کم عمری کی شادیوں اور ملکی معیشت کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

postImg

نعیم احمد

postImg

کم عمری کی شادیوں اور ملکی معیشت کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

نعیم احمد

سولہ سالہ شبانہ فیصل آباد کی سرفراز کالونی سے متصل کچی بستی کی رہائشی ہیں جو سات سال کی عمر سے بطور گھریلو ملازمہ کام کر رہی ہیں لیکن اب انہیں بیشتر گھروں سے جواب دے دیا گیا ہے۔

شبانہ کی شادی تین سال قبل ان کی برادری ہی کے ایک 30 سالہ شخص سے ہوئی تھی جو سعودی عرب میں کچھ عرصہ گزار کر واپس آئے تھے۔  شبانہ اپنے آٹھ بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر ہیں جن کی تین بڑی بہنوں کی شادیاں بھی کم عمری میں ہی ہوگئی تھیں جبکہ دو چھوٹی بہنیں والدہ کے ساتھ گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہیں۔

"میرے خاوند نے میرے گھر والوں سے کہا تھا کہ وہ نہ صرف جہیز نہیں لے گا بلکہ میرے بھائی کو بیرون ملک ملازمت بھی دلوائے گا لیکن شادی کے بعد پتہ چلا کہ وہ خود بھی پرمٹ نہ ہونے کی وجہ سے سعودی عرب سے نکال دیے گئے تھے۔"

وہ  بتاتی ہیں کہ اب ان کے شوہر  کو کبھی کام مل جاتا ہے تو کر لیتے ہیں ورنہ گھر چلانے کے لیے انہیں ہی مشقت کرنا پڑتی ہے۔

"میرا پہلا بچہ فوت ہو گیا تھا تاہم اب چند ماہ قبل میرا بیٹا ہوا ہے جسے میں گھروں میں کام  پر جاتے ہوئے ساتھ لے جاتی تھی۔ لیکن زیادہ تر لوگ بچے کا ساتھ ہونا پسند نہیں کرتے کیونکہ اس سے کام میں حرج ہوتا تھا۔"

شبانہ کہتی ہیں کہ غربت نے ان سے ان کا بچپن چھین لیا اور اب تو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

صرف شبانہ ہی نہیں پاکستان میں لاکھوں لڑکیاں چھوٹی عمر میں بیاہ دی جاتی ہیں۔

ڈیموگرافک ہیلتھ سروے 18-2017 کے مطابق پاکستان میں 13.5 فیصد  لڑکیوں کی شادی کم عمری میں کر دی جاتی ہے جن میں سے 3.6 فیصد  کی شادیاں 15 سال کی عمر سے پہلے جبکہ 18.3 فیصد کی 18 سال کی عمر سے پہلے انجام پاتی ہیں۔

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت پنجاب پولیس سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق  صوبے میں جنوری 2019ء سے دسمبر 2023ء تک پانچ سال میں کم عمر بچوں کی شادیاں کرنے پر 146 مقدمات درج کیے گئے۔

اس عرصے کے دوران کم عمر شادیوں کے سب سے زیادہ کیس فیصل آباد میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 15 ہے جبکہ بہاولپور سے 13، ملتان سے11، سرگودھا سے 11، لاہور اور ساہیوال سے نو نو، شیخوپورہ اور لودھراں سے آٹھ آٹھ کیس رپورٹ ہوئے۔

اسی طرح وہاڑی سے سات، رحیم یار خان، اوکاڑہ اور قصور سے چھ چھ، اٹک  اور خانیوال سے پانچ پانچ، جہلم اور نارووال سے چار چار، راجن پور اور ڈی جی خان سے تین تین، جھنگ، پاکپتن، مظفر گڑھ، چکوال، لیہ اور گجرات سے دو دو، جبکہ حافظ آباد سے صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

تاہم  غیر سرکاری تنظیم 'ساحل' کے اعداد وشمار کے مطابق جنوری 2019ء سے دسمبر 2023ء کے عرصے میں ملک میں کم عمری کی شادیوں کے 378 واقعات رپورٹ ہوئے۔ جن میں سے 269 واقعات سندھ، 78 پنجاب، 21 خیبر پختونخوا، چار اسلام آباد،  تین بلوچستان، دو آزاد کشمیر اور  ایک واقعہ گلگت بلتستان سے رپورٹ ہوا ۔

تاہم یہ اعداد وشمار کم عمری کی شادیوں کی اصل تعداد سے کہیں کم ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر ایسے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔

فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے رکن ادارے 'رہنما' کے مینجر ایڈووکیسی اینڈ کمونیکیشن امجد لطیف بتاتے ہیں کہ ان کے ادارے سے طبی سہولت حاصل کرنے والی 80 فیصد خواتین کا تعلق غریب طبقے سے ہے جن میں زیادہ تر  کم عمری کی شادی کے باعث طبی مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کم عمری کی شادی سے متاثرہ بچیوں کی اکثریت کو جنسی استحصال کا سامنا رہتا ہے جو ا پنی تولیدی صحت کا خیال رکھنے سے بھی قاصر ہوتی ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ اگر غریب خاندانوں کی بچیوں کی تعلیم کے لیے حکومت مالی تعاون کی سکیم متعارف کرائے تو کم عمری کی شادیوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

کم عمری کی شادی اور ملکی معیشت

اقوام متحدہ کے ادارے یو این وومن اور پاکستان میں خواتین کے لیے کام کرنے والے قومی ادارے نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان کم عمری کی شادیوں کے لحاظ سے دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر ہے۔ جولائی 2019ء سے جولائی 2020ء تک ملک بھر میں 87 لاکھ کم عمر دلہنیں تھیں، جن میں سے پنجاب میں 26 لاکھ، سندھ میں 15 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 11 لاکھ اور بلوچستان میں ان کی تعداد 35 لاکھ تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق کم عمری کی شادیاں نہ صرف لڑکیوں یا لڑکوں کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ملکی معیشت پر بھی ان کا منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ تحقیق بتاتی ہے کہ 20-2019ء میں پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کی شرح 23 فیصد ریکارڈ کی گئی جس سے پاکستانی معیشت کو  0.8 ارب (80 کروڑ) ڈالر یا مجموعی ملکی جی ڈی پی کے 0.42 فیصد کے مساوی مالی نقصان ہوا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم عمری کی شادیوں کے باعث بچوں کی بلند شرح اموات کی وجہ سے قومی معیشت کو 636 ارب روپے سالانہ نقصان کا سامنا ہے۔

" کم عمری کی شادیوں کے باعث لیبر فورس میں خواتین کی شرکت 21 فیصد رہی جبکہ اجرت میں بالواسط کمی کے باعث سالانہ 26.8 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔"

ان شادیوں کے باعث چھ لاکھ 31 ہزار طالبات تعلیم سے محروم رہیں جن میں  سے تین لاکھ 60 ہزار کا تعلق پنجاب، ایک لاکھ 36 ہزار کا خیبر پختونخوا، ایک لاکھ سات ہزار کا سندھ اور 28 ہزار 800 کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

جبکہ کم عمری کی شادیوں کے باعث بچوں کی شرح پیدائش میں سالانہ 21 فیصد جبکہ بچوں کی شرح اموات میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس تحقیق میں پنجاب میں گھریلو تشدد کے 14 فیصد واقعات کو بھی کم عمری کی شادی کا شاخسانہ قرار دیا گیا ہے جبکہ سندھ میں یہ شرح 42 فیصد، خیبرپختونخوا میں 53 فیصد اور بلوچستان میں 50 فیصد ہے۔

کم عمری کی شادیاں کیوں ہوتی ہیں؟

عالمی تنظیم ' گرلز ناٹ برائیڈز'   کہتی ہے کہ کم عمری کی شادی ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس کی جڑیں صنفی عدم مساوات اور اس عقیدے میں ہیں کہ لڑکیاں، لڑکوں مردوں سے کمتر مخلوق ہیں۔ اس مسئلے کو غربت، تعلیم کی کمی، منفی سماجی اصولوں اور عدم تحفظ نے بدتر بنا دیا ہے۔ تاہم مختلف  کمیونٹیز، خطوں اور ممالک میں اس کی وجوہات مختلف نظر آتی ہیں۔

  اقوام متحدہ کے  ادارے یونیسف  کے مطابق کچھ خاندان اپنا معاشی بوجھ کم کرنے یا آمدنی کے لیے بیٹیوں کی شادیاں کر دیتے ہیں جبکہ بعض کا یہ خیال ہوتا ہے کہ شادی سے ان کی بیٹی کا  مستقبل محفوظ ہو جائے گا۔ عورت سے متعلق رسوم، دقیانوسی تصورات اور بغیر شادی حمل کے سماجی خطرات اس  طرز عمل (پریکٹس) کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

خواتین کے حقوق کےلیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم 'پلان انٹرنیشنل' کم عمری کی شادیوں کی پانچ بڑی  وجوہات بتاتی ہے:

•    قانونی خامیاں یا کمزور قوانین اور والدین کی رضامندی

•    تاریخ پیدائش کے اندراج کا فقدان

•    موسمیاتی تبدیلی جو سیلابوں اور خشک سالی کی وجہ سے غریب لوگوں کی زندگیاں مزید مشکل بنا رہی ہے۔

•    ماہواری جس سے بہت سارے معاشروں میں یہ تصور کر لیا جا تا ہے کہ لڑکی جوان یا بچہ پیدا کرنے کے قابل ہو گئی ہے۔

•    اور پانچویں وجہ تنازعات ہیں یعنی جنگوں اور سول وار جیسے مسائل جو لڑکیوں کو غیر محفوظ بناتے ہیں۔

پاکستان میں لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں میں مندرجہ بالا وجوہات کے علاوہ بدل صلح، ونی یا سوارہ، وٹہ سٹہ جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔

یہاں نہ صرف لڑکیوں بلکہ لڑکوں کی شادیاں بھی کم عمری میں کر دی جاتی ہیں تاہم ان کی شرح لڑکیوں کی شادی سے  کہیں کم ہے۔

لڑکوں کی کم عمری میں شادی کی وجوہات میں "لڑکی یا وراثتی جائیداد خاندان سے باہر نہ جائے" اور "بیوہ بہو گھر ہی میں رہے" وغیرہ اہم ہوتی ہیں۔ تاہم  محض دادا یا والدین کی 'خوشی دیکھنے کی خواہش' بھی لڑکے کی جلد شادی کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈیموگرافک ہیلتھ سروے بتاتا ہے کہ پاکستان میں 2.6 فیصد لڑکوں کی شادیاں بھی کم عمری میں کر دی گئی تھیں۔

اٹھائیس سالہ محمد وسیم کم عمری میں شادی کے باعث 15 سال کی عمر سے  مزدوری کر رہے ہیں۔ وہ جب آٹھویں میں تھے تو ان کے بڑے بھائی  ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے تھے جس کے بعد ان کی شادی بیوہ بھابی سے کر دی گئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب سکول میں دوستوں اور اساتذہ کو ان کی شادی  سے متعلق معلوم ہوا تو سب ان کا مذاق اڑاتے تھے جس سے انہیں بہت شرمندگی ہوتی تھی۔ تاہم چند ماہ بعد انہوں نے تعلیم چھوڑ دی اور ایک پاور لوم فیکٹری میں یومیہ اجرت پر کام شروع کر دیا۔

"والد پہلے ہی فوت ہو چکے تھے اس لیے بھائی کے بعد ان کے دو بچوں، بوڑھی والدہ اور بیوی میری ذمہ داری تھیں جس کو پورا کرنے کے لیے میرا کام کرنا ضروری تھا۔"

میری والدہ اور خاندان نے چھوٹی عمر میں میری شادی کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ ہمارا تین مرلے کا آبائی مکان تقسیم نہ ہو۔ میرا لڑکپن اور جوانی گھر کی ضرورتیں پوری کرنے کی فکر میں گزری ہے اور لگتا ہے باقی زندگی بھی ایسے ہی گزرے گی۔"

نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروقی بتاتی ہیں کہ کم عمری کی شادیاں لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کو متاثر کرتی ہے تاہم لڑکیاں تعداد، صحت اور تعلیم کے لحاظ سے کہیں زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

رواج کی بھینٹ چڑھنے والی کم عمر مائیں

وہ کہتی ہیں کہ پاکستان 1990ء میں کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلد پر دستخط کر چکا ہے جس میں 18 سال کی عمر سے پہلے شادی کو بچوں کے حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

ملک میں شادی کی قانونی عمر کیا ہے؟

 سندھ کے سوا پورے ملک میں قانونی طور پر لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم  عمر 16 سال  ہے جبکہ سندھ میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم  عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں چائلڈ میرج ریسٹرنٹ ایکٹ 1929 کے تحت پاکستان میں کم عمری کی شادیوں پر قید اور جرمانے  کی سزا بھی مقرر ہے لیکن ملک میں کم عمر بچوں کی شادیوں میں کمی نہیں آئی ہے۔

نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن کی چیئرپرسن نیلو فر بختیار بتاتی ہیں کہ ان کا ادارہ پورے ملک میں لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال  مقرر کرانے کے لیے قانون سازی پر کام کر رہا ہے۔

"ہم اس سلسلے میں اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر طبقات کو قائل کر چکے ہیں جبکہ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق بھی اس کی منظوری دے چکی ہےاور اب شاید چھٹی بار یہ بل اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش ہونے جا رہا ہے۔"

وہ کہتی ہیں کہ کم عمری کی شادیاں لڑکیوں کی خودمختاری، تعلیم، روزگار اور صحت پر شدید منفی اثرات ڈالتی ہیں جبکہ اقتصادی سرگرمیوں میں ان کی شرکت کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ ان کا ادارہ  ان منفی اثرات سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کم عمری کی شادیوں کے خاتمے سے لڑکیوں کی شرح خواندگی بہتر اور آبادی میں اضافے کی شرح کم ہو گی جس کے قومی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

تاریخ اشاعت 20 مارچ 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

نعیم احمد فیصل آباد میں مقیم ہیں اور سُجاگ کی ضلعی رپورٹنگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.