کاشت کاروں کی کم جانکاری یا سرکار کی بے اعتنائی: تھل میں ڈرپ ایریگیشن سسٹم کیوں ناکام ہوا؟

postImg

غلام عباس بلوچ

postImg

کاشت کاروں کی کم جانکاری یا سرکار کی بے اعتنائی: تھل میں ڈرپ ایریگیشن سسٹم کیوں ناکام ہوا؟

غلام عباس بلوچ

بھکر سے تعلق رکھنے والے محمد نواز چھینہ کا شمار صحرائے تھل کے ان جدت پسند کاشت کاروں میں ہوتا ہے جو اپنی ریتلی اور غیر آبپاش زمین کو کار آمد بنانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔

پندرہ سال پہلے جب پنجاب حکومت نے ان کے علاقے میں جدید طریقہ آبپاشی "ڈرپ ایریگیشن" کا منصوبہ شروع کیا تو وہ اسے اپنانے والے پہلے کاشت کاروں میں شامل تھے۔

تاہم، محمد نواز کے مطابق یہ منصوبہ زیادہ دیر تک فائدہ مند ثابت نہ ہوا اور چار سال کے بعد بالآخر انہیں اسے ترک کرنا پڑا۔

''صحرائے تھل میں فصلوں کے لیے پانی کی دستیابی ایک اہم مسئلہ ہے۔ مجھ سمیت یہاں کا ہر کاشت کار اپنے ٹیلوں کو آباد اور ہموار بنانے زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔ اسی لیے جب 2008ء میں حکومت نے اس علاقے میں ڈرپ ایریگیشن کا نظام متعارف کرایا تو انھوں نے اپنے دس ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا۔''

ڈرپ ایرگیشن فصلوں کو پانی یا غذائی اجزاء دینے کا ایسا نظام ہے جس میں پائپ کا استعمال ہوتا ہے۔ اس طریقے سے پانی اور غذائی اجزاء آہستہ آہستہ پودوں کی جڑوں میں پہنچتے ہیں۔ اور ہر پودا ان سے یکساں طور پر مستفید ہوتا ہے۔

اس نظام میں استعمال ہونے والے پائپ سطح زمین پر یا زیر زمین ہو سکتے ہیں۔ اس طریقے میں بخارات کم بنتے ہیں اور پانی ضائع نہیں ہوتا۔

حکومت پنجاب نے 2008ء تھل کے اضلاع بھکر، لیہ، مظفر گڑھ، میانوالی، خوشاب اور جھنگ میں کپاس کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے "تھل کاٹن پراجیکٹ" کے نام سے یہ منصوبہ تجرباتی طور پر شروع کیا تھا جس میں کسانوں کو 60 فیصد تک سبسڈی فراہم کی گئی۔

اس پائلٹ پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے دو سال بعد حکومت نے اسی منصوبے کے فیز ٹو کا آغاز کیا۔

<p>تھل میں 2008 میں حکومت نے ڈرپ ایریگیشن کا نظام متعارف کرایا<br></p>

تھل میں 2008 میں حکومت نے ڈرپ ایریگیشن کا نظام متعارف کرایا

صوبائی محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیز ٹو میں 25 کروڑ روپے کی لاگت سے تھل کے ان چھ اضلاع میں 200 ایکڑ رقبے پر مزید ڈرپ ایریگیشن نظام لگایا گیا۔ اس کے ساتھ 200 کسانوں کو تربیت بھی دی گئی۔

محمد نواز بتاتے ہیں کہ انہیں بھی حکومت کی طرف سے چھ لاکھ روپے ملے جبکہ ڈھائی لاکھ روپے انھوں نے خود لگائے تھے۔

منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟

نواز کہتے ہیں کہ اس نظام کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ پائپ میں لگی نوزل کا دوسری نوزل سے فاصلہ پودوں کے  درمیانی فاصلے کے مقابلے میں زیادہ تھا۔ جس کی وجہ سے ہر پودے کو مطلوبہ مقدار میں پانی اور خوراک نہیں پہنچائی جاسکتی تھی۔

'' میں نے اپنے طور پر اس نظام کو کارآمد رکھنے کے لیے بہت کوشش کی۔ جب یہ طریقہ کپاس کی فصل کے لیے مفید ثابت نہ ہوا تو میں نے اپنی زمین پر مالٹے کا باغ لگا لیا۔ دو سال تک جب پودے چھوٹے تھے اور ان کو کم پانی اور غذا کی ضرورت تھی تو کام چلتا رہا لیکن جیسے ہی پودوں کی غذائی ضرورت اور پانی کی طلب بڑھی تو ان پائپوں کے ذریعے انہیں مطلوبہ خوراک اور پانی پہنچانا مشکل ہو گیا کیونکہ پائپ کا سائز چھوٹا تھا۔''

تھک ہار کر انھوں نے ان پائپوں کو ہی ضائع کر دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پائپوں کے ذریعے پودوں کو پانی پہنچانے کے لیے (ڈیزل انجن سے چلنے والا) ٹیوب ویل لگایا تھا جس کے ذریعے زمین سے پانی نکال کر ایک تالاب میں جمع  ہوتا اور پھر پریشر پمپوں کے ذریعے اسے پائپوں میں لے جایا جاتا۔ اس طریقہ کار پر بہت زیادہ اخراجات آ رہے تھے۔

محمد نواز کے بقول انھوں نے محکمہ آبپاشی کے حکام سے کئی بار رابطے کیے اور ان سے مدد مانگی لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ نظام متعارف کرانے کے بعد اس کی کوئی ذمہ داری نہ لی اور آئندہ اسے چلانے کا انتظام کسانوں کو خود کرنا تھا جو اس حوالے سے زیادہ جان کاری نہیں رکھتے تھے۔

محمد اکرم نیازی بھکر میں ضلعی آفیسر واٹر منیجمنٹ کے عہدے پر تعینات رہے ہیں اور 2008ء سے 2011ء تک یہ منصوبہ انہی کی زیر نگرانی پایہ تکمیل کو پہنچا تھا۔

وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ نظام ناکام ہو گیا ہے۔

<p>ڈرپ ایرگیشن میں پائپ کے ذریعے پانی اور غذائی اجزا آہستہ آہستہ پودوں کی جڑوں میں پہنچتے ہیں<br></p>

ڈرپ ایرگیشن میں پائپ کے ذریعے پانی اور غذائی اجزا آہستہ آہستہ پودوں کی جڑوں میں پہنچتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ جب یہ نظام متعارف کروایا گیا تھا اس وقت یہ اتنا جدید نہیں تھا جیسے اب ہے۔ علاوہ ازیں اس وقت یہ نظام کافی مہنگا تھا اور تھل میں کسانوں کے پاس اسے استعمال کرنے کے لیے درکار مالی وسائل کی کمی تھی۔

اکرم نیازی کے بقول تھل کاٹن پراجیکٹ کی ناکامی کی دوسری بڑی وجہ گرمی کے موسم میں آنے والی شدید آندھیاں ہیں۔

"ریت اڑ کر کپاس کے پودوں پر آجاتی تھی جو اس کی افزائش میں رکاوٹ بن جاتی۔ 2008 اور 2009 میں جتنے کاشتکاروں نے کپاس کاشت کی انہیں نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد اکثر کاشتکاروں نے ڈرپ سسٹم ختم کردیا جبکہ چند ایک نے اس کو باغبانی کے لیے استعمال شروع کردیا مگر وہ بھی اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے مزید نہیں چلا پائے"۔

محمد نواز نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کے بعد بھی ان کے علاقے میں ڈرپ ایریگیشن کے کچھ دوسرے منصوبے شروع کیے گئے ہیں لیکن انھوں نے اس میں دلچسپی اس لیے ظاہر نہیں کی کیوں کہ ان کا پہلا تجربہ بری طرح ناکام رہا تھا۔

فی قطرہ زیادہ فصل

پنجاب کے محکمہ اصلاح آبپاشی کی ویب سائٹ سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ حکومت نے 2008ء کے بعد سے عالمی بنک کے تعاون سے پنجاب میں چار ایسے بڑے منصوبے متعارف کرائے ہیں جن میں نظام آبپاشی کو جدید تقاضوں (ڈرپ ایریگیشن بھی ان میں سے ایک ہے) کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس ویب سائیٹ کے مطابق 13-2012 میں عالمی بینک کے تعاون سے 36 ارب روپے کی لاگت کا ایک ایسا منصوبہ شروع کیا گیا جس کا مقصد آبپاشی کے لیے پانی کی مجموعی پیداواری صلاحیت  کو بہتر بنانا، یعنی 'فی قطرہ زیادہ پیداوار' حاصل کرنا ہے۔

اس منصوبے کے ذریعے صحرائے تھل سمیت پنجاب میں ایک لاکھ 20 ہزار ایکڑ رقبے پر جدید نظام آبپاشی، ڈرپ اور سپرنکلز ایریگیشن سسٹم نصب کیا گیا جس پر حکومت نے کسانوں کو 60 فیصد تک سبسڈی دی۔

2009  میں کپاس کی کاشت میں نقصان اٹھانے کے بعد اکثر کاشتکاروں نے ڈرپ سسٹم ختم کردیا<br>2009  میں کپاس کی کاشت میں نقصان اٹھانے کے بعد اکثر کاشتکاروں نے ڈرپ سسٹم ختم کردیا

اس منصوبے کے تحت لگنے والے ڈرپ ایریگیشن سسٹم کو چلانے کے لیے کاٹن پراجیکٹ کی طرح -ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کا استعمال کیا جاتا تھا لیکن 2019ء میں حکومت نے عالمی بینک ہی کے تعاون سے "ڈرپ/سپرنکلر نظامِ آبپاشی کو سولر سسٹم  پر منتقل کرنے کے لیے ایک اور پراجیکٹ متعارف کرا دیا جس کا نام ہائی ایفیشینسی ایریگیشن سسٹمز   (HEIS)یا آبپاشی کا موثر نظام تھا۔

 اس منصوبے کی کل لاگت تقریباً 37 ارب روپے تھی جس میں حکومت کا حصہ تقریباً 19 ارب 28 کروڑ جبکہ کسانوں کا 17 ارب 50 کروڑ روپے تھا۔

2019ء میں ہی حکومت نے "پنجاب میں بارانی علاقہ جات کا کمانڈ ایریا بڑھانے کے قومی پروگرام" کے عنوان سے ایک اور پانچ سالہ منصوبہ شروع کیا۔ اس میں صحرائے تھل کے اضلاع بھکر، خوشاب، میانولی اور لیہ کے علاوہ اٹک، راولپنڈی، جہلم، چکوال، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، ڈیرہ غازی خاں اور راجن پور کے تمام بارانی علاقہ جات شامل ہیں۔

اس منصوبے کی مجموعی لاگت بھی 37 ارب روپے ہے۔ اس منصوبے کا ایک ہدف یہ بھی ہے کہ ان علاقوں میں چھ ہزار 383 ایکڑ رقبے پر پھل دار پودوں، 16 ہزار 538 ایکڑ  رقبے پر تیل دار اجناس/ دالوں اور 11 ہزار 562 ایکڑ پر چارے کی کاشت کو فروغ دیا جائے گا۔

صحرائے تھل کے ایک بڑے زمیندار ملک عاصم کھچی کا ماننا ہے کہ ان کے علاقے میں اس طرح کے جتنے بھی منصوبے لگائے گئے ہیں وہ زیادہ تر ناکام ہی رہے ہیں۔ انہوں  نے اپنے آبائی گاوں کھچی کلاں میں چار سال قبل ٹنل فارمنگ اور سبزیاں کاشت کرنے کے لیے ڈرپ ایری گیشن سسٹم نصب کیا تھا لیکن وہ بھی اس نظام کو نہیں چلا پائے۔

ثناء اللہ بلوچ بھکر کے نواحی قصبے سرائے مہاجر میں 25 ایکڑ ذاتی رقبے پر کاشت کاری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی غفلت اور لاپروائی ان منصوبوں کی ناکامی کا بنیادی سبب ہے۔

''چند سال پہلے میں نے بھی (محکمہ اصلاح آبپاشی) کے اہلکاروں کے مشورے سے اپنے 10 ایکڑ رقبے پر مالٹے کا باغ لگایا اور اسے ڈرپ ایری گیشن سسٹم سے سیراب کرنے کی کوشش کی۔ مجھے سنگل لائن سسٹم فراہم کیا گیا تھا جو ٹیلوں یا غیر ہموار زمین پر پانی کم مقدار میں پہنچاتا تھا جس سے ٹیلوں پر لگے باغ کا نصف سے زیادہ حصہ خشک ہو گیا اور باقی پودے ہموار زمین پر منتقل کرنے کی کوشش میں ضائع ہو گئے"۔

<p>شمسی توانائی سے چلنے والے ڈرپ ایریگیشن سسٹم کی کارکردگی بہتر مانی جاتی ہے<br></p>

شمسی توانائی سے چلنے والے ڈرپ ایریگیشن سسٹم کی کارکردگی بہتر مانی جاتی ہے

ثناء اللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ محکمہ اصلاح آبپاشی کے افسروں نے کاشتکاروں کی صحیح رہنمائی نہیں کی اور بعد میں کسانوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا۔ ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ان کے علاقے میں ڈرپ ایریگیشن سسٹم لگانے والی پرائیویٹ کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی سسٹم کی تنصیب کے بعد کاشتکاروں کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ سسٹم کی تنصیب کے بعد کاشتکاروں کو تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی تو شاید کاشتکار اور حکومت کروڑوں روپے کے نقصان سے بچ جاتے۔

تاہم ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر منیجمنٹ امتیاز حسین کسانوں کی ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تھل کاٹن پراجیکٹ کے علاوہ صحرائے تھل میں لگنے والے تمام ڈرپ ایریگیشن کے منصوبے کامیاب رہے ہیں۔

ان کے بقول جب سے شمسی توانائی سے ڈرپ ایریگیشن سسٹم کا آغاز ہوا ہے اس میں کوئی بھی خامی نہیں رہی۔

"اب یہ نظام سبزیوں اور باغات دونوں کے لیے ہی کامیاب ہے کیونکہ اب باغوں میں پانی کی سپلائی کے لیے دہرے پائپ بچھائے جا رہے ہیں جن سے پودوں کو پانی اور کھاد کی مطلوبہ مقدار باآسانی فراہم ہوتی ہے۔ اب پہلے کی طرح تالاب بھرنے والے جھنجھٹ سے بھی آزادی مل چکی ہے شمسی توانائی سے چلنے والے ڈرپ ایریگیشن سسٹم کے ساتھ طاقتور موٹریں اور پریشر پمپ نصب کئے گئے ہیں جس سے کاشتکاروں کے لیے بہت آسانی ہو گئی ہے"۔

وہ بتاتے ہیں کہ ڈرپ سسٹم کو روزانہ کی بنیاد پر صبح شام چلایا جانا ضروری ہے۔ "اگر کوئی کاشتکار روایتی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے ہفتہ بعد آبپاشی کرے گا یا دن میں ایک بار یہ سسٹم چلائے گا تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

تھل میں کسانوں نے روایتی فصلوں کی کاشت سے منہ موڑ لیا، چنے، مونگ پھلی اور گوار کے کھیت سکڑنے لگے

ان کا خیال ہے کہ اب بھی کوئی کسان اس سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا تو یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے۔

ثنا اللہ بلوچ اور ملک عاصم سمجھتے ہیں کہ ڈرپ ایری گیشن سسٹم جدید طریقہ آبپاشی ہے جو زراعت کے لیے ایک انقلابی اقدام ہے۔

"یہ نظام خاص طور پر سبزیاں کاشت کرنے کے لیے بہترین ذریعہ ہوسکتا ہے لیکن ہمارے سرکاری محکمے اسے صرف اہداف کے حصول تک ہی محدود رکھے ہوئے ہیں"۔

ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر(اصلاح آبپاشی) پنجاب چودھری محمد اشرف نے حال ہی میں لکھے گئے اپنے تحقیقاتی مقالے میں کہا ہے کہ صحرائے تھل جیسے ریتلے علاقوں میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے اس لیے ان علاقوں میں روایتی طریقوں کے ذریعے آبپاشی کار آمد ثابت نہیں ہوتی۔

ان کے خیال میں ڈرپ ایریگیشن ہی ایسے علاقوں کی آب پاشی کے لیے بہترین نظام ہوسکتا ہے۔

ملک عاصم کہتے ہیں کہ پاکستان تیزی سے غذائی قلت کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے تھل، چولستان اور دوسرے صحرائی علاقوں میں ڈرپ ایریگیشن کے ذریعے فصلوں کی پیداوار کو بڑھانا ہو گا۔

(اس رپورٹ کی تیاری میں سجاگ کے رپورٹر محمد آصف ریاض نے بھی مدد فراہم کی ہے)

تاریخ اشاعت 26 اپریل 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

غلام عباس بلوچ کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر سے ہے۔ علاقائی و سماجی مسائل، سیاست، انسانی حقوق اور پسماندہ طبقہ کے حقوق کیلئے لکھتے رہتے ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.