے بچانے کے لیے بنائے گئے مصنوعی بند توڑ ڈالے۔

آمنہ بی بی، جن کی عمر پچاس سال سے کچھ اوپر معلوم ہوتی ہے اور جن کا خاندان برتن بنانے کا کام کرتا ہے، کہتی ہیں کہ "بند کے ٹوٹنے سے 15 منٹ پہلے کچھ مقامی لوگوں نے اعلان کیا کہ رود کوہی کا پانی گاؤں کی طرف بڑھ رہا ہے"۔ لیکن، ان کے بقول، یہ پانی اتنی تیزی سے گاؤں میں داخل ہوا کہ وہ اپنے گھر کو بچانے کے لیے کچھ بھی نہ کر سکیں۔

منگڑوٹھہ کے بہت سے دوسرے لوگوں پر بھی یہی گزری۔ نتیجاً دو سو سے زائد مقامی گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے جبکہ پانچ سو کے قریب گھروں کو جزوی ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

آمنہ بی بی کے منہدم گھر کے ساتھ ہی ایک 22 سالہ لڑکا ایک گڑھے میں کھڑے سیلابی پانی سے ایک ایسی سلائی مشین صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اُس نے اپنے گھر کے ملبے سے نکالی ہے۔ یہ گڑھا اس مقام پر بنا ہوا ہے جہاں سیلاب آنے سے پہلے مقامی نوجوان نعمت اللہ کی پرچون کی دوکان واقع تھی۔ 

نعمت اللہ کا گھر بھی اس گڑھے کے پاس ہی ہے۔ اس میں اس وقت ان کے اپنے خاندان کے آٹھ افراد کے علاوہ تین اور خاندان بھی رہائش پذیر ہیں جو اُن کے قریبی عزیز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "سیلاب نے ہمیں اتنا وقت ہی نہیں دیا کہ ہم اپنے مال مویشی اور گھر کے افراد کے سوا اور کچھ بچا سکتے"۔ 

ان کے 61 سالہ ہمسائے محمد شریف اپنے گھر کے ساتھ ساتھ گندم کی 15 بوریاں بھی سیلاب میں کھو بیٹھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہم نے کوشش تو بہت کی کہ کچھ اناج کسی طرح بچا لیں لیکن پانی کے سامنے ہمارا کوئی زور نہ چلا"۔  

سیلاب ان کی ایک گائے بھی بہا لے گیا تھا لیکن بعد میں وہ اسے ایک قریبی بستی سے ڈھونڈھ کر واپس لے آئے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ منگڑوٹھہ کے درجنوں دوسرے خاندانوں کے مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ 

دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی

محمد رانا تونسہ سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع قصبے وہووا کی نواحی بستی دنڑ میں رہتے ہیں جہاں وہ 22 اگست 2022 کو ایک کَسّی سے وہ جگہ کھود رہے ہیں جہاں کبھی ان کا گھر بنا ہوا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ مٹی کے نیچے سے شاید انہیں کچھ ایسا گھریلو سامان ہاتھ لگ جائے جو ابھی بھی قابل استعمال ہو۔ 

وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے 15 افراد کے ساتھ جھگیوں میں رہتے تھے اور بھیک مانگ کر گزارا کرتے تھے لیکن سیلاب میں ان کا مانگا ہوا آٹا اور اناج بھی ضائع ہو گیا ہے۔ اب انہیں فکر لاحق ہے کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں وہ اپنے کھانے پینے کا انتظام کیسے کریں گے کیونکہ جس بستی میں وہ بھیک مانگتے تھے وہاں کے باسی اس وقت خود دوسروں کی امداد کے منتظر ہیں۔ 

دنڑ کے محلے حیات آباد میں بھی تقریباً ہر گھر ٹوٹا پڑا ہے۔ اس کی کیچڑ بھری گلیوں میں ہر طرف منہدم چاردیواریاں اور زمین بوس مکان دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں رہنے والے جمعہ خان اور محمد رفیع کی تو جیسے دنیا ہی لُٹ گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں بھائیوں نے کچھ عرصہ پہلے ایک خوبصورت گھر تعمیر کیا تھا جسے کچھ لوگ 70 لاکھ روپے میں خریدنے کو تیار تھے۔ لیکن ابھی وہ اس میں منتقل بھی نہیں ہوئے تھے کہ سیلاب آگیا جس نے اس کی پوری عمارت کو اس قدر توڑ پھوڑ کر رکھ دیا کہ اب اس کا صرف ایک کمرہ باقی رہ گیا ہے۔

وہووا سے 17 کلو میٹر شمال مشرق میں واقع جلووالی بستی میں بھی صورتِ حال اتنی ہی سنگین ہے۔ سیلاب کے گزرنے کے چار روز بعد بھی یہاں کی گلیوں میں اتنا پانی کھڑا ہے کہ اس کی وجہ سے گرے ہوئے گھروں تک پہنچنا نا ممکن ہے۔ دوسری طرف پہاڑوں سے آنے والا بارشی پانی ابھی بھی اس کے پاس سے گزر رہا ہے جبکہ بہت سے مقامی لوگ آبادی کے ایک سرے پر تقریباً 10 فٹ اونچی جگہ پر کھڑے اسے تشویش بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ 

غلام حسن کھوجہ نامی مقامی باشندے، جو اپنے گھر کے 10 افراد سمیت جلووالی میں واقع گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول میں رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ سیلاب نے ان کا پکی اینٹوں سے بنا ہوا گھر گرا دیا ہے۔ لیکن اب، ان کے مطابق، ان کے پاس ایسا کچھ نہیں بچا جس سے وہ اسے دوبارہ تعمیر کر سکیں۔ 

مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

تونسہ سے 17 کلومیٹر شمال میں واقع گاؤں ناڑی شمالی کے باسی 22 اگست 2022 کو انڈس ہائے وے سے گزرنے والی ٹریفک کو بند کر کے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ حکومتی اداروں نے انہیں رود کوہی کے سیلاب بننے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع ہی نہیں دی۔ 

ہنگامی امداد فراہم کرنے والے سرکاری ادارے، ریسکیو 1122، کا تحصیل تونسہ سے متعلق ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی شکایت درست ہے۔ اس کے مطابق اس ادارے کے اہل کاروں نے 14 اگست سے لے کر 21 اگست تک مختلف ذرائع نقل و حمل استعمال کرتے ہوئے 29 ہزار سے زائد لوگوں اور ایک ہزار پانچ سو 76 مویشیوں کو سیلابی علاقے سے نکالا۔ پیشگی اطلاع ہونے کی صورت میں یہ تمام لوگ اپنے مویشیوں کے ساتھ خود ہی اپنی بستیاں خالی کر کے سیلاب زدہ علاقے سے باہر نکل آتے۔ 

لیکن ایسا نہ ہونے سے سیلاب کی تباہ کاریوں کا دائرہ بہت وسیع رہا ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر نے خود تسلیم کیا ہے کہ تحصیل تونسہ کا تقریباً 88 فیصد علاقہ سیلابی پانی سے متاثر ہوا ہے۔ ان کی ایک ٹویٹ کے مطابق 26 جولائی 2022 سے لے کر 29 اگست 2022 تک اس تحصیل کے ایک سو 84 موضع جات میں سے ایک سو 63 رود کوہی کا نشانہ بنے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحصیل تونسہ میں سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار چھ سو 84 ہے (جو اس کی کل آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہے)۔ اسی طرح سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سیلابی پانی سے نو ہزار سات سو 39 گھروں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے جبکہ اس دوران سیلاب سے جڑی مختلف وجوہات کی بنا پر 14 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ 

سیلاب نے کھڑی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ محکمہ زراعت کے تونسہ میں متعین اہل کاروں نے تخمینہ لگایا ہے کہ 25 جولائی سے لے کر 13 اگست تک اس تحصیل کے 51 موضع جات میں 74 ہزار پانچ سو 67 ایکڑ زرعی رقبہ رود کوہی سے متاثر ہوا۔ اس تخمینے میں 14 اگست اور اس کے بعد آنے والے ان سیلابی ریلوں سے ہونے والے نقصانات شامل نہیں جنہوں نے ایک سو سے زیادہ دیگر موضع جات کو متاثر کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ سیلابی پانی نے ضلع بھر میں 14 لاکھ 81 ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا ہے (جو ضلع کے مجموعی زرعی رقبے کا 64 فیصد ہے)۔ مقامی لوگوں کے مطابق سب سے زیادہ نقصان کپاس کی فصل کو ہوا ہے جو تحصیل تونسہ کی 79 فیصد زرعی زمین پر چنائی کے لیے تیار کھڑی تھی۔ 

سیلاب کی وجہ سے ایک وسیع علاقے پر ریت اور پتھر ملی مٹی کی تین سے چار فٹ موٹی تہہ بھی جم چکی ہے۔ مقامی کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ اسے ہٹائے بغیر اس سے متاثرہ کھیتوں میں کوئی نئی فصل کاشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ 

میرے دکھ کی دعا کرے کوئی

ناڑی شمالی، منگڑوٹھہ اور دنڑ جیسے سیلاب زدہ دیہات میں لوگ سرِعام شکوہ کرتے سنائی دیتے ہیں کہ اتنی بڑی تباہی کے باوجود 22 اگست 2022 تک کوئی حکومتی ادارہ یا کوئی حکومتی اہل کار ان کی مدد کو نہیں پہنچا۔ اس کے بجائے دنڑ کے لوگ خود ہی ٹریکٹروں کے ذریعے بند باندھ کر مزید بارشی پانی سے بچنے کا انتظام کر رہے ہیں۔ 

جہاں کہیں متاثرین کی حفاظت اور امداد کے لیے حکومت کی جانب سے کچھ انتظامات کیے بھی گئے ہیں وہ سخت ناکافی ہیں۔ جیسا کہ اگست کے اختتام تک صرف 14 ہزار تین سو 67 لوگوں کو خشک راشن فراہم کیا گیا اور صرف چھ ہزار 45 لوگوں کو خیمے دیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ تر لوگ یا تو کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں یا انہوں نے سرکای عمارتوں اور اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لی ہوئی ہے۔ 

ان علاقوں میں علاج معالجے کی سہولتیں یا تو موجود ہی نہیں یا اگر ہیں تو ان کے لیے درکار عملہ غائب ہے۔ مثال کے طور پر منگڑوٹھہ میں بنائے گئے طبی مرکز میں شامیانے، قناتیں، کرسیاں اور وزیر اعلی پنجاب کی تصویر والا بینر تو لگے ہوئے ہیں لیکن اس میں نہ تو کوئی ڈاکٹر ہے اور نہ کوئی اور اہل کار۔

یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں سے مریضوں کی ایک بڑی تعداد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہپستال تونسہ کا رخ کر رہی ہے۔ وہاں متعین ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس علاج کے لیے آنے والے بیشتر لوگ اسہال اور ہیضے میں مبتلا ہیں۔ اس میں روزانہ لگ بھگ پانچ ایسے مریض بھی آ رہے ہیں جنہیں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے سانپوں نے کاٹا ہوتا ہے۔

اس ہسپتال کے زچہ و بچہ کے شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ دیہات سے آنے والی بیشتر خواتین نہ صرف ذہنی تناؤ اور بے چینی کا شکار ہیں بلکہ وہ جسمانی طور پر بھی بہت کمزور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ، ان کے مطابق، ان میں سے کئی حاملہ خواتین زچگی کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہیں۔ نتیجتاً وہ روزانہ اسقاطِ حمل کی 12 سے 18 مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت 2 ستمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔