بینکوں کے مہنگے قرضے اور افسر شاہی کے تاخیری حربے کس طرح شمسی توانائی کے فروغ کو روک رہے ہیں۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

بینکوں کے مہنگے قرضے اور افسر شاہی کے تاخیری حربے کس طرح شمسی توانائی کے فروغ کو روک رہے ہیں۔

فضا اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

بینکوں کے مہنگے قرضے اور افسر شاہی کے تاخیری حربے کس طرح شمسی توانائی کے فروغ کو روک رہے ہیں۔

فضا اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

ضلع شیخوپورہ کے دیہات ایاں نگر کلاں کے رہنے والے 62 سالہ سلمان سجاد وڑائچ اپنی 50 ایکڑ اراضی شمسی توانائی پر چلنے والے ان ٹیوب ویلوں سے سیراب کرتے ہیں جو انہوں نے 2018 میں لگائے تھے کیونکہ اس وقت انہیں نصب کرنے پر حکومت کسانوں کو ان کی کل مالیت کا 80 فیصد امداد کے طور پر دے رہی تھی۔ 

لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ امداد صرف انہی کسانوں کو دی جا رہی تھی جو پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے آب پاشی کا ایک ایسا نظام (ڈرِپ ایریگیشن) بھی نصب کر رہے تھے جس کے ذریعے کھاد ملا پانی سیدھا فصلوں کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس نظام کی لاگت پر بھی حکومت نے انہیں 60 فیصد مالی امداد فراہم کی لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ٹیوب ویلوں اور ڈرِپ ایریگیشن کی تنصیب پر ان کا پچاس لاکھ روپیه خرچ ہوا۔ 

پنجاب کے زیادہ تر کسانوں کے پاس اس قدر نقد رقم ہوتی ہی نہیں۔ 

پنجاب کی تحصیل پاکپتن کے 40 سالہ کاشت کار نصیرالدین چشتی ان کسانوں میں شامل ہیں جو صرف جزوی طور پر اتنی بڑی رقم کا بندوبست کر سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اپنی ساٹھ ایکڑ اراضی سیراب کرنے کے لیے انہوں نے 35 لاکھ روپے کی لاگت سے شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل لگائے جس کے بعد ان کے پاس اتنے پیسے نہیں بچے کہ وہ اپنی بقیہ اراضی پر بھی اسی طرح کے ٹیوب ویل لگا لیں۔

اس لیے انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ مزید ٹیوب ویل لگانے کے لیے وہ کسی بینک سے قرض لے لیں لیکن جب انہوں نے اپنے دوستوں اور اپنے علاقے کے دوسرے کسانوں سے اس بارے میں معلومات حاصل کیں تو انہیں پتہ چلا کہ بینک نہ صرف قرض کی منظوری میں بہت وقت لگا دیتے ہیں بلکہ بہت سی غیر ضروری دستاویزات بھی طلب کرتے ہیں جنہیں جمع کرنے کے لیے بہت خوار ہونا پڑتا ہے۔ اس لیے انہوں نے مزید ٹیوب ویل لگانے کا ارادہ ہی ترک کر دیا۔ 

ملتان میں رہنے والے 50 سالہ زمیندار عامر گل کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ 

وہ جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور کی تحصیل یزمان منڈی میں بارہ ایکڑ پر پھیلے ہوئے اپنے لیموں، کینو اور مالٹے کے باغات کو زیرزمین پانی سے سیراب نہیں کر سکتے کیونکہ اس علاقے میں یہ پانی کڑوا ہے۔ اس لیے وہ آب پاشی کے لیے نہری پانی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جہاں ایک طرف بہاولپور میں نہری پانی کی طلب ہر سال بڑھ رہی ہے (کیونکہ یہاں زیرِ کاشت رقبے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے) وہاں دوسری طرف مقامی نہروں میں دستیاب پانی مختلف انتظامی اور موسمیاتی وجوہات کی بنا پر کم ہو رہا ہے۔

چنانچہ وہ زیرزمین کڑوے پانی کو کشید کر کے اسے ریورس آسموسس (آر او) ٹیکنالوجی کے ذریعے صاف کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اسے ایک بڑے حوض میں جمع کر کے بوقت ضرورت کام  میں لا سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں نہ صرف بجلی سے چلنے والا ٹیوب ویل لگانا پڑے گا بلکہ آر او پلانٹ چلانے کے لیے بھی بجلی درکار ہو گی  لیکن حکومتی گرِڈ سے ملنے والی بجلی کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ اسے استعمال کرنے سے ان کی پیداواری لاگت ان کی استطاعت سے بہت بڑھ جائے گی۔ اس لیے وہ زمین سے پانی نکالنے اور اسے صاف کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ 

لیکن ان دونوں مقاصد کے لیے درکار مشینری کو شمسی توانائی پر چلانے کا ابتدائی خرچہ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ اس کے لیے ضروری مالی وسائل اکٹھے نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے2019  میں مختلف بینکوں سے بھی رابطے کیے لیکن جن شرائط اور ضوابط پر یہ بینک انہیں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والی پلیٹوں (فوٹو والٹئیک سولر پینل) کے لیے قرضہ فراہم کرنے پر آمادہ تھے وہ ان جیسے درمیانے درجےکے زمیندار کے لیے بہت سخت ہیں۔

عامر گل کہتے ہیں کہ ایک ٹیوب ویل چلانے کے لیے درکار پلیٹوں کی تنصیب کی خاطر دیا جانے والا قرض اور اس پر لگنے والا سود مجموعی طور پر قریباً نو لاکھ روپے بنتے ہیں جو ان کی مروجہ قیمت سے دوگنا زیادہ ہے جبکہ اس کے لیے انہیں بینک کے پاس اپنی زمین بھی گروی رکھنا پڑتی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بینک والے قرض کی رقم زمیندار کو دینے کے بجائے اپنے منظور شدہ کمپنیوں کو دیتے ہیں جو اپنی مرضی کی پلیٹیں لگا کر چلی جاتی ہیں۔ ان کے بقول "اگر یہ پلیٹیں بعد میں غیر معیاری نکلیں تو آپ کچھ نہیں کر سکتے"۔

اسلام آباد میں کام کرنے والی ایک سماجی تنظیم، رورل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹوٹ (آر ڈی پی آئی)، کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی بینک شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والی پلیٹوں کے لیے قرض دینے میں بہت تامل کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے واپس نہ ملنے کی صورت میں گروی رکھی جانے والی زمین کو اپنے قبضے میں لینے اور اسے فروخت کرنے کے اخراجات برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ اس رپورٹ کی مصنفہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ابھی تک پاکستان میں استعمال شدہ پلیٹوں کی خرید و فروخت کا کوئی طریقہِ کار وجود میں نہیں آیا جس کے باعث بینک قرضہ واپس نہ کرنے والے کسانوں سے یہ پلیٹیں واپس لے کر انہیں کسی اور شخص یا ادارے کو بیچ بھی نہیں سکتے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2016 میں ایک ایسی سکیم جاری تو کر دی جس کے تحت بینکوں کو کہا گیا کہ وہ شمسی توانائی کے فروغ کے لیے قرضے فراہم کریں لیکن اس سکیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا کوئی حل پیش نہ کیا گیا۔ مثال کے طور پر اس کے تحت بینک شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کو محفوظ کرنے کے لیے درکار بیٹریوں کے لئے قرضہ نہیں دیتے حالانکہ ان بیٹریوں کی لاگت پلیٹوں پر آنے والی لاگت کے برابر ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح حکومت نے بینکوں کو ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی کہ قرضے واپس نہ ہونے کی صورت میں انہیں ہونے والا خسارہ برداشت کرنے میں وہ ان کی مالی مدد کرے گی حالانکہ کچھ دوسری قرضہ سکیموں کے بارے میں حکومت یہ یقین دہانی فراہم کر چکی ہے۔

اس کی سب سے نمایاں مثال نیا پاکستان ہاوسنگ سکیم کے تحت دیے جانے والے قرضے ہیں جن کے واپس نہ ہونے کی صورت میں بینکوں کو ہونے والے خسارے کا 40 فیصد حصہ حکومتِ پاکستان برداشت کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے ورلڈ بینک کے تعاون سے 15 ارب روپے کا فنڈ بھی قائم کیا ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرک خان بھی آر ڈی پی آئی کی رپورٹ کی مصنفہ کے تجزیے سے متفق ہیں۔ اس رپورٹ کی اکتوبر 2021 میں ہونے والی رونمائی کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ بینکوں نے قرضہ دینے کی شرائط اس لیے سخت رکھی ہیں کہ اس کے واپس نہ ہونے کی صورت میں ہونے والا نقصان صرف انہی کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ جیسے جیسے شمسی توانائی سے بجلی بنانے والے استعمال شدہ سامان کی خرید و فروخت کی مارکیٹ وجود میں آ جائے گی ویسے ویسے نجی بینک اپنی شرائط آسان کرتے جائیں گے۔

لائسنس راج 

لاہور کی کینال ویو ہاؤسنگ سو سائٹی میں رہنے والے 35 سالہ عثمان بھٹی نے دسمبر 2020 میں اپنے گھر کی چھت پر شمسی توانائی سے دس کلو واٹ بجلی پیدا کرنے والا سسٹم لگوایا۔ اس پر 11 لاکھ روپے خرچ آئے جو انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے۔

ان کے بھائی بھی اب اسی طرح کا سسٹم لگوانا چاہتے ہیں لیکن عثمان بھٹی کہتے ہیں کہ پچھلے 10 ماہ میں اس کی تنصیب کا خرچہ تقریباً پندرہ لاکھ روپے تک جا پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کے باعث اس میں استعمال ہونے والی غیر ملکی بیٹریوں اور پلیٹوں کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے۔

اسی طرح وہ ایک اور مسئلے کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔

چونکہ ان کے شمسی توانائی سے چلنے والے سسٹم کی پیدا کردہ بجلی ان کی گھریلو ضروریات سے زیادہ ہے اس لیے وہ اضافی بجلی لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے سال کے اختتام پر لیسکو کو ایک درخواست دی کہ انہیں بجلی کی فروخت کا لائسنس جاری کیا جائے۔ لیسکو اس طرح کی درخواستیں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بھیج دیتا ہے جس کی طرف سے منظوری ملتے ہی لائسنس جاری ہو جاتا ہے اور لیسکو کے اہل کار شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے گھر پر ایک مخصوص میٹر نصب کر دیتے ہیں جس سے پتہ چلتا رہتا ہے کہ وہاں سے کتنی بجلی لیسکو کے گرِڈ میں شامل ہو رہی ہے۔ 

آلٹرنیٹو انرجی ڈیولپمنٹ بورڈ نامی حکومتی ادارے کی جاری کردہ گائیڈ لائن کے مطابق اس سارے عمل میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ کا وقت لگنا چاہیے لیکن عثمان بھٹی کہتے ہیں کہ انہیں درخواست دیے ہوئے تقریباً دس ماہ ہو گئے ہیں مگر ابھی تک انہیں نیپرا کی منظوری کا انتظار ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی درخواست کو ایک سرکاری افسر سے دوسرے سرکاری افسر تک پہنچانے کے لیے لیسکو کے اہل کاروں سے کئی ملاقاتیں بھی کی ہیں اور کچھ سرکاری حکام کو رشوت بھی دی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ابھی تک لائسنس نہیں ملا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنے گھر میں لگے شمسی توانائی کے سسٹم سے وہ کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

ٹیوب ویلوں کے بجلی کے بلوں میں ڈالے گئے اضافی یونٹ: پنجاب بھر کے کسان شدید نالاں۔

نیپرا کے ڈائریکٹر جنرل (لائسنسگ) امتیاز حسین بلوچ تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ اس سلسلے میں دی گئی زیادہ تر درخواستوں کی منظوری مقررہ مدت کے اندر ہی ہو جاتی ہے لیکن ان میں سے کچھ پر توقع سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے کیونکہ، ان کے مطابق، بعض اوقات درخواست دہندہ کی طرف سے تمام ضروری کاغذات یا تو دیر سے جمع کرائے جاتے ہیں یا ان میں سے کچھ کاغذات جمع ہی نہیں کرائے جاتے۔ وہ اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ چند درخواستیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں نمٹانے میں سرکاری اہل کار ضرورت سے زیادہ وقت لگا دیتے ہیں۔ تاہم وہ نیپرا کی 2020-21 کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب تک پورے پاکستان میں آٹھ ہزار چار سو 17 ایسی درخواستوں کی منظوری دے کر نئے میٹر نصب کیے گئے ہیں جبکہ ان میں سے دو ہزار ایک سو 70 میٹر صرف لاہور میں لگائے گئے ہیں۔

لیکن ان تمام میٹروں سے منسلک شمسی توانائی کا نظام محض 142 میگاواٹ کے قریب بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ملک میں پیدا ہونے والی کل بجلی کا ایک فیصد بھی نہیں حالانکہ آر ڈی پی آئی کی رپورٹ کی مصنفہ کہتی ہیں کہ پاکستان شمسی توانائی کا استعمال کر کے کئی گنا زیادہ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ ورلڈ بینک کی طرف سے2020  میں شائع کی جانے والی ایک رپورٹ بھی یہی کہتی ہے۔ اس کے مطابق اگر پاکستان کے صرف 0.071 فیصد رقبے پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا سامان نصب کر دیا جائے تو اس سے پورے ملک کی بجلی کی موجودہ طلب پوری ہو سکتی ہے۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس بات کو ممکن بنانے کے لیے حکومت کو شمسی توانائی کی ترویج میں حائل انتظامی اور مالی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی بنانی ہو گی۔ 

تاریخ اشاعت 17 نومبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فضا اشرف نے اقراء یونیورسٹی اسلام آباد سے عالمی تعلقات میں ایم ایس سی کیا ہے۔ وہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔