نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے: آبی گزرگاہوں کے راستے میں تعمیرات نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو دو چند کر دیا
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے: آبی گزرگاہوں کے راستے میں تعمیرات نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو دو چند کر دیا

فہیم اختر

postImg

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے: آبی گزرگاہوں کے راستے میں تعمیرات نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو دو چند کر دیا

فہیم اختر

اس سال 26 اگست کو 15 سالہ قندیل سحر اپنے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہی تھی کہ اچانک اُسے شور کی آواز سنائی دی۔

وہ جھٹ سے گھر کی چھت پہ چڑھی تو دیکھا کہ سیلاب کا ایک بڑا ریلا اس کے کچے گھر کے بالکل قریب آن پہنچا ہے۔ خطرے کو بھانپتے ہوئے وہ چھلانگ لگا کر اپنے ہمسایوں کے چھت پر چلی گئی جبکہ قندیل کا بھائی اُس کی جانب کودنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ ’’ہمارا مکان منہدم ہو گیا اور میری آنکھوں کے سامنے میرا بھائی اس میں دب گیا۔‘‘ اس کے علاوہ گھر میں اس کی والدہ، دادی اور پانچ بہنیں بھی تھیں جو سب کی سب جاں بحق ہو گئیں۔

اب وہ اپنے گاؤں سے گزرتے دریا کے دوسرے کنارے واقع گلمتی گاؤں کے ایک مدرسے میں قائم عارضی کیمپ میں مقیم ہے۔

قندیل گلگت شہر سے70  کلومیٹر مغرب کی جانب ضلع غِذر کے صدر مقام گاہکوچ سے 10 کلومیٹر مشرق میں بوبر نامی گاؤں میں رہائش پزیر تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق قدرتی نالہ میں طغیانی کی وجہ سے اس گاؤں کے 10 افراد کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ 80 گھر، ایک عبادت گاہ، ایک پُل اور آٹھ دکانیں بھی تباہ ہوئیں۔

اپنی مدد آپ کے جذبہ کے تحت گاؤں کی بحالی کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ یعقوب عالم طائی کہتے ہیں کہ انہوں نے زندگی میں اس شدّت کا سیلاب نہیں دیکھا۔ ان کے بقول ’’ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس نالے سے بھی سیلاب آ سکتا ہے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ 60 فٹ چوڑی اس آبی گزرگاہ کی دونوں طرف غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے سیلابی راستہ گھٹ کر 10 فٹ تک محدود ہو کر رہ گیا ’’جس کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچا دی اور گھروں کے گھر اجاڑ دئیے۔‘‘

حالیہ سیلاب کے اثرات سے گلگت بلتستان کے 10 اضلاع میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ گلگت بلتستان کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اس سیلاب میں مجموعی طور پر 17 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 12 کا تعلق ضلع غِذر  سے ہے۔ اسی طرح 100 سے زائد مقامات پہ آنے والے سیلاب نے 500 سے زائد گھروں کو تباہ کیا، جبکہ کئی سڑکیں اور رابطہ پُل بھی سیلاب میں بہہ گئے۔

گلگت بلتستان کے وزیرِاعلیٰ خالد خورشید کے مطابق اس سیلاب سے گلگت بلتستان کو 18 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

سیلابی صورتِ حال معمول پر آنے اور بحالی اقدامات کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری محی الدین وانی کی جانب سے 12 ستمبر کو جاری ہونے والے ایک حکم نامہ کے تحت دریا کنارے اور سیلابی راستوں پہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ممکنہ قانونی اقدامات کے لئے گلگت بلتستان کے سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ’’جو جی آئی ایس ]جیوگرافک انفارمیشن سسٹم[ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے تمام مقامات اور تعمیرات کی نشان دہی کرے گی کی تاکہ انہیں گرا کر آبی گزرگاہوں کو واپس ان کی اصل حالت میں لایا جا سکے۔‘‘

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے سیلاب اور اس کی تباہیوں کے پیش نظر گذشتہ سال محکمہ خزانہ کو باقاعدہ خط لکھ کر 544 علاقوں کی نشان دہی کی تھی جہاں پر بند باندھنے اور دیگر حفاظتی اقدامات کی ضرورت تھی جس کے لئے مجموعی طور پر 36 کروڑ 82 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

اسی طرح 18 جولائی 2019 میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے چترال میں گلیشیئر پھٹنے اور سیلاب آنے کے بعد گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیوں کو حکم دیا گیا کہ سیلابی راستوں اور دریا کے کناروں پر ہونے والی تمام تعمیرات کو منہدم کر دیا جائے۔ تاہم اس کے باوجود کوئی آپریشن عمل میں نہیں لایا جا سکا۔

لیکن دوسری طرف گلگت بلتستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہی کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہزاد بیگ کے نزدیک اس طرح کا آپریشن کوئی آسان کام نہیں ہے۔

گلگت بلتستان، ان کے بقول، گلیشیئرز اور جھیلوں سے بھرا پڑا ہے ’’جن میں سے کوئی بھی جھیل یا گلیشیئرز کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے جس کی وجہ سے سیلابی صورتِ حال بن سکتی ہے۔‘‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ایک سروے میں 36 گلیشیئرز کو خطرناک قرار دیا گیا ہے جن سے مختلف اضلاع کے مختلف مقامات کو خطرات در پیش ہیں۔ ان میں قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ رینج کے بالائی آبادیاں شامل ہیں لیکن چونکہ ان آبی گزرگاہوں سے لوگوں کا روزگار، رہائش اور دیگر معاشی سرگرمیاں وابستہ ہیں اس لئے، وہ سمجھتے ہیں، کہ فوری طور پر ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اس سب کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

تونسہ کے دیہات کی سیلاب سے تباہی: 'بجری بنانے والے کارخانے ہمیں لے ڈوبے'

وہ کہتے ہیں کہ ’’البتہ سائنسی اصولوں کی بنیاد پر کئے گئے حفاظتی اقدامات — جیسا کہ سیلابی راستوں کو واگزار کرانا، کمیونٹی کو محفوظ کرنے کے لئے بند باندھنا اور قریبی علاقوں میں ماحول کو نقصان پہنچانے والے سرگرمیوں کو کم سے کم کرنا — سے ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘‘

گلگت شہر سے 8 کلومیٹر مشرق کی جانب جوٹیال نالہ سمیت مختلف مقامات پر اسی بنیاد پر 2020-2021 میں چھوٹے بند باندھے گئے اور نالے کی صفائی کر کے پانی کے لئے جگہ چھوڑی گئی جس کی وجہ سے جوٹیال نالہ میں اس سال سیلاب تو آیا لیکن اس سے نقصان نہیں ہوا۔

ضلع غِذر میں ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد علی نے انکشاف کیا کہ نالوں کی چوڑائی کا کوئی واضح قانون نہیں ہے ’’کیونکہ کہیں پر نالوں کی چوڑائی زیادہ تو کہیں پر کم۔ ان نالوں کے قریب تعمیرات اور سیلابی راستے کا واضح قانون موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے بسا اوقات قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

تاریخ اشاعت 7 دسمبر 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فہیم اختر گلگت بلتستان کے مقامی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے میڈیا اور کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا ہے۔

  • 4منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop
  • 3منٹ کی پڑھائی
    loop
  • وڈیو شامل ہے
    loop

پنجاب یونیورسٹی: احتجاج میں بیٹھے بلوچ طلبا پر انتظامیہ کا تشدد

موسمیاتی تبدیلی کے باعث کپاس کی کم ہوتی پیداوار

گوادر کی شو پیس کشتیاں: ہنر اور تعلیم ساتھ ساتھ