بلوچستان کی کم عمر دلہنیں: صوبائی اسمبلی عمر رسیدہ قانون بدلنے پر کیوں تیار نہیں؟

postImg

عاصم احمد خان

postImg

بلوچستان کی کم عمر دلہنیں: صوبائی اسمبلی عمر رسیدہ قانون بدلنے پر کیوں تیار نہیں؟

عاصم احمد خان

24 اکتوبر 2022 کی شام محمد مینگل بہت خوش تھے۔ اس روز ان کے سب سے بڑے بیٹے کا نکاح تھا۔ جب وہ لڑکی کے والد مہر علی کے گھر پہنچے تو ان کے سامنے یہ شرط رکھ دی گئی کہ طے شدہ نکاح کے ساتھ ہی لڑکی کے 13 سالہ بھائی کا نکاح بھی ان کی پانچ سالہ بیٹی ماہ بی بی کے ساتھ کر دیا جائے۔

دونوں خاندانوں میں یہ رشتہ بھی پہلے ہی سے طے تھا مگر محمد مینگل چاہتے تھے کہ نکاح دونوں بچوں کے بالغ ہونے پر کیا جائے۔ انہوں نے مہر علی کو منانے کی لاکھ کوشش کی کہ ان کی بیٹی بہت کم عمر ہے مگر وہ ان کے مسلسل دباؤ کے سامنے بے بس ہو گئے اور ان کی پانچ سالہ ماہ بی بی کا زبردستی نکاح کر دیا گیا۔ مہر علی نے اپنی بیٹی کو رخصت کر کے ماہ بی بی کو زبردستی روک بھی لیا۔

محمد مینگل جو ضلع خضدار کی تحصیل زہری کے رہائشی ہیں، اپنی کمسن بیٹی کو مجبوراً چھوڑ کر گھر تو لوٹ آئے لیکن چند روز بعد انہوں نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دے دی۔

پولیس نے مقدمہ درج کرکے مہر علی سمیت شادی کے انتظامات کرنے والوں کو گرفتار کر لیا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر خضدار صدر پولیس سٹیشن نے کم عمری کی شادی کی ممانعت کے قانون 1929ء کی شقوں کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 420، 342 اور 34 کے تحت درج کی۔

ایس ایچ او کے مطابق ملزموں کی گرفتاری کے بعد بچی کو بازیاب کروا کے اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

پانچ سالہ ماہ بی بی کی شادی کے چند روز بعد وفاقی شرعی عدالت نے اس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے بلوچستان کے لا آفیسر سے پوچھا کہ صوبائی اسمبلی کی جانب سے کم عمری کی اور جبری شادیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لا افسر نے خضدار پولیس اور بلوچستان کے محکمہ سماجی بہبود کی جزوی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بچوں کی شادیوں سے متعلق مسودہ قانون کی موجودہ صورتحال سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے صوبائی حکومت کو 20 روز کے اندر کم عمری کی شادیوں سے متعلق قانون کا مسودہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

یہ قانون بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں کئی بار پیش ہو چکا ہے۔

سابق رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی نے بتایا کہ 2014 میں شادی کی عمر کی حد مقرر کرنے کا بل انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا تو مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس کی شدید مخالفت کی گئی۔"خاص کر جمعیت علمائے اسلام کے ارکان اسمبلی اس پر کافی سرگرم تھے۔ انہوں حکومت کو کہا کہ قانون سازی شریعت کے مطابق کی جائے۔"

2016 میں ایک بار پھر رکن اسمبلی ڈاکٹر شمع اسحاق نے اسمبلی میں اس بل کو پیش کیا لیکن ارکان اسمبلی نے اسے ایک بار پھر 'غیر اسلامی‘ قرار دے کر رد کر دیا۔

میڈیا اور سول سوسائٹی نے شور تو خوب مچایا مگر یہ بل دوبارہ اسمبلی میں پیش نہ ہو سکا۔

سیکرٹری اطلاعات بلوچستان محمد حمزہ شفقات کے مطابق آخری مرتبہ جب بلوچستان کابینہ کے سامنے بل پیش ہوا تو اس پر عمر کی حد 18 برس مقرر کرنے اور شادی کے بعد بچہ ہونے کے باوجود اسے کالعدم قرار دینے سے متعلق اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ جس کے بعد یہ بل متعلقہ محکموں کو واپس بجھوا دیا گیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر بشریٰ رند کہتی ہیں کہ ان کی حکومت اس بل کو منظور کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے موجودہ صوبائی حکومت نے کئی اجلاس کیے ہیں اور متعلقہ اداروں کو تمام نقائص نکال کر اسے بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حمزہ شفقات نے بتایا کہ یہ بل اب سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے۔ محکمے کی جانب سے بل پر 30 دسمبر کو مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک مشاورتی سیشن کیا گیا ہے اور اسے جلد ہی دوبارہ صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا اور اس کا ڈرافٹ وفاقی شرعی عدالت کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔


قانون کی کہانی

کم عمری کی شادی کی ممانعت کے لیے پاکستان بھر میں 1929ء میں بنایا گیا قانون لاگو رہا ہے۔

اس قانون کے تحت:

    • شادی کے وقت لڑکی کی کم ازکم عمر 16 اور لڑکے کی 18 برس ہونی چاہیے۔

    • اگر کسی کی عمر کا تعین کرنے کے لیے مستند کاغذات موجود نہ ہوں تو عدالت فرد کے طبی معائنے کا حکم دیتی ہے۔

    • بچوں کی کم عمری میں شادی کرنے والے والدین یا سرپرست یا 18 سال سے زیادہ عمر کے دلہا کو ایک ماہ قید یا ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

2010ء میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد شادی اور خاندانی معاملات صوبائی سبجیکٹ بن گئے۔

سندھ نے 2014ء میں کم عمری کی شادی پر پابندی کا نیا صوبائی قانون منظور کیا جس کے تحت لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال رکھی گئی ہے۔ نئے قانون کے تحت کمسنی کی شادی پر والدین، سرپرستوں اور ان کے معاونین کو تین سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس قانون میں کمسنی کی شادی کو نہ صرف قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا گیا ہے بلکہ یہ ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ بھی ہے۔

پنجاب نے 2015ء میں 1929ء کے قانون میں ترمیم کی جس کے تحت اگر کوئی فرد یہ سمجھے کہ کسی لڑکی یا لڑکے کی شادی کم عمری میں کی جا رہی ہے تو وہ متعلقہ یونین کونسل میں شکایت جمع کرائے گا جس کے بعد یونین کونسل کا چیئرمین اس حوالے سے فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کرے گا۔اس ترمیم نے خلاف ورزی کی سزا کو بڑھا کر ایک سے بڑھا کر چھ ماہ قید اور 50 ہزار روپیہ جرمانہ کر دیا۔

اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نئی قانون سازی کی کئی کوششیں کی گئیں جو تا حال کامیاب نہیں ہوئیں اس لئے ان علاقوں میں 1929ء کا قانون ہی نافذالعمل ہے۔


کم عمری کی شادیوں کی ممانعت کے حوالے سے کوئٹہ میں کام کرنے والی سماجی کارکن ثمرین مینگل سمجھتی ہیں اس بارے قانون سازی ناگزیر ہے۔ ان کے خیال میں شادی کے لیے لڑکی کی عمر کی حد 18 سال ہی ہونی چاہیے۔

ضیا بلوچ کا تعلق ایک فلاحی تنظیم سے ہے۔ وہ اور دیگر تنظیمیں بروقت عمل کر کے ایسی کئی شادیاں رکوا چکے ہیں۔ ضیا نے بتایا کہ گذشتہ برس انہوں نے نہ صرف ایسی ایک شادی کو کروایا بلکہ مقدمہ بھی درج کروایا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی سارہ زمان فیمنسٹ ایکٹوسٹ اور محقق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نجی یونیورسٹی میں پڑھاتی بھی ہیں۔ خواتین کے مسائل کے حوالے سے وہ گزشتہ پندرہ برس سے مختلف ملکی و بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق کم عمری کی شادیوں کے پیچھے سماجی، مذہبی اور اقتصادی وجوہ کارفرما ہوتی ہیں۔ "کم عمر بچیوں کی شادی کا والدین کو یہ بھی فائدہ پہنچتا ہے کہ انہیں نہ تو بیٹی کی شادی پر زیادہ اخراجات کرنا پڑتے ہیں اور نہ جہیز دینا پڑتا ہے"۔

ان کی تحقیق سے سامنے آیا کہ ایسی شادیاں خاندانی قرض چکانے، خونی جھگڑے ختم کرنے یا محض گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کر دی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

شادی کے بوجھ تلے دبی بچیاں: شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں میں کم عمری کی شادیاں بچیوں کی صحت کے لیے مہلک رجحان۔

بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں گائنی یونٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نجمہ غفار بتاتی ہیں کہ  کم عمری کی شادیاں زچگی میں بہت سی پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہیں۔ ان کے خیال میں بہتری کے لیے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تربیت اور مقدمات کو ٹریک پر لانے کے لیے نظام بنانا ضروری ہے۔

سمیعہ راحیل قاضی قومی اسمبلی کی سابق رکن اور معروف مذہبی سکالر ہیں۔ انہوں نے یکم فروری 2019 کو سما ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا کہ لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال ہونی چاہیے۔ ان کے خیال میں اس مسئلہ کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ایک وسیع اور مؤثر آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔

تاریخ اشاعت 1 فروری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عاصم احمد کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 2015 سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔وہ ہیومن رائیٹس، ماحولیات، اکانومی اور انتہاپسندی پر رپورٹ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.