خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں: رحیم یار خان کے شیڈولڈ کاسٹ ہندو جن کے سروں پر نہ چھت اپنی ہے نہ ان کے پاؤں کے نیچے زمین ان کی۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں: رحیم یار خان کے شیڈولڈ کاسٹ ہندو جن کے سروں پر نہ چھت اپنی ہے نہ ان کے پاؤں کے نیچے زمین ان کی۔

آصف ریاض

postImg

خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں: رحیم یار خان کے شیڈولڈ کاسٹ ہندو جن کے سروں پر نہ چھت اپنی ہے نہ ان کے پاؤں کے نیچے زمین ان کی۔

آصف ریاض

اس سال وسطِ اپریل کی ایک گرم دوپہر لال جی کے خاندان کے بیشتر افراد ایک کچے مکان سے متصل گھاس پھونس اور لکڑیوں سے بنے چھپر کے نیچے بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ ان کا اگلا ٹھکانہ کہاں ہو گا۔

ان کا تعلق ہندو شیڈولڈ کاسٹ بھیل برادری سے ہے اور وہ رحیم یار خان شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب چک نمبر 244 پی نامی گاؤں میں صحرائے چولستان کے ایک ٹیلے پر آباد ہیں۔ یہاں انہوں نے چار گھر بنا رکھے ہیں جن میں سے ہر ایک دو کچے کمروں پر مشتمل ہے۔ لال جی کے گھر کے دو کمروں میں سے ایک ان کے مویشیوں کو گرمی سردی سے بچانے کے لیے مختص ہے جبکہ دوسرے میں چھوٹے بڑے 11 افراد رہتے ہیں۔ ان سب کے سونے کے لیے ان کے پاس صرف سات چارپائیاں ہیں۔

حال ہی میں انہیں پتہ چلا ہے کہ اس ٹیلے کی زمین حکومت نے کسی کو کاشت کاری کے لیے الاٹ کردی ہے اس لیے جلد ہی انہیں کہیں اور منتقل ہونا پڑے گا۔ لال جی کے تایازاد بھائی بالم جی اور شنکر جی تجویز کرتے ہیں کہ انہیں اپنے گھروں سے دو کلومیٹر مشرق کی جانب ایک بڑے ٹیلے پر آباد ہو جانا چاہیے کیوںکہ وہاں کاشت کاری کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لیکن لال جی ان سے متفق نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ "اگر ہم وہاں چلے گئے تو پھر ہمارے گھر سے سرکاری سکول کا فاصلہ پانچ کلومیٹر ہو جائے گا اور یوں ہمارے بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا"۔

ان کے پاس کہیں دوسری جگہ منتقل ہونے کے لیے درکار مالی وسائل بھی موجود نہیں۔ اس لیے وہ پریشان ہیں کہ نئی جگہ پر جا کر وہ اپنا گھر دوبارہ کیسے بسائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ "مٹی کی دیواریں کھڑی کرنا شاید کوئی مشکل کام نہیں ہے کیوںکہ وہ ہم سب مل کر ایک دو ماہ میں بنا لیں گے"۔ لیکن انہیں معلوم نہیں کہ وہ ان دیواروں پر چھت کیسے ڈالیں گے کیونکہ اس کے لیے درکار لکڑی اتنی مہنگی ہے کہ وہ اسے خریدنے کی استطاعت بالکل نہیں رکھتے۔

ہماری  خواب گاہوں  میں نہ چمکا صبح کا سورج

ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم دلت سولیڈیریٹی نیٹ ورک نے کچھ سال پہلے رحیم یار خان، بہاولپور اور صوبہ سندھ کے دو اضلاع میں ایک سروے کیا تھا جس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستان میں رہنے والے 93 فیصد شیڈولڈ کاسٹ ہندو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں ان میں سے صرف 16 فیصد کے پاس اپنے گھروں کے مالکانہ حقوق ہیں۔ اس رپورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ  کسی قسم کی زمین یا جائیداد کے مالک نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی اکثریت غربت کی ایک ایسی دلدل میں پھنس جاتی ہے جس سے ان کی آنے والے نسلیں بھی نہیں نکل پاتیں۔ اس کے مطابق ان پسماندہ برادریوں کے افراد اپنے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے زمین داروں اور دوسرے آجروں سے قرض لیتے ہیں جس کی واپسی انہیں اپنے بیوی بچوں سمیت جبری مشقت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت پاکستان غربت میں کمی لانے کے لیے بنائے گئے منصوبوں میں شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کو کوئی خصوصی ترجیح نہیں دیتی حالانکہ ان کا شمار ملک کے غریب ترین طبقوں میں ہوتا ہے۔ اس امر کی تصدیق اس درخواست سے بھی ہوتی ہے جو دسمبر 2021 میں رحیم یار خان کے 28 دیہات میں رہنے والی ہندو برادری کے رہنماؤں نے پنجاب اسمبلی کے مقامی اقلیتی رکن یدھسٹر چوہان کو لکھی تاکہ وہ انہیں حکومت سے ان کے گھروں کے مالکانہ حقوق دلا سکیں۔ اس درخواست میں کہا گیا کہ "کئی سابقہ حکومتوں نے بے گھر لوگوں کے لیے رہائشی سکیمیں اور زرعی آباد کاری کے منصوبے شروع کیے لیکن مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو ان میں کبھی شامل نہیں کیا گیا"۔

ایک مقامی سیاسی جماعت، پاکستان سرائیکی پارٹی، کے کسان مزدور وِنگ کے صدر عبدالقیوم شاکر بھی کہتے ہیں کہ حکومتی ادارے شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کی معاشی بہتری کے لیے کام کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ ان کے مطابق ان کی جماعت نے 2010 سے پہلے رحیم یار خان اور بہاولپور میں ایک سروے کیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان دونوں اضلاع میں 25 ہزار ایسے خاندان رہتے ہیں جو صحرائی ٹیلوں پر آباد ہیں لیکن ان کے پاس ان کے گھروں کے مالکانہ حقوق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے اکثر خاندان شیڈولڈ کاسٹ ہندو ہیں۔

ان بے زمین خاندانوں کو مالکانہ حقوق دلانے کے لیے پاکستان سرائیکی پارٹی نے ان کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بنچ میں متعدد درخواستیں بھی دائر کیں۔ عبدالقیوم شاکر کہتے ہیں کہ ان درخواستوں کی سماعت کرنے کے بعد عدالت نے پنجاب کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو حکم دیا کہ وہ ان کا جائزہ لے اور چار ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے کہ آخر درخواست دہندگان کو مختلف سرکاری رہائشی منصوبوں میں کیوں نظرانداز کیا گیا"۔

لیکن وہ شکوہ کرتے ہیں کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے اس حوالے سے کبھی کچھ نہیں کیا۔ اس محکمانہ سستی پر انہوں نے اس کے اہل کاروں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کا بھی تاحال "کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا"۔

دوسری طرف وہ رحیم یار خان کے قصبے منٹھار کے نواح میں واقع 40 پی نامی گاؤں میں کچھ سال پہلے پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں کئی دہائیوں سے آباد 70 کے قریب شیڈولڈ کاسٹ ہندو خاندانوں کو سرکاری محکموں نے پل بھر میں بے دخل کردیا کیوںکہ ان کے گھروں کی زمین کسی کو الاٹ کر دی گئی تھی۔ ان کی جماعت اور مقامی سماجی تنظیموں نے "ان لوگوں کی بے دخلی کے خلاف احتجاج بھی کیا جس پر حکومت نے وعدہ کیا کہ انہیں کوئی متبادل جگہ فراہم کردی جائے گی لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا"۔

ضلع رحیم یار خان میں سرکاری سرپرستی میں قائم کی گئی بین المذاہب امن کمیٹی کے رکن اور مقامی شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کے مذہبی رہنما سکھ دیو بھی کہتے ہیں کہ ان کے پاس آئے روز شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کو ان کی رہائش گاہوں سے بے دخل کیے جانے کی خبریں آتی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ رحیم یار خان سے خان پور جانے والی سڑک پر واقع چک نمبر 36 پی نامی گاؤں کے ایک ہندو خاندان کو کچھ ہفتے قبل اس کی رہائش گاہ سے "زبردستی بے دخل کردیا گیا کیوںکہ وہ زمین کسی فوجی افسر کو الاٹ ہوگئی تھی"۔ ان کے اپنے گاؤں، چک نمبر 112 پی، میں بھی مقامی حکومت کے اہل کاروں نے حال ہی میں شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کے "کئی گھروں کو زبردستی خالی کرایا ہے"۔

اک ہماری سحر نہیں ہوتی

وفاقی حکومت کی طرف سے 1998 میں لاہور ہائیکورٹ میں پیش کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق صحرائے چولستان کی کل اراضی 60 لاکھ 55 ہزار تین سو 60 ایکڑ ہے جس میں سے 40 لاکھ 28 ہزار ایک سو 60 ایکڑ ضلع بہاولپور میں واقع ہیں جبکہ باقی رحیم یار خان اور بہاولنگر کے اضلاع میں ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ ہائے جغرافیہ کے اساتذہ کی جانب سے 5 جون 2020 کو شائع کیے جانے والے ایک مشترکہ تحقیقی مقالے کے مطابق 1950 سے لے کر 2010 تک چولستان میں مختلف سرکاری سکیموں کے تحت 20 ہزار آٹھ سو 46 افراد یا خاندانوں کو دو لاکھ 71 ہزار چار سو 61 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے۔ مقامی سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں کو شکایت ہے کہ ان میں سے ایک ایکڑ زمین بھی مقامی شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کو نہیں دی گئی۔

اس طرح کی سکیمیں 2010 کے بعد بھی جاری ہیں۔ مثال کے طور پر 2014 میں حکومت پنجاب نے چولستان کے بے زمین کسانوں کو زرعی زمینیں الاٹ کرنے کا اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے 50 ہزار سے زائد لوگوں نے درخواستیں دیں لیکن مقامی سیاستدانوں اور کچھ مقامی باشندوں کے اعتراضات کے بعد ان پر الاٹ منٹ نہ ہوسکی۔ 13 ستمبر 2019 کو پنجاب کے محکمہ آبادیات نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس سکیم کے لیے پرانی درخواستوں کو زیر غور نہیں لایا جائے گا بلکہ الاٹ منٹ کے خواہش مند افراد کو نئی سرے سے درخواستیں دینا ہوں گی۔ چنانچہ اگلے 13 روز میں 65 ہزار کے قریب لوگ نے درخواستیں جمع کرا دیں جن کی چھان بین ابھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روز جزا گیا: 'جس نے دنیا میں جہنم دیکھنی ہو وہ رحیم یار خان میں رہنے والے ہندوؤں کی زندگی دیکھ لے'۔

لال جی اور سکھ دیو جیسے مقامی شیڈولڈ کاسٹ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ انہیں اس سکیم کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ، ان کے مطابق، ماضی کی طرح اس کے تحت بھی زیادہ تر زمین غیر مقامی لوگوں کو الاٹ کر دی جائے گی۔ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر مہر خالد احمد کے معاون عمر حیات اس خدشے کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سکیم کے تحت الاٹ منٹ کے اہل صرف وہی لوگ ہوں گے جن کے شناختی کارڈ پر مقامی پتہ درج ہوگا اور مقامی ووٹر لسٹ میں ان کا نام درج ہو گا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا مقامی شیڈولڈ کاسٹ ہندو بھی اس سکیم کے تحت زمین حاصل کرنے کے اہل ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ "چولستان کے سب سے پرانے باسی ہیں اس لیے انہیں بھی اپنے گھروں اور زرعی زمینوں کے مالکانہ حقوق ملنے چاہئیں"۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی سکیم کے ذریعے زمین حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اِن لوگوں نے اس کے تحت درخواستیں جمع کرا رکھی ہوں۔ اگر انہوں نے ایسا کر رکھا ہے تو "انہیں زمین بھی ضرور الاٹ ہو جائے گی"۔ 

تاریخ اشاعت 4 اگست 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد آصف ریاض رپورٹر ہیں اور ان کا کام کھیت سے منڈی اور صارف تک زرعی شعبے کے جملہ امور اور مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔