بچوں میں ایڈز کا پھیلاؤ:'میں نہیں جانتی کہ اپنی بیٹی کی جان کیسے بچاؤں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بچوں میں ایڈز کا پھیلاؤ:'میں نہیں جانتی کہ اپنی بیٹی کی جان کیسے بچاؤں'۔

فریال احمد ندیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

بچوں میں ایڈز کا پھیلاؤ:'میں نہیں جانتی کہ اپنی بیٹی کی جان کیسے بچاؤں'۔

فریال احمد ندیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

اپنی والدہ کے سینے سے چمٹی سات سالہ انیکا حبیب اپنی عمر سے کہیں چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا وزن محض سات کلو گرام ہے، اس کے چہرے کی ہڈیاں بہت نمایاں ہیں اور اس کی کھال پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں۔ معمولی سی حرکت کرنے سے بھی اس کے پٹھوں اور جوڑوں میں اتنا درد ہوتا ہے کہ وہ کراہنے لگتی ہے۔

لاہور میں داتا دربار کے قریب واقع بلال گنج کی رہائشی انیکا چار سال پہلے اسہال اور قے میں مبتلا ہوئی تو اس کے والدین اسے قریب ہی موجود میو ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اس کے معائنے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ اسے فوری طور پر خون لگانے کی ضرورت ہے۔

ان کی ہدایت پر عمل کرنے کے لیے انیکا کے تایا نے اپنے ذرائع سے خون کا انتظام کیا کیونکہ ان کے اپنے خاندان میں کسی فرد کے خون کا گروپ اس کے گروپ سے مل نہیں رہا تھا۔ اس کی والدہ کہتی ہیں کہ یہ خون خراب دودھ کی طرح معمول سے زیادہ گاڑھا تھا۔

اس کے باوجود اس کی مکمل جانچ پڑتال کیے بغیر ہی اسے انیکا کو لگا دیا گیا جس سے اس کی حالت مزید خراب ہو گئی۔ اس کے جسم میں جگہ جگہ، حتیٰ کہ منہ کے اندر بھی، پیپ بھرے چھالے بننے لگے، اس کے مسوڑھے سوج کر جامنی ہو گئے اور گلے اور سینے میں شدید سوزش ہو گئی۔ ساتھ ہی وہ مسلسل بخار، قے اور اسہال میں بھی مبتلا ہو گئی۔

انیکا کی والدہ کہتی ہیں کہ ایک سال اسی حالت میں رہنے کے بعد ان کی بیٹی کو نمونیہ ہو گیا۔ دس ماہ پہلے ایک ڈاکٹر نے بالآخر اس کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اس کا ایڈز  ٹیسٹ کرائیں۔ اس ٹیسٹ کے نتیجے میں بچی میں ایڈز پیدا کرنے والے وائرس، ایچ آئی وی، کی موجودگی ثابت ہو گئی۔

انیکا کے والدین نے اپنا بھی ایڈز ٹیسٹ کرایا لیکن ان دونوں میں ہی ایچ آئی وی نہیں پایا گیا جس کی بنا پر اس کی والدہ کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی غلط خون لگنے کی وجہ سے ہی اس مرض میں مبتلا ہوئی۔

اگست 2021 کے وسط میں انیکا کی 29 سالہ برقعہ پوش والدہ نور حبیب اسے گود میں اٹھا کر لاہور کے سروسز ہسپتال میں علاج کے لیے لائی ہیں اور ڈاکٹر کا انتظار کرتے ہوئے لاشعوری طور پر بار بار اس کا منہ صاف کر رہی ہیں۔

اس ہسپتال میں مئی 2021 سے انیکا کا علاج کیا جا رہا ہے۔اس دوران تین بار اسے کئی کئی دن ہسپتال میں رکھا بھی گیا ہے (جس پر ان کی ولدہ کے بقول ہر بار 50 ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں) لیکن اس کی حالت میں بہتری آنے کے بجائے مزید خرابی آ گئی ہے۔

نور حبیب کے بقول سروسز ہسپتال آنے سے پہلے انیکا کا وزن 11 کلو گرام تھا جو اب کم ہو کر سات کلو گرام رہ گیا ہے۔ اس صورتِ حال سے وہ بہت مایوس ہیں اور کہتی ہیں کہ "میں نہیں جانتی کہ اپنی بیٹی کی جان کیسے بچاؤں"۔

ماں سے بچے کو ایڈز کی منتقلی

فیصل آباد کے سبزی فروش طاہر کی بیوی عائشہ شادی کے پانچ سال بعد 2018 میں پہلی بار حاملہ ہوئیں تو ان کا پورا خاندان خوشی سے سرشار ہو گیا۔

بچے کی پیدائش کے وقت عائشہ کو ایک مقامی نجی ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں زچگی کے دوران ان کا خون بڑی مقدار میں ضائع ہو گیا۔ اس خون کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ڈاکٹروں نے انہیں کسی دوسرے شخص کا خون لگایا جس کی دیگر تمام جانچ تو کی گئی لیکن اس میں ایچ آئی وی کی موجودگی ٹیسٹ نہیں کی گئی۔

عائشہ نے اپنے بچے کا نام محمد احمد رکھا اور دو ماہ باقاعدگی سے اسے اپنا دودھ پلاتی رہیں لیکن پھر وہ بیمار اور کمزور رہنے لگا۔ اگلے دو ماہ انہوں نے چلڈرن ہسپتال فیصل آباد سے اس کا علاج کرایا تاہم اس کی طبیعت  سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑ گئی۔

عائشہ نے بعد ازاں محمد احمد کا معائنہ اپنے گھر کے قریب واقع ایک نجی کلینک میں بھی کرایا جہاں کام کرنے والی ڈاکٹر نے بچے میں ایچ آئی وی کی موجودگی جانچنے کے لیے اس کا ٹیسٹ کیا۔ اس ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ وہ ایڈز وائرس کا شکار ہو چکا ہے۔ بعد ازاں اسی طرح کے ٹیسٹ نے عائشہ میں بھی ایچ آئی وی کی موجودگی ثابت کر دی۔

اس تشخیص کے بعد کچھ عرصہ محمد احمد کا علاج فیصل آباد میں ہی ہوتا رہا لیکن پھر مقامی ڈاکٹروں نے س کے والدین کو تجویز دی کہ وہ اسے لاہور لے جائیں۔ اب ہر دوسرے ہفتے اس دادی، طاہرہ بی بی، اسے اور اس کی ماں کو ریل گاڑی پر بٹھا کر لاہور کے سروسز ہسپتال میں معائنے اور علاج معالجے کے لیے لاتی ہیں۔ لیکن جب بچے کی طبیعت بہت خراب ہو جاتی ہے تو ڈاکٹر اسے ہفتے بھر کے لیے ہسپتال میں داخل بھی کر لیتے ہیں۔

طاہرہ بی بی کہتی ہیں کہ وہ دن رات محمد احمد کے پاس رہتی ہیں، اس کے ناخن تراشتی ہیں، اسے نہلاتی اور اس کے بالوں میں کنگھی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ کچھ کھا نہیں سکتا لہٰذا  خوراک کے طور پر اسے صرف جوس پلایا جاتا ہے جو عام طور پر نیند کے دوران ایک سرنج کے ذریعے اس کے منہ میں انڈیلا جاتا ہے۔

طاہرہ بی بی کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان میں کسی کو نہیں بتایا کہ ان کے پوتے اور بہو کو کیا مرض لاحق ہے۔ حتیٰ کہ یہ بات انہوں نے اپنی شادی شدہ بیٹی سے بھی خفیہ رکھی ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے کیونکہ، ان کے بقول، "ہم نہیں چاہتے کہ لوگ ہمارے بارے میں بُری باتیں کریں یا ہمارے ساتھ ملنا جلنا بند کر دیں"۔

خطرناک سماجی رویے اور مہلک تصورات

بھٹی والا وسطی پنجاب کے شہر چنیوٹ سے 17 کلومیٹر جنوب مشرق میں فیصل آباد جانے والی ٹوٹی پھوٹی سڑک سے ذرا ہٹ کر واقع ایک خستہ حال گاؤں ہے جسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہاں بھوتوں کا بسیرا ہو۔ ایک حالیہ دوپہر کو اس کی تقریباً سنسان گلیوں میں چند بچے کیکر کے درختوں تلے دوڑتے بھاگتے اور ایک دوسرے کو کنکریاں مارتے دکھائی دیتے ہیں۔

بھٹی والا کے باشندے اچھوت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ پچھلے کچھ سالوں میں یہاں ایڈز کے دو  سو سے زیادہ مریض سامنے آ چکے ہیں۔ چنیوٹ کے سرکاری ضلعی ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کے مطابق ان مریضوں میں 15 سے 20 فیصد بچے بھی شامل ہیں۔

ایڈز کے مقامی مریضوں میں سے ایک سمیعہ بی بی نامی خاتون ہیں۔ چار سال پہلے ان کا پہلا بیٹا عثمان بھی ایڈز میں مبتلا پایا گیا جس  کی وجہ سے بعد ازاں اس کی موت ہو گئی۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کی شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی انہیں مسلسل بخار اور جسم میں درد رہنے لگا۔ ان کا شوہر انہیں ایک مقامی معالج کے پاس معائنے اور علاج کے لیے لے بھی گیا لیکن اس کی دوا سے انہیں کوئی افاقہ نہ ہوا۔

آہستہ آہستہ انہیں اتنی تھکاوٹ ہونے لگی کہ ان کے لیے گھر کے کام کاج کرنا بھی مشکل ہو گیا۔ جب کچھ عرصے بعد ان کے جسم پر جامنی رنگ کے دھبے نمودار ہونے لگے تو ان کا شوہر انہیں گاؤں سے کئی کلومیٹر دور ایک ہومیو پیتھک معالج کے پاس لے گیا جس نے کچھ دوائیں تجویز کیں اور انہیں تسلی دی کہ انہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

لیکن 2017 میں بالآخر سمیعہ کو پتہ چلا کہ انہیں درحقیقت ایڈز ہے۔ اس وقت وہ حاملہ تھیں۔

چند ماہ بعد انہوں نے عثمان کو جنم دیا جس کا وزن بہت کم تھا اور اس کی صحت بھی بہت خراب تھی اس لیے پیدائش کے سوا مہینے کے بعد ہی اس کا انتقال ہو گیا۔ اسی دوران گاؤں کے لوگوں کو سمیعہ کی بیماری کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ بدچلن ہونے کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوئی ہیں۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ "مجھے معلوم نہیں یہ بیماری مجھے کیسے لگی"۔

گاؤں کے لوگوں نے ان کے شوہر پر بھی دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ سمیعہ کو گھر سے نکال دے۔ لیکن اس کے ایسا کرنے سے پہلے وہ ایک بار پھر حاملہ ہو چکی تھیں۔ چنانچہ دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔ اب وہ اسی گاؤں میں اپنی بہن کے ساتھ رہتی ہیں۔

سمیعہ اپنی بیماری کا ذکر بغیر کسی شرمندگی کے کرتی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ بھٹی والا میں کئی ایسے لوگ ہیں "جو یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ انہیں ایچ آئی وی لاحق ہے حالانکہ میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جنہیں یہ بیماری لگی ہوئی ہے"۔

چنیوٹ کے ضلعی ہسپتال میں متعین ایک ڈاکٹر اس سماجی رویے کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "لوگوں کا خیال ہے کہ ایڈز کا وائرس صرف جنسی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اس لیے ایڈز کے مریضوں کے بارے میں ہر طرح کے منفی سماجی رویے پائے جاتے ہیں"۔ حالانکہ، ان کے مطابق، "سچ یہ ہے کہ یہ وائرس متاثرہ شخص کے کھلے زخموں اور اس کے زیر استعمال اشیا مثلاً کنگھی، بلیڈ اور ناخن کاٹنے والے اوزار کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے"۔

اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر وہ شکایت کرتے ہیں کہ ایڈز کے بارے میں آگاہی کی متعدد مہمات چلائے جانے کے باوجود "لوگ اس کے بارے میں منطق پر مبنی باتوں کے بجائے دقیانوسی تصورات پر زیادہ یقین رکھتے ہیں"۔

سمیعہ خود بھی کسی حد تک ان تصورات کو مانتی ہیں اور اسی وجہ سے اپنے دوسرے  بیٹے رضوان کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کرانے سے کتراتی ہیں۔

بچوں میں ایڈز کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟

پاکستان میں 1987 میں پہلی بار پتہ چلا کہ ایڈز کا وائرس مقامی بچوں میں بھی موجود ہے۔ اس سے متاثر ہونے والا پہلا بچہ راولپنڈی کا رہنے والا تھا جسے یہ بیماری اپنے والدین سے لاحق ہوئی تھی۔

آنے والے سالوں میں اس وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔ 1990 میں ایسے بچوں کی تعداد ایک سو تھی جو 2019 میں چھ ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ اس عرصے میں ایڈز سے متاثرہ بچوں کی سالانہ اموات بھی بڑھ گئیں۔ 2010 میں یہ اموات پانچ سو تھیں لیکن2019 میں ان کی تعداد بڑھ کر 900 ہو گئی۔

طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی کی موجودگی کی سب سے اہم وجہ ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثرہ ماؤں کے ہاں جنم لینا اور ان کا دودھ پینا ہے۔ اس وائرس کی بچوں میں منتقلی کی دوسری اہم وجہ منشیات کے عادی وہ لوگ ہیں جو خود کو نشے کے انجکشن لگاتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم نئی زندگی ٹرسٹ کی تحقیق کے مطابق پاکستان بھر میں منشیات کے انجکشن لگانے والے تقریباً 40 فیصد افراد میں ایڈز کا وائرس پایا جاتا ہے۔ ان میں سے 50 فیصد شادی شدہ ہیں جبکہ ان میں سے 10 فیصد کی بیویوں میں بھی ایڈز کا وائرس موجود ہے جو ان کے بچوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

تاہم لاہور میں ایک نِجی طبی لیبارٹری میں وبائی امراض کے شعبے کے سربراہ کے طور پر کام کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر وحید الزماں طارق ایک ایسی وجہ کی نشان دہی کرتے ہیں جس کے بارے میں عوامی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ان کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی ہے جسے عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے"۔

ان کے مطابق کسی بھی وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے یہ پتا چلانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ متاثرہ شخص میں کیسے اور کس شخص کے ذریعے منتقل ہوا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ان سوالوں پر تحقیق "اتنے تواتر سے نہیں ہو رہی جتنی اس کی ضرورت ہے"۔

طبی ماہرین کے مطابق ماؤں سے بچوں کو ایچ آئی وی کی منتقلی روکنے کے لئے سب سے ضروری قدم یہ ہے کہ متاثرہ مائیں دورانِ حمل ایسی دوائیں باقاعدگی سے استعمال کریں جو ایڈز کے وائرس کو مارتی ہیں۔ لیکن آور ورلڈ ان ڈیٹا نامی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں ان دواؤں کا استعمال ابھی تک بہت ہی محدود پیمانے پر ہو رہا ہے۔ اس ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ 2010 میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثرہ حاملہ خواتین میں سے صرف 1.38 فیصد نے اپنا علاج کروایا جبکہ 2014 میں یہ شرح 2.36 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ 2015 میں اس میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 7.67 فیصد ہر پہنچ گئی لیکن اب یہ شرح ایک مرتبہ پھر کم ہو کر 4.37 فیصد پر آ گئی ہے۔

تاریخ اشاعت 15 ستمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فریال احمد ندیم نے کنیئرڈ کالج لاہور سے عالمی تعلقات میں بی ایس آنرز کیا ہے۔ وہ صحت اور تعلیم سے متعلق امور پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔