خیبرپختونخوا میں خواتین کی خودکشی کے واقعات: 'ان کی وجوہات جاننے کے بجائے انہیں غیرت سے جوڑ کر چھپا دیا جاتا ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

خیبرپختونخوا میں خواتین کی خودکشی کے واقعات: 'ان کی وجوہات جاننے کے بجائے انہیں غیرت سے جوڑ کر چھپا دیا جاتا ہے'۔

ناہید جہانگیر

postImg

خیبرپختونخوا میں خواتین کی خودکشی کے واقعات: 'ان کی وجوہات جاننے کے بجائے انہیں غیرت سے جوڑ کر چھپا دیا جاتا ہے'۔

ناہید جہانگیر

پشاور میں ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے والی 35 سالہ نوشین نے تین سال پہلے چوہے مارنے والی گولیاں کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے اہلِ خانہ نے انہیں بروقت ہسپتال پہنچا کر ان کی جان بچا لی۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد ان کی شادی نہیں ہونے دے رہے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ ہمیشہ پیسے کما کر انہیں دیتی رہیں۔ وہ اس رویے سے اس قدر تنگ آ گئی تھیں کہ انہوں نے "اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا"۔ 

تاہم اب وہ اپنے والد کے ساتھ ہی رہ رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ خودکشی میں ناکام ہونے کے بعد انہوں نے طبی امداد کے ساتھ ساتھ نفسیاتی رہنمائی بھی حاصل کی جس کی بدولت انہوں نے "دوبارہ معمول کی زندگی شروع کر دی ہے"۔ 

پشاور ہی کے ایک دینی مدرسے میں زیر تعلیم ایک 20 سالہ لڑکی نے بھی دو سال پہلے اپنے والد کے رویے کی وجہ سے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ وہ وزیر باغ نامی علاقے میں رہتی تھی جہاں اس کے ہمسایوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد نے اس کا رشتہ اپنے چلنے پھرنے سے معذور بھتیجے سے طے کر دیا تھا۔ ان کے مطابق "لڑکی نے بارہا اپنے والدین سے کہا کہ اسے یہ رشتہ منظور نہیں لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی جس سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے اپنی زندگی ہی ختم کر لی"۔ 

حالیہ سالوں میں پشاور میں خواتین کی خودکشی یا اقدام خودکشی کے ایسے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کی پولیس کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِس سال جنوری کے آغاز سے لے کر جولائی کے اختتام تک اس شہر میں خودکشی اور اقدام خودکشی کے 22 واقعات سامنے آئے جن میں سے چھ میں خودکشی کی کوشش کرنے والی خواتین کو بروقت طبی امداد دے کر ان کی زندگی بچا لی گئی۔ اسی طرح 2021 میں یہاں کی پولیس نے خودکشی اور اقدام خودکشی کے 47 مقدمے درج کیے جن میں سے کئی ایک خواتین سے متعلق تھے جبکہ 2020 میں 30 خواتین سمیت 70 مقامی افراد نے یا تو اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کیا یا انہوں نے اس کی ناکام کوشش کی۔ 

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا بھی کہنا ہے کہ 2021 میں پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا میں دو سو 75 افراد نے خودکشی کی جن میں 77 خواتین بھی شامل تھیں۔ 

لیکن مذکورہ بالا دونوں اعدادوشمار یا تو ان شکایات اور مقدموں پر مبنی ہیں جو پولیس کے پاس درج ہوتے ہیں یا یہ مختلف اخبارات میں چھپنے والی رپورٹوں کی مدد سے مرتب کیے گئے ہیں۔ اس لیے ان میں ایسے کئی واقعات شامل نہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے پولیس یا صحافیوں کی نظروں میں نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم: 'گلگت-بلتستان میں ہونے والے خودکشی کے تمام واقعات میں سے 75 فیصد صرف ضلع غِذر میں پیش آئے ہیں'۔

اسی وجہ سے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے بنائی گئی حوا لَور نامی غیرسرکاری تنظیم کی سربراہ خورشید بانو سمجھتی ہیں کہ "کسی سرکاری یا غیرسرکاری ادارے کے پاس خواتین کی خودکشی کے درست اعدادوشمار موجود ہی نہیں" کیونکہ، ان کے مطابق، اخبارات یا پولیس کے ریکارڈ میں نہ آنے والی تقریباً تمام خودکشیاں خواتین نے ہی کی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف پشاور یا خیبرپختونخوا میں ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ایسی خواتین کے اہلِ خانہ بدنامی کے ڈر سے ان کی ہلاکت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ایک طبعی موت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ 

خیبر پختونخواہ کے ضلع اپردیر سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر اعزاز جمال اخونزادہ کے خیال میں خواتین کی خودکشی کو پوشیدہ رکھنے کے اس رجحان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی ہلاکت کو "اکثر خاندانی غیرت سے جوڑ دیا جاتا ہے" جس کے نتیجے میں "اس کی اصل وجوہات کو سمجھنے کے بجائے اسے چھپانے کو ترجیح دی جاتی ہے"۔  

خودکشی کی وجوہات: معاشرتی یا نفسیاتی؟ 

ماہرِ نفسیات ساجد اقبال خیبرپختونخوا کے محکمہ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ میں کام کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی فریضہ نفسیاتی پریشانیوں کا شکار ملازمت پیشہ افراد کو مشورے دینا اور پندو نصائح کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آنے والے لوگوں میں "زیادہ تعداد خواتین کی ہوتی ہے جو یا تو خودکشی کی خواہش رکھتی ہیں یا اس کی ناکام کوشش کر چکی ہوتی ہیں"۔ ان کے مطابق "ان میں سے بیشتر کی عمر عموماً 30 سال سے زیادہ ہوتی ہے اور ان میں خودکشی کے میلان کی بڑی وجوہات میں گھریلو ناچاقی، شادی یا رشتے میں رکاوٹ اور ملازمت اور خانگی زندگی میں توازن برقرار نہ رکھ پانا شامل ہوتے ہیں"۔

خورشید بانو بھی یہی سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "معاشی مسائل، گھریلو تشدد، فیصلہ سازی کا اختیار نہ ہونا اور ملازمت کے دوران ہراس کا شکار ہونا خواتین میں خودکشی کے واقعات کی اہم وجوہات ہیں"۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "ان میں سے بیشتر واقعات کی تفتیش کے دوران پتہ چلتا ہے کہ متاثرہ خاتون کو تشدد کا سامنا تھا اور اس کے نتیجے میں وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی"۔ 

لیکن ڈاکٹر اعزاز جمال اخونزادہ کا خیال ہے کہ خودکشی یا اقدام خودکشی کی وجوہات معاشی یا سماجی نہیں بلکہ نفسیاتی ہوتی ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ "عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ لوگ غربت کی وجہ سے خودکشی کرتے ہیں جبکہ خودکشی کرنے والی خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جسمانی یا ذہنی طور پر مردوں کے مقابلے میں کمزور ہونے کی وجہ سے سماجی اور معاشی مسائل کا مقابلہ نہ کر سکیں"۔ لیکن ان مفروضات کو مسترد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "خودکشی کے بیشتر اسباب کا تعلق مخصوص نفسیاتی کیفیات سے ہے جو عام طور پر بے جا معاشرتی پابندیوں، بے اختیار ہونے کے احساس اور ذہنی امراض کا بروقت علاج میسر نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہیں"۔  

وہ اپردیر میں نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا افراد کی بحالی کا مرکز چلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 2021 میں ان کے ضلعے میں خودکشی یا اقدام خودکشی کرنے والے تقریباً 60 لوگوں "میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی"۔ ان واقعات کی بنا پر ان کا کہنا ہے کہ "خواتین کے خودکشی کرنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنے مسائل کے اظہار کے مواقع میسر نہیں آتے جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ ان پر ذہنی دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے" کہ وہ مر کر اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

تاریخ اشاعت 13 ستمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ناہید جہانگیر کا تعلق پشاور سے ہے وہ گزشتہ چھ سال سے صحافت سے منسلک ہیں۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔