کیا چینی حکومتی پالیسی کے نتیجے میں سستی ہوئی؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

کیا چینی حکومتی پالیسی کے نتیجے میں سستی ہوئی؟

آصف ریاض

postImg

کیا چینی حکومتی پالیسی کے نتیجے میں سستی ہوئی؟

آصف ریاض

حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے چینی کی قیمت میں کمی کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ایک ماہ پہلے چینی 102 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہورہی تھی لیکن اب اس کی اوسط قیمت 81 روپے فی کلو گرام ہو گئی ہے۔
تاہم چینی کی قیمت میں کمی کو حکومتی کامیابی سمجھنے سے پہلے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس میں اضافہ کیوں کر ہوا تھا اور اب اس میں کمی کیسے آرہی ہے۔

دسمبر 2018 میں پرچون کی دکانوں پر ایک کلو گرام چینی 54 روپے میں مل رہی تھی لیکن جنوری 2019 میں چینی نا صرف دکانوں سے غائب ہونے لگی بلکہ اس کے نرخ بھی بڑھنے لگے یہاں تک کہ جون 2019 میں اس کی قیمت 70 روپے فی کلو گرام سے بھی اوپر چلی گئی۔

فروری 2020 میں چینی کی بڑھتی ہوئی گرانی کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی اور اس کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ اس گرانی کے پسِ پردہ عوامل کی نشان دہی کرے۔ لیکن چینی کی قیمت اس کے  باوجود بڑھتی رہی اور اکتوبر اور نومبر 2020 میں 110 روپے سے 115 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی۔

اس قیمت کو نیچے لانے کے لئے رواں سال کے وسط میں حکومت نے تین لاکھ ٹن (30 کروڑ کلو گرام) چینی دوسرے ملکوں سے منگوانے کا فیصلہ کیا۔ نومبر کے آخر میں یہ غیر ملکی چینی پاکستانی منڈیوں میں پہنچنے لگی جس کی وجہ سے چینی کی طلب اور دستیابی میں موجود عدم توازن قدرے بہتر ہو گیا اور چینی کی قیمت بھی کچھ کم ہو گئی۔

تاہم اس توازن میں مزید بہتری اس وقت آئی جب 15 نومبر 2020 سے مقامی چینی کی پیداوار شروع ہوئی۔ جیسے جیسے نئی چینی دکانوں میں آنے لگی اس کی قیمت بھی گرنے لگی۔
لیکن کسانوں کا خیال ہے کہ یہ کمی عارضی ہے۔

مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے طارق نعیم شاہ، جو گنے کی خرید و فروخت کا جائزہ لینے کے لئے بنائے گئے ضلعی بورڈ کے رکن بھی ہیں، کہتے ہیں: چینی کی قیمت بلند ہونے کی وجہ سے مِل مالکان اسے دھڑا دھڑ بیچ رہے ہیں اور خوب منافع کما رہے ہیں لیکن مارچ کے بعد جب چینی بنانے کا سیزن ختم ہو جائے گا تو یہ کہہ کر وہ اس کی فراہمی کم کر دیں گے کہ ان کے گوداموں میں چینی کا زیادہ سٹاک موجود نہیں رہا۔ 'یوں چینی کی قیمت پھر بڑھنا شروع ہو جائے گی'۔ 

ان کے خیال میں جب چینی بنانے کا حالیہ سیزن خاتمے کے قریب ہو گا تو ملوں والے یہ بھی کہنے لگیں گے کہ انہیں اس بار اپنی ضرورت سے کم گنا ملا ہے اس لئے ان کی چینی کی پیداوار بھی پچھلے سالوں کی نسبت کم رہی ہے۔ 'اس سے ایک بار پھر افواہوں کا بازار گرم ہو گا اور چینی کی قیمت دوبارہ بڑھنے لگے گی'۔

نعیم طارق شاہ کو خدشہ ہے کہ اس بار یہ قیمت کہیں 150 روپے فی کلو گرام تک نہ پہنچ جائے۔

لاگت بمقابلہ قیمت

کسانوں کی طرف سے پنجاب کی صوبائی حکومت کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک ایکڑ گنا کاشت کرنے پر زمین کے کرائے سمیت ایک لاکھ 71 ہزار روپے خرچہ آتا ہے۔ 'اگر گنے کی فی ایکڑ پیدوار ایک ہزار من (چالیس ہزار کلو گرام) ہو تو گنے کی موجودہ قیمت کے حساب سے روڈ ٹیکس سمیت کسان کو شوگر مل سے ملنے والی رقم ایک لاکھ 98 ہزار روپے بنتی ہے۔

نعیم طارق شاہ کے بقول 'اس کا مطلب یہ ہے کہ کسان سال بھر کی محنت کے بعد ایک ایکڑ سے صرف 27 ہزار روپے منافع کماتا ہے'۔

اسی سے متعلق 'کسانوں کو شکرگنج شوگر مل پر اعتبار نہیں رہا' شوگر مل 10 ہزار کسانوں کے ایک ارب روپے کھا گئی

دوسری طرف اگر فرض کر لیا جائے کہ ہر ہزار کلوگرام گنے سے سو کلو گرام چینی پیدا ہوتی ہے (جسے ریکوری ریٹ کہتے ہیں) تو اس کا مطلب ہے کہ ایک ایکڑ گنے سے چار ہزار کلو گرام چینی پیدا ہوتی ہے جس کی قیمت 80 روپے فی کلو گرام کے حساب سے تین لاکھ 20 ہزار روپے بنتی ہے۔

لیکن گنے سے چینی کے علاوہ بگاس (بھوسہ)، مڈ (گنے کے رس کی میل)  اور مولیسس (شیرہ) بھی پیدا ہوتے ہیں۔ نعیم طارق شاہ کے مطابق ایک ایکڑ گنے سے نکلنے والے بھوسے کی قیمت 70 ہزار روپے، مڈ کی قیمت 15 ہزار روپے اور شیرے کی قیمت 45 ہزار روپے بنتی ہے۔ 'اگر اس ساری رقم کو چینی کی قیمت میں ملایا جائے تو ایک ایکڑ گنے سے مِل مالک کو ہونے والی کل آمدنی ساڑھے چار لاکھ روپے بنتی ہے'-

اس میں سے گنے کو مِل کے اندر مختلف عملوں سے گذارنے کی قیمت (70 ہزار روپے فی 40 ہزار کلو گرام) منہا بھی کر دی جائے تو بھی مِل مالک کی کمائی تین لاکھ 80 ہزار روپے فی ایکڑ بنتی ہے*۔ اس حساب سے جب چینی کی قیمت پچپن روپے فی کلو تھی تب بھی مِلیں دو لاکھ اسی ہزار روپے فی ایکڑ منافع کما رہی تھیں۔

وزیرِ اعظم کی طرف سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی بھی ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے مطابق اگر ملیں کسانوں سے 190 روپے فی چالیس کلو گرام کے حساب سے گنا خریدیں تو چینی کی پرچون قیمت 57.59 روپے فی کلو گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیئے۔

بحران پہ بحران

پاکستان میں چینی کے بحرانوں کا سلسلہ پچھلی تین دہائیوں سے چلا آرہا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً ہر سال چینی بنانے کا سیزن (وسط نومبر تا اختتام مارچ) شروع ہونے سے پہلے چینی عام صارفین کی پہنچ سے دور ہوجاتی ہے۔ لیکن جنوری 2019 سے شروع ہونے والا حالیہ بحران اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کا آغاز اس وقت  ہوا جب ملیں ابھی چینی بنا رہی تھیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ یہ بحران بہت حد تک شوگر ملوں کے مالکان کا پیدا کردہ ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پچھلے دو سالوں، یعنی 2018 اور 2019، میں گنے کی کم از کم سرکاری قیمت 190 روپے فی چالیس کلو گرام پر برقرار رہی لیکن اس عرصے میں چینی کی قیمت 54.84 روپے فی کلو گرام سے بڑھ کر 72.61 روپے فی کلو گرام ہو گئی۔

رپورٹ میں دیے گئے دیگر اعداد و شمار کے مطابق  2019 میں گنے کی مجموعی پیداوار 2018 کی نسبت ایک فیصد زیادہ رہی (حالانکہ اس دوران گنے کے زیرِ کاشت رقبے میں 2.68 فیصد کمی ہوئی)۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس اضافے کے باوجود 2019 کے گنے کی فصل سے پیدا ہونے والی چینی 2018 کی فصل سے پیدا ہونے والی چینی کی نسبت لگ بھگ 12 فیصد کم تھی (یہ تقابلی جائزہ 18 مارچ 2020 کو جمع کیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا جب چند ملیں ابھی مزید چینی بنا رہی تھیں)۔

کسانوں کا موقف ہے کہ چینی کی پیداوار میں یہ کمی مصنوعی تھی۔

پاکستان کسان اتحاد چونیاں کے سیکرٹری جنرل عبدالحمید کہتے ہیں کہ مِل مالکان گنے کی خریداری کے دوران ایسی کٹوتیاں لگاتے ہیں جو انہیں خریدے گئے گنے کی مقدار کو گھٹا کر پیش کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ 'یوں انہیں چینی کی پیداوار کم دکھانے کا جواز مِل جاتا ہے'۔

پاکستان کسان بورڈ کے صدر چوہدری شوکت چدھڑ کے مطابق یہ کٹوتیاں 'گنے کی صفائی نہ ہونے اور اس کی اقسام میں فرق' کو بنیاد بنا کر کی جاتی ہیں۔ 'یوں مِل مالکان فی ٹرالی 28000 کلو گرام گنا وصول کرتے ہیں مگر اپنے ریکارڈ میں اسے 24000 کلو گرام دکھاتے ہیں'۔

پنجاب میں گنے کی خرید و فروخت پر نظر رکھنے والے سب سے بڑے سرکاری افسر صوبائی کین کمشنر میاں محمد زمان وٹو بھی کہتے ہیں کہ مِل مالکان جو گنا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کسانوں سے خریدتے ہیں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے اور اس سے پیدا ہونے والی چینی بھی حکومت کے علم میں لائے بغیر فروخت کر دیتے ہیں۔

چینی کے بحران کا جائزہ لینے کے لئے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ مل مالکان بڑی مقدار میں گنے کی خریداری کو ریکارڈ میں لائے بغیر اس سے چینی بنا لیتے ہیں۔ لیکن، رپورٹ کے مطابق، اس چینی کی تیاری پر آنے والے اخراجات کو ریکارڈ پر موجود چینی کی لاگت میں شامل کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو مزدور اور مشینیں گنے سے چینی کے علاوہ دیگر چیزیں بناتے ہیں ان پر آنے والے اخراجات  بھی چینی کے پیداواری خرچے میں ڈال کر چینی کی لاگت اصل سے زیادہ دکھائی جاتی ہے۔

کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ لاگت غلط بتا کر گزشتہ سال صرف چھ  شوگر مل مالکان نے 53 ارب روپے کمائے۔ اس رقم پرسرکاری ٹیکس ہی کم از کم 18 ارب روپے بنتا ہے جو سارے کا سارا بچا لیا گیا۔

کسان رہنما طارق نعیم شاہ کے مطابق چینی کی پیدوار کم دکھانے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ گنے کا ریکوری ریٹ کم دکھایا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ دن پہلے کین کمشنر پنجاب نے فیصل آباد میں گنے کی کچھ اقسام کا لیبارٹری ٹیسٹ کرایا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے چار اقسام کا ریکوری ریٹ گیارہ فیصد یا اس سے زائد ہے جبکہ شوگر ملوں کے حساب کتاب میں فیصل آباد جیسے وسطی پنجاب کے اضلاع میں یہ ریٹ ساڑھے آٹھ سے لیکر دس فیصد تک ہی رہتا ہے۔

ریکوری ریٹ کو صرف ایک فیصد کم دکھانے سے چینی کی فی ایکڑ پیداوار سو کلو گرام کم دکھائی جا سکتی ہے۔ اگر اس کا اطلاق 2019 کی فصل پر کیا جائے (جب سترہ لاکھ نو ہزار چار سو تین ایکڑ پر گنا لگایا گیا تھا) تو ریکوری ریٹ میں ایک فیصد کمی اُس سال پیدا ہونے والی چینی کی مقدار میں سترہ کروڑ نو لاکھ چالیس ہزار تین سو کلو گرام کمی دکھانے کا جواز بن سکتی ہے۔

لیکن مِلیں اس عمل کو بہت پوشیدہ رکھتی ہیں اور اپنے ریکارڈ تک کسی کو بھی رسائی نہیں دیتیں لہٰذا، کسان رہنماؤں کے بقول، یہ جانچنے کا کوئی طریقہ نہیں کہ کون سی مِل حقیقت میں کتنی چینی بنا رہی ہے اور کتنی بیچ رہی ہے۔
کین کمشنر میاں محمد زمان وٹو بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے بقول جب بھی حکومتی اہل کار مل مالکان سے مِلوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہیں تو وہ فوری طور پر کسی عدالت سے اس مطالبے کے خلاف سٹے آرڈرز لے آتے ہیں۔

گورکھ دھندا

پاکستان میں چینی بنانے والی ملوں کی تعداد 79 ہے جن میں سے 45 پنجاب میں واقع ہیں جبکہ باقی مِلوں میں سے اکثر سندھ میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن چینی کے بحران کا جائزہ لینے کے لئے قائم کی گئی سرکاری کمیٹی کی رپورٹ  کے مطابق پاکستان میں بننے والی تمام چینی کا 51 فیصد صرف چھ کاروباری گروپ پیدا کرتے ہیں جن میں سے تین کا تعلق حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان سے ہے، ایک کا تعلق سابق حکمران شریف خاندان سے ہے جبکہ ایک کا تعلق بالواسطہ طور پر سابق صدر آصف علی زرداری سے جوڑا جاتا ہے۔ 

اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود تمام شوگر ملوں نے 18 مارچ 2020 تک چار ارب 70 کروڑ کلو گرام چینی پیدا کی۔ اُس وقت پچھلے سال بنائی گئی 52 کروڑ کلو گرام چینی بھی ملک میں موجود تھی لیکن یہ ساری چینی سالانہ ملکی ضروریات سے 48 کروڑ کلو گرام کم تھی۔
اس کے باوجود اس وقت حکومت نے شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دے رکھی تھی

اس حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ شوگر ایڈوائزی بورڈ نے 11 ستمبر 2018 کو ایک اجلاس میں ایک ارب کلو گرام چینی برآمد کرنے کی تجویز دی جسے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظور کر لیا۔ بعد میں ہونے والے دو اجلاسوں میں برآمد کی جانے والی چینی کی مقدار میں دس کروڑ کلو گرام کا اضافہ کر دیا گیا حالانکہ اسی دوران خوراک کے تحفظ کی وفاقی وزارت یہ خدشہ ظاہر کر چکی تھی کہ آنے والے سیزن میں گنے کی پیدوار پچھلے سالوں کی نسبت کم رہ سکتی ہے۔

اپریل، مئی اور جون 2019 میں شوگر ایڈوائزی بورڈ کے مختلف اجلاسوں میں پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی لیکن بورڈ نے چینی کی برآمد روکنے کی تجویز نہ دی۔ جون میں ہونے والے اجلاس میں بورڈ کو یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ میں واقع سات ملوں کے پاس موجود ذخیرے کو چھوڑ کر باقی ملک میں چینی کا خسارہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود چینی کی برآمد روکنے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا گیا۔

جنوری 2020 میں بالآخر شوگر ایڈوائزی بورڈ نے وفاقی حکومت کو چینی کی برآمد بند کرنے کا کہا جس کی منظوری 17 فروری 2020 کو ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی۔ یوں دسمبر 2018 سے لے کر چینی کی برآمد پر پابندی لگنے تک مِل مالکان نے 78 کروڑ 33 لاکھ سات ہزار کلوگرام چینی ملک سے باہر بھیجی حالانکہ اس دوران مقامی صارفین کے لئے اس کی دستیابی مسلسل کم ہو رہی تھی جس کے نتیجے میں اس کی قیمت روز بروز بڑھ رہی تھی۔  

ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ٰعرصے میں وفاقی حکومت نے شوگر ملوں کو چینی کی برآمد میں سہولت دینے کے لئے دو ارب ستر کروڑ روپے کی مالی امداد بھی دی۔

ان حقائق کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ چینی کی قیمت میں کمی محض جزوی طور پر حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے لیکن اس کی قیمت بڑھنے کی تمام تر ذمہ داری حکومتی فیصلوں اور شوگر مِلوں کی کارگزاریوں کی ناقص حکومتی نگرانی پر ڈالی جا سکتی ہے۔  

* یہ اعداد و شمار بین الاقوامی معیارات اور پاکستان اداروں کی طرف سے جمع کی گئی معلومات کو پیشِ نظر رکھ کر ترتیب دیے گئے ہیں۔ ان میں کمی بیشی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 13 جنوری 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 17 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔