سول ہسپتال کوئٹہ میں شعبہ امراض قلب کی حالت نازک

postImg

سید ضیاء آغا

postImg

سول ہسپتال کوئٹہ میں شعبہ امراض قلب کی حالت نازک

سید ضیاء آغا

اِس سال 27 مئی کو پشین کے شاہ محمد رات ایک بجے معدے کے قریب درد کے باعث بے چین ہو کر جاگ گئے۔ انہوں ںے اسے تیزابیت سمجھ کر پیٹ کا درد دور کرنے والی دوا کھائی لیکن ان کی تکلیف کم نہ ہوئی۔

شاہ محمد ںے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بجائے یہ سوچا کہ شاید درد خود بخود ختم ہو جائے گا، لیکن اگلے روز شام تک افاقہ نہ ہوا۔ درد کے ساتھ ان کے ہاتھ پاؤں بھی سن ہونے لگے اور بالآخر وہ بے حس و حرکت ہو کر گر گئے۔

بیٹوں نے انہیں فوری طور پر پشین کے سول ہسپتال میں پہنچایا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں ایک نجی ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔

چونکہ سول ہسپتال میں ای سی جی کی سہولت صرف دوپہر تک میسر ہوتی ہے اس لئے بعد میں آنے والے اگر کسی مریض کو ای سی جی کروانا ہو تو اسے نجی ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

نجی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے شاہ محمد کی جان بچانے کے لئے انہیں کوئٹہ منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

کوئٹہ تک 55 کلومیٹر سفر کے دوران شاہ محمد کی طبیعت مزید بگڑتی گئی اور ان کے ایک ہاتھ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ کوئٹہ میں سول ہسپتال کے امراض قلب وارڈ میں منتقلی کے دوران وہ بے ہوش ہو چکے تھے۔ ڈاکٹروں نے ان کے دل میں سٹنٹ ڈالے (انجیو پلاسٹی) کی جس کے بعد ان کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی۔

شاہ محمد کے علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ انہیں ہسپتال پہنچنے میں مزید دیر ہو جاتی تو ان کی جان بچانا مشکل ہو جاتا۔

پشین کوئٹہ سے متصل تقریباً 12 لاکھ آبادی کا ضلع ہے جہاں دو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، 10 ریجنل ہیلتھ سنٹر، زچہ بچہ کے چار طبی مراکز اور 40 بنیادی مراکز صحت ہیں۔

پشین کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سلطان موسیٰ خیل تصدیق کرتے ہیں کہ پشین میں دل کے مریضوں کو علاج کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ پورے ضلع میں تمام امراض کے صرف 12 ڈاکٹر ہیں اور عملے و بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث مریضوں کو کوئٹہ منتقل کرنا پڑتا ہے۔

"پشین کے مراکز صحت میں بجلی چلے جانے کی صورت میں توانائی کے متبادل ذرائع بھی میسر نہیں ہیں۔ پانی کی کمیابی کے باعث ہسپتالوں کی صفائی تک نہیں ہو پاتی۔ اس حوالے سے حکام کو بہت سی شکایات کی جا چکی ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔"

رات کے وقت پشین سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹر نہ ہونے کی شکایات تواتر سے سامنے آتی ہیں جن کی تصدیق خود موسیٰ خیل بھی کرتے ہیں۔

تاہم ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالغفار،  ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی بات کی تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے نے لوک سجاگ سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کہ رات کے وقت ہسپتال میں ڈاکٹر حاضر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ماہانہ دل کے 600 سے زیادہ مریض آتے ہیں تاہم ان کے لئے مخصوص ڈاکٹر موجود نہ ہونے کے باعث انہیں کوئٹہ منتقل کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں جدید آلات، ایمبولینس اور ماہر عملے کی کمی ہے۔ اگر یہ ضروریات پوری ہو جائیں تو بہت سے مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں کو ریفر نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ صورتحال صرف پشین سے ہی مخصوص نہیں بلکہ بلوچستان کے بیشتر ہسپتالوں میں امراض قلب کے علاج کی مناسب سہولت میسر نہیں ہے اور اسی لئے ایسے بیشتر مریضوں کو سول ہسپتال کوئٹہ یا دوسرے صوبوں کے ہسپتالوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ ان میں زیادہ تعداد ایسے مریضوں کی ہوتی ہے جنہیں سندھ کے ہسپتالوں سے علاج کرانے کو کہا جاتا ہے۔

 کوئٹہ کے نواحی علاقے پنجپائی کے 61 سالہ حاجی محمد نعیم نے سندھ کے ہسپتال 'این آئی سی وی ڈی' سے اپنا علاج کرایا ہے۔

گزشتہ سال سول ہسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ ان کے دل کے تین وال بند ہیں جس کے لئے انہیں انجیو پلاسٹی کرانا ہو گی اور اس مقصد کے لئے درکار سٹنٹ بھی انہیں خود خریدنا ہوں گے۔

نعیم کے علاج کے لئے دو لاکھ روپے درکار تھے۔ رقم کا بروقت انتظام نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر چار روز تک انہیں انجکشن لگاتے رہے تاکہ ان کی حالت بگڑنے نہ پائے۔ سٹنٹس کا انتظام ہونے تک انہیں گھر میں رہنا پڑا اور اس دوران وہ شدید تکلیف میں تھے۔ دو روز بعد جب سٹنٹس کا انتظام ہو گیا تو ان کی انجیو پلاسٹی کر دی گئی۔

نعیم کے مطابق انہیں تین سٹنٹس خریدنے کو کہا گیا۔ ان کے بیٹے نے بتایا کہ ایک جان پہچان والے ملازم نے انہیں ایک سٹنٹ مفت فراہم کیا تھا۔

انجیو پلاسٹی کے بعد جب ان کے بیٹے نے اپنے والد کی رپورٹس ایک شناسا ڈاکٹر کو دکھائیں تو انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کو تین کے بجائے دو سٹنٹ ڈالے گئے ہیں۔

یہ انکشاف ہونے پر انہوں نے بصد مشکل ہسپتال سے سٹنٹ واپس لیا۔

انجیو پلاسٹی کے باوجود نعیم کی طبعیت ٹھیک نہ ہوئی تو انہیں سندھ لے جانا پڑا جہاں ان کا کامیاب علاج عمل میں آیا۔

سول ہسپتال کوئٹہ میں شعبہ امراض قلب کے سینئیر رجسٹررار ڈاکٹر عجب خان خروٹی کا کہنا ہے کہ اس وارڈ میں صوبے بھر سے مریض آتے ہیں جبکہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے لئے درکار طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔

انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ ہپستال میں گزشتہ سال 134 مریضوں کی اوپن ہارٹ سرجری کی گئی جبکہ 12 سو مریضوں کو سٹنٹ ڈالے گئے۔

"حکومت کی جانب سے سالانہ 300 سٹنٹ فراہم کئے جاتے ہیں۔ جب یہ استعمال ہو جاتے ہیں تو بقیہ مریضوں کو خود سٹنٹ خریدنا پڑتے ہیں"۔

ان کا کہنا ہے کہ جن مریضوں کے پاس سٹنٹ کے پیسے نہیں ہوتے ان کا ادویات کے ذریعے علاج جاری رکھنا پڑتا ہے جس سے عارضی طور پر تو مریض کی حالت سنبھل جاتی ہے لیکن یہ کوئی طویل مدتی علاج نہیں ہے۔

ڈاکٹر خروٹی کہتے ہیں کہ جن مریضوں کو انجیو پلاسٹی کی ضرورت ہوتی ہے انہیں 12 گھنٹوں کے اندر علاج کی سہولت فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دور دراز علاقوں کے مریض طویل اور خراب راستوں کی وجہ سے بروقت ہسپتال نہیں پہنچ پاتے جس سے ان کی حالت بگڑ جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال کے شعبہ امراض قلب میں صرف تین سرکاری ڈاکٹر تعینات ہیں۔ ان کے علاوہ مریضوں کو دیکھنے والے پانچ معالجین کی تنخواہ مخیر لوگوں کے عطیات سے پوری کی جاتی ہے۔

اس معاملے پر جب بلوچستان کے سیکرٹری صحت اسفند یار کاکڑ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پورے ضلع صحبت پور میں ایک لیڈی ڈاکٹر: 'ایسا نہ ہوتا تو بیٹی کے سر پر ماں کا سایہ سلامت ہوتا'

کوئٹہ کے سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں انجیو پلاسٹی اور انجیو گرافی کی مشینری ڈیڑھ سال تک خراب پڑی رہنے اور دیگر سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے نومبر 2021ء سے مئی 2022ء تک طویل احتجاج کیا۔

 ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر کلیم اللہ بتاتے ہیں کہ اس احتجاج کی بدولت سول ہسپتال کی مشین تو ٹھیک کردی گئی لیکن بی ایم سی کی مشین تاحال خراب پڑی ہے جس کی وجہ سے وہاں کے مریضوں کا بوجھ سول ہسپتال کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کے لئے الگ ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جانا چاہئے جہاں مریضوں کو تمام سہولتیں میسر ہوں اور انہیں دوسرے صوبوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔

 ڈاکٹر خروٹی تجویز دیتے ہیں کہ دل کے مریضوں کے لئے کوئٹہ میں علیحدہ ہسپتال قائم کیا جانا چاہئے جس کے سیٹلائٹ سنٹر پورے صوبے میں پھیلے ہوں۔ ان طبی مراکز میں قابل ڈاکٹروں کو تعینات کر کے ہر مرکز میں ان کی باری باری ڈیوٹیاں لگائی جائیں تو صوبے میں امراض قلب کے مریضوں کا بروقت اور کامیاب علاج آسان ہو جائے گا۔

سیکرٹری صحت اسفند یار کاکڑ نے بتایا ہے کہ محکمہ صحت نے 11 رکنی ماہرین کا  ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے جو امراض قلب کے علیحدہ ہسپتال کے قیام کے لئے دس روز میں سفارشات پیش کرے گا جس کے بعد اس پر عملی کام شروع کیا جائے گا۔

تاریخ اشاعت 6 جولائی 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

سید ضیاء آغا نے جامعہ بلوچستان سے شعبہ صحافت کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔ وہ انسانی حقوق، خواتین، اقلیتوں، موسمیاتی تبدیلیوں، تنازعات اور سیاست پر رپورٹ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.