کم سِن بیاہتائیں: جن کی آنکھوں کے گُل کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئے ہیں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کم سِن بیاہتائیں: جن کی آنکھوں کے گُل کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئے ہیں۔

ارحبا وسیم

postImg

کم سِن بیاہتائیں: جن کی آنکھوں کے گُل کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئے ہیں۔

ارحبا وسیم

تین سال پہلے جب ناصرہ کی شادی ہوئی تو ان کی عمر 14 سال تھی جبکہ ان کے شوہر 15 سال کے تھے۔ 

وہ جنوب مغربی لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن کی ایک کچی بستی میں رہتی ہیں جہاں نصب نل سے پانی بھرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتی تھیں لیکن ان کے والدین نے ان کی شادی کرنے کے لیے انہیں سکول سے اٹھا لیا۔ 

اسی بستی کی رہنے والی 14 سالہ صائمہ کو ان کے گھر والے پیار سے بے بی کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیچر بننا چاہتی تھیں لیکن ان کے خاندان والے چاہتے تھے کہ وہ جلد سے جلد اپنا گھر بسا لیں۔ اس لیے چار ماہ قبل ان کی رضامندی کے بغیر ہی ان کی شادی ایک  16 سالہ لڑکے سے کر دی گئی۔ 

صائمہ اب ایک سے زیادہ گھروں میں ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں جبکہ ان کے شوہر اپنی رہائش گاہ کے قریب ایک نجی سکول کی صفائی کا کام کرتے ہیں یوں میاں بیوی کل ملا کر ہر مہینے 19 ہزار روپے کماتے ہیں۔  

وہ کہتی ہیں کہ اس آمدن میں وہ دونوں بمشکل اپنا پیٹ پالتے ہیں لہٰذا اگر وہ ایک بچہ پیدا کر لیں گے تو ان کا گزارا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ انہیں یہ بھی خدشہ ہے کہ کم عمری میں بچہ پیدا کرنے کی صورت میں وہ اس کی ٹھیک طرح سے دیکھ بھال نہیں کر پائیں گی کیونکہ، جیسے کہ وہ خود کہتی ہیں، "میں تو خود ابھی بچی ہوں"۔ 

اگرچہ ان کے شوہر ان سے متفق ہیں کہ انہیں فوری طور پر بچہ پیدا نہیں کرنا چاہیے لیکن ان کی ساس کا اصرار ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کریں کیونکہ، ان کی نظر میں، "ایسا کرنا غیر اسلامی ہے"۔ 

ناصرہ اور صائمہ جیسی کم سِن بیاہتاؤں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ویمن اور عورتوں کے مقام کے بارے میں بنائے گئے قومی کمیشن نے حال ہی میں ایک مشترکہ رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے 2020 میں اگست اور ستمبر کے مہینوں میں پنجاب کے چھ اضلاع اور خیبرپختونخوا کے چار اضلاع میں مجموعی طور پر دو ہزار سات سو 50 شادی شدہ عورتوں کی آرا لی گئیں۔ ان میں ہر ضلعے سے لی جانے والی عورتوں کی تعداد دو سو 75 تھی۔ 

اس سروے میں شامل مظفر گڑھ اور خانیوال سے تعلق رکھنے والی عورتوں میں سے بالترتیب 44 فیصد اور 43 فیصد ایسی تھیں جن کی شادی 18 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہوئی تھی جبکہ مجموعی طور پر پنجاب سے سروے کے شرکا میں 21 فیصد عورتیں ایسی تھیں جن کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہو چکی تھی۔ 

اس رپورٹ کے مطابق جون 2019 اور جولائی 2020 کے درمیان پنجاب میں 18سال سے کم عمر بیاہتاؤں کی کل تعداد 26 لاکھ تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر کم عمری میں اتنی شادیاں نہ ہوتیں تو صرف ان دو سالوں میں پنجاب میں دو لاکھ 94 ہزار مزید لڑکیاں دسویں جماعت پاس کر لیتیں۔

لیکن کم عمری کی شادیوں کے نتیجے میں نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم پر براہِ راست منفی اثر پڑتا ہے بلکہ ان کی سماجی نقل و حرکت کا دائرہ بھی محدود ہو جاتا ہے کیونکہ بہت سی لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے نہ صرف تعلیم کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ انہی میں وہ دوسرے لوگوں سے گھلنے ملنے کے طریقے سیکھتی ہیں اور وہیں ان کی سہیلیاں بھی بنتی ہیں۔ اسی طرح ان اداروں میں ہی انہیں سماجی اور تفریحی سہولتوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

ان عوامل کی بنیاد پر اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی یہ لڑکیاں شادی کی وجہ سے اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کرتی ہیں ویسے ہی وہ سہیلیوں اور تفریح کے مواقع سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے کم عمر بیاہتاؤں کی ایک بڑی تعداد  کا سروے میں کہنا ہے کہ اگر انہیں اختیار ہوتا تو وہ کبھی بچپن میں اپنی شادی نہ ہونے دیتیں بلکہ اس کے بجائے اپنی تعلیم مکمل کرنے کو ترجیح دیتیں۔ 

تعلیم مکمل نہ کر پانے کی وجہ سے یہ لڑکیاں نہ صرف اپنی بات کہنے اور منوانے کی طاقت سے محروم ہو جاتی ہیں بلکہ ان کی کوئی ہنر سیکھنے اور کمائی کرنے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ملازمت پیشہ افراد میں نہ صرف خواتین کا مجموعی تناسب کم رہتا ہے بلکہ کم عمر بیاہتاؤں کو جب کام ملتا بھی ہے تو (پنجاب میں) وہ ایسی خواتین کے مقابلے میں اوسطاً دو ہزار دو سو روپے ماہانہ کم کماتی ہیں جن کی شادی 18 سال کی عمر کے بعد ہوئی ہوتی ہے۔ 

شادی یا جان کا روگ؟   

جب عذرا بی بی کی شادی ہوئی تو ان کی عمر صرف 16 سال تھی جبکہ ان کے شوہر ان سے 10 سال بڑے تھے۔ لیکن چونکہ وہ سارا دن نشہ کر کے گھر میں پڑے رہتے تھے اس لیے شادی کے فوراً بعد عذرا بی بی کو دوسرے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا پڑا جہاں، ان کے مطابق، انہیں مرد ہراساں کرتے اور کہتے کہ "اپنے شوہر کو چھوڑ کر ہم سے شادی کر لو"۔ 

دوسری طرف ان کے شوہر ان کی ساری کمائی چھین لیتے اور اکثر انھیں مارتے پیٹتے۔ لیکن ان سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ چھ سال سے زیادہ عرصہ یہ جذباتی اور جسمانی تشدد خاموشی سے برداشت کرتی رہیں۔

چھ ماہ قبل بالآخر انہوں نے ہمت کر کے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا۔

اب وہ جوہر ٹاؤن میں واقع شادے وال چوک کے قریب ایک گھر کے سرونٹ کوارٹر میں اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہتی ہیں جن کی عمریں چار سال اور ایک سال ہیں۔ ان کے بقول "اگر میں نے بڑی عمر میں شادی کی ہوتی تو میں خود کو کبھی بھی ایسی ذلت سے نہ گزرنے دیتی اور اپنے شوہر کو تبھی چھوڑ دیتی جب انہوں نے پہلی بار مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا"۔

یو این ویمن اور عورتوں کے مقام کے بارے میں بنائے گئے قومی کمیشن کی رپورٹ اس امر کی تائید کرتی ہے۔ اس کے سروے میں شامل 54 فیصد عورتوں کا ماننا ہے کہ کم عمر بیاہتائیں بڑی عمر کی بیاہتاؤں کی نسبت زیادہ فرمانبردار ہوتی ہیں۔

لیکن انہیں اس فرمانبرداری کی ایک بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے جو عذرا بی بی کے جذباتی اور مالی استحصال کی صورت میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ تاہم اس استحصال کی سب سے خطرناک شکل اس کے طبی نتائج ہیں۔ 

مثال کے طور پر ناصرہ کا حمل ایک سے زیادہ تر مرتبہ گر چکا ہے کیونکہ، ڈاکٹروں کے مطابق، انہیں حمل کے دوران مناسب غذا مناسب مقدار میں نہیں ملتی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "مجھے پیٹ کے السر سمیت بہت سی بیماریاں لاحق ہیں اس لیے ڈاکٹر مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ میں اس وقت تک بچہ پیدا کرنے کے بارے میں نہ سوچوں جب تک میری اپنی صحت ٹھیک نہیں ہو جاتی"۔ 

لیکن وہ کہتی ہیں کہ "میرے شوہر کو اس بات سے غرض نہیں کہ میری جسمانی حالت کیسی ہے"۔ اس لیے وہ بچوں کی پیدائش روکنے کا کوئی طریقہ استعمال نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ "خدا کے ہاتھ میں ہے"۔ 

جوہر ٹاؤن کی کچی بستی کی ایک اور رہائشی رابعہ بھی اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ چند ماہ قبل جب ان کی شادی ہوئی تو وہ ابھی 14 سال کی بھی نہیں تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ فی الحال بچے پیدا نہیں کرنا چاہتیں لیکن انہیں خدشہ ہے کہ ان کے شوہر یہ بات نہیں مانیں گے۔ 

یو این ویمن اور عورتوں کے مقام کے بارے میں بنائے گئے قومی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی طرح کی کم سن بچیوں کے حاملہ ہونے سے کئی قسم کی طبی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں جن میں زچگی سے منسلک بیماریاں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کو لاحق خطرات خاص طور پر نمایاں ہیں۔ اس رپورٹ میں ایسی طبی تحقیقات کا حوالہ دیا گیا ہے جو واضح طور پر کہتی ہیں کہ کم عمر ماؤں کے جسم بچے کی پیدائش کے لیے تیار نہیں ہوتے اس لیے انہیں زچگی کے دوران طبی رکاوٹوں، خون کے دباؤ میں زیادتی اور حتیٰ کہ موت کے امکان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

تاہم ان تمام طبی پیچیدگیوں میں سے فِسٹولا (fistula) ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا شکار بچیاں موت سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ یہ بیماری زیادہ تر ان لڑکیوں کو لاحق ہوتی ہے جو 18 سال کی ہونے سے پہلے حاملہ ہو جاتی ہیں۔ طبی نکتہِ نظر سے ان کے کولہے کی ہڈیاں ابھی اس حالت کو نہیں پہنچی ہوتیں کہ وہ پیدائش کے دوران پڑنے والے دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے مناسب طریقے سے پھیل سکیں جس کے باعث ان کے بچے کا سر ان کے  پیڑوؤں میں پھنس جاتا ہے اور اس تکلیف دہ زچگی کے دباؤ اور رگڑ کی وجہ سے ان کے پیڑوؤں کے اندر کی جلد پھٹ جاتی ہیں۔ نتیجتاً ان کے مقعد اور پیشاب کی نالی کو علیحدہ علیحدہ رکھنے والے پردے میں سوراخ ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے پیشاب اور پاخانے پر قابو کھو دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات: ملزموں کو معاف کرنے کے لیے لواحقین پر کس قِسم کا دباؤ ہوتا ہے۔

لاہور میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم، پاکستان نیشنل فورم آن ویمن ہیلتھ، کے کوآرڈی نیٹر  سید راحت علی کے مطابق فِسٹولا کا شکار لڑکیوں کو ان کے شوہر گھر سے نکال دیتے ہیں کیونکہ اس بیماری کی وجہ سے ان سے ہر وقت بدبو آتی رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میں مبتلا لڑکیاں دوسرے لوگوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ اور کھا پی بھی نہیں سکتیں کیونکہ انہیں ناپاک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان کے بقول "اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیماری کا کسی سے ذکر نہیں کر سکتیں اور یہ بھی نہیں جانتیں کہ اس کا علاج موجود ہے"۔ 

ڈاکٹر ٹیپو سلطان کئی سالوں سے ایسی بچیوں کا علاج کر رہے ہیں۔ وہ کراچی میں کوہی گوٹھ جنرل ہسپتال برائے خواتین میں کام کرتے ہیں جو پاکستان کا واحد طبی ادارہ ہے جہاں صرف فسٹولا کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "یہ غریب لڑکیوں کی بیماری ہے جن میں سے 80 فیصد اس میں بچپن کی شادیوں کی وجہ سے مبتلا ہوتی ہیں"۔ 

بچپن: لڑکیوں کا بنیادی حق 

کم عمری کی شادی سے جڑے ان جذباتی، مالی اور طبی مسائل کے باوجود مذہبی معاملات پر حکومت کی راہنمائی کرنے والے وفاقی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل نے ہمیشہ ایسا قانون بنانے کی مخالفت کی ہے جو 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی پر پابندی لگاتا ہو۔ اس کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز کہتے ہیں کہ "اسلامی شریعت لڑکیوں کے جسمانی طور پر بالغ ہو جانے کے بعد ان کی شادی کی اجازت دیتی ہے اس لیے قانون سازی کے ذریعے 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کو نہیں روکا جانا چاہیے"۔ اس کے بجائے ان کا کہنا ہے کہ "بچپن کی شادی کے خاتمے کے لیے ہمیں سماجی بیداری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے"۔

کم سِن بیاہتاؤں کو درپیش مسائل کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کا حل "بڑے بڑے بیانات" سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں کم عمری کی شادی سے "الگ کر کے سمجھنے کی ضرورت ہے"۔

دوسری طرف بچوں کے حقوق کے تحفظ پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم، سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف چائلڈ (سپارک)، کے پروگرام منیجر خلیل احمد ڈوگر کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون بنانا اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کو یہ عہد دے رکھا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے ہر فرد کو بچہ سمجھا جائے گا اور اس کے حقوق اور فرائض کا تعین اسی بنا پر ہو گا۔

دوسرے لفظوں میں وہ کہتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کر کے انہیں گھر داری اور بچوں کی پیدائش میں لگا دینا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ان کے تسلیم شدہ حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔

تاریخ اشاعت 29 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ارحبا وسیم نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ خواتین اور پسماندہ طبقات کو درپیش سماجی و معاشی مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔