گوادر کو حق دو تحریک: 'ترقی کے نام پر ہم سے ہمارا سمندر اور پہاڑ چھین لیے گئے ہیں'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

گوادر کو حق دو تحریک: 'ترقی کے نام پر ہم سے ہمارا سمندر اور پہاڑ چھین لیے گئے ہیں'۔

رضا گیلانی

postImg

گوادر کو حق دو تحریک: 'ترقی کے نام پر ہم سے ہمارا سمندر اور پہاڑ چھین لیے گئے ہیں'۔

رضا گیلانی

آسیہ بی بی غصے میں ہیں-

وہ کئی دیگر عورتوں سمیت ایک بڑی سڑک پر موجود ہیں اور سامنے کھڑے تقریباً ایک سو پولیس والوں کا حصار توڑ کر اس کے دوسری جانب موجود جلسہ گاہ تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ ان کا جھریوں بھرا چہرا ایک چوڑے فریم والی عینک کے پیچھے چھپا ہوا ہے اوران کا دبلا پتلا جسم ایک بڑی کالی چادر میں ڈھکا ہوا ہے۔ 

لیکن وہ اپنے نحیف ہاتھوں سے پولیس والوں کو دھکے دیتی ہوئی مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔ جب اُن میں سے کوئی انہیں روکنے کے لیے ان کی طرف بڑھتا ہے تو وہ ایسے گرج کر بولتی ہیں کہ وہ اپنی جگہ پر منجمد ہو کر رہ جاتا ہے۔ 

پولیس کے حصار سے نکلنے کے بعد وہ مردوں کے ایک بڑے مجمعے میں آ نکلتی ہیں اور اسی طرح لوگوں کو دھکے دیتے ہوئے ایک سٹیج کی طرف بڑھنے لگتی ہیں جہاں ایک شخص تقریر کر رہا ہے۔ اس دوران کئی لوگ انھیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں اور سٹیج پر موجود مقرر کے عین پیچھے آ موجود ہوتی ہیں۔

ان کے انداز میں کچھ ایسا دبدبہ ہے کہ مقرر خفیف سا ہو کر خود ہی مائیک ان کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔ مائیک پکڑتے ہی وہ پولیس کو مخاطب کر کے کہتی ہیں: "بارہ سال پہلے سیلاب میں میرا گھر اجڑ گیا تھا۔ آج بھی میں ایک ٹوٹے ہوئے گھر میں رہتی ہوں۔ تم (کبھی میری مدد کرنے) نہیں آئے لیکن آج ہمیں مارنے کے لیے تم یہاں موجود ہو"۔ 

گوادر کے باسی کیا مانگتے ہیں

آسیہ بی بی جنوبی بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی رہنے والی ہیں جہاں نومبر اور دسمبر 2021 میں 'گوادر کو حق دو' کے نام سے ایک طویل احتجاجی تحریک چلتی رہی۔

دسمبر کے دوسرے ہفتے میں پولیس نے اس تحریک کے قائد ہدایت الرحمان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ایک روز سینکڑوں سپاہیوں نے شہر کی پورٹ روڈ پر دھرنا دے کر بیٹھے دو ہزار سے زیادہ مظاہرین کو گھیرے میں لے لیا تاکہ جیسے ہی ہدایت الرحمان وہاں سے نکلیں انہیں حراست میں لے لیا جائے۔ 

لیکن آسیہ بی بی اور ان کی ساتھی عورتیں ایک بڑی تعداد میں پولیس اور مرد مظاہرین کے درمیان دیوار بن کر کھڑی ہو گئیں۔ نتیجتاً پولیس کو اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔  

تاہم نہ تو ہدایت الرحمان 'گوادر کو حق دو' تحریک کے واحد بانی ہیں اور نہ ہی اس کا آغاز پورٹ روڈ پر دیے گئے احتجاجی دھرنے سے ہوا تھا۔ بلکہ اس کی ابتدا جولائی 2021 میں گوادر اور اس کی نواحی بستیوں میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے مظاہروں سے ہوئی تھی جن کا انتظام نیشنل پارٹی نامی بلوچ سیاسی جماعت اور بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) سمیت کئی مقامی سیاسی تنظیموں اور افراد نے کیا تھا جن میں ہدایت الرحمان بھی شامل تھے۔ 

ان مظاہروں کے شرکا کے مطالبات میں سرِفہرست مقامی سمندر میں ماہی گیری کرنے والے ایسے بڑے بڑے ٹرالروں کی موجودگی پر پابندی لگوانا تھا جن میں سے کچھ تو صوبہ سندھ میں رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کی ایک بڑی تعداد کا تعلق چین اور جنوبی کوریا جیسے ممالک سے ہے۔     

ان کے دوسرے اہم مطالبات میں پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کی لگاتار فراہمی، سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے جگہ جگہ قائم کردہ چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی اور بلوچستان کی ایران کے ساتھ ملنے والی سرحد کا انتظام فرنٹیئر کور (ایف سی) سے لے کر ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنا شامل تھے۔

جب یہ مظاہرے حکومت کی توجہ حاصل نہ کر سکے تو ان کے منتظمین نے سوچا کہ انہیں بڑے پیمانے پر اجتماعی احتجاج کرنا چاہیے۔ لیکن ہدایت الرحمان سمیت 'گوادر کو حق دو' تحریک کے قائدین کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ تھا کہ اس احتجاج کے لیے وہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو سڑکوں پر نہیں لا سکیں گے۔ 

ان کا خدشہ غلط تھا۔ 

جب 16 نومبر کو بالآخر انہوں نے احتجاج کی کال دی تو پہلے ہی دن مظاہرین کی تعداد کئی ہزار تک جا پہنچی۔ ان میں نہ صرف کئی سو خواتین موجود تھیں بلکہ مکران ڈویژن کے دوسرے اضلاع، کیچ اور پنجگور، کے رہنے والے بہت سے لوگ بھی ان میں شامل تھے۔

اگلے ایک ماہ ہر شام یہ مظاہرین گوادر کی پورٹ روڈ پر جمع ہوتے جہاں وہ منتظمین کی تقریریں سنتے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے نعرہ بازی کرتے۔ آہستہ آہستہ ان کے مظاہرے گوادر کی تاریخ کی سب سے بڑی تحریک میں بدلتے گئے جس میں مجموعی طور پر لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور جس کے تحت عورتوں کے ایسے بڑے بڑے جلسے ہوئے جو اس سے پہلے اس شہر میں نہیں دیکھے گئے۔ 

ترقی یا تباہی؟

امام بخش پورٹ روڈ پر مظاہرے کے لیے لگائے گئے سٹیج کے ایک طرف کئی گھنٹے ایک کرسی پر بیٹھے تقاریر سنتے رہتے ہیں۔ انہیں اپنی صحیح عمر یاد نہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ جب جنرل ایوب خان 1958 میں پاکستان کے پہلے فوجی حکمران بنے تو وہ لگ بھگ گیارہ سال کے تھے اور چار جماعتیں پاس کرکے ماہی گیری شروع کر چکے تھے۔

ان کی عمر اور تجربے کی وجہ سے سب لوگ انہیں ناخدا کہتے ہیں جو ایک بحری بیڑے کے کپتان کے لیے استعمال کی جانے والی مقامی اصطلاح ہے۔ پچھلے 20 سالوں میں گوادر میں آنے والی تعمیراتی اور انتظامی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان (تبدیلیوں) کی وجہ سے ہمیں روزگار ملے گا لیکن حقیقت میں ہماری زمین ہی ہم سے لے لی گئی ہے اور اس کی کوئی قیمت بھی نہیں دی گئی"۔

انہیں یہ بھی شکوہ ہے کہ ان میں سے ہر تبدیلی کے نتیجے میں ماہی گیروں کی سمندر تک رسائی محدود ہوتی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایک زمانے میں گوادر کے ماہی گیر ٹھیک اُس جگہ مچھلیاں پکڑتے تھے جہاں اب ایک بین الاقوامی بندرگاہ بن چکی ہے۔ ماضی میں وہ اس جگہ سے ایک روز میں "دس ہزار روپے کے جھینگے پکڑ لیا کرتے تھے" مگر وہ کہتے ہیں کہ "اب اس علاقے میں ہر مقامی شخص کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے"۔ 

اسی طرح وہ گوادر کےمشرقی ساحل کے ساتھ ساتھ بنائی گئی ایک بڑی سڑک، ایکسپریس وے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے مقامی ماہی گیر اب صرف مغربی ساحل کے راستے سمندر تک جا سکتے ہیں۔ لیکن، ان کے بقول، اس راستے پر بھی جا بجا چیک پوسٹیں بنا دی گئی ہیں۔  

وسطِ دسمبر کی ایک شام مظاہرے کے دوران 25 سالہ عبدالحمید ناخدا امام بخش کے عقب میں کھڑے ہیں۔ ان کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے ہے اور وہ ایک ایسی گاڑی کے ڈرائیور ہیں جو ایران سے تجارتی سامان لاتی لے جاتی ہے۔ وہ پورٹ روڈ کے مغرب میں واقع کوہِ باطل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "کل میں چھ سال بعد اس پہاڑ پر چڑھا ہوں"۔

پہلے جب کبھی وہ کوہِ باطل پر چڑھنے کی کوشش کرتے تو اس کے دامن میں واقع چیک پوسٹ پر ان کا شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں واپس موڑ دیا جاتا۔ اس برتاؤ کی شکایت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "ترقی کے نام پر ہم سے ہمارا سمندر اور پہاڑ چھین لیے گئے ہیں"۔

عبدالحمید کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب سے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی-پیک) کے تحت گوادر اور اس کے گردونواح میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر شروع ہوئی ہے پورے مکران ڈویژن میں جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں جہاں مقامی لوگوں کو روک کر ان سے ان کی شناختی دستاویزات طلب کی جاتی ہیں اور بعض اوقات تلاشی بھی لی جاتی ہے۔ ان کے بقول مقامی لوگوں کو ان چیک پوسٹوں پر روک کر ایک ہی طرح کے سوال پوچھے جاتے ہیں: "کہاں جا رہا ہے؟ کیا کرے گا وہاں؟ شناختی کارڈ دکھاؤ"۔ 

عبدالحمید کے پہلو میں کھڑے صادق جدگال کا خاندان ماہی گیری سے وابستہ ہے۔ وہ بلوچستان کے سمندر میں غیرقانونی طور پر ماہی گیری کرنے والوں ٹرالروں کی وجہ سے بہت تنگ ہیں۔ اگرچہ وہ خود 25 سال سے زیادہ عمر کے نہیں مگر انہوں نے اپنے بڑوں سے سن رکھا ہے کہ ایسے ٹرالر کئی دہائیوں سے اس علاقے میں موجود ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ "اب ان کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ سمندر کی تہہ سے بھی مچھلیوں کا صفایا کر رہے ہیں"۔ 

نتیجتاً، ان کے بقول، مقامی ماہی گیر "اب پورا ہفتہ سمندر میں گزارنے کے بعد بھی اتنی مچھلی نہیں پکڑ سکتے جو ان کے گھروں کے چولہے جلائے رکھے"۔ 

اپنی بڑھتی ہوئی مالی مشکلات پر قابو پانے کے لیے صادق جدگال اپنی کشتی کے ذریعے ایران سے ڈیزل لے کر آتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں ہر پھیرے کا لگ بھگ چھ ہزار روپیہ مل جاتا ہے۔ چونکہ یہ ایک غیرقانونی کام ہے اس لیے انہیں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ وہ کہیں پکڑے نہ جائیں اور ان کی کشتی ضبط نہ کر لی جائے۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ روزگار کے دیگر مواقع کی عدم موجودگی میں "اس کا علاوہ میں کر ہی کیا سکتا ہوں"۔

اُسی روز دھرنے میں ایک خاتون اپنے ماتھے پر ایک سفید پٹی باندھ کر بیٹھی ہیں جس پر ’حق یا شہادت‘ لکھا ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ گوادر میں بجلی، پانی اور گیس کی اتنی قلت ہے کہ "آج اس شہر کا ہر باسی احتجاج کر رہا ہے"۔ ان کے مطابق "گرمیوں میں 20 دن میں صرف ایک بار آدھے گھنٹے کے لیے پانی آتا ہے جبکہ بجلی ہر روز صرف آدھا دن دستیاب ہوتی ہے مگر اس کے باوجود اس کے بِل کی مد میں ہر گھر سے ہر ماہ ہزاروں روپے وصول کیے جاتے ہیں"۔

اپنی بات ختم کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ اس صورتِ حال میں "مقامی عورتیں گھر نہیں بیٹھ سکتیں"۔ 

'ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں'

ہدایت الرحمان کولانچ نامی بستی میں پیدا ہوئے جو گوادر سے تقریباً ایک سو کلومیٹر شمال میں تربت شہر کے راستے میں واقع ہے۔ ان کا خاندان وہاں کھیتی باڑی کرتا تھا۔ 

لیکن تقریباً تین دہائیاں پہلے ان کے گھر والے کولانچ کو چھوڑ کر گوادر سے گیارہ کلومیٹر کے فاصلے پر سربندن نامی گاؤں میں منتقل ہو گئے جہاں وہ باقی مقامی لوگوں کی طرح ماہی گیری کرنے لگے۔ تاہم ہدایت الرحمان کولانچ میں رکنے کے بجائے کراچی چلے گئے جہاں انہوں نے میٹرک سے لے کر ایم اے اسلامیات تک تعلیم حاصل کی۔ وہ حیدرآباد کے قریبی شہر ہالہ کے ایک مدرسے، جامعہ منصورہ، سے دینی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے (جس کی وجہ سے انہیں 'مولانا' کہا جاتا ہے)۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

چراغ تلے اندھیرا: آزاد جموں و کشمیر کے باسی اپنے دریاؤں سے بنی بجلی کے ثمرات سے محروم۔

دورانِ تعلیم وہ جماعتِ اسلامی سے منسلک طلبا تنظیم، اسلامی جمیعت طلبا، کے سرگرم رکن رہے۔ 2003 سے وہ گوادر کی انتخابی سیاست میں بھی باقاعدگی سے حصہ لے رہے ہیں اور ایک بار یونین کونسل کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ 

تاہم پچھلے چند ہفتوں میں وہ نہ صرف گوادر کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں بلکہ 'گوادر کو حق دو' تحریک کے سرخیل کے طور پر اب پورے پاکستان میں لوگ ان کے نام سے واقف ہیں۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ 9 دسمبر کو جب پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی تو آسیہ بی بی جیسے مظاہرین نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

پولیس کے اقدام کے خلاف احتجاج کے طور پر اگلے روز گوادر کی میرین ڈرائیو پر ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں بہت سی عورتوں سمیت کئی ہزار لوگوں نے حصہ لیا۔ ان سے اکثر نے اپنے سروں پر سفید پٹیاں باندھ رکھی تھیں جن پر’حق یا شہادت‘ لکھا ہوا تھا۔ 

تحریک کے ستائیسویں دن ایک عام جرگے کا انعقاد کیا گیا جس کے دوران پورٹ روڈ پر موجود ہر فرد کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ سٹیج پر آ کر تجویز دے کہ مظاہرین کا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ دو دن کے غوروخوض کے بعد تحریک کے شرکا نے فیصلہ کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات نہ مانے تو وہ اس مرکزی شاہراہ (ایکسپریس وے) کو بند کر دیں گے جو گوادر کی بندرگاہ کو مکران کوسٹل ہائی وے سے جوڑتی ہے۔ 

لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد سے پہلے ہی تحریک کے قائدین اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے درمیان مذاکرات ہوئے جن کے نتیحے میں حکومت نے مظاہرین کے تمام مطالبات مان لیے اور یوں 16 دسمبر کو ان کا احتجاج اپنے اختتام کو پہنچا۔ 

ہدایت الرحمان کہتے ہیں کہ اس تحریک کی کامیابی کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ گوادر اور اس کے ارد گرد رہنے والے لوگوں کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ بچا ہی نہیں۔ وہ مقامی لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ "اگر سی پیک ہمارے فائدے کے لئے ہے تو پھر ہمارے حصے میں پانی، بجلی، تعلیم اور روزگار کی بجائے ٹرالر، چیک پوسٹ اور تذلیل ہی کیوں آئی ہے؟" 

متبادل سیاسی راستہ

پچھلے انتخابات کے لیے کی گئی حلقہ بندیوں نے گوادر کی انتخابی اہمیت بہت کم کر دی ہے کیونکہ اسے قومی اسمبلی کے ایک ایسے حلقے میں شامل کر دیا گیا ہے جو لگ بھگ سات سو کلو میٹر لمبا ہے اور اس کے مختلف حصوں کی معیشت اور معاشرت ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔ 

اس کا ایک حصہ بلاچستان کے جنوب مشرقی ضلع لسبیلہ پر مشتمل ہے جو ایک زرعی، صنعتی اور تجارتی علاقہ ہے اور جس کے مقامی لوگوں کے کراچی اور مغربی سندھ کے ساتھ گہرے معاشی اور سماجی روابط ہیں۔ اس حلقے کا دوسرا حصہ گوادر کا ضلع ہے جس کی معیشت ماہی گیری سے جڑی ہوئی ہے اور جس کے لوگوں کے ایران اور عمان کے ساتھ تاریخی رشتے ہیں۔

اسی طرح ضلع لسبیلہ کی مجموعی آبادی پانچ لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ ضلع گوادر کی آبادی محض ڈیڑھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس حلقے سے جیتنے کے لیے ایک امیدوار کو گوادر کے ووٹوں کی ضرورت ہی نہیں بشرطیکہ وہ ضلع لسبیلہ کے بڑے بڑے قصبوں، حب، بیلہ، اوتھل، ویندڑ اور گڈانی، میں ایک کامیاب انتخابی مہم چلا لے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن اسلم بھوتانی 'گوادر کو حق دو' تحریک میں شامل لوگوں سے ایک مرتبہ بھی نہیں ملے۔ 

گوادر کے مقامی صحافی اور سماجی کارکن ناصر رحیم سہرابی کہتے ہیں کہ یہ تحریک دراصل اسی طرح کی غیر متوازن سیاست سے بیزاری کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق "مولانا (ہدایت الرحمان) نے کوئی نئی بات نہیں کی لیکن ان سے پہلے کسی سیاسی جماعت نے اتنی شدت کے ساتھ گوادر کے مسائل اٹھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی"۔ 

مکران ڈویژن میں نیشنل پارٹی کے عہدے دار آدم قادر بخش بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کی جماعت سمیت تمام سیاسی پارٹیاں گوادر کے لوگوں کی آواز بننے میں ناکام رہی ہیں اور اب بھی اگر انہوں نے مقامی لوگوں کی بات نہ سنی تو "ان کی اہمیت ختم ہو جائے گی"۔ 

گوادر کے سیاسی کارکن یہ بھی سمجھتے ہیں کہ 'گوادر کو حق دو' تحریک نے لوگوں کو مسلح سیاست کا ایک کامیاب متبادل فراہم کیا ہے۔ مقامی ماہی گیروں کے ایک رہنما کے بقول اس تحریک نے لوگوں کو سکھایا ہے کہ "ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر جائے بغیر بھی حقوق کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے"۔

اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے گوادرکے ماہی گیروں کی مختلف تنظیموں کو اکٹھا کر کے ان کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی بنیاد ڈالی تھی جس کی پاداش میں سکیورٹی ایجنسیوں نے انہیں حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ اگرچہ کچھ دن بعد انہیں رہا کر دیا گیا لیکن ان کا شناختی کارڈ انہیں ابھی تک واپس نہیں کیا گیا- چنانچہ وہ اپنے محلے سے باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ، ان کے مطابق، "چیک پوسٹوں سے گزرتے ہوئے وہ کوئی شناختی دستاویز پیش نہیں کر سکتے"۔

وہ کہتے ہیں کہ "پنجاب کی نسبت گوادر میں سیاسی آزادیاں اتنی ناپید ہیں کہ چھوٹی چھوٹی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر بھی سکیورٹی ایجنسیاں لوگوں کو حراست میں لے لیتی ہیں"۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ 'گوادر کو حق دو' تحریک نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر عورتوں اور بچوں سمیت لاکھوں لوگ سڑکوں پر آ جائیں تو ان سب کو حراست میں لینا ممکن نہیں ہوتا۔

ان کے بقول "اب وہ کس کس کو اٹھائیں گے؟"

تاریخ اشاعت 5 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے سیاسیات میں بی اے آنرز کیا ہے۔ وہ نظم و نسق، ادارہ جاتی بدعنوانی، کارکنوں کے حقوق اور مالیاتی انتظام کے امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔