سیاسی کھیل میں فٹ بال بنا سپورٹس کمپلیکس: نارووال کے سپورٹس سٹی پر اور کتنے ارب روپے لگیں گے؟

postImg

عابد محمود بیگ

postImg

سیاسی کھیل میں فٹ بال بنا سپورٹس کمپلیکس: نارووال کے سپورٹس سٹی پر اور کتنے ارب روپے لگیں گے؟

عابد محمود بیگ

نارووال کا سپورٹس سٹی کمپلیکس گھاس پھوس اور خودرو پودوں کی بہتات کی وجہ سے بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا ہے۔

نارووال وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال کا شہر ہے۔ انہوں نے 2009ء میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے سپورٹس سٹی نارووال کا میگا پروجیکٹ منظور کروایا تھا۔ اس میں کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، بیڈ منٹن، لانگ ٹینس، بالی بال، باسکٹ بال، جمنیزیم اور سوئمنگ پول سمیت دیگر کھیلوں کے میدان تعمیر کیے جانا تھے۔

اس وقت پروجیکٹ کی تعمیر پر ایک ارب 75 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ منصوبے کے لیے نارووال سے دو کلو میٹر دور مریدکے روڈ پر 46 ایکڑ اراضی خریدی گئی اور 2009ء میں ہی اس کی چار دیواری کی تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔

لیکن پھر فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے منصوبہ سست روی کا شکار ہو گیا۔

ضلع نارووال کی آبادی 17 لاکھ سے زائد ہے جس کا 85 فیصد دیہات میں رہتا ہے۔ ضلعے میں کھیلوں کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

2013ء میں ن لیگ کی حکومت آئی تو احسن اقبال نے دوبارہ منصوبے  پر کام شروع کروا دیا۔

پروجیکٹ کی تعمیر میں تاخیر اور مہنگائی کی وجہ سے لاگت کا تخمینہ بھی بڑھ گیا تھا۔ 2018ء تک منصوبے کی تعمیر پر تقریبا چار ارب روپے کی لاگت سے 85 فیصد سے زائد تعمیراتی کام مکمل ہو چکے تھے اور تکمیل کے لیے مزید 70 کروڑ روپے درکار تھے جس سے یہ پروجیکٹ 31 دسمبر 2018ء تک مکمل ہو جاتا۔

مگر 2018ء میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی پروجیکٹ کے تعمیراتی فنڈز روک لیے گئے۔

پاکستان تحریک انصاف نے منصوبے میں مبینہ کرپشن کے الزامات پر تحقیقات شروع کروا دیں اور 2019ء میں احسن اقبال کو گرفتار کر لیا گیا۔کرپشن کیسیز کی تحقیقات میں تین سال گزر گئے۔

<p>2018ء میں اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے صرف 70 کروڑ روپے درکار تھے جو اب بڑھ کر  تین ارب 10 کروڑ روپے ہو چکے ہیں<br></p>

2018ء میں اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے صرف 70 کروڑ روپے درکار تھے جو اب بڑھ کر  تین ارب 10 کروڑ روپے ہو چکے ہیں

سپورٹس سٹی کا تعمیراتی کام رک جانے کی وجہ سے 50 کروڑ روپے کا آسٹروٹرف جو ہاکی اسٹیڈیم میں بچھایا جانا تھا، ڈبوں میں بند پڑے پڑے زائد المیعاد ہو گیا ہے۔

فٹ بال کے میدان کے اطراف میں کھلاڑیوں کے لیے جوگنگ ٹریک بنانے کے لیے مختلف تعمیراتی سامان اور کیمیکلز منگوائے گئے تھے۔ تعمیراتی سامان تو آہستہ آہستہ چوری ہو گیا اور کیمیکلز ڈرموں میں ہی خراب ہوگئے۔

اِن ڈور کھیلوں کے وہ کورٹس جن کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی ان کی کھڑکیاں دروازے اور شیشے ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں۔ جمنیزیم ہال میں امپورٹیڈ وڈ ورک بھی بارشوں اور عدم توجہ کی وجہ سے خراب ہو چکا ہے۔

کھیلوں کا ہر سٹیڈیم ایک مکمل پیکج کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ سٹیڈیم کے ساتھ واش رومز اور بجلی کی فراہمی کے لیے معیاری انتظامات رکھے گئے ہے۔

سپورٹس سٹی میں ایک ہی وقت میں 14 مختلف کھیلوں کے میچز کروانے کے انتظامات موجود ہیں۔ کھلاڑیوں کے لیے کیفیٹیریا، مسجد اور رہائشی اپارٹمنٹ تعمیر کئے گئے ہیں لیکن ہر طرف اجاڑ نظر آتا ہے۔

شاہد حسین تجربہ کار سپورٹس مین اور ایک کرکٹ کلب کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سپورٹس سٹی میں 2018ء کے آغاز پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے ایک نمائشی میچ کھیلا تھا جس میں قومی ٹیم کے تین سابق کپتانوں نے بھی شرکت کی تھی۔ "سابق صدر پاکستان ممنون حسین نمائشی کرکٹ میچ دیکھنے نارووال آئے تھے"۔

شاہد حسین افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں کھیلوں کے میدانوں پر بھی سیاست کی جا رہی ہے۔"منصوبہ وقت پر مکمل ہو جاتا تو پی ایس ایل کے تمام میچز عرب ممالک کی بجائے پاکستان میں نارووال کی سر زمین پر بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو رہے ہوتے"۔

<p>50 کروڑ روپے کا آسٹروٹرف جو ہاکی اسٹیڈیم میں بچھایا جانا تھا، ڈبوں میں بند پڑے پڑے خراب ہو گیا ہے۔<br></p>

50 کروڑ روپے کا آسٹروٹرف جو ہاکی اسٹیڈیم میں بچھایا جانا تھا، ڈبوں میں بند پڑے پڑے خراب ہو گیا ہے۔

خالد پرویز کی عمر 60 سال ہے اور وہ نوجوانوں کے ساتھ ہاکی کھیلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی کشمکش کی وجہ سے نہ صرف پیسے کا ضیاع ہوا بلکہ علاقہ صحت مند سرگرمیوں سے بھی محروم رہا ہے۔

سپورٹس سٹی نارووال منصوبے میں کرپشن کے کیسیز کے خاتمے پر احسن اقبال نے دوبارہ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے پاکستان سپورٹس بورڈ کی ٹیکنیکل ٹیم سے تخمینہ لگوایا ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ 2018ء میں سپورٹس سٹی کے منصوبہ کی تکمیل کے لیے صرف 70 کروڑ روپے کی ضرورت تھی اور اب اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے تین ارب 10 کروڑ روپے درکار ہیں۔

"خود کو سپورٹس مین کہنے والے کپتان نے نوجوانوں سے کھیلوں کے میدان چھین لیے اور ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا"۔

انہوں نے کہا کہ سپورٹس سٹی کی تعمیر پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا اور آئندہ چھ ماہ کے دوران منصوبے کو مکمل کر لیا جائے گا۔

ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر رانا محمد اصغر کو احسن اقبال کی بات پر مکمل یقین ہے اور وہ  پر امید ہیں کہ منصوبے پر جلد ہی کام کا آغاز ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپورٹس سٹی مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ کوچ رکھے جائیں گے جو  کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

چلو چلو کوریا چلو: نارووال سے جنوبی کوریا، نان سٹاپ

محمد عابد کھیلوں کا سامان فرخت کرتے ہیں۔ وہ اس انتظار میں ہیں کہ کب سپورٹس سٹی کا منصوبہ مکمل ہو تاکہ وہ اپنا کاروبار پھیلا سکیں۔

مگر ان کا خواب جلد پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔

احسن اقبال نے نومبر 2022ء میں متعلقہ حکام کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں منصوبے کی تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سات ماہ گزر جانے کے باوجود منصوبے میں عدم پیشرفت وزارت بین الصوبائی رابطہ وزارت آئی پی سی کے غیر سنجیدہ رویے کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ منصوبہ 23 مارچ 2023ء کو فعال کرنے کی ہدایت کی تھی۔

لیکن ابھی دِلی بہت دور نظر آتی ہے۔

تاریخ اشاعت 25 فروری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عابد محمود بیگ 30 سالوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اردو انگلش الیکٹرانک میڈیا کی صحافت اور انویسٹیگیش نیوز سٹوری پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: نور کاتیار

ارسا ترمیم 2024: مسئلے کا ایک حصہ: محمود نواز شاہ

thumb
سٹوری

پرائیویٹ سکول میں تعلیم: احساس برتری یا کچھ اور ؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمعظم نواز

خیبر پختونخوا: پانچ اضلاع کو جوڑنے والا رابطہ پُل 60 سال سے تعمیر کا منتظر

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: محمود الحق

ارسا ترمیم اور کارپوریٹ فارمنگ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ فضلِ رب

thumb
سٹوری

الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کتنی کمی آئے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

خیبر پختونخوا: نصاب میں نفرت پڑھا کر محبت نہیں سکھائی جا سکتی

thumb
سٹوری

عیسک خماری میں اب کیوں کوئی نہیں کہتا: بجلی لاڑہ بجلی راغلہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ارسا آرڈیننس: دریائے سندھ سے جڑی ایکولوجی، ماہی گیروں اور چھوٹے کسانوں کے لیے خطرہ، فاطمہ مجید

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: فرحت اللہ بابر

تھرپارکر: صحرا ہے کہ پھولوں کی نمائش

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.