ضلع بونیر ملک بھر کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان اور دوسری پیپلز پارٹی کی جنرل نشست پر صوبائی حلقے کی امیدوار ڈاکٹر سویرا پرکاش ہیں۔
یہاں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد پانچ لاکھ 62 ہزار 252 ہے جن میں سے تین لاکھ دو ہزار 606 مرد اور دو لاکھ 59 ہزار 646 خاتون ووٹرز ہیں۔
یہاں کی واحد قومی نشست این اے 10 ہے جہاں سے گذشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے شیر اکبر خان 58 ہزار ووٹ لے کر جیتے تھے۔ دوسرے نمبر پر ن لیگ اور اے این پی امیدواروں نے تقریباً برابر برابر ووٹ لیے تھے۔
اس ضلعے میں سیاسی پارٹیاں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن سیاست پر حاوی روایتی خاندان ہی چلے آرہے ہیں جن میں شیر اکبر خان 'سیاسی ہوا' کے رخ کے ساتھ پارٹیاں بدلنے میں مہارت رکھتے ہیں۔وہ پہلی بار 1997ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے مگر ہار گئے۔
شیر اکبر خاں 2002ء میں پیپلز پارٹی شیر پاؤ گروپ کے ٹکٹ پر قومی نشست جیتنے میں کامیاب ہو ئے لیکن 2008ء میں الیکشن ہارنے کے بعد جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور 2013ء میں اسمبلی میں واپس آگئے۔ تاہم اگلا الیکشن سے پہلے ہی جماعت چھوڑ دی اور 2018ء میں پی ٹی آئی سے ایوان میں پہنچ گئے۔
بونیر نئی حلقہ بندیاں 2023
2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 9 بونیر اب این اے 10 بونیر ہے
یہ ضلع بونیر کا حلقہ ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت بونیر کے اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی کے 20 بونیر 1 اب پی کے 25 بونیر 1 ہے
بونیر کا یہ حلقہ پورے گدیزئی تحصیل اور تحصیل ڈگر کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ 2023 کی نئی حلقہ بندیوں کے تحت ضلع بونیر کے اس حلقے میں گدیزئی تحصیل کو شامل کیا ہے۔
2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی کے 21 بونیر 2 اب پی کے 26 بونیر 2 ہے
بونیر کا یہ حلقہ پوری گاگرہ تحصیل، پوری چغرزئی تحصیل اور ڈگر تحصیل کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ 2023ء کی نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں چغرزئی تحصیل کو شامل کیا ہے۔
2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی کے 22 بونیر 3 اب پی کے 27 بونیر 3 ہے
بونیر کا یہ حلقہ پوری مندنڑ تحصیل اورپوری خدوخال تحصیل پر مشتمل ہے۔2023ء کی نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

اس بار شیر اکبر خاں یہاں سے پرویز خٹک کی پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین، چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان آزاد، پیپلز پارٹی کے یوسف علی، عوامی نیشنل پارٹی کے عبدالرؤف خان، ن لیگ کے سالار خان اور جماعت اسلامی کے بخت جہاں امیدوار ہیں۔
پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار نے کسی سیاسی جماعت نے ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون کو جنرل نشست پر ٹکٹ دیا ہے۔ ڈاکٹر سویرا پرکاش پی کے 25 سے پیپلز پارٹی کی امیدوار ہیں۔
ضلع بونیر میں میڈیا کی دلچسپی کی سب سے اہم وجہ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان ہیں جو یہاں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر یہاں سے 2008 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں لیکن دوسرے نمبر پر آئے تھے اور اس وقت یہ نشست اے این پی کے عبدالمتین خان نے جیتی تھی۔
اے این پی کے نوجوان سیاسی کارکن خلیل الرحمان بتاتے ہیں کہ بونیر بیرسٹر گوہر کا آبائی ضلع ہے لیکن وہ 2008ء کے بعد الیکشن نہیں لڑے لیکن اب وہ یہاں پی ٹی آئی کا چیئرمین بننے کے بعد انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں اس حلقے میں ن لیگ کے کامران خان اور اے این پی کے رؤف خان نے لگ بھگ 38، 38 ہزار ووٹ لیے تھے۔ جے یو آئی ف کے استقبال خان نے 23 ہزار ووٹ لیے تھے لیکن اب یہاں جے یو آئی نے امیدوار کھڑا نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بار جے یو آئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت اس قومی نشست کے نیچے دو صوبائی حلقوں پر حمایت کے بدلے میں ن لیگ کے امیدوار کو سپورٹ کر رہی ہے۔ یوں ن لیگ کے سالار خان بھی گوہر خان کے لیے ایک مضبوط مخالف ہیں۔
خلیل الرحمان کے مطابق ملکی صورتحال کے پیش نظر پی ٹی آئی کارکنوں کو گوہر خان کی کامیابی کی امید ہو چلی ہے لیکن شخصی اثر و رسوخ کے اعتبار سے شیر اکبر خان تگڑے امیدوار ہیں۔ اس نشست پر گوہر خان، شیر اکبر اور سالار خان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ نظر آ رہا ہے۔
جماعت اسلامی نے سابق سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بخت جہان کو میدان میں اتارا ہے۔ جبکہ بائیں بازو کی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کے عثمان غنی امیدوار ہیں جن سے پہلے یہاں ان کی پارٹی کی رہنما فانوس گجر الیکشن لڑتے تھے اور دس ہزار کے لگ بھگ ووٹ لیتے رہے ہیں۔

ضلع بونیر میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی تین نشستیں ہیں جن میں سے دو پر پچھلے الیکشن میں، پی ٹی آئی اور ایک پر عوامی نیشنل پارٹی کے سردار حسین بابک کامیاب ہوئے تھے۔ اس بار پی ٹی آئی میں دھڑے بندی اور انتخابی نشان سے محرومی کا دوسری جماعتوں کو فائدہ ہو سکتا ہے جن کے امیدوار پچھلی بار دوسری اور تیسری پوزیشنز پر آئے تھے۔
پی کے 25 تحصیل گدے زئی اور ڈگر کے علاقوں سے 2018 میں پی ٹی آئی کے ریاض خان کامیاب ہوئے تھے اور جے یو آئی ف کے فضل غفور بار رنر اپ تھے۔
اس بار یہاں سے پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر سویرا پرکاش، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ریاض خان، اے این پی سے بخت افسر اور جماعت اسلامی کے امیدوار محمد حلیم امیدوار ہیں۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین نے شیر اکبر کے صاحبزادے شہزاد اکبر کو میدان میں اتارا ہے جبکہ جے یو آئی ف سے فضل غفور امیدوار ہیں جنہیں ن لیگ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
ریاض خان سابق ایم پی اے ہیں، بخت افسر اور فضل غفور 2018ء میں بھی مقابلے میں موجود تھے۔
صحافی سلیم خان بتاتے ہیں کہ الیکشن قوانین کے مطابق تمام جماعتوں کے لیے جنرل نشستوں پر پانچ فیصد خواتین امیدواروں کو نامزد کرنا لازم ہے۔ اس شرط کو پورا کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں نے ایسی نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جہاں بظاہر ان کی جیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں

شانگلہ کی تحصیل چکیسر میں ن لیگ کو فائدہ پہنچایا گیا، عمائدین کی جانب سے بائیکاٹ کا اعلان
ان کا خیال ہے کہ بظاہر پی کے 25 پر پی پی کی خاتون امیدوار ڈاکٹر سویرا پرکاش کی جنرل نشست پر نامزدگی بھی 'خانہ پری' کے طور پر کی گئی ہے۔ جس سے ان کی کافی عوامی پذیرائی ہورہی ہے لیکن یہ پذیرائی انتخابی نتائج میں بھی نظر آئے گی یہ پولنگ کے بعد ہی معلوم ہوگا، کیونکہ پچھلے انتخابات میں پی پی امیدوار نے اس حلقے سے صرف ایک ہزار 871 ووٹ حاصل کیے تھے۔
پی کے 26 تحصیل گاگرا ، چغر زئی و دیگر علاقوں سے پچھلے انتخابات میں پی ٹی آئی کے سید فخر جہان کامیاب ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی اب کی بار بھی اس حلقے میں فخر جہان کی حمایت کر رہی ہے اور پی ٹی آئی پارلیمینٹرین نے بختیار علی کو میدان میں اتارا ہے۔ اے این پی نے قیصر ولی خان اور جماعت اسلامی نے نثار علی کو نامزد کیا ہے۔ یہاں سے جے یو آئی ف کے امیدوار اسرار احمد ہیں جنہیں ن لیگ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
بونیر کی تیسری صوبائی نشست پی کے 27 تحصیل منڈنر اور کھڑو خیل کے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں سے پچھلی بار اے این پی کے مقبول رہنما سردار حسین بابک منتخب ہوئے تھے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے عبدالکبیر خان رنر اپ تھے۔
اب کی بار بھی اس حلقے سے اے این پی نے سردار حسین بابک اور پی ٹی آئی نےعبدالکبیر خان کو میدان اتارا ہے۔ پی ٹی آئی پارلیمینٹرین نے یہاں شیر اکبر کے بھائی فاروق خان اور جماعت اسلامی نے راج ولی خان کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ یہاں ن لیگ کے امیدوار دلاور خان ہیں جنہیں جے یو آئی ف کی حمایت بھی حاصل ہے۔
صحافی سلیم خان کہتے ہں کہ کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے ضلع بونیر کے تین صوبائی حلقوں میں صرف ایک حلقے پی کے 27 پر اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے۔ جہاں حاجی دلاور خان کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے جن کی پوزیشن کافی بہتر ہے۔ ن لیگ پی کے 25 اور پی کے 26 پر جے یو آئی ف کی حمایت کررہی ہے۔ اس ایڈجسٹمنٹ کا دونوں جماعتوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت 4 فروری 2024


















