لاہور کا آلودگی میں پہلا نمبر مگر حکومت کا اصرار ہے کہ 'سب اچھا' دکھایا جائے۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

لاہور کا آلودگی میں پہلا نمبر مگر حکومت کا اصرار ہے کہ 'سب اچھا' دکھایا جائے۔

زاہد علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

لاہور کا آلودگی میں پہلا نمبر مگر حکومت کا اصرار ہے کہ 'سب اچھا' دکھایا جائے۔

زاہد علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

پنجاب کے تحفظِ ماحولیات کے وزیر محمد رضوان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ایک خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ ایسے "تمام افراد اور اداروں کو بند کیا جائے اور ان کے خلاف سائبر قوانین کے تحت کارروائی کی جائے جو تحفظِ ماحولیات کے محکمے کی اجازت کے بغیر فضائی آلودگی کے بارے میں اعداد و شمار اکٹھے کر کے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جاری کر رہے ہیں"۔


ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو 16 نومبر 2021 کو بھیجے گئے اس خط میں صوبائی وزیر نے لکھا ہے کہ کچھ "غیر ذمہ دار عناصر بُری نیت کے ساتھ پاکستان کے تاثر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"  اور ہوائی آلودگی کے بارے میں ایسی "گمراہ کن اور غلط" معلومات جاری کر رہے ہیں "جو مختلف غیر مجاز ذرائع سے لی گئی ہیں اور جو محکمہ تحفظِ ماحولیات کی طرف سے جاری کی جانے والی معلومات کے برعکس ہیں"۔

جن دنوں یہ خط لکھا گیا ان میں ہوا کے معیار کو جانچنے والی ایک غیر سرکاری عالمی تنظیم، آئی کیو ایئر، پنجاب کے دارالخلافہ لاہور کو بار بار دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے رہی تھی۔ اس کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے چند روز ایسے بھی تھے جب لاہور میں فضائی آلودگی کا تناسب دوسرے نمبر پر آلودہ ترین شہر سے بھی دو گنا زیادہ تھا۔

یہ خط لکھے جانے کے ایک ہفتے بعد وسطی پنجاب کے ضلع ساہیوال میں متعین محکمہ تحفظ ماحولیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر یونس زاہد نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ "مجھے (حکومت کی طرف سے) ہدایت کی گئی ہے کہ میں (شہریوں) کو یہ حکم دوں کہ وہ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، ویب ایپلی کیشنز یا اخبارات کے ذریعے فضائی آلودگی کی سطح کے بارے میں اعداد و شمار دوسرے لوگوں کو بھیجنا بند کریں"۔

انہوں نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ شہری اپنے گھروں اور دفتروں سے ایسے تمام آلات ہٹا دیں جن کی مدد سے وہ فضا میں پائی گئی آلودگی کی پیمائش کرتے ہیں۔ اس حکم کی وضاحت کے لیے انہوں نے مندرجہ ذیل چار وجوہات بیان کیں:

1.    نجی طور پر ہوا میں آلودگی کا معیار ماپنے کے لیے لگائے گئے آلات غیر قانونی ہیں اور ان سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی کسی مستند طریقے سے جانچ پڑتال نہیں کی جاتی۔

2.    ہوا میں آلودگی کے معیار کو ماپنا اور اس سے متعلق اعداد و شمار جاری کرنا صرف اور صرف مجاز سرکاری اداروں اور ریاستِ پاکستان کا اختیار ہے۔

3.    نجی طور پر ہوا میں آلودگی کے معیار کو جانچنے کے لیے نصب کیے گئے آلات کی مدد سے صرف ذاتی استعمال کے لیے معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔

4.    غیر مجاز ادارے یا افراد ایسے غیر مستند اعداد و شمار جاری نہیں کر سکتے جو لوگوں میں بے چینی پیدا کر رہے ہوں (کیونکہ) ایسا کرنا سائبر قوانین کے تحت ایک جرم ہے۔

فضائی آلودگی پر کام کرنے والے محقق داور بٹ ان احکامات کو "مضحکہ خیز" قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے تو پنجاب میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس کے تحت شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے ضروری ہو کہ وہ فضائی آلودگی کی جانچ کے لیے آلات نصب کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لیں۔ دوسرا یہ کہ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ایسی کوئی شق نہیں پائی جاتی جس کے تحت فضائی آلودگی کے بارے میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کو ریاست کے خلاف کیا جانے والا پراپیگنڈا قرار دیا جا سکے۔

ان قانونی پہلوؤں سے قطع نظر، صوبائی حکومت خود بھی لاہور کو آلودہ ترین شہر قرار دینے والی درجہ بندی سے متفق نظر آتی ہے۔ اس کا واضح ترین ثبوت پنجاب کے ریلیف کمشنر بابر حیات تارڑ کی طرف سے 22 نومبر 2021 کو جاری کیے گئے ایک اعلامیہ میں نظر آتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ "ایسے شواہد موجود ہیں کہ لاہور کی ہوا کے معیار (ائیر کوالٹی انڈکس) میں مسسل گراوٹ ہو رہی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی صوبائی کابینہ نے(وسطِ اکتوبر 2021 میں ہونے والے) اپنے چھتیسویں اجلاس میں لاہور میں پائی جانے والی فضائی آلودگی (سموگ) کو ایک "آفت" قرار دیا ہے اور شہرکی حدود میں بالخصوص اور پورے صوبہ پنجاب کی حدود میں بالعموم  ایسے اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ہے جو "ائیر کوالٹی انڈکس میں ہونے والی گراوٹ کو روک سکیں"۔

کابینہ کے اس فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے بابر حیات نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ 27 نومبر 2021 اور 15 جنوری 2022 کے درمیان لاہور کی شہری حدود میں واقع تمام غیر سرکاری دفاتر اور نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے ہفتے اور اتوار کے ساتھ ساتھ سوموار کو بھی بند رہیں گے۔ تاہم ان دفاتر کے ملازمین سوموار کے روز گھر سے کام کریں گے اور طلبا اس دن آن لائن پڑھائی کریں گے۔

ان کے اس اعلان کا بنیادی مقصد لاہور میں ٹرانسپورٹ کے استعمال میں کمی لانا ہے کیونکہ ماہرین کے نزدیک اس سے خارج ہونے والا دھواں شہر میں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

عوام بنام سرکار

شیراز ذکا لاہور ہائی کورٹ میں فضائی اور آبی آلودگی کی روک تھام کے لیے دائر کی گئی متعدد درخواستوں کی بطور وکیل پیروی کر چکے ہیں۔ صوبائی حکومت کے احکامات پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک جانب تو نجی طور پر لگائے گئے آلات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر فضائی آلودگی کو ایک آفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب محکمہ تحفظ ماحولیات انہی اعداد و شمار کو غیر مستند اور غیر قانونی قرار دے رہا ہے"۔

وہ کہتے ہیں کہ فضائی آلودگی کے بارے میں "باقاعدہ اور بر وقت اعداد و شمار فراہم کرنا محکمہ تحفظ ماحولیات کی ذمہ داری ہے (لیکن اسے) نبھانے میں یہ مسلسل ناکام رہا ہے"۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے شہریوں کو اس آلودگی کی نجی طور پر جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے گلاسگو میں عالمی کانفرنس: 'ان مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوا'۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس محکمے کی طرف سے "فضائی آلودگی کی پیمائش کے لیے لگائے گئے میٹر یا تو انتہائی آلودہ دنوں میں مشکوک طور پر بند ہوتے ہیں یا ان سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار باقاعدگی سے جاری نہیں کیے جاتے"۔ ایسے میں شہریوں اور نجی اداروں کی جانب سے ایسے اعداد و شمار کی اشاعت کو ایک جرم قرار دینے کی حکومتی کوشش کا شیراز ذکا کی نظر میں یہی مقصد ہے کہ "حکومت 'سب اچھا ہے' کا راگ الاپ سکے"۔

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) میں ماحولیاتی آلودگی پر تحقیق کرنے والے استاد سانول نسیم بھی شہریوں اور نجی اداروں کی طرف سے ہوا کے معیار کی پیمائش اور اس کی اشاعت کے خلاف کیے جانے والے حکومتی اقدامات کو ایک "ناقابلِ یقین اور غیر ذمہ دارانہ" فعل قرار دیتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ "اگر نجی طور پر ایسا کرنا غلط ہے تو کیا محکمہ تحفظ ماحولیات خود ایسے اعداد و شمار جاری کر رہا ہے جن پر بھروسہ کیا جا سکے کیونکہ اس کے نصب کردہ آلات تو اکثر بند رہتے ہیں"۔

محکمے کے اہل کار یونس زاہد مانتے ہیں کہ لاہور میں فضائی آلودگی کی پیمائش کے لیے سرکاری طور پر لگائے گئے "چھ میٹروں میں سے چار تکنیکی مسائل کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ باقی دو بھی اکثر خراب رہتے ہیں"۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے غیر سرکاری طور پر استعمال کیے جانے والے آلات ناقص ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق "چین سے منگوائے گئے یہ سستے میٹر ہوا میں موجود نمی کو بھی آلودگی کے طور پر ظاہر کرتے ہیں اس لیے ان کے ذریعے جمع کردہ معلومات میں مبالغہ ہوتا ہے"۔

لیکن داور بٹ کا کہنا ہے کہ ان آلات کی کارکردگی کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ ان کی قیمت کیا ہے اور انہیں کس ملک میں بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق انہیں ناقص قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے "آپ یہ کہہ دیں کہ چین کے بنے ہوئے ہواوے کے موبائل فون میں آواز اچھی نہیں آتی کیونکہ وہ امریکہ میں تیار کردہ آئی فون سے سستا ہوتا ہے"۔ اس کے بر عکس ان کا کہنا ہے کہ یہ میٹر "ہوا میں موجود آلودہ اور زہریلے ذرات کا کم و بیش صحیح تخمینہ لگاتے ہیں"۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے بارے میں میڈیا پر چلنے والی معلومات عام طور پر آئی کیو ائیر نامی عالمی ادراہ جاری کرتا ہے جو "پوری دنیا سے نجی، سرکاری اور نیم سرکاری اداروں اور افراد کی طرف سے اپنے اپنے علاقوں کے بارے میں بھیجے گئے اعدا و شمار کے تجزیے پر مبنی ہوتی ہیں"۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ ادارہ کسی شہر یا علاقے کے مختلف حصوں سے آنے والے تمام اعداد و شمار کو جمع کر کے ایک ریاضیاتی فارمولے کے تحت ان کا تجزیہ کرتا ہے جس کے بعد ہی "آلودگی کے اعتبار سے شہروں اور علاقوں کی درجہ بندی جاری کی جاتی ہے"۔

تاریخ اشاعت 27 نومبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

زاہد علی ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فارسی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔