ایڈن ہاوسنگ لمیٹڈ کے مالک کا انتقال: کمپنی کے متاثرین شکایات کے ازالے کے لیے کس کے پاس جائیں؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ایڈن ہاوسنگ لمیٹڈ کے مالک کا انتقال: کمپنی کے متاثرین شکایات کے ازالے کے لیے کس کے پاس جائیں؟

ارحبا وسیم

postImg

ایڈن ہاوسنگ لمیٹڈ کے مالک کا انتقال: کمپنی کے متاثرین شکایات کے ازالے کے لیے کس کے پاس جائیں؟

ارحبا وسیم

اعجاز احمد کو 25 مارچ 2014 کی شام دل کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 63 برس تھی۔ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر بھر کی کمائی ایک رہائشی پلاٹ خریدنے پر لگا رکھی تھی لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ اس کی خریداری میں ان کے ساتھ دھوکا ہو گیا ہے تو وہ صدمے کی شدت سے جانبر نہ ہو سکے۔

پانچ مرلے کا یہ پلاٹ انہوں نے 2010 میں ایڈن ریزیڈنشیا نامی رہائشی منصوبے میں بُک کرایا تھا جو لاہور کے جنوبی سرے پر واقع کاہنہ نامی گاؤں کے قریب سے گزرنے والے روہی نالے کے کنارے بنایا جانا تھا۔ یہ منصوبہ بنانے والی کمپنی، ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ، اس سے پہلے لاہور کے جنوب مغربی داخلی راستے، ملتان روڈ، کے قریب ایڈن ہومز کے نام سے ایک کامیاب رہائشی منصوبہ تعمیر کر چکی تھی اس لیے اعجاز احمد کا خیال تھا کہ یہ کمپنی ان کی رقم کے بدلے انہیں ان کی ضروریات کے مطابق ایک مناسب پلاٹ مہیا کرے گی۔

اگلے چار سال میں انہوں نے متعدد قسطوں کی صورت میں ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ کو ساڑھے 17 لاکھ روپے ادا کیے۔ ان کے لیے یہ ادائیگی آسان نہیں تھی کیونکہ ان کے مالی وسائل بہت محدود تھے۔ وہ ایک نیم سرکاری محکمے میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتے تھے جہاں سے ملنے والی ماہانہ تنخواہ سے انہیں گھر کے اخراجات بھی چلانے ہوتے تھے اور اپنے تین بچوں کی تعلیم کا بندوبست بھی کرنا ہوتا تھا۔ ان کی اہلیہ فرزانہ اعجاز کہتی ہیں کہ ان کے خاندان نے پلاٹ خریدنے کے لیے بہت قربانیاں دیں۔ حتیٰ کہ اس کی قسطیں ادا کرنے کے لیے انہیں اپنے زیورات بھی بیچنا پڑے۔

لیکن جب اعجاز احمد نے اپنے ذمے واجب الادا رقم کا زیادہ تر حصہ ادا کر دیا تو انہیں ایسی افواہیں سننے کو ملیں کہ ایڈن ریزیڈنشیا محض ایک کاغذی منصوبہ ہے اور یہ کہ جن لوگوں نے اپنے پلاٹوں کی مکمل ادائیگی کر دی ہے انہیں بھی ابھی تک ان کا قبضہ نہیں ملا۔

ان افواہوں کی تصدیق یا تردید کے لیے ایک دن وہ ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ کے دفتر پہنچ گئے جہاں انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ کمپنی اپنے وعدے کے مطابق انہیں پلاٹ کی فراہمی یقینی بنائے گی چنانچہ انہوں نے بقیہ رقم کی ادائیگی جاری رکھی۔

مکمل رقم ادا کرنے کے بعد اعجاز احمد ایک بار پھر ایڈن ہاؤسنگ لمیٹد کے دفتر گئے تا کہ اپنے پلاٹ کا قبضہ حاصل کر سکیں لیکن اس دفعہ وہاں موجود اہل کاروں نے ان کے ساتھ ٹال مٹول شروع کر دی۔ ایک طرف انہیں کہا گیا کہ لاہور رِنگ روڈ کی تعمیر کے باعث پلاٹوں کا قبضہ دینے میں کچھ مسائل درپیش ہیں اور دوسری طرف انہیں بتایا گیا کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو منصوبے پر کچھ اعتراضات ہیں جن کی وجہ سے پلاٹوں کو ان کے مالکان کے حوالے کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

تاہم ان اہل کاروں کے رویے سے اعجاز احمد کو اندازہ ہو گیا کہ ان کی جمع پونجی ضائع ہو چکی ہے اور اپنا گھر بنانے کا ان کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔

ان کی بیوہ فرزانہ اعجاز اب اپنے دو بیٹوں کے ساتھ ایک سرکاری گھر میں رہتی ہیں جو ایک ایسے تعلیمی ادارے کے اندر واقع ہے جہاں ان کا بڑا بیٹا پڑھاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پلاٹ کے حصول کی کوشش میں "ہمارے حصے میں صرف  دکھ اور تکالیف ہی آئی ہیں"۔

وہ گذشتہ کئی سالوں سے ایک ایسی تنظیم میں شامل ہیں جو اُن کی طرح ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ کے مختلف منصوبوں میں اپنے پیسے کھو بیٹھنے والے لوگوں نے بنائی ہے۔ اگرچہ وہ اس کے احتجاجی مظاہروں میں باقاعدگی سے شریک ہوتی ہیں لیکن انہیں اس بات کی توقع نہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اپنا پلاٹ یا اس کی مروجہ قیمت کے برابر رقم حاصل کر پائیں گی۔

ایک پلاٹ، سو مالک

ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ 23 فروری 2005 میں لاہور کے رہنے والے ڈاکٹر محمد امجد نے قائم کی۔ اس کے مالکان میں ان کے علاوہ ان کی اہلیہ انجم امجد اور دو بیٹے مصطفیٰ امجد اور مرتضیٰ امجد شامل ہیں۔ کمپنی نے جلد ہی کئی با رسوخ شخصیات سے تعلقات قائم کر لیے حتیٰ کہ 2013 میں مرتضیٰ امجد کی شادی اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی بیٹی سے ہو گئی۔ 

اسی دور میں کمپنی کے متاثرین نے اپنی رقوم کی واپسی کے لیے مظاہرے شروع کر دیے تھے اور نیوز چینل یہ الزام لگانے لگے تھے کہ اس کے مالکان اس کے منصوبوں کو غیر ضروری طور پر موخر کر رہے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کا پیسہ غبن کر کے ملک سے بھاگنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ نے 10 ستمبر 2014 کو ایک اخباری اشتہار جاری کیا جس میں کہا گیا کہ کمپنی نے رہائشی اور تجارتی تعمیرات کے نو مختلف منصوبے شروع کیے تھے جن میں سے پانچ مکمل ہو گئے ہیں جبکہ چار پر کام جاری ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمپنی کے پاس لاہور میں دراصل صرف ایک سو 11 رہائشی پلاٹ تھے لیکن اس نے انہیں مختلف منصوبوں کے تحت ہزاروں لوگوں کو بیچ رکھا تھا۔

نتیجتاً تقریباً 11 ہزار آٹھ سو لوگوں نے نیب کو بتایا کہ کمپنی مجموعی طور پر ان کے آٹھ ارب روپے کھا گئی ہے۔ سینکڑوں ایسے لوگ بھی اس کے متاثرین میں شامل ہیں جنہوں نے ابھی تک نیب سے رابطہ نہیں کیا۔

اگر اِن تمام لوگوں کے دعووں کو اکٹھا کیا جائے تو ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ کے ذمے کل واجب الادا رقم 13 ارب روپے بنتی ہے مگر نیب نے 29 اکتوبر 2019 کو لاہور کی احتساب عدالت میں اس کے خلاف 23 ارب روپے کی بد عنوانی کرنے کا ریفرنس دائر کیا تا کہ روپے کی قدر میں کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کے تمام متاثرین کو ان کی جمع کرائی گئی رقم کی صحیح قدر فراہم کی جا سکے۔

نیب کے ریفرنس کی سماعت شروع ہونے کے بعد ڈاکٹر محمد امجد اور ان کے گھر والوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے اور انہیں پاکستان واپس لانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ اسی دوران ان کی کمپنی کے متاثرین نے لاہور میں وزیر اعظم عمران خان کے گھر کے سامنے شدید احتجاج کیا جس کے نتیجے میں پولیس نے مرتضیٰ امجد کو دبئی سے گرفتار کر لیا (اگرچہ کچھ عرصے کے بعد ہی انہیں رہا کر دیا گیا)۔

ریفرنس پر عدالتی کارروائی ابھی جاری ہے لیکن نیب نے ڈاکٹر محمد امجد اور ان کے خاندان کی ملکیت کئی جائیدادوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ان میں لاہور میں واقع ایک سو 11 رہائشی پلاٹوں کے علاوہ ایڈن آباد نامی منصوبے میں واقع ایک سو 11 تجارتی پلاٹ، جنوبی لاہور کے گاؤں باگڑیاں میں واقع 33 کنال زمین اور اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں واقع 400 کنال زمین شامل ہے۔

کیا متاثرین کے پیسے ہمیشہ کے لیے ڈوب گئے ہیں؟

جون 2021 میں ڈاکٹر محمد امجد اور ان کی اہلیہ پاکستان واپس آئے۔ انہوں نے عدالت سے حکم نامہ جاری کرا رکھا تھا کہ انہیں 12 اگست تک گرفتار نہ کیا جائے۔ واپسی کے بعد انہوں نے نیب کے ساتھ مذاکرات شروع کیےجن میں نیب نے انہیں کہا کہ اگر وہ 16 ارب روپے لوٹا دیں تو ان کے خلاف کی جانے والی عدالتی کارروائی ختم دی جائے گی لیکن انہوں نے جواباً کہا کہ وہ صرف نو ارب روپے ہی واپس کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ بہت سے لوگوں کو پہلے ہی پلاٹوں کی ملکیت کی دستاویزات جاری کر چکے ہیں۔

میمونہ جبین ایسے لوگوں میں شامل ہیں جنہیں یہ دستاویزات فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ کو دو تعمیر شدہ گھروں کے پیسے دے رکھے تھے لیکن انہیں دو خالی پلاٹوں کے ملکیتی کاغذات ہی دیے گئے جو درحقیقت کسی کام کے  نہیں کیونکہ 2018 میں جب چھ سال کی جدوجہد کے بعد وہ سرکاری دفاتر سے ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ کا ریکارڈ نکلوانے میں کامیاب ہوئیں تو انہیں پتہ چلا کہ ان کے دونوں پلاٹ ایل ڈی اے نے بطور ضمانت اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔

سرکاری ضوابط کے مطابق یہ پلاٹ اس وقت تک ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ یا میمونہ جبین کو نہیں دیے جائیں گے جب تک اس منصوبے کے تمام ترقیاتی کام مکمل نہیں ہو جاتے جس کا وہ حصہ ہیں۔ (اسی قسم کے کاغذات وصول کرنے والے دوسرے لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔)

یہ بھی پڑھیں

postImg

راوی ریور فرنٹ کے لیے زرعی زمین کا حصول: منصوبے کے مخالف کسانوں کی گرفتاریاں شروع

میمونہ جبین کہتی ہیں کہ ان کا گھر بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا کیونکہ ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ کے اعلان کردہ منصوبوں کی تکمیل اور اس کے نتیجے میں ایل ڈی اے سے ان پلاٹوں کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔

ان کے خدشات کو مزید تقویت ڈاکٹر محمد امجد کی وفات سے مِلی۔ وہ نیب کے ساتھ مذاکرات کے دوران بیمار پڑ گئے تھے اور 23 اگست 2021 کو فوت ہو گئے۔

لیکن ان کی تدفین سے پہلے ہی ان کے تعمیراتی منصوبوں کے متاثرین بڑی تعداد میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں دفن کرنے سے پہلے ان کی ڈوبی ہوئی رقوم واپس کی جائیں۔

اس احتجاج میں شامل سعید قریشی نامی شخص کا کہنا ہے کہ ایسا غالباً پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی کاروباری شخص کا جنازہ اس طرح روک دیا گیا ہو۔ ان کے بقول یہ واقعہ ان سب لوگوں کے لیے باعثِ عبرت ہونا چاہیے جو دوسروں کے پیسے دبائے بیٹھے ہیں۔

ڈاکٹر محمد امجد کی وفات کے بعد ان کے کمپنی کے متاثرین کے احتجاج کا رخ نیب کی طرف مڑ گیا ہے جس کے بارے میں انہیں شکایت ہے کہ وہ ان کے مطالبات پورا کرنے میں غیر ضروری تاخیر سے کام لے رہی ہے۔

دوسری طرف نیب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تاخیر کی بنیادی وجہ کمپنی کے خلاف دائر کیے گئے ہزاروں دعوے ہیں جن کی تصدیق کرنا بہت ضروری تھا۔ ان کے مطابق یہ تصدیق اب مکمل ہو چکی ہے اور نیب نے ایڈن ہاؤسنگ لمیٹڈ سے ایک ارب روپے واپس لے بھی لیے ہیں۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ جلد ہی متاثرین کو ادائیگیاں شروع ہو جائیں گی۔

تاریخ اشاعت 28 ستمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ارحبا وسیم نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ خواتین اور پسماندہ طبقات کو درپیش سماجی و معاشی مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔