لاہور پر زہریلے بادلوں کے سائے: 'لکھوڈیر میں کوڑے کی تلفی بڑے پیمانے پر میتھین کے اخراج کا باعث بن رہی ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

لاہور پر زہریلے بادلوں کے سائے: 'لکھوڈیر میں کوڑے کی تلفی بڑے پیمانے پر میتھین کے اخراج کا باعث بن رہی ہے'۔

فضا اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

لاہور پر زہریلے بادلوں کے سائے: 'لکھوڈیر میں کوڑے کی تلفی بڑے پیمانے پر میتھین کے اخراج کا باعث بن رہی ہے'۔

فضا اشرف

loop

انگریزی میں پڑھیں

ایک 22 سالہ ڈرائیور کوڑے کرکٹ سے بھرا ٹرک لے کر لاہور کے شمال مشرقی نواح میں واقع گاؤں لکھوڈیر کو جا رہا ہے۔ وہ اپنا ٹرک وہاں کوڑا تلف کرنے کے لیے مخصوص کردہ ایک سرکاری جگہ پر خالی کرے گا جو 131 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔

یہ اُس ڈرائیور کا روزانہ کا معمول ہے۔ وہ لاہور کے مختلف حصوں سے کوڑا اٹھاتا ہے اور اسے تلف کرنے کے لیے لکھوڈیر  لے جاتا ہے۔ ہر روز وہ اپنے کام کے دوران اس جگہ کے کئی پھیرے لگاتا ہے جبکہ ہر پھیرے میں اسے 45 منٹ لگتے ہیں۔

26 اپریل 2022 کے دن اسے شدید تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے اور وہ ہر پھیرے کے دوران ایک دو وقفے لے رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے کیونکہ لاہور دوماہ سے بھی کم عرصے میں گرمی کی دوسری شدید لہر کا سامنا کر رہا ہے۔

ٹرک خالی کرتے ہوئے ڈرائیور کو اپنے اردگرد پھیلے کوڑے کرکٹ کی سڑاند بالکل محسوس نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بدبو تیز ہونے کے باوجود صحت کے لیے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔

اس کے مقابلے میں یہاں سے نکلنے والی ایک بے بو گیس کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا نام میتھین ہے اور اس کا شمار ان گیسوں میں ہوتا ہے جن کی ماحول میں موجودگی حرارت کو اسی طرح روک لیتی ہے جس طرح بے موسمی سبزیاں اور پودے اگانے کے لیے بنایا گیا گرین ہاؤس حرارت اور روشنی کو اپنے اندر روکے رکھتا ہے۔ فضا میں جمع ہو جانے والی یہ حرارت موسمیاتی تبدیلی پر منفی طور سے اثر انداز ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی کے اثرات کی وجہ سے اس سال لاہور میں بہار کے موسم میں بھی اتنی ہی حدت تھی جتنی عام طور پر شدید گرمی کے مہینوں میں ہوتی ہے۔ 

میتھین کھانا بنانے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی قدرتی گیس کا بھی ایک بڑا جزو ہے اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں ماحولیاتی معاشیات پڑھانے والے سانول نسیم کے مطابق، ''موسمیاتی تبدیلی پر گرین ہاؤس گیسوں کے 20 سالہ اثرات کے حوالے سے یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نسبت 80 فیصد زیادہ خطرناک ہے''۔ ان کا کہنا ہے کہ کوڑا تلف کرنے کی جگہیں اور مال مویشی ماحول میں میتھین کے اخراج کے دو بڑے ذرائع ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ''جب کوڑا تلف کرنے والی جگہوں پر نامیاتی مادہ آکسیجن کی غیر موجودگی میں گلتا سڑتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی میتھین اسی مادے کی تہوں کے نیچے جمع ہوتی رہتی ہے اور بالآخر باہر نکل کر ماحول کا حصہ بن جاتی ہے۔ 

ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں سے متعلق معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے والی کینیڈا کی کمپنی جی ایچ جی سیٹ (GHGSat) کی جانب سے دنیا بھر میں میتھین کے اخراج سے متعلق جاری کردہ اعدادوشمار دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً 20 فیصد میتھین کوڑا تلف کرنے کی جگہوں پر بنتی ہے۔

دوسری جانب اس مسئلے کے حوالے سے دنیا بھر کی حکومتوں، نجی شعبے کے اداروں، ترقیاتی بینکوں اور غیرسرکاری اداروں کی طرف سے بنایا گیا گلوبل میتھین انیشی ایٹو نامی اشتراک کہتا ہے کہ 2010 میں دنیا بھر سے ماحول کا حصہ بننے والی میتھین گیس کا صرف 11 فیصد کوڑا کرکٹ تلف کرنے کے مقامات سے خارج ہوا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماحول کو نقصان پہنچانے میں کوڑے کا کردار کس تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ 

مہلک کُوڑا

لکھوڈیر میں کوڑا کرکٹ تلف کرنے کے لیے مخصوص کی گئی جگہ سرکاری ادارے نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) نے ترک کمپنی Cevka کے ماہرین کی مشاورت سے بنائی تھی۔ اس پر کام کا آغاز اپریل 2016 میں ہوا تھا اور اسے بنائے جانے کا مقصد یہ تھا کہ لاہور بھر سے جمع ہونے والے ایسے تمام کوڑے کو ایک جگہ جمع کیا جائے جسے نہ تو دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہو، نہ اسے کھاد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہو اور نہ ہی کسی اور پائیدار انداز میں سنبھالا جا سکتا ہو۔

نیدرلینڈز انسٹیٹیوٹ فار سپیس ریسرچ کے محقق بریم ماساکرز جیسے ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس جگہ اکٹھا کیا جانے والا کوڑا کرکٹ لاہور کی فضا میں بڑے پیمانے پر میتھین کے اخراج کا بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔ ان کے مطابق اس گیس کے کئی بادل وقتاً فوقتاً شہر کی فضا پر چھائے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ 

بریم ماساکرز نے یہ انکشاف گزشتہ سال ستمبر میں بلومبرگ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کیا تھا۔ اس سے چند ہی روز پہلے یورپی خلائی ادارے کی جانب سے خلا میں بھیجے گئے سینٹینل 5پی نامی مصنوعی سیارے نے 6 اگست 2021 کو لاہور پر میتھین کا بادل دیکھا تھا۔ 

حکومتوں، کاروباری کمپنیوں اور سرمایہ کاری کی عالمی منڈیوں کو توانائی اور ماحولیات سے متعلق ارضی تجزیہ فراہم کرنے والی بین الاقوامی کمپنی کے روس ایس اے ایس (Kayrros SAS) کی ویب سائٹ کے مطابق اس بادل سے میتھین کے اخراج کی شرح اندازاً ایک سو 26 میٹرک ٹن فی گھنٹہ یا ایک لاکھ 26 ہزار کلوگرام فی گھنٹہ تھی۔ 

اس کمپنی کے جمع کردہ اعدادوشمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہےکہ یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں تھا بلکہ 2019 اور 2020 میں لاہور کی فضا میں کم از کم 15 مرتبہ میتھین کے بادل دیکھے گئے تھے۔ ٹروپومی (TROPOMI) نامی مصنوعی سیارے کے جمع کردہ اعداوشمار کی رو سے ایسے ایک بادل سے میتھین کے اخراج کی شرح دو سو پانچ میٹرک ٹن فی گھنٹہ تھی۔

تاہم کے روس ایس اے ایس کے لیے کام کرنے والے ماہر ماحولیات کلیمنٹ گیرون کہتے ہیں کہ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ لکھوڈیر میں واقع کوڑا تلف کرنے کی جگہ ہی میتھین کے ان بادلوں کے وجود میں آنے کا واحد سبب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ''یہ بادل لاہور اور اس کے گردونواح میں کئی دیگر وجوہات کی بنا پر بھی بن سکتے ہیں جن میں کوڑا کرکٹ تلف کرنے والی جگہوں کے علاوہ پانی اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کی جگہیں، کوئلے کے ڈھیر، گیس کی تقسیم کا نظام اور زرعی سرگرمیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان تمام ذرائع سے خارج ہونے والی میتھین بالآخر اکٹھی ہو کر ایک بادل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔''

اس حوالے سے جی ایچ جی سیٹ کے زیرانتظام کام کرنے والے آئرس (IRIS) نامی مصنوعی سیارے کی جمع کردہ شہادتیں زیادہ واضح معلوم ہوتی ہیں۔ اس سیارے نے اکتوبر 2020 میں لکھوڈیر میں تلف شدہ کوڑے کے ڈھیر کے عین اوپر میتھین کے بادل منڈلاتے دیکھے تھے۔ 

کوڑے کی تلفی کے لیے مخصوص کی گئی اس جگہ کا انتظام لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کے پاس ہے جو یہ تسلیم کرتی ہے کہ اس مقام پر اکٹھی ہونے والی میتھین ہی ممکنہ طور پر فضا میں جا کر یہ بادل بنا رہی ہے۔ ایل ڈبلیو ایم سی کے پراجیکٹ مینیجر محمد سعد کہتے ہیں کہ اس کی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ اس جگہ پہلے دس سال میں جتنا کوڑا پھینکا جانا تھا اس سے تین گنا زیادہ پھینکا جا رہا ہے۔ دوسری یہ کہ مون سون کی بارشوں میں اس کوڑے کی میتھین میں تبدیلی کے لیے ایک سازگار ماحول بن جاتا ہے۔

ان کے مطابق چونکہ یہاں گنجائش سے زیادہ کوڑا ڈالا جا رہا ہے اس لیے میتھین کو محدود مقدار میں خارج کرنے کے لیے بنائے گئے سوراخ بند ہو جاتے ہیں۔ یوں گیس کوڑے کی کئی تہوں کے نیچے جمع ہوتی رہتی ہے لیکن اسے باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ نتیجتاً وقتاً فوقتاً وہ تمام رکاوٹیں توڑ کر بڑے مرغولوں کی شکل میں فضا میں پھٹ پڑتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایل ڈبلیو ایم سی اس مسئلے سے آگاہ ہے اور میتھین کو بادلوں کی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ستمبر 2021 میں ایک اہم قدم اٹھایا گیا اور لکھوڈیر میں کوڑا تلف کرنے کی جگہ پر میتھین کے اخراج کے لیے بنائے گئے سوراخوں کی صفائی کر کے انہیں کھول دیا گیا تھا۔ 

تاہم آئرس کے جمع کردہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید یہ سوراخ دوبارہ بند ہو گئے ہیں کیونکہ صرف اپریل 2022 میں ہی اس جگہ کے اوپر میتھین کے تین بادل دیکھے گئے تھے۔ ان میں سے 15 اپریل کو دکھائی دینے والا بادل ہر گھنٹے میں تقریباً 4.2 میٹرک ٹن (یا چار ہزار ایک سو 95 کلوگرام) میتھین خارج کر رہا تھا۔ 

ایل ڈبلیو ایم سی میں سینئر مینیجر کمیونیکیشن کے عہدے پر کام کرنے والے عمر چوہدری کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی لکھو ڈیر میں پیدا ہونے والی میتھین کو جلا کر ختم کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ اس طرح یہ گیس ''کم خطرناک'' ہو جائے گی۔ سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ایک کارآمد طریقہ ہو سکتا ہے۔ 

تاہم جب تک کمپنی ایسے کسی منصوبے پر کام شروع کرے گی اس وقت تک لکھوڈیر میں میتھین کے اخراج کے لیے بنائے جانے والے سوراخ کھلے رہنے کی صورت میں بہت کم مقدار میں یہ گیس خارج ہوتی رہے گی اور اگر یہ سوراخ بند ہو گئے تو یہ بڑے بادلوں کی صورت میں باہر آ کر ماحول کو بڑے پیمانے پر آلودہ کرتی رہے گی۔ اس کا یہی اخراج ایک اہم وجہ ہے کہ جی ایچ جی سیٹ کی جانب سے 2021 میں جاری کردہ مختلف شہروں کی ایک فہرست کے مطابق لاہور سب سے زیادہ میتھین خارج کرنے والے پانچ بڑے شہری مقامات میں شامل ہو چکا ہے۔

تاریخ اشاعت 13 جون 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فضا اشرف نے اقراء یونیورسٹی اسلام آباد سے عالمی تعلقات میں ایم ایس سی کیا ہے۔ وہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔