مسیحی جوڑوں کے لیے طلاق کے قانون کی عدم موجودگی: 'میں اپنی بیوی پر جھوٹا الزام نہیں لگانا چاہتا تھا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

مسیحی جوڑوں کے لیے طلاق کے قانون کی عدم موجودگی: 'میں اپنی بیوی پر جھوٹا الزام نہیں لگانا چاہتا تھا'۔

ارحبا وسیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

مسیحی جوڑوں کے لیے طلاق کے قانون کی عدم موجودگی: 'میں اپنی بیوی پر جھوٹا الزام نہیں لگانا چاہتا تھا'۔

ارحبا وسیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

جب سے لاہور ہائی کورٹ نے 2017 میں امین مسیح کے حق میں ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے تب سے متعدد قانونی کارروائیوں میں ان کا نام آتا رہا ہے۔ تاہم اکثر لوگوں کو ان کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں۔
امین درزی کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے 2004 میں سونیا عزیز سے شادی کی تاہم جلد ہی ان کے باہمی تعلقات اچھے نہ رہے۔ سونیا کا تعلق نسبتاً امیر گھرانے سے تھا اس لیے ان کے لیے امین کی محدود آمدنی میں گزارا کرنا مشکل تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ "میری اہلیہ اکثر اپنے والدین کے گھر رہتی تھیں جہاں ان کا خاندان پیسے کے معاملے پر انہیں میرے خلاف بھڑکاتا رہتا تھا"۔ اس لڑائی جھگڑے کے باعث وہ دونوں بمشکل دو سال ہی اکٹھے رہے ہوں گے حالانکہ ان کی شادی دس سال قائم رہی۔
جب بھی سونیا اپنے شوہر کے گھر واپس آتیں تو وہ اکثر طلاق کا مطالبہ کیا کرتیں لیکن امین شادی ختم کرنے کے لیے تیار نہ تھے کیونکہ وہ اسے ایک مقدس رشتہ سمجھتے تھے۔
علاوہ ازیں مسیحی طلاق ایکٹ 1869 کے تحت ان کے پاس اپنی بیوی کو طلاق دینے کی واحد بنیاد یہی تھی کہ وہ ان پر بدچلن ہونے کا الزام عائد کریں جبکہ وہ ایسی ہرگز نہ تھیں۔ کچھ روز پہلے سجاگ سے بات کرتے ہوئے امین کہتے ہیں کہ "میرے لیے سونیا پر جھوٹا الزام لگا کر اپنی شادی کو ختم کرنا آسان تھا لیکن میرے ضمیر نے مجھے ایسا نہیں کرنے دیا"۔

ان کے لیے اپنی شادی کو قائم رکھنے کی دوسری وجہ ان کی بیٹی شیزا تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے سونیا پر بدچلنی کا الزام لگایا تو اس کا منفی اثر شیزا پر بھی پڑے گا کیونکہ ان حالات میں کوئی اس سے شادی نہیں کرے گا اور لوگ ہمیشہ اس کے کردار پر بھی انگلی اٹھائیں گے۔ مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ سونیا کے ساتھ ان کے مسلسل جھگڑے ان کی بیٹی کی جذباتی اور نفسیاتی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
چنانچہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے باہمی رضامندی سے اپنے راستے جدا کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کے بعد انہوں نے اپنی بیوی پر بدچلنی کا الزام لگائے بغیر انہیں طلاق دینے کے سلسلے میں صلاح مشورے کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے وکیل شیراز ذکا سے رجوع کیا جن کی والدہ اور بہنیں ان کے پرانے گاہکوں میں شامل تھیں۔ اس مشورے کے نتیجے میں جب 2016 میں انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تو براہِ راست طلاق مانگنے کے بجائے انہوں نے ایک نیا راستہ اختیار کیا اور مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ سات کو بحال کرنے کی استدعا کی۔

یہ دفعہ برطانیہ کے ازدواجی قانون کے تحت ایسے مسیحی جوڑوں کو بدچلنی کے علاوہ کسی بھی دوسری وجہ کو بنیاد بناتے ہوئے طلاق کا حق دیتی ہے جن کے لیے اپنی شادی قائم رکھنا ممکن نہ رہا ہو۔ تاہم جنرل ضیا الحق کی حکومت نے 1981 میں اس دفعہ کو مسیحی طلاق ایکٹ سے خارج کر دیا تھا۔

امین نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اس دفعہ کا اخراج غیر آئینی ہے اور پاکستان میں رہنے والے مسیحیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ اس سے پاکستانی مسیحی طلاق کے لیے اپنا مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

دفعہ سات کے حق اور مخالفت میں دلائل

اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے بطور گواہ لاہور کے اعزازی بشپ ڈاکٹر الیگزنڈر جان ملک کو بھی طلب کیا۔ وہ ضیا دور میں لاہور کے بشپ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو اپنے تحریری بیان میں بتایا کہ دفعہ سات مسیحی مذہبی رہنماؤں کی مشاورت کے بغیر ختم کی گئی تھی۔ امین کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دفعہ کے خاتمے سے مسیحی طلاق ایکٹ" انسانی حقوق کو محدود کرنے اور ان کی خلاف ورزی کرنے" کا باعث بن رہا ہے۔
اس وقت کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل حنا حفیظ اللہ اسحاق نے بھی وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہو کر یہی بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دفعہ کا خاتمہ خواتین کے ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جن کی ضمانت خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق عالمگیر کنونشن (سی ای ڈی اے ڈبلیو) میں دی گئی ہے اور جس پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں۔

اسی لیے انہوں نے دلیل دی کہ اس دفعہ کو ختم کرنے سے آئین کے آرٹیکل آٹھ کی خلاف ورزی ہوئی ہے جو ایسے ہر قانون یا رواج کو ناجائز قرار دیتا ہے جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ آئین کا آرٹیکل 227 یہ ضمانت دیتا ہے کہ تمام مروج قوانین اسلامی احکامات کے تابع ہوں گے تاہم اس شرط کا اطلاق اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب پر نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کی نظر میں دفعہ سات کی بحالی میں کوئی قانونی اور آئینی رکاوٹ نہیں تھی۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی معروف قانون دان حنا جیلانی، اس وقت پنجاب اسمبلی کی مسیحی ارکان شنیلا روتھ اور میری گِل اور  خواتین کی صورتحال پر پنجاب میں بنائے گئے کمیشن کی سربراہ فوزیہ وقار نے بھی امین کی درخواست کی مکمل حمایت کی۔ اس موقع پر حنا جیلانی نے عدالت کو بتایا کہ جس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دفعہ سات ختم کی گئی وہ آئین کے آرٹیکل 9 (جو ہر فرد کی زندگی اور آزادی کو تحفظ دیتا ہے)، آرٹیکل 14 (جو چادر اور چار دیواری کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے) اور آرٹیکل 25 (جو صنف، ذات، عقیدے اور نسل وغیرہ سے قطع نظر تمام شہریوں کے مساوی حقوق ممکن بناتا ہے) کے خلاف ہے۔

دوسری طرف اس وقت پنجاب کے انسانی حقوق اور اقلیتی امور کے وزیر خلیل طاہر سندھو اور تمام بڑے مسیحی فرقوں کے نمائندوں نے اس درخواست کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انجیل کے احکامات کی رو  سے مسیحی شادی دو انسانوں کے مابین قائم ہونے والا ایک مقدس رشتہ ہوتا ہے جسے بدچلنی کے سوا کسی اور وجہ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

امین کی درخواست کی سماعت کرنے والے جسٹس منصور علی شاہ نے بالآخر 19 جون 2017 کو اپنا فیصلہ سنایا۔ انہوں نے دفعہ سات کو بحال کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مسیحی طلاق ایکٹ سے اس کا اخراج ماضی کی غیرجمہوری حکومت کی جانب سے خاص مقاصد کے تحت کیا گیا ایک "رجعتی" قدم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دفعہ کے خاتمے نے نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کی راہ میں رکاوٹ ڈالی بلکہ یہ ریاست کی ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے مترادف بھی ہے جو شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق عالمگیر کنونشنوں کی توثیق اور آئین کے میں دیے گئے پالیسی اصولوں کے نتیجے میں اس پر عائد ہوتی ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے یہ بھی لکھا کہ "دنیا بھر میں مسیحی اکثریتی آبادی والے ممالک میں بدچلنی یا ایسی کسی دوسری وجہ کے علاوہ کبھی ختم نہ ہونے والے باہمی اختلافات بھی طلاق کی معقول بنیاد تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ایسی طلاق کی اجازت دینے سے شادی شدہ جوڑوں کو عدالت میں ایک دوسرے کے بارے میں ناشائستہ اور نامناسب تفصیلات بیان کرنے سے بچنے، شادی کے رشتے کو مضبوط اور محفوظ بنانے اور خاندانی تعلقات کا تحفظ کرنے میں مدد ملے گی"۔

لیکن یہ فیصلہ سنائے جانے کے چند ہفتے بعد ایک مسیحی شہری ایمانویل فرانسس نے اس کے خلاف ایک انٹرا کورٹ اپیل دائر کی جس کی حمایت پاکستان کی متعدد نمایاں مسیحی شخصیات نے کی۔ ان تمام لوگوں کا خیال تھا کہ امین کی درخواست کی سماعت کے دوران مسیحی مذہبی رہنماؤں کی جانب سے دیے گئے بیانات پر خاطرخواہ غورو فکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی دنیاوی قانون سازی نہ تو انجیل کی تعلیمات کی جگہ لے سکتی ہے اور نہ اس کے خلاف جا سکتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے وکیل اور مسیحی وکلا کی ایک تنظیم کے سربراہ کاشف الیگزنڈر کہتے ہیں کہ دفعہ سات کی بحالی آئین کے آرٹیکل 20 کی خلاف ورزی ہے جو یہ کہتا ہے کہ "ہر شہری کو کوئی عقیدہ اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہے"۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ جسٹس منصور علی شاہ نے ایک "امتیازی فیصلہ" دیا ہے جو ان کے خیال میں اقلیتوں کے معاملات میں "براہ راست مداخلت" ہے۔

کاشف الیگزنڈر کے نکتہِ نظر کے مطابق دفعہ سات کی بحالی کا یہ بھی مطلب ہے کہ اب پاکستانی عدالتوں میں برطانوی قانون بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن "چونکہ پاکستانی مسیحی پاکستان کے شہری ہیں اس لیے ان پر برطانیہ کا قانون لاگو کرنے کا کوئی جواز نہیں"۔

وہ اس دفعہ کی بحالی کے خلاف یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ کسی قانون میں تبدیلی کا اختیار عدالتوں کو نہیں بلکہ صرف پارلیمنٹ کو ہے۔وہ کہتے ہیں کہ "اگر مسیحی طلاق ایکٹ میں ترامیم کی ضرورت ہے تو ایک پارلیمانی کمیٹی بنا کر اس کے ذریعے مسیحی برادری کے رہنماؤں سے تفصیلی مشاورت کی جائے جس کے بعد ایک نئے قانون کا مسودہ تیار ہو اور پارلیمنٹ سے اس کی منظوری لی جائے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

افغانستان میں طالبان کے آنے سے طورخم بارڈر کے آر پار لوگوں اور تجارتی سامان کی آمدورفت شدید مشکلات کا شکار۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسی مشاورت پہلے ہی ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود ایک مجوزہ مسیحی شادی اور طلاق ایکٹ کو تا حال پارلیمنٹ کی منظوری نہیں مل سکی کیونکہ مسیحی مذہبی رہنما اس کی توثیق نہیں کر رہے۔ اسی لیے بہت سی نمایاں پاکستانی مسیحی شخصیات کاشف الیگزنڈر کے اس نکتہ نظر سے متفق نہیں ہیں کہ جن مسیحی شادیوں کا قائم رہنا ممکن نہ ہو انہیں عدالتوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی وکیل سمیرا شفیق بھی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ مسیحی طلاق اور شادی سے متعلق اصلاح شدہ قانون کی پارلیمنٹ سے فوری منظوری وقت کی ضرورت ہے۔ ان کی نظر میں اس کی وجہ یہ نہیں کہ عدالتیں ان شادیوں کے بارے میں فیصلے کرنے کے لئے مناسب فورم نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی منظوری سے عدالتوں کے فیصلوں کو مزید قانونی تقویت مل جاتی ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں: "لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ملک کی دیگر عدالتوں پر نہیں ہوتا اس لیے قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری پارلیمںٹ سے لی جانی چاہیے تاکہ کوئی بھی کہیں بھی انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے استعمال کر سکے"۔

انت بھلا سو بھلا

شیراز ذکا نے امین کی درخواست پر عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات یقینی بنائی کہ ان کے موکل کو عدالت میں پیش نہ ہونا پڑے۔ اس سے امین کو اپنی شناخت خفیہ رکھنے میں آسانی ہوئی۔ نتیجتاً انہیں اپنی طلاق کی وجہ سے جنم لینے والی مذہبی رہنماؤں کی ناراضگی اور سماجی بدنامی کے خوف سے بے نیاز ہو کر اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے میں مدد ملی۔

چنانچہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اپنے حق میں آنے کے بعد انہوں نے اپنی پرانی نوکری اور پرانا گھر چھوڑ دیا اور کسی اور شہر منتقل ہو گئے جہاں ان  کی والدہ نے ارفع نامی ایک کیتھولک مسیحی لڑکی سے ان کی شادی کر دی۔
ارفع کے عقیدے کے مطابق بھی طلاق ممنوع ہے تاہم وہ کہتی ہیں کہ انہیں ایک طلاق یافتہ شخص سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ دراصل وہ امین کی اس وجہ سے بھی عزت کرتی ہیں کہ وہ اپنی پہلی شادی کے خاتمے کے دوران انسانیت پر قائم رہے اور انہوں نے اپنی پہلی بیوی پر بدچلنی کا الزام نہیں لگایا۔

امین خود بھی یہ سوچ کر سکون محسوس کرتے ہیں کہ انہیں اپنی پہلی بیوی سے قطع تعلق کے لیے ان کے کردار کے بارے میں جھوٹ نہیں بولنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر میں ان کی زندگی تباہ کر دیتا تو کبھی خوش نہ رہتا"۔
امین کے مطابق سونیا نے بھی دوسری شادی کر لی ہے اور اب وہ اپنی نئی زندگی سے خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر میں ناجائز طور سے انہیں بدچلن ٹھہراتا تو یہ سب کچھ ممکن نہ ہوتا"۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 20 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 17 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ارحبا وسیم نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ خواتین اور پسماندہ طبقات کو درپیش سماجی و معاشی مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔