میشا شفیع بمقابلہ علی ظفر: جنسی ہراس کے مقدمات میں عدالتوں کو غیر مرئی ثبوتوں کی تلاش۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

میشا شفیع بمقابلہ علی ظفر: جنسی ہراس کے مقدمات میں عدالتوں کو غیر مرئی ثبوتوں کی تلاش۔

فریال احمد ندیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

میشا شفیع بمقابلہ علی ظفر: جنسی ہراس کے مقدمات میں عدالتوں کو غیر مرئی ثبوتوں کی تلاش۔

فریال احمد ندیم

loop

انگریزی میں پڑھیں

عفت عمر اکثر تنازعات میں گھری رہتی ہیں۔ 2019 اور 2020 کے درمیان کئی مہینے سجاگ کے پلیٹ فارم سے چلنے والا ان کا شو 'پاس کر یا برداشت کر' بھی متنازع ہونے کی بنا پر ہی مقبول تھا۔ اس شو میں وہ ایک بے لاگ انداز میں حکمران پاکستان تحریک انصاف کو اسی تندی سے تنقید کا نشانہ بناتی تھیں جس طرح وہ عورتوں سے نفرت اور ان کے خلاف جرائم سے متعلق بہت سے ایسے حقائق سے پردہ چاک کرتی ہیں جنہیں ہمارے معاشرے میں 'ممنوعہ موضوعات' سمجھا جاتا ہے۔

سینئر اداکارہ اور ماڈل ہونے کے ناطے عفت عمر کی اپنی ایک ذاتی اہمیت بھی ہے جس کی بنیاد پر ان کی بات لوگ توجہ سے سنتے ہیں۔ چنانچہ اپریل 2018 میں جب انہوں نے خواتین کی 'می ٹو' نامی تحریک کی حمایت میں ایک ٹویٹ کیا تو اس پر کسی کو حیرانی نہ ہوئی۔ یہ تحریک ایسے لوگوں کے نام سامنے لانے کے لیے عورتوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جنہوں نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا ہو یا انہیں جنسی اذیت پہنچائی ہو۔

عفت عمر نے پاکستان میں خواتین کو ایسے لوگوں کی شناخت ظاہر کرنے میں درپیش مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'کسی بھی عورت کے لیے یوں سب کے سامنے ایسی بات کرنا بہت مشکل کام ہے'۔

اس ٹویٹ کا ایک مخصوص تناظر بھی تھا۔ اس سے چند ہی روز پہلے گلوکارہ میشا شفیع نے گلوکار اور اداکار علی ظفر پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک گانے کی ریکارڈنگ کے دوران انہیں ہراساں کیا۔

عفت عمر کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کے اس ٹویٹ کو پاکستان میں خواتین کی حالت زار پر تبصرے کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا بلکہ علی ظفر اسے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ میں ان کے خلاف اپنی شکایت کی بنیاد بنائیں گے۔ اس شکایت میں کہا گیا ہے کہ عفت عمر کے اس ٹویٹ کو جرم سمجھا جائے کیونکہ اس کا مقصد علی ظفر کی شہرت کو نقصان پہنچانا ہے۔

لینا غنی بھی 'خواتین کے حقوق' کے لیے اپنے سخت موقف کی بنا پر جانی جاتی ہیں جو کہ بیشتر پاکستانی مردوں کے لیے بذات خود ایک متنازع موضوع ہے۔ وہ فیشن انڈسٹری میں میک اپ آرٹسٹ کے طور پر کام کرتی ہیں اور پاکستان میں خواتین کی تحریک 'عورت مارچ' کی انتظامی کمیٹی میں بھی شامل ہیں۔ جب عفت عمر نے مذکورہ بالا ٹویٹ کیا تو اسی دوران لینا نے بھی ایسا ہی ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے ایسی خواتین کی ہمت اور بہادری کی ستائش کی جو خود کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں بھی علی ظفر نے ہراساں کیا تھا۔ چند ماہ بعد انہیں بھی ایف آئی اے کی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کہیں انہوں نے اپنی ٹویٹ علی ظفر کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے تو نہیں کی تھی۔

سید فیضان رضا نامی طالب علم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ وہ ٹویٹر پر سماجی اور سیاسی موضوعات پر اپنے متنازع خیالات کی بنا پر مشہور ہیں۔ انہوں نے نا صرف علی ظفر کے خلاف ہراساں کیے جانے کے دعووں کے حق میں ٹویٹ کیا بلکہ انہیں یہ دعوے کرنے والوں کی توہین کرنے پر علی ظفر کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انہیں بھی مجرمانہ مقاصد کے تحت علی ظفر کی شہرت داغدار کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔ 

درحقیقت اس سلسلے میں میشا شفیع سمیت آٹھ دیگر افراد پر بھی مقدمہ ہو چکا ہے۔ علی ظفر نے الزام لگایا ہے کہ ان تمام لوگوں نے انہیں سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کی مہم چلائی۔

انہی میں شامل ہمنا رضا کچھ روز سے علی ظفر سے معذرت کر چکی ہیں۔ ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے ایک خط میں انہوں نے اپنا یہ الزام واپس لے لیا ہے کہ چند سال پہلے علی ظفر کے ساتھ سیلفی بناتے وقت انہوں نے بے چینی محسوس کی تھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ 'میں یہ بات واضح کرنا چاہوں گی کہ اس وقت میں الجھاؤ کا شکار تھی اور یقینی طور پر مجھے غلط فہمی ہوئی۔ مجھے ایسی گمراہ کن ٹویٹ نہیں کرنا چاہیے تھی اور مجھے اندازہ ہے کہ اس بات کو کس طرح بڑھایا چڑھایا گیا اور اسے علی ظفر کی ساکھ خراب کرنے کے لیے استعمال کیا گیا'۔

سجاگ کی تحقیقات کے مطابق اس کیس میں ملزم ٹھہرائے گئے کم از کم تین دیگر افراد نے بھی مقدمے کے نتیجے میں سامنے آنے والی ممکنہ مشکلات سے بچنے کے لیے علی ظفر سے معذرت کرنے کا سوچا۔ ایک چوتھے فرد کو بھی اس کیس کے ممکنہ نتائج کی وجہ سے اپنی نوکری اور زندگی کے امکانات کی بابت سنگین خدشات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ مجرم قرار پاتے ہیں تو انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں ان کا کیریئر اور نجی زندگی بری طرح متاثر ہوں گے۔

'تبصرے' کا جرم

علی ظفر نے مجرمانہ مقاصد کے تحت اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں نومبر 2018 میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کیں اور مقدمے میں شامل تمام نو افراد کو نوٹس بھیجے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایف آئی اے کے عہدیدار آصف جاوید جنہیں اس مقدمہ کی تحقیقات کا کام سونپا گیا، کہتے ہیں کہ انہوں نے باضابطہ طور پر تمام ملزموں کو مطلع کیا کہ انہیں اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے ان کے دفتر میں پیش ہونا ہو گا۔

دوسری جانب ملزم ٹھہرائے گئے لوگوں نے اس تحقیقاتی عمل میں بہت سے مسائل کی نشاندہی کی۔ ان میں سے بیشتر نے جس اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے وہ یہ تھا کہ انہیں یہ نوٹس آصف جاوید کے سامنے پیشی کی مقررہ تاریخ سے ایک دن بعد موصول ہوئے۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ ان میں بعض لوگ لاہور میں نہیں رہتے جس کی بنا پر ان کے لیے ایف آئی اے کے لاہور دفتر میں بروقت پہنچنا ممکن نہیں تھا۔

لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ قریباً تمام 'ملزموں' نے شکایت کی کہ نوٹس میں ان کے خلاف مخصوص الزامات کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ انہیں اپنے وکلا کے ذریعے، ایف آئی اے کے حکام کو فون کالز کرنے اور انہیں ای میل بھیجنے کے نتیجے میں اور ذاتی طور پر ایف آئی کے لاہور دفتر میں حاضر ہونے کے بعد ہی ان کے بارے میں علم ہوا۔

بالاخر جن لوگوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے ان میں عفت عمر بھی شامل ہیں، ان کا خیال ہے کہ یہ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی تحقیقات کے دوران دیے گئے ان کے بیانات 'غیرتسلی بخش' ہیں، اگرچہ حکام نے اس کی کوئی وضاحت نہیں دی کہ یہ بیانات 'اطمینان بخش' کیوں نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ 'ملزموں' نے اپنی 'بے گناہی' کے حق میں کوئی 'ثبوت' پیش نہیں کیے۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ حکومتی سوچ علی ظفر کے خلاف الزامات کی حساس نوعیت کو نظر انداز کرتی ہے۔ ہمنا رضا کی جانب سے لکھے گئے معذرت نامے سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ بے چینی محسوس کرنا یا ہراساں کیا جانا ایک احساس ہے۔ اگر ہمیشہ نہیں تو بیشتر اوقات اسے واضح شہادت کے ساتھ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے ایک اہم قانونی سوال جنم لیتا ہے کہ: جو لوگ کسی ایسے فرد کے ساتھ درست یا غلط طور سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جو یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے ہراساں کیا گیا ہے تو ان سے یہ توقع کیوں رکھی جاتی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ اس فرد کے لیے ان کی حمایت کی بنیاد کسی قابل تصدیق شہادت پر ہے؟ کیا کسی کا حامی ہونا ایک احساس نہیں ہے اور کیا ایک احساس ایک ایسی چیز نہیں ہے جسے قابل ثبوت حقائق کی ضرورت نہیں ہوتی؟

تفتیشی افسر آصف جاوید نے ایسے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کا اصرار ہے کہ ایف آئی اے صرف ثبوت دیکھتا ہے اور جن لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے وہ علی ظفر کے بارے میں اپنے تبصروں اور آرا کے حق میں کوئی شہادت پیش نہیں کر سکے۔

اب آصف جاوید نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے میشا شفیع، ہمنا رضا، ماہم جاوید، لینا غنی، عفت عمر، سید فیضان رضا، فریحہ ایوب، علی گل پیر اور حسیم زمان خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ انہیں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے سیکشن 20 (1) اور پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کے سیکشن 109 کے تحت ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

پہلا سیکشن 'جانتے بوجھتے اور کھلے عام' کسی شخص کے بارے میں کسی بھی اطلاعاتی نظام پر کسی بھی طرح کی ایسی اطلاعات کی نمائش یا اظہار یا ترسیل سے متعلق ہے جس کے بارے میں اسے علم ہو کہ وہ غلط ہیں اور ان کا مقصد کسی دوسرے فرد کی ساکھ یا نجی زندگی میں پریشانی پیدا کرنا یا اسے نقصان پہنچانا ہو۔

اس سیکشن کے تحت قصور وار ثابت ہونے والوں کو تین سال تک قید یا دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا یا بیک وقت دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

دوسرا سیکشن کسی جرم کی ترغیب، یا سازش یا اعانت سے متعلق ہے۔ اس سیکشن کے تحت دی جانے والی سزا کا تعین نہیں کیا گیا تاہم یہ اس اعانت جرم کی سزا کے برابر ہو سکتی ہے جس میں اعانت کی گئی ہو۔

اصل گناہ

اپریل 2018 میں میشا شفیع نے ٹویٹر کے ذریعے الزام عائد کیا کہ علی ظفر انہیں متعدد مواقع پر ہراساں کرتے رہے ہیں۔ اس سے سوشل میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں گویا طوفان آ گیا۔ یہی نہیں بلکہ اس سے پاکستان میں 'می ٹو' تحریک کو بھی تقویت ملی اور بہت سے دوسرے لوگ نے بھی ٹویٹر اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر اپنے ایسے ہی تجربات بیان کرنے لگے۔ بعدازاں علی ظفر کے علاوہ بہت سی مشہور شخصیات کے خلاف ان کے پرستاروں، ساتھیوں اور/یا ماتحتوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے الزامات سامنے آئے۔ ان شخصیات میں ایک اخبار کے ناشر بھی شامل ہیں۔

جب اس تحریک میں تیزی آئی تو مبصرین اور عوامی شخصیات نے بھی اس پر بات کرنا شروع کر دی۔ جہاں بہت سے لوگوں نے اسے پاکستان میں دیرینہ صنفی رسم و روایات اور تقسیم کار پر سوال اٹھانے کی گمراہ کن کوشش قرار دے کر مسترد کیا وہیں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے بہت سی طاقتور شخصیات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے الزامات کو صحیح سمجھا۔ موخرالذکر گروہ نے میشا شفیع کی ہمت اور بہادری پر ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایسی بات کرنے میں پہل کی جس کا پاکستان جیسے پدرشاہی سماج میں ذکر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جہاں خواتین سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ وہ خود کو پہنچنے والی جسمانی اور جنسی تکالیف کا سرِ عام اظہار کریں گی خاص طور پر اس صورت میں جب ان تکالیف کو ثابت کرنا مشکل ہو۔

اس کے بعد میشا شفیع نے کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف تحفظ کی فراہمی کے قانون کے تحت پنجاب کے صوبائی محتسب کے دفتر میں کیس دائر کیا۔ تاہم محتسب نے قرار دیا کہ یہ کیس ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا کیونکہ ہراساں کیے جانے کا مبینہ واقعہ ایک نجی سٹوڈیو میں پیش آیا جو مذکورہ بالا قانون میں طے کردہ 'کام کی جگہوں' میں شمار نہیں ہوتا۔

ابتداً میشا شفیع نے محتسب کے فیصلے کے خلاف گورنر پنجاب کے سامنے اور پھر لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی مگر دونوں جگہوں پر پہلا فیصلہ ہی برقرار رہا کہ سٹوڈیو کام کی جگہ کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ اس لیے ان کا کیس مذکورہ بالا قانون کے تحت نہیں سنا جا سکتا۔ اب انہوں نے ان فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ لیکن وہاں ان کی درخواست پر کارروائی تا حال شروع نہیں ہوئی۔

اسی دوران علی ظفر نے نومبر 2018 میں میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کرتے ہوئے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا۔ ستمبر 2019 میں میشا شفیع نے بھی علی ظفر کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کرتے ہوئے دو ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں اس کیس کی یک طرفہ کوریج اور اس کے نتیجے میں انہیں جو ذہنی اذیت پہنچی ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔ تاہم میشا شفیع کی طرف سے درج کرائے گئے ہراساں کیے جانے کے مقدمے کا فیصلہ آنے تک اس کیس کی سماعت زیرِ التوا ہے۔

یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ بہت سے کیسز کی موجودگی میں علی ظفر کو اپنی ساکھ مجروح کیے جانے سے متعلق مجرمانہ قوانین کے تحت ایک اور مقدمہ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس سوال کا جزوی جواب تو یہ ہے کہ اس کیس میں ایف آئی اے نے جس قانون کے تحت کارروائی کی ہے اسے پڑھ کر واضح ہو جاتا ہے کہ علی ظفر اور ان کی قانونی ٹیم مختلف لوگوں کی جانب سے مختلف مواقع پر سوشل میڈیا میں کیے گئے تبصروں کو میشا شفیع کی جانب سے کی گئی کسی سازش کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جس میں دوسروں نے علی ظفر کی ساکھ کو نقصان پہنچنے میں رضامندی سے حصہ لیا۔

ایف آئی کے تفتیشی افسر نے اس حوالے سے سجاگ کو جو کچھ بتایا اس سے عیاں ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ کھوجنے کی زحمت نہیں کی کہ آیا اس کیس میں نامزد تمام لوگ کسی مربوط مہم کا حصہ ہوتے ہوئے اکٹھے کام کر رہے تھے یا انہوں نے اُس وقت موضوعِ گفتگو بنے اس واقعے پر محض ایک ہی وقت میں اپنے اپنے طور پر تبصرے کیے تھے۔

اس کے بجائے آصف جاوید نے یقیناً صرف یہ دیکھا کہ آیا یہ لوگ کوئی ایسی تفتیشی شہادت پیش کر سکتے ہیں جس سے ثابت ہو کہ ان کے تبصرے علی ظفر کے خلاف نہیں تھے۔ افسر کی محدود سوچ  اور ایف آئی اے کے ایک اور افسر کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ ۔۔ جسے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں نے علی ظفر کے موقف کی جانبدارانہ تائید قرار دیا ہے ۔۔ کو میشا شفیع کے حامی علی طفر اور ایف آئی اے کی باہم سازش کا ثبوت قرار دیتے ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ اپنی نجی بات چیت میں کہتے ہیں کہ کیسے یہ تمام تفتیش اور اسے کرنے والے لوگ ملزموں کے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں۔ تاہم کیس کی حساس نوعیت کے باعث انہوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کو کہا ہے۔ ان کے مطابق اس کیس میں ملزموں کو خود پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں ضروری معلومات اور تفصیلات سے آگاہی نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں کوئی ایسی شہادت مہیا کی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ ان تمام لوگوں نے ایک ساتھ یہ تبصرے کیے تھے۔

بعض لوگ چند دیگر حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایف آئی اے نے کبھی دوسرے کیسز میں اتنی پھرتیاں نہیں دکھائیں جتنی وہ علی ظفر کے دائر کردہ کیس میں دکھا رہا ہے۔ اس سلسلے میں وہ لاہور کی رہائشی رمشا کی مثال دیتے ہیں جس نے ایف آئی اے کو متواتر درخواستیں دیں کہ انہیں اذیت پہنچانے والے علی نیازی نامی شخص کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مگر کوئی شنوائی نہ ہونے پر رمشا نے خودکشی کر لی تھی۔ علی نیازی نے مبینہ طور پر رمشا کو دھمکی دی تھی کہ وہ اسے سولہ ہزار روپے ادا کرے وگرنہ وہ اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دے گا۔

خوف پر مبنی ہتھکنڈے

میشا شفیع کی قانونی ٹیم میں شامل ثاقب جیلانی دعویٰ کرتے ہیں کہ ایف آئی اے نے متعدد درخواستوں کے باوجود انہیں اور ان کے ساتھی وکلا کو تحقیقات کی تفصیلات تک رسائی نہیں دی۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ علی ظفر کی جانب سے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں دائر کردہ کیس ہراساں کرنے کے کیس کے گواہوں کو دھمکانے کا ہتھکنڈہ ہے تاکہ وہ میشا شفیع کے حق میں دیے گئے بیانات واپس لے لیں۔

میشا شفیع کے وکیل کا یہ خیال بھی ہے کہ ان کے موکل کے خلاف مجرمانہ طور پر علی ظفر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے کیس کا مطلب ان پر خاموش رہنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ یہ کیس ایسے وقت دائر کیا گیا ہے جب میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے فوجداری مقدمے پر سماعت ابھی تک شروع نہیں ہوئی۔ اس سے ایک بنیادی نوعیت کا سوال جنم لیتا ہے: اگر کوئی عورت یہ محسوس کرے کہ اسے ہراساں کیا جا رہا ہے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ اگر معاشرے سے نہیں تو کیا اسے کسی ریاستی ادارے سے کی مدد کی توقع رکھنی چاہیے؟

یہ بھی پڑھیں

postImg

'اندازہ نہیں تھا کہ مجھے اس قدر ہراس کا سامنا کرنا پڑے گا'

ثاقب جیلانی اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے قانونی نظام میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور ایسے حملوں کے کیسز سے نمٹنے کے لیے درکار حساسیت اور استعداد کا فقدان ہے جبکہ ایسے کیسز میں عموماً کوئی مادی شہادت بھی موجود نہیں ہوتی۔ عام تاثر یہی ہے کہ تفتیشی عمل ناصرف ڈراؤنا ہوتا ہے بلکہ اس میں خواتین کے خلاف تحقیر آمیز رویہ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ شکایت کنندگان کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے متاثرہ عورت کے طرز عمل اور ساکھ کی بابت سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے مقدمات میں تفتیش کرنے والے حکام اکثر متاثرین کے لباس، حلیے یا کردار کی بابت بے محل سوالات کرتے ہیں جس کا بخوبی اندازہ گزشتہ ماہ لاہور کے قریب ایک خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد لاہور پولیس کے سربراہ کی بیانات سے ہوتا ہے۔ ایسے حکومتی رویے سے ہراساں کیے جانے، بدسلوکی یا جنسی زیادتی کے واقعات کی اطلاع دینے کی یقیناً حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

یوں لگتا ہے کہ ہماری ریاست میشا شفیع جیسے لوگوں اور ان کے حامیوں کو ایک پیغام دینا چاہتی ہے:وہ خاموش رہیں۔ ورنہ ان کے خلاف کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 3 اکتوبر 2020 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 14 فروری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فریال احمد ندیم نے کنیئرڈ کالج لاہور سے عالمی تعلقات میں بی ایس آنرز کیا ہے۔ وہ صحت اور تعلیم سے متعلق امور پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔