ٹماٹر کی بے قدری پر کسان ناراض
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ٹماٹر کی بے قدری پر کسان ناراض

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ٹماٹر کی بے قدری پر کسان ناراض

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

ملکی معیشت میں کسانوں کے کردار کو سراہنے کے لئے حکومت نے 18 دسمبر 2020 کو قومی یومِ کسان کے طور پر منایا۔ اس دن سوشل میڈیا پر 'سلام کسان' کا ٹرینڈ پہلے نمبر پر رہا اور کئی بڑے شہروں میں کسانوں کے نام پر ہونے والی تقاریب کو ٹیلی ویژن چینلوں پر بھر پور طریقے سے دکھایا گیا۔ ان تقریبات میں وزیر اعظم سمیت کئی وزیروں مشیروں نے کسانوں کو ان کی اجناس کی بہتر قیمت دلانے کے بلند بانگ دعوے اور وعدے بھی کیے۔ 

لیکن یومِ کسان سے چند دن پہلے 15 دسمبر  کو سندھ کے کسانوں نے ٹماٹر کی فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے پر ایک ایسا احتجاجی سلسلہ شروع کیا جو 30 دسمبر تک جاری رہا۔اس دوران انہوں نے سندھ کے کئی شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرے کئے اور 29 اور 30 دسمبر کو حیدر آباد پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال بھی کی۔ یہ کسان وفاقی وزارت تحفظِ خوراک سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ 14 نومبر  2020 کو ایران سے ٹماٹر درا٘مد کرنے کے لئے دی گئی اجازت واپس لے کیونکہ اس کی وجہ سے مقامی ٹماٹر کوڑیوں کے دام فروخت ہو رہے تھے۔ 

تاہم ملکی سطح کے کسی ٹیلی وژن چینل یا کسی قومی اخبار میں ان کے احتجاج کی خبر تک موجود نہ تھی اور نہ ہی کسی وزیر مشیر نے ان کے مطالبات پر کان دھرے۔  

کسانوں کے احتجاج کی قیادت کرنے والی تنظمیوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ابتدا میں درآمد کی اجازت صرف ایک مہینے کے لئے دی تھی تاکہ ملکی منڈیوں میں ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لایا جا سکے لیکن بعد میں اس اجازت میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی گئی۔ کسانوں کے مطابق اس توسیع کے مقامی زراعت پر نقصان دہ اثرات مرتب ہوئے۔  

ان اثرات کی روک تھام کے لئے 14 جنوری 2021 کو سندھ کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو ایک خط لکھ کر کہا کہ وہ ٹماٹر کی درآمد روکے کیونکہ اس کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں ٹماٹر کی قیمت اس قدر کم ہو گئی ہے کہ کاشت کاروں کے لئے اپنے پیداواری اخراجات پورا کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ 

خط میں یہ بھی کہا گیا کہ 2020 میں سندھ میں 74 ہزار ایک سو 31 ایکڑ سے زائد رقبے پر ٹماٹر لگایا گیا جو کہ اس سے پچھلے سال کی نسبت 18 ہزار تین سو ایکڑ زیادہ تھا جبکہ اس سال ٹماٹر کی فی ایکڑ پیداوار بھی پچھلے سال کی نسبت کافی بہتر رہی۔

ان دونوں وجوہات کی بنا پر سندھ آباد گار بورڈ نامی تنظیم کے صدر فیاض حسین شاہ راشدی کہتے ہیں کہ درآمد میں دی جانے والی توسیع غیر ضروری تھی کیونکہ دسمبر کے وسط تک سندھ کے ٹماٹر معمول کے مطابق منڈیوں میں پہنچنا شروع ہو چکے تھے- 

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اکتوبر اور نومبر 2020 میں ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سندھ میں ہونے والی مون سون کی بارشیں تھیں جن کے باعث ٹماٹر کی پنیری کھیتوں میں تاخیر سے منتقل ہوئی۔ اس تاخیر کی بنا پر فصل تیار ہونے میں پہلے سے زیادہ عرصہ لگ گیا اور یوں بدین اور ٹھٹھہ کے اضلاع میں پیدا ہونے والا ٹماٹر ان دو مہینوں میں منڈیوں تک نہ پہنچ سکا۔  

سرکاری اعداد و شمار بھی کچھ اسی طرح کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اکتوبر کے آخر اور نومبر کے آغاز میں لاہور کی سبزی منڈی میں ٹماٹر 120 روپے فی کلو سے لے کر 150 روپے فی کلو تک فروخت ہوتا رہا (جبکہ اس دوران سبزی کی دکانوں پر اس کی قیمت چار سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی) لیکن دسمبر کے آخری پندرہ دن میں یہ 70 روپے سے 90 روپے فی کلو کی تھوک قیمت پر فروخت ہو رہا تھا جبکہ ایک ماہ بعد اس کی قیمت مزید گر کر 25 سے 30 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ 

اس دوران سندھ سے ایسی خبریں آنا شروع ہو گئیں کہ کسان ٹماٹر  کی کھڑی فصل میں ہل چلا کر اسے تلف  کررہے ہیں۔ فیاض حسین راشدی کے مطابق صرف ضلع بدین میں ٹماٹر کے 50 فیصد کاشت کاروں نے جنوری 2021 میں اپنی کھڑی فصل پر ہل چلا دیے۔ انہوں نے خود بدین کے تعلقہ ٹنڈو باگو میں واقع اپنے نو ایکڑ رقبے پر کھڑی ٹماٹر کی فصل کو 20 جنوری کو عین اس وقت تلف کر دیا جب اس کے پودے ٹماٹروں سے لدے ہوئے تھے۔  

بدین ہی کے ایک اور کاشت کار شکیل احمد کبور نے بھی اپنی دو ایکڑ فصل پر ٹریکٹر چلا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار ان کی فصل ایک ایسے وقت پر تیار ہوئی جب بدین کی منڈی میں 12 کلو کے ایک تھیلے کے نرخ محض 25 روپے تھے اور ٹماٹروں کو پودوں سے توڑ کر منڈی تک پہنچانا بھی گھاٹے کا سودا بن گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: "میرے پاس دو ہی راستے تھے۔ یا تو جیب سے پیسے ڈال کر ٹماٹر کو منڈی تک پہنچاؤں یا پھر کھڑی فصل پر ہل چلا کر اسے قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کروں"۔ 

صوبائی فصل، قومی منڈی 

سندھ میں گذشتہ 20 سال میں ٹماٹر کے زیرکاشت رقبے میں چھ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 02-2001 میں اس صوبے میں محض 14 ہزار تین سو 32 ایکڑ پر  ٹماٹر لگایا گیا تھا جو 2020 میں بڑھ کر 74 ہزار ایک سو 31 ایکڑ ہو گیا۔ اس اضافے کے نتیجے میں سندھ ٹماٹر کے زیر کاشت رقبے کے حوالے سے پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے جبکہ 12-2011 سے پہلے یہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد تیسرے نمبر پر تھا۔ 

ٹماٹر کی کل ملکی پیداوار میں اس وقت سندھ کا حصہ 35 فیصد ہے (جو کسی بھی دوسرے صوبے سے زیادہ ہے) جبکہ اس پیداوار میں بلوچستان کا حصہ 25 فیصد، خیبر پختونخوا کا حصہ 22 فیصد اور پنجاب کا حصہ 18 فیصد ہے۔

سندھ میں کاشت کیا گیا ٹماٹر عام طور پر اکتوبر سے لے کر مئی تک ملک بھر کی منڈیوں میں ملتا رہتا ہے۔ اِن دنوں اس کی رسد قریب قریب ختم ہونے والی ہے جبکہ پچھلے چند ہفتوں سے پنجاب کی فصل بھی منڈیوں میں پہنچنے لگی ہے۔ یہ ٹماٹر جولائی تک دستیاب رہے گا جبکہ جولائی میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نئی فصل پک کر تیار ہوجائے گی جو اگلے تین ماہ تک پاکستان بھر میں صارفین کی ضرورت پوری کرتی رہے گی۔ 

لاہور کے بادامی باغ نامی علاقے میں واقع سبزی منڈی کے آڑھتی محمد جہانگیر علی کے مطابق "اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ منڈیوں میں ضرورت سے زیادہ ٹماٹر آ رہا ہے چنانچہ اس کی فروخت بہت کم نرخوں پر ہو رہی ہے"۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت منڈی میں اچھے معیار کے ٹماٹر کی قیمت 15 روپے فی کلو اور نسبتاً کم معیار کے ٹماٹر کی قیمت آٹھ سے 10 روپے فی کلو چل رہی ہے۔

یہ قیمت اتنی کم ہے کہ سوشل میڈیا پر کسانوں کو اپنی فصل مختلف طریقوں سے تلف کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹماٹر کو منڈی تک پہنچانے میں ان کے اخراجات اور خسارہ اور بڑھ جائیں گے۔ 

پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کلو ٹماٹر اُگانے پر 16 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ دوسری طرف 2017 میں لکھے گئے ایک تحقیقی مکالے میں یہ لاگت 24 روپے فی کلو ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ رقم صرف ٹماٹر کی کاشت پر خرچ آتا ہے۔ فصل کی چُنائی اور پیکنگ کے اخراجات، اسے کھیت سے  منڈی لے جانے کے لیے درکار ٹرانسپورٹ کا کرایہ، باربرداری کا خرچہ اور آڑھتی کا کمیشن اس کے علاوہ ہیں۔ 

ایک لمحے کے لیے پنجاب حکومت کے لاگت کے تخمینے کو ہی درست مان لیا جائے تو 20 کلو ٹماٹر پیدا کرنے پر 320 روپے خرچ آتے ہیں۔ پنجاب کے ضلع میانوالی کے قصبے کمر مثانی کے ایک کاشتکار لطیف اللہ کے مطابق 20 کلو ٹماٹر چُن کر ایک تھیلے میں ڈالنے والے مزدوروں کو 20 روپے ادا کرنا ہوتے ہیں، ان ٹماٹروں کے لئے پیکنگ کا سامان 30 روپے میں ملتا ہے اور انہیں رکشے پر رکھ کر منڈی لے جانے پر فی تھیلا آٹھ روپے خرچ آتے ہیں جبکہ باربرداری پر فی تھیلا سات روپے مزدوری دینا پڑتی ہے اور آڑھتی کو 10 روپے فی تھیلہ کمیشن دینا ہوتا ہے۔ یوں 20 کلو ٹماٹروں پر کاشت سے فروخت تک 395 روپے خرچہ آتا ہے لیکن لطیف اللہ کا کہنا ہے کہ اس سال وہ ٹماٹر کا 20 کلو والا تھیلا صرف 100 روپے میں بیچ پائے اور یوں اس پر انہیں 295 روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔  

وہ اس نقصان سے اتنے دل برداشتہ ہیں کہ انھوں نے اگلی بار ٹماٹر نہ لگانے کی تہیہ کر لیا ہے۔انہیں حکومت سے شکوہ ہے کہ وہ ان جیسے کسانوں کی حالتِ زار پر توجہ دینے کے بجائے ٹماٹر کی قیمت میں کمی کو اپنی معاشی پالیسوں کی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ انہیں نیوز میڈیا سے بھی شکایت ہے کہ وہ کاشت کاروں کے حق میں آواز اٹھانے کے بجائے صرف یہ دکھا رہا ہے کہ شہری صارفین ٹماٹر کی قیمت میں کمی پر کتنے خوش ہیں۔ 

ٹماٹر کی قیمت غیر مستحکم کیوں ہے؟ 

پاکستان میں ٹماٹر کے فی کس استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2001 میں ہر پاکستانی سال بھر میں 1.86 کلو ٹماٹر استعمال کرتا تھا لیکن اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف او اے) کے مطابق 2013 میں یہ مقدار بڑھ کر 4.8 کلو فی کس ہو گئی۔ پچھلے سات سالوں میں اس میں اور بھی اضافہ ہو چکا ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں ٹماٹر کی پیداوار میں بھی بتدریج اضافہ ہوا ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے یہاں ہر سال لگ بھگ پانچ لاکھ 69 ہزار میٹرک ٹن ٹماٹر پیدا ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ہر تین سال بعد پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتوں میں شدید کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ ایگریکلچر مارکیٹنگ انفارمیشن سروس نامی سرکاری ادارے کے مطابق 17-2016 میں بھی ایسا ہی ہوا۔

اس سال کے پہلے حصے (ستمبر 2016 سے لیکر مارچ 2017 تک) میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت 50 روپے سے کم نہیں ہوئی لیکن اس کے بعد اپریل، مئی اور جون کے مہینے میں یہ قیمت 10 روپے فی کلو تک گر گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 2016 میں ایک لاکھ 45 ہزار پانچ سو 42 ایکڑ پر ٹماٹر کاشت کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے کبھی اتنے بڑے رقبے پر یہ فصل کاشت نہیں کی گئی تھی۔ چنانچہ ٹماٹر کی پیداوار بہت زیادہ بڑھ گئی اور اس کی قیمت بہت گر گئی۔ 

سندھ میں کاشت کیا گیا ٹماٹر عام طور پر اکتوبر سے لے کر مئی تک ملک بھر کی منڈیوں میں ملتا رہتا ہے۔ اِن دنوں اس کی رسد قریب قریب ختم ہونے والی ہے جبکہ پچھلے چند ہفتوں سے پنجاب کی فصل بھی منڈیوں میں پہنچنے لگی ہے۔ یہ ٹماٹر جولائی تک دستیاب رہے گا جبکہ جولائی میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نئی فصل پک کر تیار ہوجائے گی جو اگلے تین ماہ تک پاکستان بھر میں صارفین کی ضرورت پوری کرتی رہے گی۔ 

لاہور کے بادامی باغ نامی علاقے میں واقع سبزی منڈی کے آڑھتی محمد جہانگیر علی کے مطابق "اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ منڈیوں میں ضرورت سے زیادہ ٹماٹر آ رہا ہے چنانچہ اس کی فروخت بہت کم نرخوں پر ہو رہی ہے"۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت منڈی میں اچھے معیار کے ٹماٹر کی قیمت 15 روپے فی کلو اور نسبتاً کم معیار کے ٹماٹر کی قیمت آٹھ سے 10 روپے فی کلو چل رہی ہے۔

یہ قیمت اتنی کم ہے کہ سوشل میڈیا پر کسانوں کو اپنی فصل مختلف طریقوں سے تلف کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹماٹر کو منڈی تک پہنچانے میں ان کے اخراجات اور خسارہ اور بڑھ جائیں گے۔ 

پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کلو ٹماٹر اُگانے پر 16 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ دوسری طرف 2017 میں لکھے گئے ایک تحقیقی مکالے میں یہ لاگت 24 روپے فی کلو ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ رقم صرف ٹماٹر کی کاشت پر خرچ آتا ہے۔ فصل کی چُنائی اور پیکنگ کے اخراجات، اسے کھیت سے  منڈی لے جانے کے لیے درکار ٹرانسپورٹ کا کرایہ، باربرداری کا خرچہ اور آڑھتی کا کمیشن اس کے علاوہ ہیں۔ 

لیکن 2017 سے ٹماٹر کے زیرِ کاشت رقبہ کم ہونا شروع  ہوا اور 2019 میں ایک لاکھ 36 ہزار پانچ سو 45 ایکڑ رہ گیا جس کی وجہ سے  2019 کے اختتام اور 2020 کے آغاز میں ٹماٹر کی قیمت بہت بڑھ گئی جسے دیکھتے ہوئے 2020 میں کسانوں نے ایک بار پھر ٹماٹر کے زیرِ کاشت رقبہ بڑھا دیا لیکن اس کے نتیجے میں ان کی فصل کی قیمت ایک بار پھر زمین بوس ہوگئی۔ 

سندھ کے ضلع میر پور خاص کے پروگریسو کسان اور سندھ آباد گار بورڈ کے رکن میر ظفراللہ تالپور بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ٹماٹر کے زیرِ کاشت رقبے سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2019 میں سندھ میں ٹماٹر کی کاشت کے بعد شدید بارشیں شروع ہوگئیں جس سے ٹھٹہ، بدین، ٹنڈو محمد خان، عمر کوٹ، مٹیاری، میر پورخاص اور لاڑکانہ کے ضلعوں میں ہزاروں ایکڑ پر لگی فصل خراب ہوگئی چنانچہ ٹماٹر کی رسد اس کی طلب کے مقابلے میں کم رہ گئی اور آنے والے مہینوں میں اس کی قیمت چار سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ ان کے مطابق "اگلے سال، یعنی 2020 میں، سندھ کے کسانوں نے اسی امید پر زیادہ رقبے پر فصل کاشت کی کہ اس مرتبہ بھی انہیں 2019 کی طرح اچھی قیمت ملے گی لیکن اب حال یہ ہے کہ مارکیٹ میں کوئی ان سے ٹماٹر خریدنے کو تیار نہیں"۔

میر ظفراللہ تالپور کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال کا خمیازہ اگلے سال بھگتنا پڑے گا جب پاکستان میں ٹماٹر کے زیر کاشت رقبے میں ایک بار پھر کمی ہو جائے گی اور ٹماٹر کی قیمت دوبارہ اوپر چلی جائے گی۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 4 جون 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 1 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔