سنگِ مرمر کی صنعت کا احتجاج: 'بجلی کے بلوں میں اضافے سے فیکٹریاں چلانا منافع بخش نہیں رہا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

سنگِ مرمر کی صنعت کا احتجاج: 'بجلی کے بلوں میں اضافے سے فیکٹریاں چلانا منافع بخش نہیں رہا'۔

عظمت علی شاہ

postImg

سنگِ مرمر کی صنعت کا احتجاج: 'بجلی کے بلوں میں اضافے سے فیکٹریاں چلانا منافع بخش نہیں رہا'۔

عظمت علی شاہ

خیبر پختونخوا کے وسطی اضلاع نوشہرہ اور مردان کو جوڑنے والی سڑک پر رَشَکئی نامی قصبے کے قریب واقع انڈسٹریل اسٹیٹ میں لگی سنگ مرمر کی فیکٹریاں ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ کھل گئی ہیں۔ ان کی مشینوں کی گڑگڑاہٹ ہر طرف سنائی دے رہی ہے اور ان کے باہر سڑک پر سنگِ مرمر سے لدے ٹرکوں کی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ 

فروری 2022 کا پورا مہینہ یہ فیکٹریاں خاموش رہیں کیونکہ ان کے مالکان نے انہیں احتجاجاً بند کر رکھا تھا۔ اس احتجاج کے پہلے تین ہفتوں کے دوران فیکٹری مالکان نے اپنے ساتھ کام کرنے والے مزدوروں کے اشتراک سے ایک دھرنے کا انعقاد بھی کیا جس کے شرکا روزانہ اپنے مطالبات کے حق میں تقریریں کرتے اور وقتاً فوقتاً نعرے بلند کرتے۔ تاہم یہ احتجاج صرف رَشَکئی تک محدود نہیں تھا بلکہ خیبر پختونخوا کے متعدد دوسرے علاقوں جیسا کہ مردان، سوات، بونیر اور مہمند میں قائم سنگِ مرمر کی فیکٹریاں بھی اس میں شامل تھیں۔

ان فیکٹریوں کے مالکان کا سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ انہیں بھیجے جانے والے بجلی کے بلوں میں موجود فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ چارجز (fuel price adjustment charges) کو ختم کیا جائے۔ رَشَکئی میں واقع سنگِ مرمر کی ایک فیکٹری کے  46 سالہ مالک زر خان کا کہنا ہے کہ موجودہ دورِ حکومت میں ان چارجز میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث فیکٹریوں کا بجلی کا بل بہت بڑھ گیا ہے لہٰذا "انہیں چلانا منافع بخش نہیں رہا"۔ ان کے مطابق "آج سے چار سال پہلے جتنی بجلی استعمال کرنے کا بل دو لاکھ روپے آتا تھا اتنی ہی بجلی کے استعمال پر اب آٹھ لاکھ سے 10 لاکھ روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں"۔ 

ان چارجز کو بلوں میں ڈالنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بجلی بنانے والی کمپنیاں ہر ماہ تیل، گیس یا کوئلہ خریدتی ہیں جس کی قیمت ہمیشہ پچھلے ماہ کی نسبت کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا جب وہ اس ایندھن سے پیدا کردہ بجلی حکومت کو بیچتی ہیں تو اس کی قیمتِ فروخت میں ایندھن کی قیمت میں آنے والا فرق بھی شامل کر لیتی ہیں۔ اگر حکومت اس فرق کو بجلی کے بلوں کا حصہ نہ بنائے تو اسے اس میں اضافے کی صورت میں اربوں روپے سرکاری خزانے سے دینا پڑتے ہیں چنانچہ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں اسے ہر مہینے صارفین کو منتقل کر دیتی ہیں۔

سنگِ مرمر کی فیکٹریوں کا احتجاج ایک ماہ تک جاری رہا۔سنگِ مرمر کی فیکٹریوں کا احتجاج ایک ماہ تک جاری رہا۔

وفاقی حکومت کو 1997 میں بنائے گئے ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ کے تحت پورے پاکستان سے ان چارجز کی وصولی کا اختیار ہے لیکن 2013 میں خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے 80 صنعت کاروں نے ان کی وصولی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی صنعتوں کو ایسے بجلی گھروں سے بجلی فراہم کی جاتی ہے جو دریائی پانی سے چلتے ہیں اور یہ کہ حکومت یہ بجلی ہر ماہ ایک ہی قیمت پر خریدتی ہے لہٰذا ان سے یہ چارجز وصول کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کے ایک دو رکنی بنچ نے یہ موقف درست تسلیم کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی صنعتوں سے ان چارجز کی وصولی روک دی تاہم 2014 میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔

اس کے باوجود صوبے کے صنعت کار اس کے بعد بھی عدالتوں سمیت متعلقہ اداروں کے سامنے مسلسل یہ مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں۔ فروری میں ہونے والی فیکٹریوں کی بندش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

اس بندش کے آغاز میں خیبرپختونخوا میں قائم سنگِ مرمر کی فیکٹریوں کے مالکان کی تنظیم، ماربل انڈسٹری ایسوسی ایشن، کے صدر سجاد خان نے اعلان کیا کہ ان کی تنظیم سے ملحق فیکٹریاں اس وقت تک بند رکھی جائیں گی جب تک ان سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ چارجز کی وصولی بند نہیں کی جاتی۔ دو دن بعد حزبِ اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اس مطالبے کی حمایت کر دی۔ اس کے رکن صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک نے 3 فروری 2022 کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں فیکٹری مالکان کے احتجاج کے حق میں ایک تحریک التوا جمع کرائی جسے صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اسی دوران اپوزیشن ہی کی ایک اور جماعت، پاکستان مسلم لیگ نواز، کے رکن صوبائی اسمبلی اختیار ولی نے صوبائی اسمبلی میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ چارجز کی وصولی کے خلاف ایک قرارداد پیش کی۔ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے اس قرارداد کی بھی متفقہ توثیق کر دی۔ 

تاہم فروری کے چوتھے ہفتے کے آغاز میں سجاد خان نے اعلان کیا کہ تمام بند فیکٹریاں یکم مارچ کو کھول دی جائیں گی حالانکہ ابھی تک حکومت نے ان کا مطالبہ نہیں مانا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے ایک تازہ حکم کی بنا پر کیا ہے جس کے تحت ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک عدالتی ٹربیونل قائم کیا گیا ہے جس میں بجلی سے متعلقہ سرکاری محکموں کا کوئی ایک افسر اور نجی صنعتی اداروں کا ایک نمائندہ بھی شامل ہو گا۔ ان کے مطابق اس ٹربیونل کا بنیادی فریضہ اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے خاتمے کا جلد از جلد اطلاق کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

 فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے مزدور مہینہ بھر بے روزگاری کا شکار رہے۔ فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے مزدور مہینہ بھر بے روزگاری کا شکار رہے۔

پشاور ہائی کورٹ نے یہ حکم 8 فروری 2022 کو ان مختلف درخواستوں کی مشترکہ سماعت کے بعد جاری کیا تھا جو پچھلے کچھ عرصے سے مختلف صنعتوں کے مالکان کی انجمنوں نے ان چارجز کی وصولی کے خلاف جمع کرائی تھیں۔ 

تاہم رَشَکئی میں واقع سنگِ مرمر کی ایک فیکٹری کے مالک محمد عرفان کہتے ہیں کہ فیکٹریاں کھلنے کی اصل وجہ عدالتی ٹربیونل کا قیام نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان جیسے بہت سے دوسرے فیکٹری مالکان "اپنے کام کی بندش کی وجہ سے ہونے والے مالی نقصان کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے تھے"۔ ان کے مطابق "ہمارے لیے بند کارخانوں کا کرایہ دینا اور دوسرے انتظامی اخراجات کا انتظام کرنا روز بروز مشکل ہو رہا تھا اس لیے ہمیں فیکٹریاں دوبارہ کھولنا پڑ گئیں حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا مطالبہ ابھی مانا نہیں گیا"۔ 

مزدوروں کی مالی مجبوریاں

شیر عالم کا نقاہت زدہ چہرہ، بجھی بجھی آنکھیں، بکھرے بال اور بے ترتیب داڑھی ان کی غربت اور مشقت بھری زندگی کے عکاس ہیں۔ ان کی جسمانی حالت اتنی خستہ ہے کہ وہ 60 سال کے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ان کی عمر ابھی 48 سال ہے۔    

وہ خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں سنگِ مرمر کی ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور اس کی طویل بندش کی وجہ سے شدید مالی پریشانی کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ فروری کے وسط میں وہ اپنی پانچ سالہ بیٹی کو ساتھ لے کر فیکٹری کے مالک سے ملنے بھی گئے تاکہ روزگار کا کوئی متبادل بندوبست کرنے میں اس کی مدد حاصل کر سکیں۔ انہوں نے اسے بتایا کہ بے روزگاری کی وجہ سے ان کی جمع پونجی ختم ہو چکی ہے اور انہیں "گھر چلانے کے لیے مالی مدد کی شدید ضرورت ہے"۔ لیکن فیکٹری کا مالک نے انہیں جواب دیا کہ اس کے اپنے مالی حالات بھی اچھے نہیں ہیں اس لیے وہ ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔

مزمل نامی 22 سالہ مزدور کو بھی فروری کا پورا مہینہ شدید مالی مشکلات درپیش رہیں۔ وہ نوشہرہ کی ایک فیکٹری میں مشین آپریٹر کے طور پر ملازمت کرتے ہیں جبکہ ان کے پانچ بھائی بھی اسی فیکٹری میں سنگِ مرمر کی باربرداری کا کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں فیکٹری کے بند رہنے کی وجہ سے ان کا پورا خاندان مہینہ بھر بے روزگاری کا شکار رہا جس کے نتیجے میں ان کے ذمے واجب الادا قرضوں میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ لیکن، ان کے بقول، یہ قرضے ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے "اب مقامی دکاندار ہمیں ادھار سودا سلف بھی نہیں دیتے"۔

شیرعالم اپنی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ۔شیرعالم اپنی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ۔

اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے مزدوروں کی ایک قومی تنظیم، پاکستان ورکرز فیڈریشن، کے خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری رازم خان کہتے ہیں کہ سنگِ مرمر کی فیکٹریوں کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان مزدور طبقے کا ہوا۔ لیکن، ان کے مطابق، اس صنعت سے وابستہ "مزدور ٹریڈ یونین کی شکل میں منظم نہیں جس کے باعث وہ فیکٹری مالکان کی طرح اپنے مفادات کے لیے آواز بھی بلند نہیں کر سکے"۔

دوسری طرف زر خان نامی فیکٹری مالک کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں کی بندش سے نہ صرف ہزاروں مزدوروں کا چولہا سرد ہو گیا تھا بلکہ اس سے سنگِ مرمر کی کان کنی کرنے والے مزدوروں اور ٹھیکے داروں، پتھر کو کانوں سے فیکٹریوں تک پہنچانے والے ٹرکوں کے ڈرائیوروں اور مالکان اور  فیکٹریوں اور کانوں کے آس پاس قائم کھانے پینے کی دکانیں چلانے والے لوگوں کا روزگار بھی شدید متاثر ہوا تھا۔ 

اگرچہ فیکٹریوں کے کھلنے سے ان سب لوگوں نے سکون کا سانس لیا ہے لیکن زرخان خبردار کرتے ہیں کہ اگر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ چارجز کی وصولی کا مسئلہ جلد از جلد حل نہ ہوا تو یہ فیکٹریاں دوبارہ بند ہو جائیں گی اور "ان سے منسلک لاکھوں لوگوں کا روزگار پھر خطرے میں پڑ جائے گا"۔

تاریخ اشاعت 2 مارچ 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عظمت علی شاہ خیبر پختونخوا میں 2013 سے قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ کام کر رہے ہیں، انھوں نے کمیونکیشن سٹیڈیز میں ایم ایس کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔