چوبارہ برانچ پر سندھ کا اعتراض: 'تھل میں ایک نئی نہر بنانے سے ہمارے حصے کا پانی اور بھی کم ہو جائے گا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

چوبارہ برانچ پر سندھ کا اعتراض: 'تھل میں ایک نئی نہر بنانے سے ہمارے حصے کا پانی اور بھی کم ہو جائے گا'۔

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

چوبارہ برانچ پر سندھ کا اعتراض: 'تھل میں ایک نئی نہر بنانے سے ہمارے حصے کا پانی اور بھی کم ہو جائے گا'۔

آصف ریاض

loop

انگریزی میں پڑھیں

سفید رنگ کی شلوار قیمض میں ملبوس درمیانی عمر کے امان اللہ سیفی ایک بارعب مذہبی مبلغ لگتے ہیں۔ وہ سر پر بڑی سے پگڑی باندھتے ہیں اور ان کی گھنی کالی داڑھی ان کے سینے تک پہنچتی ہے۔ ان کے لمبے قد اور بھاری ڈیل ڈول سے لگتا ہے کہ ان کے لیے دوسروں سے اپنی بات منوانا مشکل نہیں ہے۔  

اوائلِ جنوری 2022 کی ایک صبح درجن بھر سرکاری اہل کار فائلیں اٹھائے ان کے دفتر کے سامنے بے چینی سے ان کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ جیسے ہی ان کی سفید کار وہاں پہنچتی ہے، ان اہل کاروں میں سے کچھ ان کا استقبال کرنے کے لیے لپکتے ہیں۔  

امان اللہ سیفی کار سے نکل کر دفتر میں داخل ہوتے ہیں اور لکڑی کی بڑی سی میز کے پیچھے لگی گھومنے والی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں۔ ان کے ماتحت ایک ایک کر کے کمرے کے اندر آتے ہیں اور ان کے سامنے رکھی لکڑی کی کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ 

یوں مغربی پنجاب کے ضلع بھکر کی تحصیل منکیرہ کے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں کار سرکار کا آغاز ہوتا ہے۔ 

امان اللہ سیفی صوبہ پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے ذیلی ادارے پراجیکٹ مینجمنٹ آفس کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں لیکن آج کل انہیں صوبے کے مغرب میں واقع تھل کے صحرا میں بنائی جانے والی چوبارہ برانچ نامی نہر کے لیے زمین کے حصول کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان کے کام کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے وہ کوئی بہت ہی اہم قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اپنے سامنے کھلی فائلوں کے اوراق پلٹتے ہوئے وہ اپنے ماتحتوں سے مسلسل ان کے بارے میں سوالات پوچھتے جاتے ہیں۔ 

چوبارہ برانچ گریٹر تھل کینال کے منصوبے کا حصہ ہے جس کی تعمیر 2002 میں جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں شروع ہوئی اور جس کا مقصد میانوالی، جھنگ، خوشاب، لیہ، بھکر اور مظفر گڑھ کے اضلاع میں 17 لاکھ 38 ہزار ایکڑ صحرائی علاقے کو قابلِ کاشت کرنا ہے۔ اس اراضی کو سیراب کرنے کے لیے گریٹر تھل کینال سے چار شاخیں نکالی جائیں گی جن میں سے ایک، منکیرہ برانچ، مکمل ہو چکی ہے جبکہ، امان اللہ سیفی کے مطابق، اس کی دوسری شاخ، 71 کلو میٹر لمبی چوبارہ برانچ، کی مجوزہ گزرگاہ پر واقع تقریباً تمام زمینوں کی نشان دہی ہو چکی ہے اور اب ان کے مالکوں کو معاوضہ ادا کرنے کا مرحلہ تیزی کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے۔  

اس منصوبے کی تعمیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تھل میں 25 ایکڑ زرعی رقبے کا مالک زمیندار بھی وسطی پنجاب کے مزدوروں سے بدتر زندگی گزار رہا ہے کیونکہ "یہاں مویشیوں کے پینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہے"۔ لیکن، ان کے بقول، "اگر یہ نہریں بن جائیں گی تو یہاں کے باسی بھی ملک کے دوسرے حصوں کے کسانوں کی طرح اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہوجائیں گے"۔

نتیجتاً وہ نہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس منصوبے کے بارے میں صرف مثبت رپورٹنگ کی جائے بلکہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس رپورٹنگ میں ان کا کہا ہوا ایک ایک لفظ من و عن نقل کیا جائے۔ ان کے اپنے الفاظ میں وہ نہیں چاہتے کہ "کسی قسم کی منفی رپورٹنگ سے ملکی سلامتی کے لیے ضروری اس منصوبے کو کوئی گزند پہنچے"۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "یہ منصوبہ خوراک میں خود کفالت کے حصول کے لیے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے" اس لیے اس کے بارے میں ان کے "فراہم کردہ حقائق کے علاوہ کی گئی رپورٹنگ ملکی سلامتی کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے"۔ 

امان اللہ سیفی یہ بھی چاہتے ہیں کہ "گریٹر تھل منصوبے کی اس معاشی اہمیت کی بنیاد پر اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے"۔ اس مقصد کے لیے وہ  پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہنگامی حالت کا نفاذ کر کے تمام متعلقہ اداروں کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ دوسرے کام چھوڑ کر اس پر توجہ دیں۔ ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ عدالتیں اس منصوبے کے خلاف کوئی بھی درخواست قبول نہ کریں "بلکہ ایسی درخواستوں کو نمٹانے کا کام اسسٹنٹ کمشنر کو سونپ دینا چاہیے تاکہ کسی بھی وجہ سے اس میں تاخیر نہ ہو"۔ 

نئی نہروں کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟

سندھ اسمبلی نے 22 نومبر 2021 کو چوبارہ برانچ کی مخالفت میں ایک قرارداد منظور کی جسے نہ صرف صوبائی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی تائید حاصل تھی بلکہ مرکزی حکومت کی اتحادی جماعتوں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، نے بھی اس کی حمایت کی۔

اس کی منظوری کے وقت اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ آب پاشی جام خان شورو  نے کہا کہ سندھ کو صوبوں کے مابین دریائی پانی کی تقسیم کے حوالے سے 1991 میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق پانی نہیں دیا جارہا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ "جہاں ایک طرف سندھ کو ملنے والے پانی میں کمی ہو رہی ہے وہاں دوسری طرف پنجاب میں نئی نہریں بنائی جا رہی ہیں"۔ 

سندھ کے محکمہ آب پاشی کے خصوصی سیکریٹری ٹیکنیکل جمال الدین منگن اس بات کی تائید کرتے ہیں۔ وہ پچھلے 20 سالوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس عرصے میں ان کے صوبے کو ملنے والا پانی اس کے حصے سے 18 فیصد کم رہا ہے جو کہ پنجاب میں ایک نئی نہر بنانے سے اور بھی کم ہو جائے گا۔ 

اسی طرح وہ 1991 کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے تحت پانی کی ایک خاص مقدار سمندر میں جانے کے لیے مختص کی گئی ہے تاکہ دریائے سندھ کے آخری دہانے پر واقع اضلاع میں آبی اور نباتاتی حیات اور زراعت کا بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس پانی میں کمی واقع ہو گی تو اس کے نتیجے میں "یقینی طور پر یہ آبادیاں اور علاقے متاثر ہوں گے"۔

اس لیے، ان کی نظر میں، آب پاشی کے کسی بھی ایسے منصوبے کی تعمیر 1991 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو ان اضلاع کے لیے درکار پانی کی فراہمی میں کمی کا سبب بنے۔

وفاقی مشیرِ خزانہ شوکت ترین کی صدارت میں قومی معاشی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) کے 22 دسمبر 2021 کو ہونے والے اجلاس میں سندھ کے نمائندے نثار کھوڑو نے چوبارہ برانچ کی تعمیر پر یہی اعتراضات اٹھائے۔ ایک اردو اخبار میں چھپنے والی خبر کے مطابق انہوں نے موقف اختیار کیا کہ زیریں سندھ میں دریائی پانی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹھٹہ اور بدین کے اضلاع میں 30 لاکھ ایکڑ اراضی سمندر کی نذر ہو چکی ہے۔ انہوں نے اجلاس کے شرکا کو خبردار کیا کہ اگر اس نہر کے ذریعے "وفاقی حکومت سندھ کے حصے کا پانی زبردستی پنجاب کو دینے کی کوشش کرے گی تو پھر سندھ کے عوام مزاحمت کرینگے"۔

دوسری طرف امان اللہ سیفی کا اصرار ہے کہ گریٹر تھل کینال کے منصوبے میں شامل نہروں کے لیے سندھ کے حصے کا پانی استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ 1991 کے معاہدے میں پہلے ہی کہہ دیا گیا ہے کہ ان نہروں کو خریف کے موسم (اپریل-ستمبر) میں 1.873 ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ 

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2002 میں جب گریٹر تھل کینال کا منصوبہ منظور ہوا تو اسی وقت بلوچستان کے لیے کچھی کینال اور سندھ کے لیے رینی کینال کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر سندھ کو ان دوسری نہروں کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں "تو گریٹر تھل کینال اور چوبارہ برانچ جیسی اس کی شاخیں کیوں نہیں بنائی جا سکتیں"۔ 

لیکن سندھ کے شہر میرپور خاص میں مقیم آبی اور زرعی امور کے ماہر عمر کریم امان اللہ سیفی کے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں کہ گریٹر تھل کینال اور اس کی شاخیں صرف 1.87 ملین ایکڑ فٹ پانی ہی استعمال کریں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ 1991 کے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ گریٹر تھل کینال میں پانی کے بہاؤ کی مقدار 5 ہزار مکعب میٹر فی سیکنڈ کے آس پاس ہونی چاہیے لیکن اس نہر کا ڈیزائن ایسا بنایا گیا ہے کہ اس میں پانی کا بہاؤ آٹھ ہزار پانچ سو مکعب میٹر فی سیکنڈ تک ہو سکتا ہے۔ 

گریٹر تھل کینال کی تعمیر کے ذمہ دار سرکاری ادارے، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)، کی ذیلی کمپنی برقاب کی جانب سے گریٹر تھل کینال کے حوالے سے جاری کیے گئے اعداد و شمار ان کی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نہر میں بہنے والے پانی کی مقدار آٹھ ہزار پانچ سو مکعب میٹر فی سیکنڈ ہی ہو گی۔ عمر کریم کہتے ہیں کہ اس حساب سے اس میں بہنے والے پانی کی کل سالانہ مقدار 6.15 ملین ایکڑ فٹ بنتی ہے۔ چونکہ یہ نہر ہر سال صرف چھ مہینے چلے گی اس لیے "اس دوران اس میں بہنے والے پانی کی کل مقدار 3.08 ملین ایکڑ فٹ ہو گی جو کہ 1991 کے معاہدے میں دی گئی مقدار سے یقیناً زیادہ ہے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

سڑک بن رہی ہے: گوادر میں ایکسپریس وے کی تعمیر پرانے شہر کے باسیوں اور مچھیروں کے لیے وبالِ جان

رینی کینال اور کچھی کینال کے بارے میں امان اللہ سیفی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جمال الدین منگن کا کہنا ہے ابھی تک سندھ نے اس ضمن میں مختص کیا گیا پانی استعمال ہی نہیں کیا۔ ان کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ "جب پہلے سے بنائی گئی نہروں میں ضرورت کے مطابق پانی نہیں پہنچ رہا تو پھر نئی نہروں کے لیے پانی کہاں سے لایا جائے"۔

آبی امور کے ایک اور ماہر حسن عباس بھی ان کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گریٹر تھل کینال اور اس سے نکلنے والی چوبارہ برانچ جیسی شاخیں ایک ایسے علاقے میں بنائی جا رہی ہیں جس کی پانی کی موجودہ ضروریات کسی نہ کسی طرح پوری ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہاں مزید اراضی قابلِ کاشت نہ بنائی جائے تو اس مقصد کے لیے درکار مزید پانی فراہم کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔ 

دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ ملک میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں نہریں تو موجود ہیں لیکن وہاں کے کاشت کاروں کو ان کی ضرورت کا پانی نہیں مل رہا۔ اس لیے ان کی رائے میں حکومت کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ "نئی نہریں بنا کر مزید علاقوں کو زیرِ کاشت لانے کے بجائے پہلے سے بنی ہوئی نہروں میں پانی کے بہاؤ کو متوازن بناکر ان علاقوں کو بنجر ہونے سے بچائے"۔ 

تاریخ اشاعت 22 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔