موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت اور روس-یوکرین جنگ کی حدت: 'پاکستان کو گندم کی درآمد پر پہلے سے زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت اور روس-یوکرین جنگ کی حدت: 'پاکستان کو گندم کی درآمد پر پہلے سے زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا'۔

آصف ریاض

postImg

موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت اور روس-یوکرین جنگ کی حدت: 'پاکستان کو گندم کی درآمد پر پہلے سے زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا'۔

آصف ریاض

مہر امانت علی کو شکایت ہے کہ ان کی گندم کی پیداوار پچھلے سال کی نسبت 33 فیصد کم رہی ہے۔ 

انہوں نے یہ فصل دو حصوں میں کاشت کی تھی۔ پہلا حصہ انہوں نے 28 اکتوبر 2021 کو ساڑھے تین ایکڑ رقبے پر کاشت کیا جبکہ دوسرا حصہ انہوں نے ایک ماہ پانچ دن بعد دو دسمبر کو ڈھائی ایکڑ زمین پر بویا۔ ان کا کہنا ہے کہ "اکتوبر کے آخر میں کاشت کی گئی فصل کی فی ایکڑ پیداوار تو 42 من (16 سو 80 کلوگرام) رہی" لیکن دسمبر کے آخر میں لگائی گئی فصل سے انہیں صرف 30 من (12 سو کلوگرام) فی ایکڑ گندم ہی مل سکی۔ 

وہ وسطی پنجاب کے شہر فیصل آباد سے 36 کلومیٹر دور 259 ر-ب واہلہ نامی گاؤں میں رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی فصل کی کم پیداوار کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے علاقے میں مارچ کے نصف آخر میں غیر متوقع طور پر شدید گرمی پڑنے لگی تھی۔ 

پنجاب کے جنوب مغربی ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف میں جڑھ لغاری نامی بستی کے رہنے والے کاشت کار فرمان اللہ خان کا بھی یہی خیال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "جب مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ان کی گندم کی فصل دانا بنا رہی تھی تو اس وقت بہت گرمی پڑ رہی تھی"۔ 

انہوں نے ساڑھے پانچ لاکھ روپے خرچ کر کے نو ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی تھی جس سے انہیں محض 12 سو کلو گرام فی ایکڑ پیداوار حاصل ہوئی (حالانکہ پچھلے سال انہیں 15 سو کلو گرام فی ایکڑ پیداوار حاصل ہوئی تھی)۔ اب وہ پریشان ہیں کیونکہ ان کے بقول اتنی کم پیداوار سے ان کا فصل پر آنے والے خرچہ بھی مشکل سے پورا ہو گا۔  

فیس بک پر کیے گئے ایک سروے میں حصہ لینے والے پانچ سو سے زائد کسانوں کا بھی مہر امانت علی اور فرمان اللہ خان کی طرح کہنا ہے کہ دسمبر 2021 میں کاشت کردہ ان کی گندم کی فی ایکڑ پیداوار 27 من (ایک ہزار 80 کلوگرام) سے لے کر 30 من (12 سو کلوگرام) رہی ہے جبکہ پچھلے چند سالوں میں اس کی پیداوار ہمیشہ 12 سو کلوگرام یا اس سے زیادہ ہی رہتی تھی۔ ان میں سے تقریباً سبھی کے مطابق فصل کی پیداوار میں آنے والی کمی کی بنیادی وجہ موسم میں آنے والی غیرمتوقع تبدیلیاں ہیں۔ 

محکمہ موسمیات کی ماہانہ جائزہ رپورٹ ان کے موقف کی تصدیق کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے مطابق پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں صرف 1961 میں مارچ اور اپریل کے مہینے رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم تھے۔

اس رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بار مارچ میں اوسط درجہ حرارت 22.92 سینٹی گریڈ تھا جو ماضی میں اس مہینے کے اوسط درجہ حرارت سے 4.26 سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ اسی طرح اپریل 2022 کا اوسط درجہ حرارت 28.36 سینٹی گریڈ تھا جو اس مہینے کے گزشتہ اوسط درجہ حرارت سے 4.05 سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ اس سال ان دو مہینوں میں ریکارڈ کیا گیا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی گزشتہ 62 سالوں میں پہلے صرف ایک بار دیکھنے میں آیا ہے۔

زرعی امور کے ماہر صائم رشید چوہدری کسانوں کے اس خیال سے متفق ہیں کہ موسم کی شدت نے گندم کی فصل کو بہت متاثر کیا ہے۔ وہ 2003 سے 2018 تک متحدہ عرب امارات کی حکومت کے لیے زرعی کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرچکے ہیں اور کہتے ہیں کہ "عام طور پر گندم کی کاشت کے ایک سو دس دن بعد اس میں پولی نیشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس کے لیے بہار کا موسم موزوں ترین ہوتا ہے"۔ لیکن، ان کے مطابق، "اس بار موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ موسم آیا ہی نہیں اور سردی کے فوری بعد گرمی شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں گندم کا دانہ اپنے معمول کے وزن اور سائز تک پہنچنے سے پہلے ہی پک گیا"۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس تبدیلی نے پنجاب میں گندم کی پیداوار 15 فیصد سے 20 فیصد کم کردی ہے۔

تاہم پنجاب حکومت کے زیر انتظام فیصل آباد میں کام کرنے والے تحقیقاتی ادارہ برائے گندم کے چیف سائنس دان ڈاکٹر جاوید احمد کا خیال ہے کہ گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ صرف موسمیاتی تبدیلی ہی نہیں بلکہ کچھ اور عوامل بھی ہیں جن میں کھادوں کی قلت اور مہنگے داموں فروخت اور فصل کے زیر کاشت رقبے میں کمی بھی شامل ہیں۔

فصلوں کی پیداوار اور زیر کاشت رقبے کا تخمینہ لگانے والے صوبائی ادارے، کراپ رپورٹنگ سروسز، کا بھی کہنا ہے کہ اس کمی کی ایک بڑی وجہ گندم کے زیرِکاشت رقبے میں آنے والی 2.8 فیصد کمی ہے۔ اس کے مطابق 21-2020 میں پنجاب میں ایک کروڑ 66 لاکھ 70 ہزار ایکڑ رقبے پر گندم لگائی گئی تھی لیکن 22-2021 میں یہ رقبہ ایک کروڑ 62 لاکھ 10 ہزار ایکڑ رہ گیا۔

حکومتِ پنجاب اس بات کو بھی درست تسلیم نہیں کرتی کہ گندم کی پیداوار میں ہونے والی کمی 20 فیصد کے قریب ہے۔ کراپ رپورٹنگ سروسز کے مطابق رواں سال صوبے میں گندم کی پیداوار پچھلے سال کی نسبت صرف 4.2 فیصد کم رہے گی۔ اس کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب نے پچھلے سال دو کروڑ 9 لاکھ ٹن گندم پیدا کی جبکہ اس سال یہ پیداوار دو کروڑ 32 ہزار ٹن ہو گی۔

مئی 2022 کے پہلے ہفتے میں وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی ایک اجلاس کے دوران متعلقہ اداروں نے کچھ ایسی ہی تصویر پیش کی۔ انہیں بتایا گیا کہ اس سال پاکستان نے دو کروڑ 88 لاکھ 89 ہزار میٹرک ٹن گندم پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا تھا لیکن اس کی حقیقی پیداوار دو کروڑ 61 لاکھ 73 ہزار میٹرک ٹن رہے گی جو سرکاری ہدف سے آٹھ فیصد کم ہے۔

تاہم صائم رشید کی نظر میں یہ حکومتی اعداد و شمار حقیقت سے بہت دور ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس بار پاکستان میں گندم کی پیداوار دو کروڑ 30 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ نہیں رہے گی جو سرکاری ہدف سے 58 لاکھ 89 ہزار میٹرک ٹن (یا 20.38 فیصد) کم ہے۔

اسی طرح اگرچہ امریکی محکمہ زراعت کی غیر ملکی زرعی سروس کی طرف سے 22 مارچ 2022 کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال پاکستان میں دو کروڑ 64 لاکھ میٹرک ٹن گندم پیدا ہونے کی امید ہے لیکن صائم رشید اس رپورٹ کو بھی صحیح نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کی اسے ایک ایسے وقت میں تیار کیا گیا تھا جب موسم کی شدت کی وجہ سے فصل کو پہنچنے والے نقصان کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا تھا۔

لیکن سرکاری محکموں کی طرف سے گندم کی پیداوار میں متوقع کمی کو تھوڑا دکھانے کے باوجود اعلیٰ حکومتی سطح پر یہ احساس موجود ہے کہ اس سال پاکستان میں پیدا ہونے والی فصل ملکی ضروریات کے لیے بہت ناکافی ہے۔ اسی لیے وفاقی حکومت نے ابھی سے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔   

برآمدات میں رکاوٹیں

بھوک کے خلاف سرگرم سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم، ورلڈ فوڈ پروگرام، کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیزلی کے مطابق دنیا بھر کی گندم کی مجموعی برآمدات میں روس اور یوکرین کا مجموعی حصہ 30 تقریباً فیصد ہے۔ 19 مئی 2022 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "یوکرین چالیس کروڑ لوگوں کو خوراک فراہم کرتا ہے لہٰذا جب یہ ملک مارکیٹ سے باہر ہو جاتا ہے تو اس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو جاتا ہے جو اب نظر آرہا ہے"۔

انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے بحرِ اسود میں واقع بندرگاہیں بند ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی غذائی تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ پاکستان بھی پچھلے کئی سالوں سے بحرِ اسود کے راستے اپنی ضرورت کی گندم کا ایک بڑا حصہ یوکرین یا روس سے درآمد کرتا رہا ہے لیکن اِن آبی راستوں کی بندش سے اس سال یہ درآمدات ممکن نہیں ہو سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

گندم کی خریداری میں سرگرم ذخیرہ اندوز: ملک کے اندر آٹے کی قیمتوں میں آضافے کا خدشہ۔

امریکی محکمہ زراعت کی رپورٹ کے مطابق ایسی صورتِ حال میں پاکستان کے پاس یہی راستہ بچتا ہے کہ وہ امریکہ یا کینیڈا سے گندم درآمد کرے۔ لیکن پچھلے 10 سال میں پاکستان نے امریکہ سے اس لیے گندم نہیں خریدی کہ اس کی قیمت یوکرین اور روس کی گندم کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور اسے پاکستان میں لانے کے اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ صائم رشید جیسے ماہرین کہتے ہیں کہ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا اس سال پاکستان کو گندم کی درآمد پر پہلے سے زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا۔ 

بحرِ اسود کی بندرگاہوں کی بندش کے ساتھ ساتھ اس اضافی خرچے کی دوسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ روس-یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں گندم کی قیمت پہلے ہی چار سو 95 ڈالر فی میٹرک ٹن تک پہنچ چکی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تین ہزار 8 سو 80 روپے فی 40 کلوگرام بنتی ہے۔

غالب امکان یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ قیمت اور بھی بڑھ جائے گی۔ اس کا ایک ثبوت پہلے ہی سامنے آ چکا ہے کیونکہ چند روز پہلے جب ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے لیے ایک بولی منظور کی تو اس میں ایک میٹرک ٹن گندم کی قیمت پانچ سو 25 ڈالر دی گئی تھی۔ اس حساب سے 40 کلوگرام درآمدی گندم کی قیمت چار ہزار ایک سو 24 روپے ہو گی۔

ان بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کا پاکستان میں اثر ابھی سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ قومی ادارہ شماریات کی 19 مئی 2022 کو جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 28 اپریل سے لے کر 19 مئی تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں گندم کے  آٹے کے 20 کلو گرام والے تھیلے کی قیمت آٹھ سو روپے سے بڑھ کر 15 سو 30 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ پنجاب کے باقی شہروں میں بھی اس کی قیمت میں بھاری اضافہ دیکھنے میں آیا اگرچہ اس کی شرح اسلام آباد اور راولپنڈی کی نسبت کم رہی۔ 

نتیجتاً پنجاب حکومت نے اس بار 25 مئی کو ہی آٹا بنانے والی ملوں کو سرکاری گندم جاری کرنا شروع کر دی تاکہ آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھا جا سکے حالانکہ ایسا عموماً ستمبر کے مہینے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن چوہدری محمد جمیل کہتے ہیں کہ پنجاب میں آٹا بنانے والی ملوں کو روزانہ 16 ہزار سات سو میٹرک ٹن سرکاری گندم 17 سو 65 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے فراہم کی جا رہی ہے۔ جواباً ملوں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ 20 کلوگرام کا آٹے کا تھیلا نو سو 50 روپے میں اور دس کلوگرام کا آٹے کا تھیلا 4 سو 75 روپے میں فروخت کریں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات سے وقتی طور پر تو  آٹے کی قیمتوں میں استحکام آ گیا ہے لیکن 2023 شروع ہوتے ہی یہ قیمتیں ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ اس وقت تک حکومت کی ذخیرہ کردہ گندم بہت کم رہ جائے گی اور مِلوں کو مقامی مارکیٹ سے گندم خرید کر آٹا بنانا پڑے گا جہاں پہلے ہی اس کی قیمت 26 سو روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ چکی ہے۔ 

صائم رشید کے حساب کتاب کے مطابق پنجاب کے محکمہ خوراک کے پاس 49 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں جو 15 دسمبر تک مِلوں کو سرکاری قیمت پر گندم فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تاہم اُس وقت نئی فصل کے آنے میں ابھی ساڑھے تین ماہ باقی ہوں گے اس لیے وہ کہتے ہیں کہ 2023 میں آٹے کی قیمتوں کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اُن مہینوں کے لیے حکومت کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔

اگر اُس سے پہلے مناسب مقدار میں گندم درآمد کر لی گئی تو مِلوں کو اس کی فراہمی میں شاید کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے لیکن اس کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے پیش نظر یہ بات یقینی ہے کہ حکومت کو باہر سے مہنگی گندم منگوا کر سستے داموں مِلوں کو دینا پڑے گی جس کے لیے اسے سرکاری خزانے سے کئی ارب روپے خرچ کرنا پڑیں گے۔

تاریخ اشاعت 13 جون 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔