باجرے نے تاریخ کو شکست دی اور اب وہ موسمیاتی تغیرات سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار ہے؟

postImg

آصف ریاض

postImg

باجرے نے تاریخ کو شکست دی اور اب وہ موسمیاتی تغیرات سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار ہے؟

آصف ریاض

'میں باجرے کے ہاتھوں ہندوستان کی سلطنت کھو چلا تھا' یہ بات شیر شاہ سوری سے منسوب ہے جو 1543ء میں راجستھان کے علاقے مارواڑ میں راجپوتوں کی ایک طاقتور فوج سے نبردآزما تھے۔ جنگ چھڑے ایک ماہ ہو چکا تھا، سوری کے فوجی غذائی مسائل کے باعث کمزور ہوتے جارہے تھے لیکن دوسری جانب راجپوت فوجی تگڑے اور تازہ دم تھے اور اس کا راز یہ تھا کہ وہ باجرے کی روٹی کھاتے تھے۔

شیر شاہ سوری نے بروقت کمک ملنے پر راجپوتوں کو ایک گھمسان کی جنگ کے بعد شکست تو دے دی لیکن باجرے کے غذائی خواص نے انہیں 'فتح' کر لیا۔

باجرے کی یہ فتح تادیر قائم رہی لیکن پھر جب انگریزوں کے دور میں ہماری زراعت میں بڑی تبدیلیاں آئیں تو باجرہ آہستہ آہستہ ماضی کے قصوں، ٹپوں اور گیتوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔

لیکن باجرہ بہت سخت جان ثابت ہوا، اس کی شکست عارضی ثابت ہوئی ہے کیونکہ اب اقوامِ متحدہ نے اس کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے 2023ء کو مِلٹس کا سال قرار دے دیا ہے۔

'مِلٹس' باجرے، جوار اور اس طرح کی چھوٹے دانوں والی اجناس کا اجتماعی انگریزی نام ہے۔ 

بھارت اس سے پانچ سال قبل ہی ملِٹس کا قومی سال منا چکا ہے۔ وہاں سرکاری سطح پر 'سمارٹ فوڈ' کے نام سے ایک مہم چلائی جارہی ہے جس کا نعرہ ہے 'باجرہ: آپ کے لیے اچھا، دنیا کے لیے اچھا اور چھوٹے کسانوں کے لیے اچھا'۔

بھارتی حکومت باجرے اور جوار کو پھر سے مقبول بنانا چاہتی ہے۔ کئی ریاستوں میں باجرے اور جوار کا آٹا لوگوں کو ایک روپے کلو دیا جا رہا ہے اور سکولوں میں بچوں کے کھانے کے لیے بھی یہ آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔

باجرے کی واپسی کیسے ممکن ہوئی؟

یہ صدی دنیا بھر کے غذائی ماہرین اور پالیسی ساز اداروں کے لئے ایک دوہرا چیلنج لے کر آئی ہے۔ ایک طرف تو دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کا چیلنج ہے اور دوسری جانب موسمیاتی تغیر کے باعث دنیا کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں آنے والا بے ہنگم اتارچڑھاؤ ہے۔

ورلڈ بنک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو آئندہ سالوں میں پہلے سے زیادہ گرم موسم کا سامنا کرنا پڑ ے گا۔ درجہ حرارت میں اضافے سے پانی کی دستیابی کم ہوجائے گی جو طویل خشک سالی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ موسم کی شدت کی وجہ سے ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم گلیشیئرز کے پگھلنے میں تیزی آسکتی ہے، جس سے دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی آئے گی اور مزید سیلاب آنے کے خدشات ہیں جو زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کریں گے۔

باجرہ اور جوار سخت جان فصلیں ہیں۔ ان کو سخت گرم موسم اور کم زرخیز مٹی میں بھی کامیابی سے اُگایا جا سکتا ہے۔ جن حالات میں گندم، چاول اور مکئی جیسی فصلیں زمین سے سر نکالنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہیں، باجرہ وہاں بھی خوشی، خوشی پھلتا پھولتا ہے۔ اس میں بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف قوت مدافت بھی زیادہ ہے جس کے باعث کیڑے مار ادویات کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ 

پاکستان میں باجرے پر تحقیق کرنے والے ادارے ایوب ایگری کلچر میز اینڈ مِلٹس ریسرچ انسٹیٹوٹ کے سائنسدان محمد حسنین بھٹی کہتے ہیں کہ باجرہ اور جوار موسمیاتی تغیرات کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت رکھنے والی فصلیں ہیں۔ ان کی یہ صلاحیت قدرتی ہے، وہ یہ بات اس مثال کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ دوسری فصلوں کے (زیادہ مزاحمت والے) بہتر بیج بنانے کے لئے سائنسدان باجرہ اور جوار کے جینز کا مطالعہ کرتے ہیں اور بعض فصلوں کے بیجوں میں تو انہیں استعمال بھی کیا گیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ یہ قلیل مدتی فصلیں ہیں جو 90 دن میں تیار ہو جاتی ہیں اور اس کی بعض اقسام کو تو 60 دنوں میں بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ پھر مِلٹس جلد خراب بھی نہیں ہوتے اور انہیں دو سے تین سال تک ذخیرہ کیا جاسکتا ہے اسی لیے ان کے ذخائر کو قحط کے تریاق کا درجہ دیا جاتا ہے۔

مزید یہ ہے کہ باجرہ اور جوار کی فصلیں پانی کی کمی کو بھی برداشت کر لیتی ہیں۔ محمد حسنین بھٹی کے موقف کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ پاکستان میں آج بھی باجرہ اور جوار زیادہ تر غیر آبپاش یا صحرائی علاقوں میں کاشت کئے جاتے ہیں۔

'دنیا میں اس سے اچھی خوراک نہیں ہے'

زرعی تحقیقاتی ادارے ایوب ایگری کلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ایگرانومی ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سائینٹسٹ ڈاکٹر عصمت اللہ کہتے ہیں کہ 60 کی دہائی میں'سبز انقلاب' کے بعد مکئی اور چاول کی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام آگئیں، مزید نہریں بھی بن گئیں اور دیگر سہولیات بھی عام ہو گئیں جس سے کسانوں کا رجحان زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی طرف ہوگیا۔

قیام پاکستان سے اب تک پاکستان میں باجرے اور جوار کی فصلوں کے زیر کاشت رقبے میں چار سو فیصد کمی آئی ہے اور مکئی اور چاول کا زیر کاشت لگ بھگ اتنا ہی بڑھا ہے۔

ڈاکٹر عصمت اللہ کہتے ہیں کہ جب چاول اور مکئی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر تھی تو باجرہ اور جوار 50 فیصد لوگوں کی خوراک کا حصہ تھا جو 70 کی دہائی تک 20 فیصد رہ گیا اور اس کے بعد ہماری خوراک سے مکمل طور پر غائب ہو گیا۔

ان کے خیال میں ان تبدیلیوں کے پیچھے ریاستی پالیسیوں کا ہاتھ ہے جو چاول، مکئی اور گنے کی فصلوں کے حق میں ہیں۔

اس تبدیلی نے باجرے اور جوار کے بارے میں ایک مغالطے کو بھی جنم دیا اور عام لوگ اسے گندم اور چاول کے مقابلے میں غذائی اعتبار سے کمتر سمجھنے لگے۔ 

اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کے مطابق مِلٹس بڑے اناجوں میں سب سے زیادہ غذائیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر عصمت اللہ اس کی تائید کرتے ہیں، ان کے خیال میں بھی باجرہ اور جوار، غذائی اعتبار سے گندم، چاول اور مکئی میں سب سے آگے ہے۔ "بس ہمارے منہ کا ذائقہ نہیں بنا اگر یہ ذائقہ بن جائے تو دنیا میں اس سے اچھی خوراک نہیں ہے"۔

باجرے اور جوار میں نشاستہ (سٹارچ) گندم اور چاول کے مقابلے میں کم ہے۔ ڈاکٹر عصمت کہتے ہیں جس خوراک میں سٹارچ زیادہ ہو وہ شوگر، بلڈ پریشر اور موٹاپے جیسی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔

باجرہ اور جوار گلوٹن فری بھی ہیں ہے اور گلوٹن معدے اور آنتڑیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

باجرے کی کچھ اقسام میں میتھیونین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ایک اہم امینو ایسڈ ہے جس کی لاکھوں غریبوں کی خوراک میں کمی ہے۔ پھر ان میں کسی بھی اناج کی نسبت آئرن کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے اور آئرن کی کمی بھی غریب بچوں اور عورتوں میں بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

قومی نیوٹریشن سروے 2018ء کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 18 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

پاکستان اپنے 'باجرے کی راکھی' کب کرے گا؟

ڈاکٹر عصمت اللہ کہتے ہیں کہ اب شہروں کے ڈاکٹرز اپنے مریضوں کو گندم کے آٹے میں باجرے یا اس طرح کی دوسرے اجناس کو شامل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں، جس کے باعث ان کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

باجرے کی طلب میں اضافے کا رجحان عالمی ہے۔

بھارت دنیا میں سب سے زیادہ مِلٹس پیدا کرنے والا ملک ہے اور عالمی پیداوار میں اس کا حصہ 40 فیصد ہے۔ بھارت کے سرکاری ادارے پریس انفارمیشن بیوریو کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء میں مِلٹس کی عالمی برآمد جو 380 ملین ڈالر تھی وہ 2020ء میں بڑھ کر 466 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ مِلٹس مارکیٹ کا ایک حالیہ تجزیہ بھی عالمی طلب میں مسلسل اضافہ کی پیشین گوئی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

لوئر دیر میں مکئی کی کاشت پر پابندی: 'فصل نہ لگا سکنے کے باعث لوگ روٹی کو بھی ترس جائیں گے'۔

پاکستانی زرعی ماہرین کے خیال میں اس اضافے کا کارن محض یہ نہیں کہ اب اسے کھانا امیروں کا فیشن بن گیا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی خوراک ہے۔ ان حالات میں ماہرین اور پالیسی ساز باجرے اور جوار کو کسی ممکنہ غذائی بحران سے بچاؤ کا حل تصور کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عصمت اللہ باجرے کی بڑھتی ہوئی طلب پر خوش ہیں تو وہیں لیکن فکر مند بھی ہیں کیوں کہ ان کے بقول پاکستان میں باجرے اور جوار کی پیداوار آٹھ سے دس من فی ایکڑ ہے جو بہت ہی کم ہے۔ کسانوں کو جب زیادہ پیداوار دینے والا بیج ملے گا تو ہی وہ اس کی طرف آئیں گے۔ ان کے خیال میں پاکستان میں مِلٹس کے تحقیقاتی ادارے نے اس حوالے سے کوئی قابل قدر کام نہیں کیا ہے۔ ہاں البتہ ایک ہائبرڈ بیج بنایا ہے لیکن وہ بھی اتنا بہتر نہیں ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ کچھ سال پہلے تک پاکستان میں ایک امریکی کمپنی کا ہائبرڈ بیج زیادہ تر استعمال ہوتا تھا لیکن کچھ سال پہلے اس کمپنی نے اپنا دفتر بھارت منتقل کرلیا ہے اور پاکستان کی بھارت کے ساتھ تجارت بند ہونے کی وجہ سے وہ بیج اب یہاں دستیاب نہیں رہا۔

ڈاکٹر عصمت اللہ پُر امید ہیں کہ اگر حکومتی توجہ مل جائے تو آنے والے کچھ سالوں میں ہی پاکستان باجرہ اور جوار پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے ملکوں میں شامل ہوسکتا ہے۔

تاریخ اشاعت 26 جنوری 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: نور کاتیار

ارسا ترمیم 2024: مسئلے کا ایک حصہ: محمود نواز شاہ

thumb
سٹوری

پرائیویٹ سکول میں تعلیم: احساس برتری یا کچھ اور ؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمعظم نواز

خیبر پختونخوا: پانچ اضلاع کو جوڑنے والا رابطہ پُل 60 سال سے تعمیر کا منتظر

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: محمود الحق

ارسا ترمیم اور کارپوریٹ فارمنگ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ فضلِ رب

thumb
سٹوری

الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے فضائی آلودگی میں کتنی کمی آئے گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود

خیبر پختونخوا: نصاب میں نفرت پڑھا کر محبت نہیں سکھائی جا سکتی

thumb
سٹوری

عیسک خماری میں اب کیوں کوئی نہیں کہتا: بجلی لاڑہ بجلی راغلہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ارسا آرڈیننس: دریائے سندھ سے جڑی ایکولوجی، ماہی گیروں اور چھوٹے کسانوں کے لیے خطرہ، فاطمہ مجید

ارسا (ترمیمی) آرڈیننس 2024 اور اس کے اثرات: فرحت اللہ بابر

تھرپارکر: صحرا ہے کہ پھولوں کی نمائش

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.