پلی بارگین: چوری کے مال کی واپسی یا مزید چوری کی ترغیب؟
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

پلی بارگین: چوری کے مال کی واپسی یا مزید چوری کی ترغیب؟

محمد فیصل

postImg

پلی بارگین: چوری کے مال کی واپسی یا مزید چوری کی ترغیب؟

محمد فیصل

مارچ 2018 میں ایک رات دو بج کر 25 منٹ پر فہیم خان* اپنے کمرے کے دروازے پر دستک سن کر جاگ جاتے ہیں۔ جب وہ دروازہ کھولتے ہیں تو انہیں دو افراد پستول تانے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں کچھ کاغذات ہیں جن پر فہیم خان کی تصویر ہے۔ مسلح افراد اس تصویر کا ان کے چہرے سے موازنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں 'فہیم خان کہاں ہے؟'

فہیم خان جواب دیتے ہیں 'وہ تو پشاور جا چکا ہے'۔

مسلح افراد کمرے کی تلاشی لینا شروع کر دیتے ہیں۔ فہیم خان سمجھتے ہیں کہ وہ طالبان دہشت گرد ہیں جنہوں نے چند روز پہلے اسی علاقے سے رات کے وقت دو افراد کو اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔

دونوں مسلح افراد تلاشی لینے کے بعد انہیں بتاتے ہیں کہ ان کا تعلق قومی احتساب بیورو (نیب) سے ہے۔ یہ سن کر فہیم کی جان میں جان آتی ہے اور وہ انہیں کہتے ہیں کہ 'میں ہی فہیم خان ہوں، مگر آپ لوگ کسی وارنٹ کے بغیر کیسے میرے گھر کی دیوار پھاند کر اندر آئے؟ اگر میں دروازہ کھولنے سے پہلے پستول اٹھا لیتا اور آپ لوگوں کو چور، ڈاکو یا طالبان سمجھ کر ہلاک کر دیتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟'

نیب اہلکار انہیں بتاتے ہیں کہ انہوں نے یہ کارروائی انہیں گرفتار کرنے کے لیے کی ہے۔ فہیم خان ان اہل کاروں کے ساتھ چل دیتے ہیں جو انہیں ایک ڈبل کیبن پک اپ وین میں بٹھا کر خیبر پختونخوا کے ایک شمالی شہر میں واقع ان کے گھر سے پشاور روانہ ہو جاتے ہیں۔

نیب کے دفتر پہنچنے پر انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے خلاف خیبر پختونخوا پروکیورمنٹ رولز  کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے بنائے گئے سرکاری منصوبوں کے ٹھیکے دینے کا الزام ہے۔ فہیم خان (جو ایک سرکاری ملازم ہیں) جواباً نیب حکام سے کہتے ہیں کہ ہنگامی حالت میں یہ رولز معطل کیے جا  سکتے ہیں کیونکہ ایسی صورتحال میں لوگوں کو سہولتیں اور امداد پہنچانے کے لئے دِقت طلب ٹینڈروں کے جھنجھٹ میں پڑنا درست نہیں ہوتا۔ فہیم خان یہ وضاحت بھی کرتے ہیں چونکہ متنازعہ ٹھیکے کی مالیت دس کروڑ سے کم ہے اس لئے قانون کی رو سے نیب اس معاملے کی تحقیقات کر ہی نہیں سکتا۔

ان کے اس دعوے کی بنیاد نیب کے سابقہ چیئرمین قمر زمان چودھری کا ستمبر 2016 میں کیا گیا یہ اعلان ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نیب دس کروڑ سے کم مالیت کی مالی بے ضابطگی کی تحقیق اور تفتیش نہیں کرے گی۔

اس کے بعد کیا ہوا اس کے بارے میں سجاگ سے بات کرتے ہوئے فہیم خان کہتے ہیں: 'نیب حکام نے پہلے میری گرفتاری ڈالی اور اگلے دن میری گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا حالانکہ میں پہلے ہی نیب کی قید میں تھا۔ وارنٹ پہلے نہ جاری کرنے کے پیچھے یہ منطق تھی کہ کہیں میں ضمانت قبل ازگرفتاری نہ کروا لوں۔ اگرچہ اس طرح وارنٹ جاری کرنا ملکی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے'۔

نیب کی حراست میں اپنے تجربات کے بارے میں ان کا کہنا ہے: 'حوالات میں ہر قیدی کو قطار میں بنے علیحدہ کمروں میں رکھا گیا تھا جہاں کسی قیدی کو سونے کے لیے دو پتلی چادریں دینا بہت بڑی عنایت تصور کی جاتی تھی۔ یہ چادریں سرکاری سکولوں کے کمرہ جماعت میں بچھائے جانے والے ٹاٹ سے مشابہ تھیں۔ کھانے کے لئے صرف ایک روٹی دی جاتی تھی جبکہ دوبارہ کھانا مانگنے پر گالیاں سننا پڑتی تھیں۔ قیدیوں کو ایک دوسرے سے بات چیت کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔

ایک مرتبہ فہیم خان کے ساتھ والے کمرے میں قید شخص نے اپنی آدھی روٹی فہیم خان کو دے دی تو ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے نہ صرف وہ روٹی واپس لے لی بلکہ انہیں برا بھلا بھی کہا۔

فہیم خان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ 'قیدیوں کو مہیا کئے جانے والے کھانے اور دیگر لوازمات جیسا کہ شیونگ کِٹ وغیرہ کے پیسے بھی قیدیوں سے ہی لئے جاتے تھے'۔

اگرچہ انہیں نیب کی قید میں جسمانی تشدد کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن وہ کہتے ہیں کہ قیدیوں پر ذہنی تشدد نیب کا وطیرہ ہے۔ 'انہیں رات گئے نیند سے جگا کر تفتیش کی جاتی ہے۔ ایسے میں بعض نیب حکام بظاہر ہمدرد بن کر قیدیوں کو سمجھاتے ہیں کہ اگر وہ اپنا جرم قبول کر لیں تو انہیں اس اذیت سے نجات مل جائے گی

فہیم خان بتاتے ہیں کہ انہیں بھی ایک سیاستدان کے بیٹے کے خلاف بیان دینے کے لئے کہا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں: 'مجھے ایک کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا جاتا اور یہ یقین دہانی کروائی جاتی کہ اگلے ہی لمحے مجھے رہا کر دیا جائے گا'۔

فہیم خان اب ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں تاہم ان0 کے خلاف نیب کا مقدمہ ابھی تک پشاور کی ایک احتساب عدالت میں چل رہا ہے۔

پلی بارگین اور رقم کی رضاکارانہ واپسی

نیب نے متعدد بار فہیم خان کو اپنا 'جرم قبول کرنے' کے بدلے میں رہائی کی پیشکش کی۔ انہیں کہا گیا کہ وہ نیب سے معاملہ طے کر لیں اور مبینہ طور پر خُورد برد کی ہوئی رقم واپس کر کے گھر چلے جائیں۔ ایک اور موقع پر انہیں ایک سادہ کاغذ پر دستخط کرنے کے بدلے میں بھی رہائی کا لالچ دیا گیا۔

ایسی پیش کشیں قریب قریب ہر ملزم کو کی جاتی ہیں لہٰذا جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ عدالت میں نیب کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی صفائی نہیں پیش کر پائیں گے ان میں سے کئی ایک یا تو پلی بارگین کر لیتے ہیں یا رضاکارانہ طور پر کرپشن کی رقم واپس کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔

نیب کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 میں اس نے پلی بارگین کے ذریعے تین ارب بیاسی کروڑ، ستر لاکھ روپے واپس لیے ہیں۔

پلی بارگین سے متعلق نیب آرڈیننس کی دفعہ 25 دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ رقم کی رضاکارانہ واپسی یا 'والنٹری ریٹرن' کے بارے میں ہے اس کے مطابق اگر کسی شخص کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ہیں اور یہ معاملہ ابھی انکوائری تک ہی محدود ہے تو اس دفعہ کے تحت ملزم کے پاس اختیار ہے کہ وہ انکوائری کے دوران کسی بھی مرحلے میں رضاکارانہ طور پر مبینہ طور پر کرپشن کے ذریعے بنائی گئی رقم واپس کر سکتا ہے جس کے بعد اسے کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

دوسرے حصے کے مطابق اگر کوئی معاملہ انکوائری سے تفتیش کے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے تو اس دوران ملزم کو رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنے کی سہولت نہیں دی جاتی بلکہ اس کے ساتھ پلی بارگین کا معاہدہ کیا جاتا ہے۔

یہ دفعہ 2002 میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں نیب آرڈیننس میں شامل کی گئی۔ اس کے تحت کسی ملزم کو پلی بارگین کرنے یا رضاکارانہ طور پر کرپشن کی رقم واپس کرنے کی سہولت دینے کا اختیار نیب کے چیئرمین کے پاس ہے۔ اگر چیئرمین نیب کسی قیدی کی درخواست پر اسے ان میں سے ایک سہولت سے فائدہ اٹھانے کی منظوری دے دیتے ہیں تو نیب اس کی فوری رہائی کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کرتی ہے۔

اس عمل کے دوران قیدی سے حاصل ہونے والی رقم نیشنل بینک آف پاکستان میں چیئرمین نیب کے سرکاری اکاؤنٹ میں جمع کرائی جاتی ہے۔

ابتدائی طور پر والنٹری ریٹرن اور پلی بارگین میں یہ فرق تھا کہ پہلی صورت میں ملزم کو اتنی ہی رقم واپس کرنا ہے جتنی اس نے مبینہ طور پر خوردبرد کی ہے لیکن دوسری صورت میں اسے 15 فیصد اضافی جرمانہ بھی ادا کرنا ہے۔

تاہم نیب کے قانون میں کچھ حالیہ تبدیلیوں کے بعد پلی بارگین کی صورت میں ملزم کو اب کچھ مزید قانونی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ اگر ملزم سرکاری ملازم ہے تو اس کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اگر ملزم منتخب عہدیدار ہے تو اسے اپنا عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے اور وہ مخصوص مدت تک الیکشن لڑنے اور بینک سے قرض لینے کا اہل بھی نہیں رہتا۔

نیب دستاویزات کے مطابق نیب نے صرف یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2019 تک 1754 کیسز میں پلی بارگین کی ہے جبکہ اسی عرصے میں نیب نے 741 مقدمات میں ’والنٹری ریٹرن کے ذریعے ملزمان سے پیسے وصول کیے ہیں۔

پلی بارگین کا ایک بہت بڑا کیس گزشتہ دنوں نیوز میڈیا پر آیا ہے جس میں نجی رہائشی منصوبے تعمیر کرنے والی کمپنی بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کے داماد زین ملک نے چھ مقدمات میں نیب کو نو ارب پانچ کروڑ اورپانچ لاکھ روپے ادا کرنے کی حامی بھری ہے تاکہ نیب ان کے خلاف چلائے جانے والے مقدمات بند کر دے جن میں کراچی میں واقع بحریہ آئیکون ٹاور، کراچی میں واقع پنک ریذیڈنسی، بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور گالف سٹی مری میں زمین کی خرید و فروخت اور رقم کے لین دین کے معاملات شامل ہیں۔ اس کیس کو نیب کی جانب سے کسی اکیلے ملزم کے ساتھ کی گئی سب سے بڑی پلی بارگین سمجھا جاتا ہے۔

اس سے پہلے اکتوبر 2019 میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید سمیت آٹھ ملزموں نے 11 ارب 16 کروڑ روپے میں نیب کے ساتھ پلی بارگین کی۔ ان لوگوں کے خلاف کراچی میں واقع سٹیل ملز کی زمین جعلی نیلامی کے ذریعے سستے داموں حاصل کرنے کا الزام تھا۔

پلی بارگین کا ایک اور مشہور کیس لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) زاہد علی اکبر کا ہے جو 1980 اور 1990 کی دہائی میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور واپڈا کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ ان پر ملازمت کے دوران کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کا الزام تھا۔ 2014 میں انہیں انٹرپول کے ذریعے یورپ سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد انہوں نے کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے نیب کے ساتھ 20 کروڑ روپے میں پلی بارگین کر لی۔

پلی بارگین کے قانون پر تنقید اور سپریم کورٹ کے تحفظات

پلی بارگین کی پالیسی قانونی حلقوں کی کڑی تنقید کا ہدف رہی ہے۔ مثال کےطور پر نیب کے قوانین پر گہری نظر رکھنے والے وکیل امجد پرویز نے ایک حالیہ انٹرویو میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر کسی نے نیب کو پیسے واپس کیے ہوں تو وہ قصوروار بھی ہو۔ زیادہ تر لوگ طویل قانونی جنگ میں الجھنے کے بجائے کچھ رقم دے کر جان  چھڑا لیتے ہیں'۔

سپریم کورٹ نے بھی متعدد مواقع پر کہا ہے کہ پلی بارگین کرپشن کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دینے اور چوری کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے۔ ستمبر 2017 میں بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی نیب سے پلی بارگین سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ نے نیب کی سرزنش کرتے ہوئے اس معاملے میں چیئرمین نیب کو حاصل اختیارات کو معطل کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے پلی بارگین کو کرپشن کی ترغیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کے مطابق کیسے ایسے ملزم سے پلی بارگین نہیں کی جا سکتی جس سے کرپشن کے ذریعے بنائی گئی رقم پہلے ہی برآمد ہو چکی ہو۔

اس مشہور کیس میں مئی 2016 میں مشتاق رئیسانی  کے گھر سے 23 لاکھ امریکی ڈالر، 15 ہزار برطانوی پاؤنڈ، 16 ہزار سعودی ریال، پرائز بانڈ، 70 کروڑ پاکستانی روپے اور اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کے کاغذات برآمد ہوئے تھے۔ نیب کی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ انہوں نے مبینہ طور پر کرپشن کے ذریعے چھ ار ب روپے سے زیادہ  اثاثے جمع کیے۔

اس کیس کے بعد نیب قانون میں 2017 میں ایک ترمیم کی گئی جس کے ذریعے پلی بارگین کو احتساب عدالت کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا۔ تبدیل شدہ قانون میں یہ شقیں بھی ڈالی گئیں کہ پلی بارگین کرنے والا شخص عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار پائے گا جبکہ ایسا کرنے والا سرکاری ملازم اپنی نوکری پر برقرار نہیں رہے گا۔ اس کے باوجود پلی بارگین پر تنقید کم نہ ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

افغانستان میں طالبان کے آنے سے طورخم بارڈر کے آر پار لوگوں اور تجارتی سامان کی آمدورفت شدید مشکلات کا شکار۔

جنوری 2020 میں چیف جسٹس گلزار احمد کی قیادت میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے نیب قوانین سے متعلق لیے گئے از خود نوٹس پر سماعت کرتے ہوئے پلی بارگین کی شق 25 اے میں تین ماہ کے اندر اندر ترمیم کا حکم دیا۔ اس شق کے تحت کرپشن کے ملزمان والنٹری ریٹرن کی سہولت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ نیب قانون کی یہ شق آئین کے خلاف اور کرپشن کو فروغ دینے کا باعث ہے۔

نتیجتاً حکومت نے اس شق کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عندیہ دیا۔ تاہم حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں اس تبدیلی پر اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ تاحال جوں کا توں ہے۔ 

نیب کے ترجمان نوازش علی خان نے سجاگ کو بتایا کہ ان کا ادارہ اس ترمیم کی غیر موجودگی میں بھی ملزمان کو والنٹری ریٹرن کی سہولت نہیں دے رہا یہی وجہ ہے کہ بد عنوانی سے حاصل کردہ رقم کی رضاکارانہ واپسی کے کیسز (741) کے مقابلے میں پلی بارگین کے کیسز (1754) کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: 'نیب نے لوٹی گئی رقوم کی رضاکارانہ واپسی کی پیشکش قبول نہیں کر رہا اور اس کی توجہ پلی بارگین کے کیسز پر ہے جن میں مجرم کو رہا کیے جانے کے باوجود اس کی سزا ختم نہیں ہوتی'۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پلی بارگین اور والنٹری ریٹرن جیسی رعایتوں سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں میں زیادہ تر سرکاری ملازمین اور کاروباری افراد ہوتے ہیں جو، امجد پرویز کے بقول، عدالتوں کے جھنجھٹ میں پڑنے سے کتراتے ہیں۔ ان سہولتوں سے فیض یاب ہونے والے لوگوں میں سیاست دانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پلی بارگین کرنے والا کاروباری فرد اپنے خلاف کیس واپس لیے جانے کے بعد دوبارہ کاروبار  کر سکتا ہے اور سرکاری ملازم بھی کسی نہ کسی صورت میں نجی شعبے میں دوبارہ نوکری حاصل کر سکتا ہے لیکن جب کوئی سیاستدان ایسی ڈیل کر لے تو اسے اپنے اوپر بدعنوانی کا لیبل لگنے اور مستقل طور پر اپنی سیاسی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

* فرضی نام

نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں لاہور سے تنویر احمد، پشاور سے غلام دستگیر اور اسلام آباد سے قاسم عباسی نے حصہ لیا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 1 اکتوبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 24 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فیصل صحافی، محقق اور مترجم ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔