گھریلو ملازم بچوں پر تشدد: با اثر مالکان کے سامنے والدین بے بس اور قانون خاموش۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

گھریلو ملازم بچوں پر تشدد: با اثر مالکان کے سامنے والدین بے بس اور قانون خاموش۔

فاطمہ رزاق

postImg

گھریلو ملازم بچوں پر تشدد: با اثر مالکان کے سامنے والدین بے بس اور قانون خاموش۔

فاطمہ رزاق

عائشہ اس سال کے شروع میں پہلی بار لاہور آئی اور سمن آباد نامی متوسط طبقے کے علاقے کے ایک گھر میں ملازم ہو گئی۔ اسے ایک دو سالہ لڑکے کو سنبھالنے کا کام دیا گیا۔

چار ماہ بعد ایک روز لڑکے کی ماں، 38 سالہ نادیہ، نے دیکھا کہ عائشہ اس کے میک اپ کا سامان خراب کر رہی ہے تو اس نے اسے یہ کہہ کر ڈانٹنا شروع کر دیا کہ "تمہیں اس سامان کو ہاتھ لگانے کی جرات کیسے ہوئی۔ کیا تمہیں علم ہے کہ یہ کتنا مہنگا ہے"۔ 

لیکن اسے لگا کہ عائشہ اس کی بات سننے کے بجائے کونے میں پڑے ایک کھلونے کو دیکھے جا رہی تھی۔ اس پر نادیہ نے اس کا بازو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ "کیا تم میری بات سن رہی ہو" اور اسے نوکری سے نکالنے کی دھمکی دیتے ہوئے باورچی خانے میں چلی گئی۔

ڈری سہمی عائشہ نے ڈانٹ کھانے کے بعد دو میٹر لمبا دوپٹہ کندھوں پر ڈالا اور اِدھر اُدھر بکھرے کھلونے جمع کرنے لگی تاکہ نادیہ کا بیٹا نیند سے جاگنے کے بعد انہیں ایک بار پھر بکھرا سکے۔ 

عائشہ کی عمر 13 سال ہے اور وہ لاہور کے نواحی ضلع قصور کی تحصیل پتوکی کے ایک گاؤں کی رہنے والی ہے۔ اسی گاؤں کی زاہدہ نامی عورت لاہور میں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔ ایک دن وہ عائشہ کی والدہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ کیا وہ اپنی بیٹی کو اس کے ساتھ لاہور بھیج سکتی ہیں کیونکہ وہاں ایک گھرانے کو ایک نوعمر ملازمہ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے فوراً ہاں کر کے زاہدہ سے معاملات طے کیے اور اپنی بیٹی کو لاہور بھیجنے کی تیاری کرنے لگیں۔ انہوں نے عائشہ کو بھی یہ بات ایسے انداز میں سنائی جیسے یہ کوئی خوش خبری ہو۔ 

لیکن اس کے باوجود وہ اپنے لاہور جانے کی خبر سن کر خوفزدہ ہو گئی۔ 

کچھ روز بعد زاہدہ عائشہ کو لے کر لاہور روانہ ہوئی۔ راستے میں دو جگہ رک کر اس نے مزید تین بچوں کو اپنے ساتھ لیا اور ایک ایک کر کے انہیں ان گھروں میں چھوڑ دیا جہاں انہیں کام کرنا تھا۔ عائشہ کو یاد ہے کہ جس گھر میں اسے چھوڑا گیا وہاں کی مالکن نے زاہدہ کو کچھ رقم اور شلوار قمیض کا کپڑا بطور اجرت دیا۔

بچوں کو نوکریاں دلانے والی ایک دوسری عورت، 40 سالہ شمیم بی بی، لاہور کے علاقے شادمان کے قریب گزشتہ 20 سال سے گھریلو ملازمہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی لاہور میں موجودگی کی وجہ سے ان کے آبائی علاقے کے بہت سے غریب گھرانے ان سے رابطہ کر کے انہیں اپنے بچوں کے لیے نوکریاں مہیا کرنے کا کہتے ہیں جبکہ دوسری طرف گھروں میں کام کرنے والی عورتوں سے انہیں پتہ چلتا رہتا ہے کہ کس گھرانے کو کس طرح کے ملازم کی ضرورت ہے۔ 

وہ کہتی ہیں کہ متوسط آمدنی والے بہت سے گھرانوں کو کام کاج کے لیے ملازموں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ بالغ افراد کو کام پر نہیں رکھتے کیونکہ انہیں زیادہ معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ 

ان کے مطابق ایسے ملازم ڈھونڈنا "سب اعتماد کا معاملہ ہے" کیونکہ جو لوگ اپنے بچوں کو کام پر بھیجتے ہیں وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ ملازمت دلانے والی عورتوں کو اچھی طرح جانتے ہوں تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے بچوں کو آسانی سے ڈھونڈ سکیں۔ وہ فخریہ طور پر کہتی ہیں کہ "جب میں کسی بچے کو کام پہ لگواتی ہوں تو اس کے اچھے برے کی ذمہ داری بھی لیتی ہوں"۔

شمیم بی بی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایک بچے کو ملازمت دلانے پر اس کی ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر معاوضہ وصول کرتی ہیں جو عام طور پر چھ ہزار سے دس ہزار روپے ہوتا ہے اور جس کے ادائیگی ملازمت دینے والا خاندان کرتا ہے۔ ان کے مطابق بچے کی تنخواہ کا دارومدار اس کی عمر پر ہوتا ہے یعنی "اس کی عمر جتنی کم ہو گی اس کا معاوضہ بھی اتنا ہی کم ہو گا"۔

اگرچہ وہ کہتی ہیں کہ وہ خود اس بات کا فیصلہ نہیں کرتیں کہ کس عمر کا بچہ کہاں کام کرے گا تاہم ان کا کہنا ہے کہ "اگر بچے کے گھر والے اسے کام پر بھیجنے کے لیے راضی ہوں اور اس سے کام لینے والوں کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو تو پھر اس کی عمر اہمیت نہیں رکھتی اور نہ ہی یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ کام کرنے پر رضامند ہے یا نہیں"۔ 

گھریلو ملازم بچوں کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟

پنجاب میں بچوں کو ملازم رکھنے پر پابندی کا قانون 2016 میں منظور کیا گیا۔ اس کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں سے کام لینے کی مکمل ممانعت ہے۔ اس میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اس عمر سے بڑے بچوں سے کیا کام لیا جا سکتا ہے، ان کے کیا اوقات کار ہونے چاہئیں، انہیں کتنا معاوضہ ملنا چاہیے اور انہیں کتنی چھٹیاں ملنی چاہئیں۔ 

لیکن اسلام آباد میں قائم Society for the Protection of the Rights of the Child (سپارک) نامی تنظیم کے مطابق اس قانون پر ملک کے کسی بھی حصے میں اور کبھی بھی عمل درآمد نہیں ہوتا کیونکہ آج بھی گھروں میں کام کرنے والے تقریباً 42 فیصد بچوں کی عمریں 11 سے 14 سال کے درمیان ہیں جبکہ یہی کام کرنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد اس سے بھی کم عمر ہے۔

ان بچوں میں بہاولپور کی رہنے والی 14 سالہ عافیہ بھی شامل ہے۔ اس کی والدہ نے اپنی کمر کے آپریشن کے لیے 70 ہزار روپے قرض لیا ہوا ہے جسے اتارنے کے لیے اسے اور اس کی 16 سالہ بہن آسیہ کو سکول چھوڑ کر کام کرنا پڑ رہا ہے۔ 

وہ جنوبی لاہور کے ایک علاقے میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے اور اس سال کے آغاز میں آسیہ کے ساتھ سے یہاں منتقل ہوئی ہے۔ تاہم اسے یہاں رہنا پسند نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ "مجھے بہاولپور بہت یاد آتا ہے کیونکہ وہاں میری بہت سی سہیلیاں تھیں" جن کے ساتھ وہ ہر طرح کے کھیل کھیلتی تھی۔ اس کے برعکس اب وہ ہر وقت ایک ہی طرح کے کام کاج میں لگی رہتی ہے جبکہ اسے گھر کے مالکان کا سخت اور ترش رویہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے وہ جس گھر میں کام کرتی تھی وہاں اسے باسی اور بعض اوقات بدبودار کھانا دیا جاتا تھا۔ اس کے مطابق "وہ مالکن میرے لیے علیحدہ سالن بناتی تھی جو عام طور پر دال کے پیلے شوربے پر مشتمل ہوتا تھا اور مجھے ہفتوں یہی کھانا ہوتا تھا"۔

اس گھر میں عافیہ کو بستر پر بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ عام طور پر وہ فرش پر بیٹھتی تھی اور جب وہ کوئی کام نہیں کر رہی ہوتی تھی تو اسے گھر سے باہر دالان میں بھیج دیا جاتا تھا۔ اس کے بقول "شدید گرمی میں بھی وہ لوگ مجھے گھر کے اندر نہیں آنے دیتے تھے"۔ 

اگر اس سے کوئی چھوٹی سی غلطی بھی ہو جاتی تو اسے شدید ڈانٹ پڑتی۔ بعض اوقات تو مالکان اس پر خوب چیختے چلاتے بھی تھے۔ وہ کہتی ہے کہ "مالکن کبھی اس قدر زوردار آواز میں چلاتی تھی کہ اس کے بعد مجھے ٹھیک طرح سے نیند بھی نہیں آتی تھی کیونکہ اس کے بولے ہوئے توہین آمیز الفاظ سوتے میں بھی میرے کانوں میں گونجتے تھے"۔ 

سپارک کا کہنا ہے کہ کام کرنے والے بچوں کے ساتھ اس طرح کی بدسلوکی عام ہے۔ اس حوالے سے بنائی گئی ایک رپورٹ کے لیے اس کے اہل کاروں نے 191 گھریلو ملازم بچوں سے بات کی جن میں سے 55 فیصد نے شکایت کی کہ انہیں گالی گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ 13 فیصد سے زیادہ نے کہا کہ انہیں سزا دینے کے لیے تھپڑ بھی مارے جاتے ہیں۔ ان بچوں میں 87 لڑکیاں بھی شامل تھیں جن میں سے تقریباً ساڑھے تین فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

<p>گھروں میں کام کرنے والے تقریباً 42 فیصد بچوں کی عمریں 11 سے 14 سال کے درمیان ہوتی ہے۔<br></p>

گھروں میں کام کرنے والے تقریباً 42 فیصد بچوں کی عمریں 11 سے 14 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

اس تشدد کے نتیجے میں کئی کام کرنے والے بچوں کی موت بھی واقع ہو چکی ہے۔ 

اگرچہ اس حوالے سے کوئی جامع اور مستند معلومات دستیاب نہیں لیکن اخبارات میں چھپنے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 2010 اور 2013 کے درمیان 19 گھریلو ملازم بچے ان گھروں کے مالکان کے تشدد کی وجہ سے ہلاک ہو گئے جہاں وہ کام کرتے تھے۔ اس عرصے میں کسی دوسرے ایسے معاشی شعبے میں اتنی اموات نہیں ہوئیں جس میں بچے کام کرتے ہیں۔ 

اسی طرح جنوری 2020 میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تین تنظیموں، ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) اور انسٹیٹیوٹ فار سوشل جسٹس (آئی ایس جے) نے ایک مشترکہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ پچھلے 10 سالوں میں گھریلو ملازم بچوں پر جسمانی اور جنسی تشدد کے 140 کیس سامنے آئے جن میں سے کچھ کو قتل بھی کیا گیا۔ 

بچوں پر تشدد کے مجرم سزا سے کیوں بچ نکلتے ہیں؟    

آٹھ سالہ زہرا شاہ کو فروری 2020 میں ان کے والد نے 50 ہزار رورپے کے عوض بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے رہائشی حسن صدیقی کو فروخت کر دیا۔ اسی سال 31 مئی کو اسے نازک حالت میں ایک ہسپتال لایا گیا جہاں اس کے طبی معائنے سے پتا چلا کہ اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے حتیٰ کہ اس کے نازک اعضا پر بھی ضربیں لگائی گئی ہیں۔ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ چند ہی گھنٹوں میں فوت ہو گئی۔

بعد میں چھپنے والی اخباری رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے حسن صدیقی کے کچھ پالتو پرندے آزاد کر دیے تھے۔ 

لیکن اس کے قتل کے ملزم اس قدر بااثر ہیں کہ زہرا شاہ کے والدین ڈر کے مارے ہسپتال سے اس کی لاش لینے بھی نہ آئے بلکہ اس کی ہلاکت کا مقدمہ بھی پولیس نے اپنے طور پر درج کیا۔ اگرچہ بعدازاں اس کے دادا اس مقدمے کی پیروی کرتے رہے لیکن وہ ہمیشہ صحافیوں سے یہی کہتے تھے کہ ان کے خاندان پر مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ 

ایکسپریس ٹربیون نامی انگریزی اخبار میں 8 جون 2020 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق زہرا شاہ کے خاندان نے وزیراعظم عمران خان سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے بھی اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم ان پر دیت قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ وہ ایسا نہیں چاہتے۔

لیکن نہ تو حکومت نے ان کی بات سنی اور نہ ہی عدالتِ عالیہ نے ان کی درخواست پر کان دھرا۔ دوسری طرف، زہرا شاہ کے دادا کے مطابق، ان کا خاندان ملزموں کی جانب سے ڈالے جانے والے مسلسل دباؤ کو برداشت نہیں کر سکا اس لیے اس نے کچھ رقم کے عوض انہیں معاف کر دیا ہے۔

زہرا شاہ کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے معافی نامے میں لکھ دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں میڈیا سے کبھی کوئی بات نہیں کریں گے۔ اس لیے وہ اس رقم کی مالیت بھی نہیں بتاتے جو انہوں نے وصول کی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے ان کا خاندان مزید کسی مشکل میں پڑ سکتا ہے۔  

لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل مقداد سید، جو اس طرح کے کچھ مقدمات کی پیروی کر چکے ہیں، تصدیق کرتے ہیں کہ تشدد سے مارے جانے والے ہر گھریلو ملازم بچے کے والدین پر ملزموں کو معاف کرنے کے لیے بہت سماجی دباؤ ہوتا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں اس معافی کے دو نقصان دہ نتائج نکلتے ہیں جن میں سے "پہلا یہ ہے کہ جرم کے خلاف انصاف کا عمل اپنے انجام کو نہیں پہنچتا اور ماورائے عدالت تصفیوں کے سامنے عدالتیں خود کو بے بس محسوس کرتی ہیں اور دوسرا یہ کہ مجرموں کو سزا نہ ملنے سے مستقبل میں ایسے جرائم کے تدارک کا امکان کم سے کم ہوتا جاتا ہے"۔

تاریخ اشاعت 1 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔