پاکستان میں مقیم افغان موسیقار: 'ہمارا سب کچھ ہمارے وطن میں رہ گیا ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

پاکستان میں مقیم افغان موسیقار: 'ہمارا سب کچھ ہمارے وطن میں رہ گیا ہے'۔

کلیم اللہ

postImg

پاکستان میں مقیم افغان موسیقار: 'ہمارا سب کچھ ہمارے وطن میں رہ گیا ہے'۔

کلیم اللہ

شمس راحیل روایتی افغان ساز رباب بجانے کے ماہر ہیں اور افغانستان کے ایک ٹیلی وژن چینل میں کئی سال میوزک ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ 

اس سال اگست کے مہینے میں جب طالبان نے کابل اور دوسرے افغان شہروں میں اقتدار سنبھالنا شروع کیا تو انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ کہیں انہیں اسی مہلک صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے جس کا شکار قندھار کے مزاح نگار نذر محمد عرف خاشہ زوان ہوئے تھے۔ 

خاشہ زوان کو جولائی 2021 میں طالبان نے ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر موجود ایک ویڈیو میں انہیں ایک گاڑی کی پچھلی سیٹ پر دو طالبان کے درمیان بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حالت میں جب وہ پشتو میں کوئی مزاحیہ بات کرتے ہیں تو طالبان کے ایک رکن ان کو ڈانتا ہے اور ان کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے۔

ان کی گرفتاری کے کچھ روز بعد ان کی لاش قندھار ہی کے ایک علاقے میں پائی گئی۔ شروع میں تو سینئر طالبان نے انہیں قتل کرنے کے الزام کی تردید کی لیکن بعد میں انہے تسلیم کرنا پڑا کہ ان کے قاتل طالبان جنگ جو ہی تھے۔ 

اس انجام سے بچنے کے لیے 42 سالہ شمس راحیل نے 20 اگست 2021 کو افغانستان کے صوبے ننگرہار کے صدر مقام جلال آباد میں واقع اپنا گھر چھوڑ دیا اور پاکستان کی راہ لی۔ 

لیکن اس وقت جلال آباد کو پشاور سے جوڑنے والی سرحدی چوکی، طورخم،  ہر طرح کی آمدورفت کے لیے بند تھی چنانچہ وہ ساڑھے چھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے کابل کے راستے افغانستان کے جنوب مشرقی شہر قندھار پہنچے۔ وہاں سے انہوں نے سپن بولدک کے سرحدی قصبے کا سفر کیا جس کی دوسری طرف پاکستان کا شہر چمن واقع ہے۔

پاکستان میں داخل ہونے کے بعد وہ بذریعہ ٹیکسی چمن اور کوئٹہ کے راستے مزید نو سو 60 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پشاور پہنچے حالانکہ طورخم بارڈر کے کھلے ہونے کی صورت میں انہیں جلال آباد سے پشاور آنے کے لیے محض ایک سو 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا۔

شمس راحیل کہتے ہیں کہ جب وہ کوئٹہ سے پشاور آ رہے تھے تو راستے میں سکیورٹی اہل کاروں نے انہیں کئی بار روکا مگر وہ ہر بار انہیں اپنے فون میں محفوظ ایک ویڈیو دکھاتے جس میں وہ رباب بجا رہے ہیں اور انہیں بتاتے کہ افغانستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ان کے مطابق "اس کے بعد وہ اہلکار مجھے عزت و احترام سے آگے جانے دیتے"۔

آج کل وہ پشاور کے علاقے پشت خرہ میں ایک خستہ حال عمارت میں اپنے ایک شاگرد کے دیے ہوئے چھوٹے سے کمرے میں رہ رہے ہیں۔ ان کے سر اور داڑھی کے بال بے ہنگم طریقے سے بڑھے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے ایک رباب اور کچھ کپڑوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں لا پائے کیونکہ ان کے گھر والے چاہتے تھے کہ وہ جلد از جلد اپنے ملک سے نکل جائیں۔ نتیجتاً "میرے موسیقی کے کتابچے سمیت میرا سب کچھ افغانستان میں رہ گیا ہے"۔ 

پاکستان آ کر وہ پندرہ بیس دنوں تک ڈپریشن کا شکار رہے کیونکہ انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ افغانستان میں ان کی فنکارانہ زندگی ایک دم کیسے ختم ہوگئی۔ ان کے بقول "مجھے ایسا لگتا تھا جیسے یہ سب کچھ ایک خواب ہے"۔ 

پشاور میں ان کی جان کو تو کوئی خطرہ نہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ اب وہ اپنی زندگی کیسے گزاریں گے۔ وہ مایوسی کے عالم میں کہتے ہیں کہ "نہ تو میرے پاس افغان شناختی کارڈ ہے اور نہ پاکستانی حکومت نے مجھے مہاجر کارڈ جاری کیا ہے جسے دکھا کر میں آزادانہ طور پر کوئی کام کرسکوں"۔ 

'کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے'

کابل کی رہنے والی گلوکارہ مینا وفا کو وہ لمحہ اب بھی یاد ہے جب انہیں پہلی بار یہ لگا کہ اب وہ افغانستان میں اپنا کام جاری نہیں رکھ سکیں گی۔

وہ 15 اگست 2021 کا دن تھا اور افغان صدر اشرف غنی کے ملک سے بھاگ جانے کے بعد طالبان گاڑیوں پر اپنا سفید جھنڈا لہرائے  کابل کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے۔ مینا وفا ڈر کے مارے اپنے گھر میں محصور تھیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر طالبان کو پتہ چل گیا کہ وہ کیا کام کرتی ہیں تو وہ انہیں جان سے مار دیں گے۔

چند روز بعد وہ اپنی بڑی بہن اور کم سِن بھانجے کے ساتھ کابل سے اس حالت میں نکلیں کہ دونوں خواتین نے روایتی افغان برقعے پہن رکھے تھے۔ کئی سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے وہ سپن بولدک پہنچیں جہاں سے سرحد پار کر کے وہ پہلے چمن اور پھر کوئٹہ آ گئیں۔ وہاں سے ریل گاڑی میں بیٹھ کر وہ راولپنڈی چلی آئیں۔  

وہ کہتی ہیں کہ انہیں پاکستان داخل ہونے میں کوئی دقت نہیں ہوئی کیونکہ، ان کے مطابق، پاکستانی حکام نے کوئی کاغذات دیکھے بغیر ہی انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت دے دی تھی (تاہم نیا دور نامی ایک اخباری ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان حکام کو 50 ہزار روپے بطور رشوت دیے تھے)۔

<p> مینا وفا گلوکارہ<br></p>

 مینا وفا گلوکارہ

اب وہ راولپنڈی کے علاقے صدر میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں لیکن اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے ملنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی وجہ سے ان کے "رشتہ داروں کو پاکستانی حکام کی طرف سے کوئی پریشانی اٹھانا پڑے"۔ 
وہ اس خوف میں بھی مبتلا رہتی ہیں کہ کہیں پاکستانی پولیس انہیں گرفتار کر کے افغانستان واپس نہ بھیج دے۔ ان کے بقول "میرے دوست کم اور دشمن زیادہ ہوگئے ہیں"۔

مینا وفا کے مطابق ان کی عمر 25 سال ہے اور وہ پچھلے سات آٹھ سال سے پشتو اور فارسی زبانوں میں گلوکاری کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک انہوں نے 40 سے زائد گانے گائے ہیں جن میں سے کئی ایک کے ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہیں۔ ان میں سے 'پشیمان' نامی گانے کو اب تک 73 ہزار لوگوں نے دیکھا ہے۔ 

وہ چاہتی ہیں کہ وہ "ایک آزاد اور خودمختار خاتون" بن جائیں۔ ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ "میرا اپنا گھر ہو جہاں میں اپنی مرضی سے زندگی گزار سکوں"۔ لیکن انہیں افسوس ہے کہ ان کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں اور انہیں اپنا وطن چھوڑ کر ایک مہاجر کی طرح ایک دوسرے ملک میں رہنا پڑ رہا ہے۔ اپنی زندگی میں آنے والی اس تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے وہ ایک مشہور اردو نغمہ 'کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے' گنگنانے لگتی ہیں۔

تاہم مینا وفا کو توقع ہے کہ جلد ہی پاکستان یا کوئی دوسرا ملک انہیں مستقل پناہ دے دے گا جس کے بعد وہ دوبارہ گلوکاری شروع کر سکیں گی۔ اس دوران ان کے پاس موجود پیسے تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور وہ پریشان ہیں کہ ان کے ختم ہونے کے بعد وہ کیا کریں گی۔ 

میرویس نبی افغانستان کے مقبول ترین گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ پچھلے 20 سالوں میں انہوں نے بڑا نام اور پیسہ کمایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ اشرف غنی کے دورِ صدارت میں ان کے ملک میں امن و امان کی صورتِ حال اکثر خراب رہتی تھی مگر انہیں اپنے فن کے اظہار کی مکمل آزادی تھی۔

<p>میرویس نبی افغانستان کے مقبول ترین گلوکار <br></p>

میرویس نبی افغانستان کے مقبول ترین گلوکار 

لیکن اس سال 15 اگست کو طالبان کے اقتدار میں آنے کے صرف ایک دن بعد ان کے سٹوڈیو کی حفاظت پر متعین شخص نے انہیں فون کیا کہ کچھ لوگوں نے زبردستی اس میں گھس کر وہاں موجود آلاتِ موسیقی کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔ یہ سن کر میرویس نبی کو محسوس ہوا کہ اب کابل میں رہتے ہوئے نہ تو انہیں اپنے فن کے ذریعے روزی روٹی کمانے کا موقع ملے گا اور نہ ہی ان کی جان محفوظ ہو گی۔

اس لیے وہ کہتے ہیں کہ "مجھے اپنا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا حالانکہ یہ ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا"۔ 

حالیہ مہینوں میں افغانستان چھوڑ کر پاکستان آنے والے زیادہ تر لوگوں کی طرح وہ بھی سپن بولدک اور چمن کے راستے سرحد کے اِس پار  پہنچے ہیں۔ اب وہ اپنےخاندان کے ساتھ پشاور میں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ ان کا یہاں قیام عارضی ہے۔ 

انہوں نے برازیل میں سیاسی پناہ لینے کیلئے درخواست دے رکھی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں قائم برازیل کے سفارت خانے نے انہیں بتایا ہے کہ اس درخواست کی قبولیت کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاسپورٹ پر پاکستان میں داخلے کے وقت ان کی آمد کو قانونی قرار دیتے ہوئے باقاعدہ مہر لگائی گئی ہو۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سرحد پار کی تو "چمن کی سرحدی چوکی پر اس قدر ہجوم تھا کہ پاکستانی حکام کسی افغان شہری کے پاسپورٹ پر یہ مہر نہیں لگا رہے تھے"۔

وہ پاکستانی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ جلد از جلد یہاں سے کسی دوسرے ملک منتقل ہو سکیں۔ 

مذہبی سوال یا نفسیاتی مسئلہ

جب 1996 میں طالبان پہلی بار افغانستان میں برسرِاقتدار آئے تو انہوں نے گلوکاری اور موسیقی پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اگرچہ اِس سال دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے ابھی تک موسیقی کے بارے میں کوئی نیا حکم نامہ جاری نہیں کیا لیکن ان کے سابقہ نظریات کی وجہ سے یہ بات واضح ہے کہ ان کی حکومت میں گلوکاروں اور موسیقاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ 

تاہم لندن کی گولڈ سمتھ یونیورسٹی میں موسیقی کے استاد جون بیلی اپنی 2016 میں شائع شدہ کتاب میں ان کی موسیقی دشمنی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ "مغربی مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ موسیقی کے بارے میں طالبان کا نکتہ نظر  اسلامی بنیاد پرستی سے جڑا ہوا ہے لیکن یہ ایک انتہائی سادہ نظریہ ہے (کیونکہ) موسیقی کے خلاف اسلام میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے (بلکہ) اسلام میں موسیقی کے حلال ہونے کے معاملے پر کئی صدیوں سے بحث چل رہی ہے" جس میں حصہ لینے والے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گانا بجانا حرام ہے جبکہ کچھ دسرے لوگوں کا خیال ہے کہ چند مخصوص حالات میں اس کی اجازت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'ان افغان مہاجرین کو افغانستان واپس نہ بھیجا جائے جن کی زندگیوں کو خطرہ ہے'۔

جون بیلی لکھتے ہیں کہ طالبان کی طرف سے موسیقی کی مخالفت کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اسے خدا کی یاد اور عبادت میں خلفشار پیدا کرنے کا باعث سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک "یہ جذبات اور ہوس کو ابھارتی ہے (اور) تقویٰ، حیا اور عزت سے انحراف کا باعث بنتی ہے"۔

وہ افغانستان میں موسیقی کی ترویج کے لیے پر کام کرنے والی مختلف غیرسرکاری تنظیموں سے حاصل کی گئی معلومات کی بنا پر دعویٰ کرتے ہیں کہ طالبان کے کچھ رہنما اس کے بارے میں ایک لچک دار نظریہ رکھتے ہیں لیکن وہ اپنے ماتحت جنگجوؤں کے ہاتھوں مجبور ہیں کیونکہ اگر وہ زیادہ لچک دکھاتے ہیں تو یہ جنگجو ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ 

لاہور کے نیشل کالج اف آرٹس میں افغانستان کی موسیقی پر تحقیق کرنے والے علی مراد بھی طالبان کی موسیقی دشمنی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ مسئلہ مذہبی کم اور نفسیاتی زیادہ ہے کیونکہ وہ افغان قوم پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے اس کی ثقافت اور روایات کو اپنی مٹھی میں بند رکھنا چاہتے ہیں۔ 

ان کے مطابق افغان موسیقی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے لیکن پچھلے 20 سالوں میں اس میں مزید ترقی دیکھنے میں آئی ہے "جو فکری لحاظ سے افغان معاشرے لیے کافی اہمیت کی حامل ہے"۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ طالبان کی طرف سے موسیقی پر پابندی لگانے کے نتیجے میں "یہ ارتقائی عمل اب مکمل طور پر رک جائے گا"۔

تاریخ اشاعت 13 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

کلیم اللہ نسلی و علاقائی اقلیتوں کو درپیش مخصوص مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے لیڈز یونیورسٹی لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس آنرز کیا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔