چینی کے مل مالکان کے حق میں چوری چھپے قانون سازی
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

چینی کے مل مالکان کے حق میں چوری چھپے قانون سازی

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

چینی کے مل مالکان کے حق میں چوری چھپے قانون سازی

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

پنجاب اسمبلی نے حال ہی میں ایک ایسا قانون منظور کیا جس کی وجہ سے نا صرف حکومتی اراکینِ اسمبلی کو خفت اٹھانا پڑی بلکہ حکومت کو اسے واپس بھی لینا پڑا۔ 

شوگر فیکٹریز کنٹرول ترمیمی ایکٹ2021 کے نام سے چار مئی کو منظور کیے گئے اس قانون کے تحت 1950 میں بنائے گئے شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ میں دیے گئے 'نوٹس آف کرشنگ' کو ختم کر دیا گیا جس کی وجہ سے مِل مالکان صوبائی کین کمشنر کو تحریری طور پر مطلع کرنے کے پابند تھے کہ وہ کرشنگ یا گنے سے رس نکالنے کا عمل کب شروع کریں گے (تاہم 1950 کے ایکٹ کی طرح اس میں کرشنگ کے آغاز کی حتمی تاریخ  30 نومبر ہی رکھی گئی)۔ 

نئے قانون میں گنے کی خریداری کی رسید (سی پی آر) کی حیثیت بھی تبدیل کر دی گئی۔ ایک سابقہ قانون کے تحت مِل مالکان پر لازم تھا کہ وہ اپنی جاری کردہ سی پی آر میں درج کردہ پیسے بنکوں میں جمع کرائیں گے جہاں سے گنے کے کاشتکار سی پی آر دکھا کر 15 دن میں یہ پیسے لے سکیں گے۔ گویا سی پی آر کو چیک کا درجہ حاصل تھا۔ نئے قانون میں سی پی آر کا ذکر تو موجود تھا لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ اس پر لکھی گئی رقم کی ادائیگی کیسے ہو گی۔ 

نئے قانون میں اس کی خلاف ورزی پر، سابقہ قانون ہی کی طرح، تین سال قید کی سزا مقرر کی گئی تھی لیکن اس خلاف ورزی کو ایک قابل ضمانت جرم قرار دے دیا گیا اور پولیس سے یہ اختیار لے لیا گیا کہ  وہ اس کے مرتکب افراد کو گرفتار کر سکے۔ 

اس قانون کے منظور ہوتے ہی پنجاب کے وزیرِ زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے اس سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ منظور شدہ قانون وہ نہیں ہے جس کا مسودہ ان کے محکمے نے اسمبلی میں منظوری کے لئے بھیجا تھا۔ ان کے بقول کچھ مفادات پرست عناصر نے خفیہ اور غیر قانونی طور پر ان کے بھیجے ہوئے مسودےکو تبدیل کیا اور اسے اسمبلی سے منظور کرا لیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت اس معاملے کی مکمل تحقیق کرے گی اور اس میں ملوث لوگوں کے نام منظرِ عام پر لائے گی۔ 

وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی اس قانون کی منظوری کے طریقہِ کار پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔ اسلام آباد میں کسانوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ اس کے مسودے میں اچانک رات کے اندھیرے میں تبدیلیاں کی گئیں۔

پنجاب اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے ارکانِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ جس دن اسمبلی نے یہ قانون منظور کیا وہ پرائیویٹ ممبرز ڈے تھا۔ یعنی اس دن اسمبلی کے ارکان صرف ایسے قانونی مسودے پیش کر سکتے تھے جو انہوں نے ذاتی حیثیت میں تیار کیے تھے نہ کہ حکومت کے تیار کردہ مسودے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی قائد حسن مرتضیٰ کہتے ہیں کہ جس وقت یہ قانون منظور کیا گیا اس وقت حزبِ اختلاف کے ارکان ایوان میں موجود ہی نہیں تھے کیونکہ وہ حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کے طور پر واک آؤٹ کر چکے تھے۔  

دوسری طرف ایوان میں موجود کئی حکومتی اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں اس قانون کے مسودے کی کاپیاں فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایوان میں اس کی صرف تین کاپیاں موجود تھیں جن میں سے ایک سپیکر کے پاس تھی، ایک وزیر قانون کے پاس اور ایک قانون پاس ہونے کے بعد گورنر کو بھیجنے کے لیے رکھی گئی تھی۔ کچھ دیگر حکومتی ارکان کہتے ہیں کہ اس روز ایک درجن سے زیادہ قوانین منظور کیے گئے لیکن انہیں اتنا وقت نہیں دیا گیا کہ وہ کسی ایک کے مسودے کو بھی پڑھ سکتے۔ 

 حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والی رکن پنجاب اسمبلی مسرت جمشید کہتی ہیں کہ اس قانون کی منظوری پر انہیں بہت زیادہ شرمندگی ہے کیونکہ ان کے بقول اس میں چینی کی مِلوں کے مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن کا ایوان سے غائب ہو جانا بھی اس منظوری کی منصوبہ بندی کا حصہ تھا کیونکہ ان کے مطابق "جب چینی کے مِل مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے تو وہ سب سیاسی جماعتیں جو ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر تلی ہوتی ہیں ایک ہی صف میں کھڑی ہو جاتی ہیں"۔

پاکستان تحریکِ انصاف سے ہی تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسی ہی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں عام طور پر اور صوبے کے جنوبی اضلاع، جن میں ان کا اپنا ضلع رحیم یار خان بھی شامل ہے، میں خاص طور پر سیاست پچھلے کچھ عرصے سے چینی کی مِلوں کے مالکان کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے بقول "یہاں تو انتخابات لڑنے کے لیے پارٹیوں کے ٹکٹ بھی انہی مالکان کے کہنے پر دیے جاتے ہیں"۔

ان مِل مالکان میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی، وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار، سابق وفاقی وزرا جہانگیر ترین اور ہمایوں اختر خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم احمد محمود کے نام نمایاں ہیں۔

اس سیاستدان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ "تمام بڑی پارٹیوں کے اعلیٰ عہدے دار چینی کی ملوں میں حصہ دار ہیں" اس لئے ان کے لئے "ایک خفیہ اور مشکوک انداز میں اپنے حق میں کوئی قانون پاس کرا لینا کوئی مشکل کام نہیں"۔

کمیٹی سے آرڈیننس تک

پاکستان تحریکِ انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا اور نومبر 2018 میں 55 روپے فی کلو گرام کے حساب سے ملنے والی چینی فروری 2020 میں 80 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہونے لگی۔ جب اس اضافے پر شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا تو اس کی وجوہات جاننے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے افسران پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنادی۔

عمران خان نے حال ہی میں کسانوں کے ایک وفد سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کمیٹی کی تحقیقات شروع  ہوتے ہی انہیں "شوگر مافیا نے دھمکی دی کہ اگر تفتیش کرو گے تو ہم چینی غائب کردیں گے جس سے اس کی قیمتیں مزید اوپر چلی جائیں گی"۔ لیکن اس کے باوجود تحقیقات جاری رہیں اور جولائی 2020 میں کمیٹی کی رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی۔ 

اس رپورٹ میں ان طریقوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو مِل مالکان گنے کے کاشت کاروں اور چینی کے صارفین کا استحصال کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس استحصال کو روکنے کے لئے شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 میں کچھ تبدیلیاں کرنا بہت ضروری ہیں۔  

جب یہ رپورٹ عمران خان کو پیش کی گئی تو انہوں نے پنجاب حکومت کو یہ تبدیلیاں کرنے کی ہدایت کی لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ صوبائی حکومت اس معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے تو انہوں نے مجوزہ تبدیلیاں ایک آرڈیننس کی شکل میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے 24 ستمبر 2020 کو ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت کاشت کاروں سے گنے کی خریداری پر انہیں پی سی آر کے بجائے کچی رسید جاری کرنا ایک جرم قرار دیا گیا۔ اسی طرح گنے کی قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کرنے یا اس کے وزن اور قیمت میں غیر قانونی کٹوتیاں کرنے والے مِل مالکان یا مِل ملازمین پر تین سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا عائد کی گئی اور مِل مالکان کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ کاشت کاروں کو گنے کی قیمت کی ادائیگی ان سے گنے کی خریداری کے 15 دن کے اندر بذریعہ بنک کریں گے۔ 

آرڈیننس کے ذریعے شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 میں یہ اضافہ بھی کیا گیا کہ مِل مالکان کاشت کاروں کے تمام واجبات گنے کی خریداری کے 15 دن کے اندر ادا کرنے کے پابند ہوں گے اور واجبات کے بارے میں اختلاف کی صورت میں کین کمشنر کو اسے طے کرنے کا اختیار دیا گیا۔

ایک اور اہم تبدیلی کا تعلق قانون کی خلاف ورزی سے تھا۔ شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت یہ خلاف ورزی ایک ایسا جرم تو تھا جس پر پولیس جرم کرنے والے کو گرفتار کر سکتی تھی لیکن مجرم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ گرفتاری سے قبل اپنی ضمانت کرالے۔ لیکن آرڈیننس کے تحت قانون کی خلاف ورزی کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا اور اس کی سزا ایک سال قید سے بڑھا کر تین سال قید یا 10 لاکھ روپے سے لے کر50 لاکھ روپے جرمانہ کر دی گئی جبکہ بار بار خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے لئے 50 لاکھ روپے روزانہ کے حساب سے جرمانے کی سزا رکھی گئی۔

آل پاکستان کسان فاؤنڈیشن کے چیئرمین محمود الحق بخاری کہتے ہیں کہ آرڈیننس کی موجودگی اور کین کمشنر پنجاب کے متحرک کردار کی وجہ سے 2020-21 میں گنے کے کاشت کار ان کٹوتیوں سے بڑی حد تک بچ گئے جو ماضی میں مِل مالکان ان کی فصل خریدتے وقت کرتے تھے۔ ان کے مطابق "آرڈیننس کی وجہ سے گنا کاشت کرنے والے کسانوں کو لگ بھگ ایک سو ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوئی"۔

قانون سازی یا جعل سازی؟

آئینی طور پر ایک آرڈیننس صرف تین ماہ نافذ العمل رہ سکتا ہے جس کے بعد اس کی مدت میں صرف ایک بار تین مزید ماہ کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس آئینی ضابطے کے تحت شوگر فیکٹریز کنٹرول آرڈیننس 23 مارچ 2021 کو ختم ہو گیا۔

اگر صوبائی حکومت چاہتی تو وہ اسی آرڈیننس کو صوبائی  اسمبلی سے منظور شدہ ایک قانون میں بدل سکتی تھی لیکن اس کے بجائے اس نے شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 میں نئی ترامیم  کا مسودہ سپیکر پرویز الہٰی کو پیش کر دیا جنہوں نے اسے مزید غور و فکر کے لئے ایک ایسی کمیٹی کے سپرد کر دیا جس کی سربراہی ان کی صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت کرتے ہیں۔ 

اس کمیٹی کے دیگر ارکان میں پاکستان مسلم لیگ قائدِ اعظم کے ساجد احمد بھٹی اور خدیجہ عمر، پاکستان تحریک انصاف کے میاں محمد شفیع اور سمیرا احمد، پاکستان مسلم لیگ نواز کے سمیع اللہ خان، ملک محمد احمد خان اور خلیل طاہر سندھو، پاکستان پیپلز پارٹی کے رئیس نبیل احمد اور راہِ حق پارٹی کے محمد معاویہ اعظم شامل ہیں۔ 

کچھ اراکینِ اسمبلی اور کسان رہنما کہتے ہیں کہ سپیکر کی طرف سے قانون کا مسودہ اس کمیٹی کو بھیجا جانا ایک غلط فیصلہ تھا کیونکہ اسمبلی کے قواعد کی رو سے انہیں یہ مسودہ یا تو محکمہ زراعت سے متعلقہ کمیٹی کے پاس بھیجنا چاہئے تھا یا محکمہ خوراک کی متعلقہ کمیٹی کے پاس۔ ان ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس کمیٹی کو مسودے پر غور کرنے کی ذمہ داری دی گئی اس میں سپیکر کی اپنی پارٹی کے دو ارکان (ساجد احمد بھٹی اور  خدیجہ عمر) شامل ہیں۔ اسی طرح اگرچہ راجہ بشارت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے لیکن پرویز الہٰی اور ان کے درمیان دو دہائیوں سے زیادہ طویل سیاسی اور ذاتی روابط ہیں۔ جبکہ اس کے دو ارکان کا تعلق رحیم یار خان ضلعے سے ہے جہاں چینی کے مِل مالکان کا سیاسی اثر و رسوخ بہت نمایاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

کسانوں سے سستا گنا لینے والے 'خفیہ خریدار'

اس کمیٹی کا ایک اجلاس 29 مارچ  2021 کو ہوا جس میں کسانوں کی نمائندگی کرنے کے لئے محمود الحق بخاری کو شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ صوبائی وزیرِ خوراک علیم خان اور کین کمشنر پنجاب میاں محمد زمان وٹو بھی موجود تھے۔ لیکن اس میں صوبائی وزیرِ زراعت یا ان کی وزارت کے افسران موجود نہیں تھے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ملک محمد احمد خان بھی کہتے ہیں کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر اس اجلاس میں شامل نہیں تھے۔

محمود الحق بخاری کے مطابق انہوں نے اس اجلاس میں راجہ بشارت اور علیم خان کی طرف سے پیش کی گئی اس تجویز کی مخالفت کی کہ کین کمشنر کے اختیارات کم کر دیے جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں نے ان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی کہ کین کمشنر وہ واحد حکومتی اہل کار ہے جس کے پاس کسان اپنی شکایات پیش کر سکتے ہیں۔ اس کے اختیارات میں کمی سے مِل مالکان کو من مانی کرنے کا موقع مِل جائے گا"۔ 

کچھ دوسرے کسان رہنما الزام لگاتے ہیں کہ قانون کے اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش ہونے سے ایک رات پہلے اس کا مسودہ لاہور کے علاقے گلبرگ میں پرویز الہٰی، ان کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی مونس الہٰی، راجہ بشارت اور چینی کی دو مِلوں کے مالکان کے درمیان صلاح مشورے کے نتیجے میں تبدیل کیا گیا لیکن راجہ بشارت اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "میں حلف اٹھانے کو تیار ہوں" کہ ایسا کوئی صلاح مشورہ نہیں ہوا۔ 

کمیٹی کے اجلاس میں وزیرِ خوراک علیم خان اور ان کے محکمے کے افسران کی موجودگی کے بارے میں راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ مجوزہ قانون کا مسودہ اصولی طور پر محکمہ خوراک سے متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس جانا چاہئے تھا لیکن چونکہ یہ کمیٹی موجود نہیں ہے اس لئے اسے ان کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی میں بھیجا گیا جہاں محکمہ خوراک کی قیادت کو اس کا نکتہ نظر معلوم کرنے کے لئے بلایا گیا۔ 

تاہم وہ حسین جہانیاں گردیزی کی قانون کی منظوری پر تنقید کو "مناسب" نہیں سمجھتے کیونکہ ان کے مطابق وزیرِ زراعت کو "خبر ہی نہیں کہ ان کے محکمے سے اسمبلی میں کیا  مسودہ بھیجا گیا"۔ 

قانون بہتر یا آرڈیننس؟

نئے قانون کی منظوری کے بعد کسانوں نے پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع کردیے۔ کچھ کسان تنظیموں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اس قانون کو واپس نہ لیا گیا تو وہ 22 جون کو بجٹ اجلاس کے موقع پر پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کریں گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان بھی اس قانون کی منظوری سے نا خوش تھے۔ کسانوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسے قانون کے حق میں ہیں جو کسانوں کو وہ تحفظ فراہم کرے جو انہیں پچھلے سال جاری کیے گئے آرڈیننس میں دیا گیا تھا۔

چنانچہ ان کی ہدایت پر ایک نئے قانون کا مسودہ پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا جو 4 جون 2021 کو منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کی جانچ پڑتال کرنے والی کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس کی زیادہ تر شقیں وہی ہیں جو آرڈیننس میں موجود تھیں۔ تاہم ان کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی کو ابھی بھی ایک قابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے اور کین کمشنر کے اختیارات میں بھی مناسب کمی لائی گئی ہے۔ 

لیکن چونکہ اس قانون کے مندرجات ابھی تک پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ پر شائع نہیں کیے گئے اس لئے  گنے کے کاشت کاروں کو خدشہ ہے کہ کہیں اس میں بھی چوری چھپے ایسی شقیں نہ شامل کر دی گئی ہوں جو مِل مالکان کو کسانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے میں معاون ثابت ہوں۔ وزیر اعظم کے ساتھ ایک حالیہ ملاقات میں کسان رہنماؤں نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ منظور شدہ قانون جلد از جلد منظر عام پر لایا جائے۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفع 15 جون 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 4 دسمبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔