شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں: تیزاب گردی کی شکار خواتین کی مدد کرنے کی دعوے دار تنظیم پر شدید بدعنوانی کے الزامات۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں: تیزاب گردی کی شکار خواتین کی مدد کرنے کی دعوے دار تنظیم پر شدید بدعنوانی کے الزامات۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں: تیزاب گردی کی شکار خواتین کی مدد کرنے کی دعوے دار تنظیم پر شدید بدعنوانی کے الزامات۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

اٹھارہ سالہ کِنزا کو 2009 میں ایک حادثہ پیش آیا جس میں ان کے سر کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی۔ کِنزا لاہور کے علاقے سمن آباد میں مقیم ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باعث ان کے اہلخانہ نے ان کا علاج کرانے کے لیے ایک غیرسرکاری تنظیم (این جی او) ڈیپیلیکس سمائل اگین فاؤنڈیشن (ڈی ایس ایف) سے رابطہ کیا جہاں سے انہیں جواب ملا کہ وہ اس علاج کے لیے مالی وسائل مہیا نہیں کر سکتے کیونکہ وہ صرف تیزاب سے متاثرہ افراد ہی کا علاج کرتے ہیں۔ تاہم تنظیم کے عملے نے کِنزا کی تصویریں اتاریں اور ان کی ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ یہ بولیں کہ 'میری زندگی بچانے پر میں ڈیپیلیکس سمائل اگین فاؤنڈیشن اور مسرت آپا کا شکریہ ادا کرتی ہوں'۔

مسرت آپا کا اصل نام مسرت مصباح ہے اور وہ ڈی ایس ایف کی چیف ایگزیکٹو ہیں۔

کِنزا نے سجاگ کو بتایا کہ 'ڈی ایس ایف والوں نے مجھ سے کہا کہ وہ یہ ویڈیو مخیر لوگوں اور این جی اوز کو دکھائیں گے اور اس طرح میرے لیے مالی وسائل جمع کریں گے۔ مگر انہوں نے مجھ سے دوبارہ کبھی رابطہ نہیں کیا'۔ اب تک کِنزا کے پانچ آپریشن ہو چکے ہیں اور مزید ہونا باقی ہیں مگر انہیں ڈی ایس ایف کی جانب سے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا۔ اس تنظیم کی طرف سے انہیں جو واحد چیز مہیا کی گئی وہ سر کی چوٹیں چھپانے کے لیے بالوں کی ایک وِگ تھی۔

چند روز پہلے جب سجاگ کی ٹیم نے کِنزا سے ملاقات کی تو انہوں نے سمجھا کہ شاید ہم بھی ڈی ایس ایف کے لیے تشہیری ویڈیو ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ فوراً ہی انہوں نے اس تنظیم کے لیے شکریے پر مبنی فقرہ دہرا دیا۔ یوں لگتا تھا جیسے انہوں نے یہ الفاظ رٹے ہوئے ہیں۔

ثمن علی کو بھی ایسا ہی ویڈیو بیان دینے اور ڈی ایس ایف اور مسرت مصباح کے لیے شکرگزاری کا اظہار کرنے کو کہا گیا تھا۔

وہ 2016 میں لاہور میں تیزاب حملے کا نشانہ بنی تھیں جس کے بعد انہوں نے خود کو ڈی ایس ایف کے ساتھ رجسٹرڈ کروایا۔ یہ تنظیم انہیں معائنے کے لیے چند ڈاکٹروں کے پاس لے گئی اور اس نے انہیں ایک میک اپ سیلون میں استقبالیے پر نوکری بھی دلوا دی۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ انہیں اس کام کا کبھی کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ اس کے بجائے ان سے کہا جاتا تھا کہ یہ کام انہیں رضاکارانہ طور پر ڈی ایس ایف کی جانب سے ملنے والی مدد کے عوضانے میں کرنا ہو گا۔ 

انہوں نے سجاگ کو یہ بھی بتایا کہ ڈی ایس ایف نے انہیں ٹیلی ویژن شوز میں شرکت کے لیے بھی کہا۔ 2016 میں انہیں ایک ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں کیمرے کے سامنے رونے پر مجبور کیا گیا۔ ثمن کہتی ہیں کہ 'مجھ سے یہ سب کچھ نہیں ہو پا رہا تھا اس لیے مجھے سٹیج سے اٹھا کر سامعین میں بھیج دیا گیا'۔

درحقیقت ڈی ایس ایف اور مسرت مصباح گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے مسلسل ٹیلی ویژن شوز کا حصہ چلے آ رہے ہیں جس کی بڑی وجہ ان کے نجی اور کاروباری تعلقات ہیں۔ وہ خود ایک مہنگے میک اپ سیلون کی مالک ہیں جس کی شاخیں ملک بھر میں پھیلی ہیں اور ان کے والد کا خاندان کراچی میں قائم ایک ادویہ ساز کمپنی کا مالک ہے جس میں مسرت مصباح کا بھی حصہ ہے۔ ان کے ایک ماموں ہاکی کے مشہور کھلاڑی رہے ہیں اور اس کھیل کی انتظامیہ میں بھی اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔

ان کے والد، دو بھائی اور مذکورہ بالا ماموں کا نام ڈی ایس ایف کے بانی ارکان میں شامل ہے ان میں دو لوگ اس تنظیم کے تین ڈائریکٹروں میں بھی شامل ہیں۔ تیسری ڈائریکٹر خود مسرت مصباح ہیں۔

گزشتہ کئی برس سے مقامی اور غیرملکی میڈیا کے اداروں نے بھی مسرت مصباح اور ڈی ایس ایف کے بارے میں بہت سی تعریفی رپورٹیں شائع اور نشر کی ہیں جن میں عموماً انہیں پاکستان میں تیزاب حملوں سے متاثرہ افراد کی نجات دہندہ کہا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر 2010 میں الجزیرہ نیوز نے پاکستان میں تیزاب حملوں کے متاثرین کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی جسے ایک عالمی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اس رپورٹ میں ڈی ایس ایف کو ایک ایسی تنظیم قرار دیا گیا جو تیزاب متاثرین کو اپنے داغ دار چہروں اور زندگیوں کو پہلی حالت میں واپس لانے میں مدد دیتی ہے۔

2014 میں '100 خواتین: تیزاب حملوں کے متاثرین کی مدد کرنے والا سیلون' کے عنوان سے بی بی سی کی رپورٹ میں بھی اسی سے ملتی جلتی بات کہی گئی کہ 'گزشتہ دس برس میں مسرت نے تیزاب حملوں کے سیکڑوں متاثرین کو مدد دی۔ عطیات کے ذریعے وہ ان متاثرین کے علاج معالجے کے اخراجات اٹھاتی ہیں اور پھر انہیں کام کے لیے تیار کرتی ہیں۔ ان میں بعض متاثرین اب ان کے سیلون پر کام کر رہی ہیں۔'

2016 میں پاکستان کے انگریزی اخبار پاکستان ٹوڈے نے بھی ایک مضمون شائع کیا جس میں مسرت مصباح کو تیزاب حملوں سے متاثرہ افراد کے مسیحا' کے طور پر پیش کیا گیا۔

برطانوی اخبار گارجین نے بھی جولائی 2020 میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں ایسی ہی بات کہی۔ ڈی ایس ایف کی جانب سے تیزاب متاثرین کی مدد کیے جانے پر اس رپورٹ میں کہا گیا کہ 'خواتین کو نوکریاں دینے کے منصوبے سے انہیں اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کا موقع میسر آیا ہے بصورت دیگر یہ خدشہ تھا کہ معاشرہ انہیں ناکارہ قرار دے کر مسترد کر دے گا'۔
حکومت پاکستان نے بھی اپریل 2010 میں مسرت مصباح کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا۔ روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اپنے ایوارڈ پر کچھ یوں بات کی کہ 'میں بے حد محب وطن ہوں اور حکومت کی جانب سے میری خدمات کا قومی سطح پر اعتراف میرے لیے نہایت فخر کی بات ہے۔

ڈی ایس ایف ابتدا ہی سے مالی بد عنوانیوں اور تیزاب حملوں کے متاثرین کے استحصال کے الزامات کی زد میں بھی رہی ہے تاہم اس حوالے سے اب تک صرف تین خبریں ہی سامنے آئی ہیں۔ مسرت مصباح ایسے الزامات کو اپنے ایک ناراض سابق کاروباری شراکت دار کی جانب سے چلائی جانے والی مہم قرار دیتی ہیں جس کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہے۔

یہ خبریں پاکستانی نیوز میڈیا کے اداروں دی نیوز، ہیرالڈ اور وقت نیوز نے شائع کیں۔ ان میں مسرت مصباح اور ڈی ایس ایف پر مالی بدعنوانی اور تیزاب حملوں کے متاثرین کا استحصال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

مثال کے طور پر ہیرالڈ میگزین کی فروری 2010 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق: 'عدم شفافیت، بدانتظامی، رقم کے ناجائز استعمال اور متوقع عطیہ دہندگان کے استحصال کے سبب ڈیپیلیکس سمائل اگین فاؤنڈیشن (ڈی ایس ایف) نے اپنے بڑے سرپرستوں اور عطیات دینے والوں کی حمایت کھو دی ہے۔

مئی 2010 میں روزنامہ دی نیوز نے بھی ایسی ہی خبر دی جس میں بتایا گیا کہ 'جس این جی او کی بنیاد پر مسرت کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ ملا، اس کی شرمناک کارکردگی سے ایسی نام نہاد خیراتی تنظیموں کا کردار بھی سامنے آتا ہے جو غیر ملکی ٹیکس دہندگان سے پیسہ لیتی ہیں اور اس کے بدلے میں ان کا کام نہ ہونے کے برابر ہے'۔

سجاگ نے جب ان خبروں کے بارے میں مسرت مصباح سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ 'مجھنے ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ بالآخر میرا دامن بے داغ ہی نکلے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھائی ہمیشہ قائم رہتی ہے اور برائی ختم ہو جاتی ہے'۔

پاکستان میں تیزاب حملوں کے متاثرین پر تحقیقی مضامین کے سلسلے میں سجاگ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسرت مصباح کے خلاف الزامات کا جائزہ لیتا رہا ہے۔ چند ہی روز پہلے ہمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے انسانی حقوق سیل کی ہدایت پر کی جانے والی سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ڈی ایس ایف کے بارے میں تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ تک رسائی حاصل ہوئی۔ اس رپورٹ میں ڈی ایس ایف پر پہلے سے لگے ہوئے تمام الزامات کا تفصیلی اعادہ کیا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر اس تنظیم کے مالی معاملات سے متعلق چشم کشا انکشافات سامنے آتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ڈی ایس ایف کی جانب سے درج ذیل بے قاعدگیوں کا احاطہ کیا گیا ہے:

1۔ مقامی اور غیر ملکی عطیات میں شفافیت کا فقدان

2۔ عطیے کے طور پر ملنے والی رقم کا ناجائز استعمال

3۔ اکاؤنٹس میں بے ضابطگیاں

4۔ مریضوں کے تفصیلی ریکارڈ کی عدم موجودگی

5۔ ملتان میں ایک مجوزہ ہسپتال کے لیے عطیات کا عدم ثبوت

6۔ ڈیپیلیکس پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کو قرضوں کی فراہمی میں مالی بے قاعدگیاں

(ان الزامات کی مزید تفصیلات آئندہ سطور میں دی جائیں گی)

مشتبہ آغاز

کراچی سے تعلق رکھنے والی لڑکی فاخرہ یونس کو 2001 میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کے بیٹے بلال کھر نے تیزاب سے جلا دیا۔ اس واقعے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور میڈیا پر حملہ آور کے خلاف کارروائی اور متاثرہ  لڑکی کے علاج کے پُر زور مطالبات سامنے آئے۔

اس واقعے کے بعد لکھاری اور سماجی کارکن تہمینہ درانی ۔۔ جو کہ غلام مصطفیٰ کھر کی سابقہ اہلیہ بھی ہیں ۔۔ فاخرہ کو علاج کے لیے اٹلی لے گئیں۔ ان کے اس سفر کو میڈیا پر بہت توجہ ملی یہاں تک کہ ٹائم میگزین نے ان دونوں کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون چھاپا اور ان کی تصاویر میگزین کے کور پر بھی شائع کیں۔

بیرون ملک ملنے والی مدد سے حوصلہ پا کر تہمینہ درانی نے اٹلی کی تنظیم سمائل اگین فاؤنڈیشن کی ایک شاخ پاکستان میں قائم کرنے کا سوچا۔ یہ ایک عالمی طور پر معروف این جی او ہے جو دنیا بھر میں تیزاب حملوں کے خلاف کام کرتی ہے۔ تہمینہ درانی نے تجویز پیش کی کہ پاکستان میں اس تنظیم کو قائم کرنے اور چلانے کا کام مسرت مصباح کریں۔

اس طرح ڈیپیلیکس سمائل اگین فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا جسے مختصراً ڈی ایس ایف بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے بینک اکاؤنٹس میں اس وقت دو کروڑ بیس لاکھ روپے سے زیادہ رقم موجود ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ میں تیزاب حملوں کے 700 سے زیادہ متاثرین کی مدد کر چکی ہے۔

ڈی ایس ایف کے ایک بانی ڈائریکٹر اور مسرت مصباح کی ملکیت سیلون کمپنی ڈیپیلیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے سابق شراکت دار منظر میاں آغاز سے ہی اس تنظیم کے مالیاتی انتظام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے سجاگ کو بتایا کہ 'کام شروع ہونے سے پہلے ہی اس تنظیم کے اکاؤنٹ میں تقریباً چوالیس لاکھ کا منفی بیلنس دیکھ کر مجھے بے حد حیرانی ہوئی'۔

وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ عطیات جمع کرنے کی تقریبات میں حاصل ہونے والی نقد رقومات کبھی بینکوں میں جمع نہیں کرائی گئیں۔ اسی طرح ان کا الزام ہے کہ مسرت مصباح تیزاب متاثرین کے لیے ڈی ایس ایف کے اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی بیشتر رقم اپنے ذاتی استعمال کے لیے نکلوایا کرتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'یہ دیکھ کر میں سکتے میں آ گیا'۔

منظر میاں کہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر بدعنوانی دیکھ کر ڈی ایس ایف کو چھوڑ دیا۔ تاہم مسرت مصباح کا الزام ہے کہ وہ دیرینہ کاروباری تنازعات کے باعث ان سے کینہ رکھتے ہیں اور اسی لیے ایسے الزامات لگا رہے ہیں'۔

منظر میاں نے 2008 کے وسط میں ڈی ایس ایف کے مالی معاملات کے بارے میں ایس ای سی پی کو ایک شکایت بھی درج کرائی مگر ان کا کہنا ہے کہ اس شکایت پر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے اس معاملے سے متعلق اپنی دسترس میں تمام دستاویزات جمع کیں اور تب سے اب تک ڈی ایس ایف کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر اس میں بھی انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ مسرت مصباح کی شہرت، ذاتی تعلقات اور میڈیا پر اثرروسوخ نے انہیں اپنی 'بدعنوانی' کو چھپانے میں مدد دی ہے۔

ڈی ایس ایف کے خلاف اس کے ابتدائی دور میں ہی ایک اور الزام اس کے اولین سرپرست کی جانب سے بھی سامنے آیا۔

2009 میں اٹلی میں سمائل اگین فاؤنڈیشن کی صدر کلیرس فیلی نے ایک پریس کانفرنس کی جو اسی دوران ایک دہشت گرد حملے کے باعث پاکستان میں نیوز میڈیا پر جگہ نہ پا سکی۔ اس موقع پر جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں انہوں نے مسرت مصباح پر بڑے پیمانے پر مالی غلط کاریوں بشمول دہرے اکاؤنٹس اور جعلی متاثرین بنانے کے الزامات عائد کیے۔

انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ 'پاکستان میں اپنے قیام کے دوران مجھے ڈی ایس ایف کے ذریعے علاج کرانے والے متعدد مریضوں، اس تنظیم کے سابق ملازمین اور اس کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ میں جن مریضوں سے ملی ان کی باتوں سے عیاں تھا کہ ان کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ مجھے ڈی ایس ایف کے اکاؤنٹنٹ سے مل کر بے حد حیرت ہوئی کیونکہ اسے تنظیم کے اکاؤنٹس کا مکمل ریکارڈ چرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس دوران میں مجھے بھی یہ معلوم ہوا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ڈی ایس ایف کے مالی معاملات کی تحقیقات کر رہا ہے۔ میں پچھلے برسوں میں ڈی ایس ایف کے جتنے بھی رضاکاروں سے ملی وہ اب ڈی ایس ایف کے ساتھ وابستہ نہیں تھے'۔

اس پریس کانفرنس کے بعد انہوں نے ڈی ایس ایف کے ساتھ اپنے تمام روابط ختم کر دیے۔

تحقیقاتی رپورٹس کیا کہتی ہیں

دسمبر 2018 اور جنوری 2019 کے درمیان کسی وقت سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل نے ایس ای سی پی سے پوچھا کہ اس نے منظر میاں کی شکایت کی بنیاد پر ڈی ایس ایف کے خلاف تحقیقات شروع کیوں نہیں کیں۔ چنانچہ ایس ای سی پی نے بالآخر جنوری 2019 میں تحقیقات کا آغاز کیا اور اسی سال ستمبر تک اپنی رپورٹ مکمل کر لی۔

تاہم کسی نا معلوم وجہ کی بنا پر ایس ای سی پی نے یہ رپورٹ ابھی تک عام نہیں کی۔

اسی اخفا کی بنیاد پر مسرت مصباح نے سجاگ کے ساتھ انٹرویو میں یہ دعویٰ کر دیا کہ ایس ای سی پی ان کی تنظیم کے کام میں کوئی مالی بدعنوانی یا دیگر بے قاعدگی نہیں پکڑ سکا۔ ان کا یہاں تک کہنا تھا کہ 'ایس ای سی پی کے چیئرمین نے ایک تقریب میں کہا کہ ان کے ادارے میں بہت سی بے بنیاد شکایات درج کرائی جاتی ہیں جن پر تحقیقات میں وقت لگتا ہے مگر بعد میں کوئی بدعنوانی ثابت نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس سلسلے میں ڈی ایس ایف کے کیس کا حوالہ بھی دیا'۔

تاہم سجاگ کو نیوز میڈیا کے ریکارڈ میں ایس ای سی پی کے چیئرمین کا ایسا کوئی بیان نہیں ملا۔ جب مسرت مصباح سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایس ای سی پی کی جاری کردہ کوئی ایسی دستاویز دکھا سکتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ ڈی ایس ایف پر لگائے گئے الزام ثابت نہیں ہوئے تو انہوں نے ایسی کوئی دستاویز پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

ڈی ایس ایف کے خلاف ایس ای سی پی کی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد سجاگ نے مسرت مصباح کو ایک ای میل بھیجی جس میں ان سے اسی موضوع پر چند مزید سوالات پوچھے گئے تھے مگر انہوں نے ابھی تک اس کا جواب نہیں بھیجا۔ ان کی پرسنل سیکرٹری نے یہ کہہ کر مزید بات چیت نا ممکن بنا دی ہے کہ 'مسرت مصباح بے حد مصروف ہیں، انہیں ایک کے بعد دوسرا انٹرویو دینا ہے اس لیے ان کے پاس بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔'

ایس ای سی پی کی رپورٹ ڈی ایس ایف کے اکاؤنٹس میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایس ایف 'پاکستان سنٹر فار فلنتھراپی' کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے جسے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے این جی اوز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا اختیار سونپا ہے۔ اس طرح ڈی ایس ایف کا خود کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہونے کا دعویٰ بے حد کمزور معلوم ہوتا ہے۔

تحقیقات کے نتیجے میں ڈی ایس ایف میں سامنے آنے والی دیگر مالی بے قاعدگیاں کچھ یوں ہیں:

1۔ مقامی اور غیرملکی عطیات میں شفافیت کا فقدان

ایس ای سی پی کے تفتیش کاروں نے قرار دیا کہ ڈی ایس ایف نے بہت سے نقد عطیات جمع کیے مگر اس تنظیم نے ان عطیات کو متعلقہ اصول و ضوابط کے مطابق سنبھالنے کے لیے کوئی ٹھوس مالیاتی طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق:

'ڈی ایس ایف کے پاس نقد عطیات کا خاطر خواہ حساب کتاب رکھنے اور انہیں وقتاً فوقتاً بینک میں جمع کرانے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ یہ بے حد تشویش نام بات ہے کہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے یہ تنظیم نقد عطیات کے معاملے میں کوئی داخلی ضابطے نہیں بنا سکی'۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ '۔۔۔ درحقیقت نقد رقم جمع کرنے کے حوالے سے کوئی ضوابط نہیں ہیں۔ چنانچہ فاؤنڈیشن کی جانب سے شہروں میں مختلف مقامات پر نقد عطیات کے لیے رکھے ڈبوں میں ڈالی جانے والی رقم کا بھی کوئی ٹھوس ریکارڈ نظر نہیں آتا'۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی: تیزاب گردی کا شکار ہونے والی خواتین کی طبی، مالی اور قانونی مشکلات۔

اس رپورٹ میں ڈی ایس ایف کو ملنے والے عطیات کو ریکارڈ کرنے والے رجسٹر میں ایسے بہت سے مندرجات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے آگے کوئی رقم نہیں لکھی گئی۔ ایسے مندرجات کی تفصیل درج ذیل ہے:

--

رپورٹ کے مطابق ڈی ایس ایف کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مندرجات دراصل تکنیکی غلطی ہیں مگر تفتیش کار اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ اس کے بجائے ان کا کہنا ہے کہ 'اس بات کا معقول خدشہ موجود ہے کہ اس رقم میں خیانت کا ارتکاب کیا گیا۔۔۔'۔

مسرت مصباح نے سجاگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی ایس ایف کے لیے بیرون ملک سے عطیات لینے کی بھی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے کسی طرح کی غیر ملکی امداد وصول نہیں کی اور اس کے لیے بیشتر مالی وسائل ان کے خاندان اور دوستوں نے مہیا کیے ہیں۔

دوسری جانب ایس ای سی پی کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عطیات جمع کرنے کے لیے اس تنظیم کی کئی سرگرمیاں پاکستان سے باہر منعقد ہوئیں۔ سپین سے تعلق رکھنے والی سرجن اور سیگو ایڈیلیٹ فاؤنڈیشن کی صدر ڈاکٹر سونیا پینا نے تفتیش کاروں کے سامنے تصدیق کی کہ ڈی ایس ایف نے سپین میں عطیات جمع کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد کی تھی تاہم انہوں نے بتایا کہ ان کی اپنی تنظیم نے ڈی ایس ایف کو کوئی نقد عطیہ نہیں دیا۔

ڈی ایس ایف کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں بھی کہا گیا ہے کہ اسے سوئٹزرلینڈ سے بھی عطیات وصول ہوئے۔

ڈی ایس ایف کی اپنی آڈٹ رپورٹ میں بھی یہ بات شامل ہے کہ اسے صرف 2019 میں ہی بیرون ملک سے 8,376,990 روپے کےعطیات ملے۔ اسی آڈٹ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی ایس ایف کا امریکی ڈالر کا بینک اکاؤنٹ بھی ہے جس میں 2019 میں ایک کروڑ تیس لاکھ روپے سے زیادہ رقم موجود تھی۔

2005 اور 2019 کے درمیان ایس ای سی پی کے آڈٹ سے ڈی ایس ایف کو موصول ہونے والے عطیات کی تفصیل درج ذیل ہے:

2- عطیات کی رقم کا غلط استعمال

ایس ای سی پی کی رپورٹ میں ڈی ایس ایف پر عطیات سے حاصل ہونے والی رقم غیر متعلقہ سرگرمیوں پر خرچ کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے جن میں تنظیم کی چیف ایگزیکٹو کے ذاتی استعمال کے لیے لگژری گاڑی کی خریداری بھی شامل ہے۔ ڈی ایس ایف کے اکاؤنٹس میں گاڑی کی خریداری کے لیے دی گئی رقم کو ڈیپیلیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا جانے والا قرض ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ اقدام ان سرکاری تنظیم کے قواعد کی خلاف ورزی ہے جو غیر منفعی ادارے کی رقم کسی منافع بخش کاروبار کو منتقل کرنے کی ممانعت کرتے ہیں۔ اسی لیے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'عطیہ دہندگان کی رقم کو چیف ایگزیکٹو کی ملکیتی نجی کمپنی پر استعمال کیا گیا'۔

تفتیش کاروں نے ایسے لین دین کی متعدد مثالوں سے نشاندہی بھی کی جس میں یا تو اخراجات کی تفصیل غیرحقیقی تھی یا پھر وہ اخراجات ڈی ایس ایف کے اصل مقاصد کے بجائے دوسرے کاموں پر کیے گئے تھے۔ ان میں بعض اخراجات کی تفصیل درج ذیل ہے:

٭ کمبائنڈ ملٹری ہاسپٹل (سی ایم ایچ) نے ڈی ایس ایف کی جانب سے تفتیش کاروں کو دی گئی 180,610 روپے کی رسیدوں کی تصدیق نہیں کی۔ ہسپتال نے تسلیم کیا کہ اس نے ڈی ایس ایف کی طرف سے بھیجے گئے متعدد مریضوں کا علاج کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تنظیم کی جانب سے بتائے جانے والے اخراجات حقیقی لاگت سے کہیں زیادہ ہیں۔

٭ لاہور میں واقع نجی علاج گاہ نیشنل ہاسپٹل اینڈ میڈیکل سنٹر نے ڈی ایس ایف کی جانب سے مریضوں کا علاج کرانے کے عوض 485,000 روپے کی ادائیگی کی رسیدوں کی تصدیق نہیں کی۔

٭ڈی ایس ایف نے اسلام آباد میں ایک سرجری پر اٹھنے والے اخراجات کو دو لاکھ روپے بتایا جبکہ اصل میں یہ اخراجات ایک تشہیری سرگرمی پر کیے گئے تھے۔ ان اخراجات کی تفصیل درج ذیل ہے:

3- اکاؤنٹس کی تفصیل میں تضادات

ایس ای سی پی نے ایسی متعدد مثالوں کا حوالہ دیا ہے جن میں ڈی ایس ایف کی جانب سے اخراجات کی رسیدوں میں ممکنہ طور پر ردوبدل کیا گیا۔ اس کی ایک مثال ڈی ایس ایف کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے سی ایم ایچ میں اپنے مریضوں کے علاج کے لیے ادویات کی خریداری کی جس کے لیے اس نے اے ایچ ٹریڈرز کو 163,215 روپے ادا کیے۔ یہ ادائیگی جولائی 2014 میں ہوئی مگر رسید پر اگست 2014 کی تاریخ درج تھی۔

تفتیش کاروں کو یہ بل 'مشتبہ' لگا اس لیے انہوں نے اس کی تصدیق کرانے کا فیصلہ کیا۔ جب انہوں نے اپنے نمائندے کو اے ایچ ٹریڈرز سے بات کرنے کے لیے بھیجا تو انکشاف ہوا کہ بتائی گئی جگہ پر اس نام کی کوئی کمپنی/دکان موجود ہی نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ: 'ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آیا کہ بہت سی ادویات کی خریداری کی رسیدیں سادہ کیش میمو پر لکھی گئی تھیں جو بازار میں ہر جگہ عام دستیاب ہیں۔ نہ تو ان رسیدوں پر کوئی سیریل نمبر درج تھا اور نہ ہی فروخت کنندہ کا نام پتہ اور مہر تھی۔ علاوہ ازیں ان تمام رسیدوں پر ایک ہی لکھائی میں اندراج کیا گیا تھا'۔

اس رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ بظاہر ڈی ایس ایف عطیات کی رقم کو جائز طریقے سے خرچ نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر تنظیم کو حاصل ہونے والے عطیات کی مجموعی رقم قریباً گیارہ کروڑ دس لاکھ روپے بنتی ہے مگر مریضوں کی نگہداشت اور مدد پر اس کا صرف 32 فیصد ہی خرچ کیا گیا ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق 'ورکشاپ کے اخراجات' کی مد میں خرچ کردہ رقم بھی مشتبہ ہے۔ ان ورکشاپوں میں شرکت کرنے والی متعدد تنظیموں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی خدمات کے عوض ڈی ایس ایف سے کوئی رقم نہیں لی۔ تاہم ڈی ایس ایف کے اکاؤنٹس میں دکھایا گیا ہے کہ ان ورکشاپوں میں ان تنظیموں کو بھی ادائیگی کی گئی۔

4- مریضوں کے مکمل ریکارڈ کی عدم موجودگی

ڈی ایس ایف کے پاس مریضوں کی مکمل ہسٹری اور ان کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات بشمول ان کی مدد کے لیے خرچ کی گئی رقم کی تفصیلات موجود نہیں۔

اس سے منظر میاں جیسے لوگوں کے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ ڈی ایس ایف اپنے مریضوں کی تعداد بتانے میں مبالغے سے کام لیتی ہے اور پاکستان میں تیزاب حملوں کے متاثرین کی تعداد کو بھی بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہے۔ ڈی ایس ایف کی جانب سے سجاگ کو مہیا کی گئی معلومات میں بھی یہی مسئلہ نظر آتا ہے۔ ان معلومات میں دکھایا گیا ہے کہ 2019 میں 101 نئے مریض ڈی ایس ایف میں رجسٹرڈ ہوئے، مگر تیزاب متاثرین کے لیے کام کرنے والی ایک اور تنظیم 'ایسڈ سروائیورز فاؤنڈیشن' نے اسی سال صرف 47 کیسز کا اندراج کیا۔ اسی طرح جنوبی پنجاب میں – جہاں تیزاب حملوں کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے – نشتر ہسپتال ملتان کے برن یونٹ نے اس سال صرف 21 کیس رجسٹرڈ کیےگئے۔

منظر میاں ڈی ایس ایف پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ اس کے پاس ان 700 متاثرین کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان کا علاج کروایا ہے۔ وہ کہتے ہیں 'اس تنظیم کے پاس چند لڑکیاں ہیں جنہیں وہ رقم جمع کرنے کی ہر تقریب میں سامنے لے آتی ہے۔ ان لڑکیوں میں سے بعض نے مجھ سے بھی رابطہ کیا اور کہا کہ ان کی تصاویر اتاری جاتی ہیں اور ویڈیوز بنائی جاتی ہیں مگر ڈی ایس ایف نے ان کے علاج کے لیے کبھی کوئی مالی وسائل مہیا نہیں کیے'۔

مسرت مصباح نے سجاگ کے ساتھ انٹرویو میں بھی ڈی ایس ایف کے ذریعے علاج کرانے والے مریضوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلومات خفیہ ہیں۔ ایس ای سی پی کی ٹیم کو بھی یہ معلومات نہ مل سکیں اس لیے اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ:

'مریضوں کی مکمل ہسٹری اور ہر مریض پر اٹھنے والے اخراجات پر مبنی فائلز دستیاب نہیں تھیں۔ تفتیش کاروں کی ٹیم ان معلومات کی عدم دستیابی کے باعث ہر مریض پر خرچ کی جانے والی رقم کا درست تخمینہ نہیں لگا سکی'۔

5- ملتان میں ہسپتال کو ملنے والے عطیات کا عدم ثبوت

ڈی ایس ایف نے سالہا سال تک یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ملتان میں ایک جدید ترین ہسپتال تعمیر کر رہی ہے جس پر اندازاً 380,000,000 روپے خرچ آئے گا۔ ابتدائی طور پر اٹلی کی حکومت نے اس ہسپتال کی تعمیر کے لیے درکار رقم دینے کا وعدہ کیا اور 2007 میں ملتان کے ایک زمیندار قادر نواز سانگھی نے اپنی دو ایکڑ زمین اس کے لیے عطیہ دی۔

تین سال بعد انہوں نے ڈی ایس ایف کے خلاف غلط بیانی کے ذریعے زمین ہتھیانے کا الزام لگایا اور اس ضمن میں ایس ای سی پی کو شکایت بھی درج کرائی۔ انہوں نے عطیہ کی گئی زمین کی واپسی کے لیے عدالت میں مقدمہ بھی دائر کیا۔ سانگھی نے سجاگ کو بتایا کہ 'ڈی ایس ایف والے مجھے یہی کہتے رہے کہ وہ ہسپتال کے نقشے تیار کر رہے ہیں اور تعمیر کے لیے رقم جمع کرنے میں مصروف ہیں مگر کوئی عمارت کبھی تعمیر نہ کی گئی'۔

ڈی ایس ایف کے بارے میں ایسے الزامات سامنے آنے پر 2000 کی دہائی کے آخر میں اٹلی کی حکومت نے بھی اس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لیے اور مجوزہ ہسپتال کے لیے مختص کردہ رقم برن یونٹ کی تعمیر کے لیے نشتر ہسپتال ملتان کو دے دی۔

تاہم ڈی ایس ایف نے ہسپتال کے لیے عطیات لینے کا سلسلہ جاری رکھا۔

ایس ای سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایس ایف گزشتہ دس سال سے اپنی آڈٹ رپورٹس میں یہ ظاہر کرتی چلی آئی ہے کہ اس نے ہسپتال کی تعمیر پر لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں۔ جب ایس ای سی پی نے ڈی ایس ایف کا آڈٹ کرنے والی فرم رفاقت منشا سوسانی اینڈ کمپنی سے پوچھا کہ آیا انہوں نے ہسپتال کی جگہ کا بذات خود جائزہ لیا ہے، تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ چنانچہ ایس ای سی پی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ 'قابل اطلاق حسابی معیارات کے مطابق یہ رقم کھاتوں سے منسوخ کر دینی چاہیے کیونکہ اس میں اتنا پرانا خرچ دکھایا گیا ہے جس کا تنظیم کی موجودہ مالی حالت پر کوئی اثر نہیں۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ڈی ایس ایف نے اس ہسپتال کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنسی کی مد میں 1,805,000 روپے کی ادائیگی کا بھی اپنے حسابات میں ذکر کیا ہے حالانکہ اس کا تعمیراتی منصوبہ اٹلی کی ایک کمپنی نے مفت مہیا کیا تھا۔

6- ڈیپیلیکس اور دیگر کو قرضے دینے جیسی بے قاعدگیاں

ایس ای سی پی کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ڈی ایس ایف جیسی غیرمنفعی تنظیم کسی منافع بخش ادارے کو قرضہ نہیں دے سکتی مگر ڈی ایس ایف نے ان ضوابط کو متعدد مرتبہ نظرانداز کیا۔ مثال کے طور پر اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ ڈیپیلیکس پرائیویٹ لمیٹڈ میں سرمایہ کاری کی اور اسے قرضے بھی دیے۔

مندرجہ بالا تمام شواہد کی بنیاد پر ایس ای سی پی کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈی ایس ایف کو 'بند کرنے' کے لیے اس کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے پر ڈی ایس ایف کے خلاف فوجداری مقدمہ بھی چلایا جائے۔

تاہم اب تک ایسی کوئی کارروائی شروع نہیں ہوئی۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 26 اکتوبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 25 مئی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔