مالی تنازعات، ماحولیاتی آلودگی اور مقامی روزگار کا خاتمہ: پھالیہ شوگر مل کیسے ان مسائل کا سبب بنی۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

مالی تنازعات، ماحولیاتی آلودگی اور مقامی روزگار کا خاتمہ: پھالیہ شوگر مل کیسے ان مسائل کا سبب بنی۔

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

مالی تنازعات، ماحولیاتی آلودگی اور مقامی روزگار کا خاتمہ: پھالیہ شوگر مل کیسے ان مسائل کا سبب بنی۔

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

پھالیہ شوگر مِل پچھلے سات سال سے بند پڑی ہے۔ 

وسطی پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین میں واقع یہ مِل ابتدائی طور پر گجرات سے تعلق رکھنے والے مشہور سیاست دان چوہدری ظہور الٰہی کے خاندان کی مشترکہ ملکیت تھی۔ اس کا سنگِ بنیاد اس خاندان کے رکن چوہدری شجاعت حسین نے 1980 کی دہائی کے آخر میں رکھا تھا جب وہ خود وفاقی وزیر صنعت تھے۔

لیکن پچھلے کئی سال سے یہ مِل مالی تنازعات کی زد میں ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی ایک رپورٹ کے مطابق چوہدری خاندان کے ایک اہم فرد، چوہدری پرویز الٰہی، نے 2007 میں بنک آف پنجاب کے اُس وقت کے صدر ہمیش خان کو کہا کہ وہ اس مل کے لیے کوئی خریدار ڈھونڈ کر لائیں۔ پرویز الٰہی ان دنوں پنجاب کے وزیر اعلٰی تھے اور اس حیثیت میں بنک آف پنجاب کے آئینی سربراہ بھی تھے۔ 

نیب کا کہنا ہے کہ ہمیش خان نے سب سے پہلے اس وقت کے وفاقی وزیر صنعت جہانگیر خان ترین سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے اس سودے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ بعد ازاں ہمیش خان نے کالونی گروپ نامی ایک مشہور کاروباری ادارے کو مل خریدنے پر تیار کرلیا۔ اس مقصد کے لیے بنک آف پنجاب نے اس گروپ کو دو ارب 20 کروڑ روپے کا قرض بھی دے دیا۔ 

اس وقت کالونی گروپ کے ایک ڈائریکٹر فرید مغیث شیخ بنک آف پنجاب کے ڈائریکٹروں میں بھی شامل تھے۔ دوسرے لفظوں میں وہ قرض لینے والے لوگوں اور قرض منظور کرنے والے لوگوں دونوں میں شامل تھے۔ تاہم اس وقت کسی نے مفادات کے اس واضح ٹکراؤ کی نشاندہی نہیں کی اور ان کے گروپ نے 2007 میں ہی قرض کی ساری رقم چوہدری خاندان کو ادا کر کے مل خرید لی حالانکہ نیب کے مطابق اس وقت اس کی اصل مالیت ڈیڑھ ارب روپے تھی۔ 

اس مِل کا ذکر اکتوبر 2021 میں سامنے آنے والے پنڈورا پیپرز میں بھی موجود ہے۔ 

یہ ذکر ایک تو بالواسطہ طریقے سے یوں آیا ہے کہ اسے بیچنے والا چودھری خاندان اور اسے خریدنے والا کالونی گروپ دونوں ان سات سو سے زیادہ پاکستانی افراد اور کاروباری اداروں میں شامل ہیں جو ان پیپرز کے مطابق آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ لیکن ان پیپرز نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ پرویز الٰہی کے بیٹے اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل چوہدری مونس الٰہی نے جنوری 2016 میں ایشیا سٹی ٹرسٹ نامی آف شور کمپنی کے حکام سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ وہ پاکستان سے باہر ایک ٹرسٹ قائم کر کے رحیم یار خان شوگر مل کے 24 فیصد حصص اور برطانیہ میں دو جائیدادیں خریدنا چاہتے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان سودوں کے لیے درکار رقم وہ کہاں سے لائیں گے تو انہوں نے ایسی دستاویزات پیش کیں جو ظاہر کرتی تھیں کہ ان کے خاندان کے پاس پھالیہ شوگر مل کی خریداری سے حاصل ہونے والے دو ارب 20 کروڑ روپے موجود ہیں۔

ایشیا سٹی ٹرسٹ نے مونس الٰہی کے ساتھ معاملات طے کرنے سے پہلے تھامسن رائٹرز نامی میڈیا کمپنی سے ایک رپورٹ تیار کرائی۔ 21 جنوری 2016 کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کی بنیاد بڑی حد تک پاکستانی نیوز میڈیا میں نشر اور شائع ہونے والی خبروں پر تھی۔ اس میں کہا گیا کہ پھالیہ شوگر مل کی خریداری کے لیے کیا گیا معاہدہ غیرشفاف تھا کیونکہ اس کے بعد خود بنک آف پنجاب نے نیب کو اس میں سنگین بدعنوانیوں کے بارے میں بتایا تھا۔ 

پنڈورا پیپرز کے مطابق ایشیا سٹی ٹرسٹ نے اس رپورٹ کے باوجود مونس الٰہی کو اپنا گاہک بنا لیا اور سنگا پور اور بحرالکاہل کے جزیرے سمووا میں ان کا ٹرسٹ رجسٹرڈ کروا دیا۔ لیکن جب اس کے اہل کاروں نے مونس الٰہی کو یہ بتایا کہ شوگر مل کے حصص اور جائیدادیں خریدنے کے لیے انہیں تمام متعلقہ دستاویزات بین الاقوامی ضوابط کے تحت پاکستانی ٹیکس حکام کو دینا پڑیں گی تو انہوں نے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھایا۔ 

زہریلے فضلے کے اثرات

پھالیہ شوگر مِل کا کل رقبہ 138 ایکڑ دو کنال اور 16 مرلے ہے اور اس میں ہر روز سات ہزار پانچ سو ٹن چینی، ایک لاکھ 35 ہزار ٹن ایتھانول (جسے الکوحل بھی کہا جاتا ہے) اور 48 ٹن مائع کاربن ڈائی آکسائیڈ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ 

اس مِل میں 1990 سے 2014 تک چینی بنانے کا عمل تسلسل سے جاری رہا لیکن اس کے الکوحل بنانے والے یونٹ کو شروع ہی سے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی ایک بڑی وجہ اس سے خطرناک فضلے کا اخراج تھا جس کےباعث مل کے ارد گرد واقع دیہات میں انسانوں اور جانوروں کی صحت متاثر ہونا شروع ہوگئی۔ 

ان اثرات کو قابو میں رکھنے کے لیے چوہدری خاندان نے اس یونٹ کو محدود پیمانے پر چلایا (کیونکہ وہ اس کے منفی سیاسی اور انتخابی نتائج سے بچنا چاہتے تھے) لیکن کالونی گروپ نے اسے کسی قسم کے حفاظتی اقدامات کے بغیر مسلسل چلانا شروع کر دیا۔

کسان بورڈ پاکستان نامی غیر سرکاری تنظیم کے گوجرانوالا ڈویژن کے صدر اور تحصیل پھالیہ کے مقامی باشندے حافظ معظم محمود گوندل کہتے ہیں کہ 2007 اور 2008 میں جیسے ہی یہ یونٹ بھرپور انداز میں چلنے لگا تو مِل کے آس پاس ماحولیاتی آلودگی میں شدید اضافہ ہو گیا۔ ان کے مطابق اس سے خارج ہونے والا فضلہ اس قدر زہریلا تھا کہ اس نے قریبی دیہات کا زیر زمین پانی تک آلودہ کر دیا جو نہ صرف انسانی استعمال کے قابل نہ رہا بلکہ اسے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے فصلیں بھی متاثر ہونے لگیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "اگر کوئی مویشی اس کھالے سے گزرتا جس کے ذریعے یہ فضلہ ایک قریبی سیم نالے میں ڈالا جاتا تھا تو اس کا جسم جل جاتا"۔ اسی طرح مِل سے خارج ہونے والی راکھ بھی لوگوں میں سنگین طبی مسائل کا باعث بننے لگی۔

ان مسائل کے حل کے لیے مقامی لوگوں نے مِل مالکان کو تجویز دی کہ وہ اس سے خارج ہونے والے فاضل پانی کی آلودگی کم کرنے کے لیے اس میں صاف پانی شامل کریں لیکن معظم محمود گوندل کہتے ہیں کہ جب مل انتظامیہ نے ایسا کچھ نہ کیا تو مِل کے قریب واقع 26 دیہات کے لوگوں نے احتجاج کا راستہ اپنایا اور تمام متعلقہ محکموں کو اس کی وجہ سے پھیلنے والی آلودگی کے بارے میں درخواستیں دیں۔

ان کی طرف سے 10 مارچ 2010 کو موصول ہونے والی ایک درخواست کے نتیجے میں منڈی بہاؤالدین کی ضلعی انتظامیہ نے بالآخر مل مالکان کو حکم دیا کہ وہ الکوحل بنانے والے یونٹ کو اس وقت تک بند رکھیں جب تک وہ اس سے پھیلنے والی آلودگی کو روکنے کے انتظامات نہ کر لیں۔ 

مِل مالکان نے اس حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایک مقامی سول عدالت میں ایک درخواست دائر کی کہ یونٹ کی بندش کو خلافِ قانون قرار دیا جائے۔ لیکن اس عدالت نے چھ اپریل 2010 کو یہ درخواست رد کر دی اور حکم جاری کیا کہ جب تک یونٹ میں اس سے نکلنے والے پانی کی آلودگی کم کرنے کے لیے درکار مشینری نہیں لگائی جاتی اس وقت تک اسے بند رکھا جائے۔ اگلے پانچ سال میں یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچا لیکن ان دونوں عدالتوں نے بھی یونٹ کی بندش کے حق میں فیصلے دیے۔

منافعے میں گھاٹا     

کالونی گروپ نے پھالیہ شوگر مِل خریدنے کے بعد اسے کالونی شوگر ملز نامی کمپنی کا حصہ بنا دیا جس میں ضلع خانیوال کے قصبے میاں چنوں میں قائم چینی بنانے کی ایک مِل بھی شامل تھی۔ اس کمپنی کی پہلی سالانہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق ان دنوں ملوں اور پھالیہ میں قائم الکوحل بنانے والے یونٹ نے ستمبر 2009 میں ختم ہونے والے 12 ماہ میں ٹیکس ادا کرنے کے بعد 30 کروڑ 90 لاکھ روپے کا منافع کمایا (جبکہ اس سے پچھلے بارہ مہینوں میں ان کا مجموعی منافع چار کروڑ 20 لاکھ روپے تھا)۔

اس سے اگلے سال (2010) کی رپورٹ کے مطابق کالونی شوگر ملز نے مجموعی طور پر 2009 کی نسبت زیادہ چینی بنائی لیکن اس کا منافع کم ہو کر 11 کروڑ 80 لاکھ روپے ہو گیا۔ نتیجتاً سٹاک مارکیٹ میں اس کی فی حصص قیمت 3.12 روپے سے کم ہو کر 1.19 روپے ہو گئی۔ کمپنی انتظامیہ نے گنے کی قیمت میں اضافے کو اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

اسی طرح 2011 کی مالیاتی رپورٹ میں دیے گئے اعدادوشمار سے ظاہر ہرتا ہے کہ اس سال کالونی شوگر ملز کا منافع مزید کم ہو کر چھ کروڑ 50 لاکھ روپے رہ گیا اور اس کی فی حصص قیمت بھی اور کم ہو کر 0.66 روپے رہ گئی۔ تاہم 2012 اور 2013 میں کمپنی کے منافعے میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان میں سے پہلے سال اس نے 16 کروڑ روپے منافع کمایا جبکہ دوسرے سال اس کا منافع مزید بڑھ کر 26 کروڑ 20 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔.

اس کے بعد کمپنی اچانک نقصان میں چلی گئی اور 2014 میں ٹیکس دینے کے بعد اسے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کا گھاٹا ہوا۔ 

اس سے اگلے سال (2015) میں عدالتی احکامات کے تحت کمپنی کو بالآخر الکوحل بنانے والا یونٹ بند کرنا پڑا لیکن اس نے ساتھ ہی پھالیہ شوگر مل کا چینی بنانے والا یونٹ بھی بند کر دیا۔ اس فیصلے کی ایک وجہ کمپنی کی مالیاتی رپورٹوں میں نظر آتی ہے جن کے مطابق 2014 میں اس کے خسارے کا سبب اس کے چینی بنانے والے یونٹ تھے جبکہ اس کے الکوحل بنانے والے یونٹ نے اس سال بھی منافع کمایا تھا۔ واضح طور پر کمپنی اس منافع بخش یونٹ کو بند رکھ کر خسارے میں چلنے والے یونٹوں کو نہیں چلانا چاہتی تھی۔ 

معظم محمود گوندل کہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران مِل کے ڈائریکٹر نوید مغیث شیخ نے یہی موقف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر الکوحل کا یونٹ نہیں چلے گا تو وہ چینی کی مِل بھی نہیں چلائیں گے لیکن ساتھ ہی وہ اس کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر بھی تیار نہیں تھے۔ 

اسی دوران 30 جنوری 2016 کو لاہور میں کالونی شوگر ملز کے ڈائریکٹروں کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے کمپنی کا نام بدل کر امپیریل لمیٹڈ رکھ دیا۔ اس اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2015 میں کمپنی کو مجموعی طور پر 49 کروڑ 97 لاکھ روپے کا گھاٹا پڑا۔ 

اس سے اگلے سال پیش کی جانے والے رپورٹ میں کہا گیا کہ میاں چنوں میں واقع چینی کی مل پانچ ارب روپے میں بیچ دی گئی ہے (اور یہ رقم مختلف بنکوں کے قرضے اتارنے کے لیے استعمال کی گئی ہے)۔ جبکہ اسی سال ڈائریکٹروں نے کمپنی کے حصص داران کو کہا ہے کہ انہیں پھالیہ والی مل کو بیچنے کی منظوری بھی دی جائے۔

لیکن جنوری 2021 میں ہونے والے ایسے ہی اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا وبا اور دیگر معاشی مسائل کی وجہ سے یہ مل تاحال فروخت نہیں ہوسکی۔ اس اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس کی زمین، عمارت اور پلانٹ کی موجودہ قیمت آٹھ ارب 76کروڑ 50 لاکھ روپے ہے اور اسے فروخت کر کے کمپنی قدرتی گیس سے چلنے والا بجلی بنانے کا کارخانہ لگانا چاہتی ہے۔ 

زندگی ہے یا کوئی طوفاں؟

سجاد حسین کا سفیدی مائل چہرہ، ان کی آنکھوں کے گرد حلقے اور ان کے کانپتے ہاتھ اور لرزتے ہونٹ دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ابھی کسی ہسپتال سے اُٹھ کر آئے ہیں۔ بے چینی کے عالم میں کبھی وہ اپنے چہرے کو کھجاتے ہیں تو کبھی اپنی پنڈلیاں دبانے لگتے ہیں۔

ان کی عمر 40 سال ہے اور وہ ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کے گاؤں کرماں والا کے رہنے والے ہیں۔ چند سال پہلے وہ ایک صحت مند زندگی گزار رہے تھے اور اپنے گاؤں کے پہلو میں واقع کالونی شوگر ملز میں 14 ہزار روپے ماہانہ اُجرت پر بطور سٹور کیپر کام کر رہے تھے۔ ان کے دو بچے، جن کی عمریں اُس وقت چار سال اور چھ سال تھیں، اسی فیکٹری کے سکول میں مفت تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

لیکن 2015 میں مِل کی بندش سے سجاد حسین پر جیسے زندگی کے دروازے ہی بند ہو گئے۔ نوکری ختم ہونے سے ان کے لیے اپنے بچوں کو تعلیم دلانا اور گھر کے اخراجات چلانا بھی مشکل ہو گیا۔ جب ایک سال اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد انہیں نوکری نہ ملی تو وہ کسی نہ کسی طرح دبئی چلے گئے۔ وہاں 2018 تک ان کی نوکری ٹھیک چلتی رہی لیکن انہیں کبھی دن میں اور کبھی رات کو کام کرنا پڑتا تھا جس کے باعث ان کی صحت گرنے لگی۔ 

اسی دوران ان کے ویزے کی میعاد ختم ہوگئی لیکن وہ اپنی صحت کی خرابی اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بروقت اس کی توسیع نہ کرا سکے جس کی وجہ سے انہیں چھپ چھپا کر چھوٹا موٹا کام کرنا پڑتا تھا۔ بالآخر انہوں نے اپنے چچا کو (جو ان کے سسر بھی ہیں) اس صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ لہٰذا انہوں نے ویزا قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے سجاد حسین پر عائد چار لاکھ روپے جرمانہ ادا کر دیا اور یوں جولائی 2019 میں وہ پاکستان آ گئے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

پسرور شوگر مل: کچی رسیدوں پر گنا بیچنے والے کسان کئی ماہ سے کروڑوں روپے کی ادائیگی کے منتظر۔

لیکن پاکستان واپسی کے بعد بیماریوں نے سجاد حسین کو اس قدر لاغر کر دیا کہ وہ کوئی کام بھی کرنے کے قابل نہ رہے۔ ان کے مطابق دبئی جانے سے پہلے ان کا وزن لگ بھگ 62 کلو گرام تھا جو اب صرف 37 کلو گرام رہ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "مِل بند نہ ہوتی تو آج میں اس حالت میں نہ ہوتا"۔

سجاد حسین اپنے علاقے کی عمومی معاشی حالت کا ذکر کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر پڑھتے ہیں: "تیری نظروں میں تو دیہات ہیں فردوس مگر/میں نے دیہات میں اُجڑے ہوئے گھر دیکھے ہیں"۔ ان کے بقول کرماں والا اور آس پاس کے درجنوں دیہات میں سینکڑوں گھرانے انہی کی طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مل لگ بھگ 1500 لوگوں کو روزگار مہیا کرتی تھی جس میں سے اکثر قریبی دیہات کے رہنے والے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ اب دوسرے شہروں یا دبئی اور سعودی عرب میں مزدوری کررہے ہیں۔ اس لیے قریباً تین سو گھرانوں پر مشتمل کرماں والا میں زیادہ تر بوڑھے اور بچے ہی نظر آتے ہیں۔ 

یہاں کے 50 سالہ باشندے محمد ارشد کی زندگی بھی مل کی بندش کی وجہ سے شدید معاشی ابتری کا شکار ہو گئی ہے۔

وہ 1990 میں پھالیہ شوگر مل میں ملازم ہوئے اور 2015 تک اس میں کام کرتے رہے۔ اس کے بند ہونے سے پہلے وہ 20 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے تھے اور ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں اس کے سکول میں مفت تعلیم پا رہے تھے۔ 

چونکہ ان کے پاس زرعی زمین یا کوئی اور مالی وسائل نہیں تھے اس لیے مِل کی نوکری ختم ہونے کے بعد انہیں تعمیراتی کاموں میں مزدوری کرنا پڑی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد سجاد حسین کی طرح انہیں بھی مختلف امراض نے آ لیا اور وہ بستر سے لگ گئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو سکول سے اٹھا لیا حالانکہ ان کی عمریں اس وقت ابھی 14 سال اور 12 سال تھیں اور انہیں ایک مقامی زمیندار کے ڈیرے پر مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے کے کام پر لگا دیا تاکہ وہ اپنے گھر کا چولہا جلتا رکھ سکیں۔

اس رپورٹ کی تیاری میں محمد فیصل کی تحقیق بھی شامل ہے۔

تاریخ اشاعت 16 نومبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔