الائی میں خستہ حال خطرناک سڑکیں 50 سال سے مرمت کی منتظر: خطرناک گڑھے آئے روز انسانی جانیں لینے لگے

postImg

عمر باچا

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

الائی میں خستہ حال خطرناک سڑکیں 50 سال سے مرمت کی منتظر: خطرناک گڑھے آئے روز انسانی جانیں لینے لگے

عمر باچا

loop

انگریزی میں پڑھیں

گزشتہ دنوں کیبل کار واقعے اور اس میں لوگوں کو بچانے کے لیے کیے جانے والے ریسکیو آپریشن کے حوالے سے خبروں میں رہنے والا علاقہ خیبرپختونخوا کے شمالی ضلع بٹ گرام کی تحصیل الائی میں واقع ہے۔ تحریک انصاف حکومت نے جاتے جاتے الائی کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا جس کا نوٹی فیکشن بھی جاری ہوگیا، مگر تاحال یہاں ضلعی سطح کی سرکاری سرگرمیاں شروع نہیں ہو پائی ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق ضلع کا درجہ دینے کا اعلان سیاسی فوائد کے حصول کی خاطر ہی تھا اور یہاں موجود دو بڑے سیاسی خاندانوں یعنی بیاری اور تیلوس کے خوانین کے درمیان دہائیوں سے چلی آرہی سیاسی کھینچا تانی میں تحریک انصاف نے بیاری کے خوانین کے نمائندے اور اپنے سابق رکن اسمبلی زبیر خان کے پلڑے میں وزن ڈالنا تھا۔

عملی اقدامات کی بات ہو تو الائی جیسی خوبصورت سیاحتی وادی کو جانے والی دونوں سڑکیں انتہائی خراب اور خستہ حال ہیں۔ پہلی سڑک تھاکوٹ سے براستہ جمبیڑہ اسے بٹ گرام سے جوڑتی ہے جبکہ دوسری سڑک بشام سے براستہ پزنگ، سکر گاہ اسے ضلع شانگلہ سے ملاتی ہے۔ اس سڑک کی حالت ایسی ہے کہ رپورٹنگ کے لیے جاتے ہوئے اس پر جا بجا بڑے بڑے گڑھوں سے واسطہ پڑا۔ ہمارے ڈرائیور کا کہنا تھا کہ یہاں بارش کے بعد تالاب بن جاتے ہیں، جن میں لوگ اپنی بھینسیں نہلاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی این ڈبلیو) کی ویب سائٹ پر الائی کی دونوں سڑکوں کیلئے 2019 سے 2022 تک کسی سالانہ پروگرام (اے ڈی پی) میں کسی منصوبے یا ٹینڈر کا ریکارڈ موجود نہیں اور نہ ہی اس کیلئے کوئی فنڈ مختص ہوئے ہیں۔

بشام تا بنہ الائی روڈ کے راستے میں تین یونین کونسلوں پر مشتمل سات مختلف گاؤں آتے ہیں۔ الائی بنّہ تحصیل اور مجوزہ ضلعی ہیڈکوارٹرز ہے اور قراقرم ہائے وے کو بنہ سے ملانے والا نزدیک ترین راستہ ہے مگر 1974 کے بعد اس راستے پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔

سڑسٹھ سالہ سید زادہ کا تعلق الائی کے گاؤں کنڈ سے ہے۔ انہیں یاد ہے کہ جب یہ سڑک بن رہی تھی تو ان کی عمر انیس بیس سال تھی۔ اس پر کام کرنے والے مقامی افراد کو سات روپے دیہاڑی مل رہی تھی۔ اگرچہ انہیں اس وقت کام نہیں ملا تھا لیکن انہیں یاد ہے کہ 1974 میں زلزلے کے بعد جب کوہستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم ہوئی تو اُسی کے تحت پہلی مرتبہ یہ سڑک بنائی گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ پچاس سال ہونے کو ہیں اور دوبارہ کبھی اس سڑک پر کام نہیں ہوا۔ اس سے برعکس قریبی ضلع شانگلہ کے حالات بالکل مختلف ہیں جہاں بہت سارے منصوبوں پر یا تو کام جاری ہے یا وہ مکمل ہو گئے ہیں۔ یہاں ہسپتال بھی موجود ہیں اور اسی لیے الائی تحصیل کی دو لاکھ سے زیادہ آبادی علاج معالجے کے لیے بشام (ضلع شانگلہ) کا ہی رخ کرتی ہے۔

سید زادہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحصیل الائی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر مذکورہ بالا خوانین کے گروہ باری باری منتخب ہوتے چلے آئے ہیں۔ تیلوس کے خوانین جمعیت علمائے اسلام (فضل) سے وابستہ ہیں جبکہ بیاری والے پہلے مسلم لیگ (ن) میں تھے اور اب پی ٹی آئی میں ہیں۔

"خدا جانے یہ دونوں گروپ کیوں نہیں چاہتے کہ اس سڑک پر کام ہو، علاقے کا کوئی شخص بھی یہ ہمت نہیں کر سکتا کہ کسی خان سے سڑک بنوانے کی بات کرے۔"

الائی کے گاؤں پزنگ سے تعلق رکھنے والے شفیع اللہ پچھلے چھ سال سے بشام تا الائی روڈ پر مسافر بردار ڈبل کیبن گاڑی چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ڈرائیونگ کرنا بہت مشکل ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وہ ایک خاتون کو زچگی کے کیس میں میڈیکل ایمرجنسی کے باعث بشام لے جا رہے تھے اور انہیں بروقت منزل پر پہنچنے کے لیے خود اور مریضہ کے ساتھ موجود دو افراد کے ساتھ درجن سے زیادہ مقامات پر بیلچوں اور ہاتھوں سے سڑک کی صفائی کرنا پڑی اور وہ ایک گھنٹے کا سفر بمشکل تین گھنٹے میں طے کر کے ہسپتال پہنچے۔

شفیع اللہ نے بتایا کہ ایسے کئی واقعات ہیں جب زچگی کی تکلیف میں مبتلا خواتین راستے میں ہی دم توڑ گئیں کیونکہ اس سڑک پر صحت مند لوگوں کے لیے سفر کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔

شفیع اللہ نے مزید بتایا کہ ایک ہفتہ پہلے انہوں نے اپنی گاڑی کیلئے پچاس ہزار روپے کے ٹائر خریدے ہیں۔ لیکن اس سڑک پر چند روز سفر کے بعد ہی ان کی حالت سے ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ دن بھر گاڑی چلا کر بمشکل ایک ہزار روپے بھی نہیں بچا پاتے۔

"ہم مقامی ٹرانسپورٹروں نے آپس میں مل کر 20 ہزار ماہانہ تنخواہ پر ملازم رکھ لیا ہے جو سکر گاہ اور پزنگ کے حدود میں لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں ملبہ ہٹا کر سڑک کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہاں سے گاڑی گزر سکے۔

روزگار کے سلسلے میں روانہ اس سڑک پر سفر کرنے والے محمد فیاض بشام شہر میں میڈیکل سٹور پر کام کرتے ہیں اور پک اپ گاڑی میں پزنگ آتے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کنڈ پل سے گھر تک ان کا سفر بہت اذیت ناک ہوتا ہے کیونکہ پتھروں اور گہر ے گڑھوں پر چلتی گاڑی اس طرح ہچکولے لیتی ہے کہ ڈر لگا رہتا ہے کہیں گاڑی الٹ ہی نہ جائے۔

محمد فیاض بتاتے ہیں کہ اُن کے کئی عزیز رشتہ دار اور ان کے گاؤں کے رہائشی اس خستہ حال سڑک پر پیش آنے والے حادثات میں جانیں گنواچکے ہیں۔ اُن کے ایک کزن 2009 میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ان کے گاؤں کے تین بھائی بھی اسی سڑک پر حادثے میں فوت ہوچکے ہیں۔

بیلہ پزنگ کے رہائشی زبردست خان کہتے ہیں کہ اُن کی داڑھی سفید ہو گئی ہے، مگر اپنی پوری عمر میں انہوں نے آج تک اس سڑک پر تعمیراتی کام کرنیوالی مشینری نہیں دیکھی۔ جب بھی لینڈ سلائیڈنگ اور بارشوں میں سڑک بند ہوتی ہے تو مقامی لوگ بیلچے لے کر اکھٹے ہوتے ہیں اور سڑک کو بحال کرتے ہیں۔

ابرار خان بشام میں ایک این جی او میں گزشتہ چار سال سے کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بشام الائی روڈ تعمیر ہوجائے تو وہ صرف 25 منٹ میں گھر پہنچ سکتے ہیں۔ فی الوقت وہ تھاکوٹ سے براستہ سوبت چرہ الائی جاتے ہیں اور یہ سفر انہیں دو گھنٹے میں پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

دشوار راستے، دشوار تر زندگی: شانگلہ کی ندی پر بنے نامکمل پل سے مقامی لوگوں کی نقل و حرکت محدود

ابرار کا کہنا ہے کہ کہ الائی کی خوبصورت وادی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے، مگر سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے یہاں باہر سے کوئی نہیں آتا۔اگر سڑک بن جائے تو سیاحت سے مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے الائی کے تحصیل چیئرمین مفتی غلام اللہ نے بتایا کہ اس میں تحصیل الائی کی ترقی پر کبھی کسی نے توجہ نہیں دی اور دونوں سڑکوں کی حالت اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ وہ ماضی میں منتخب ہونے والےعوامی نمائندوں کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 2009 میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے ادارے (ایرا) نے بشام الائی روڈ کیلئے فنڈ مہیا کیے تھے جس سے بعض مقامات پر کچھ کٹنگ کی گئی۔ اس کے بعد سڑک پر ایک دھیلے کا کام نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر فنڈ ملے تو سڑکوں کی تعمیر ان کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہو گی۔ لیکن محکمہ بلدیات نے انتخابات کے بعد اب تک انہیں کوئی فنڈ جاری نہیں کیے اور ان کے چیئرمین بننے کا علاقے کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا اور گراس روٹ لیول پر نمائندوں کو بااختیار بنانے کی باتیں خالی خولی دعووں سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

تاریخ اشاعت 2 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

عمر باچا خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک تحقیقاتی صحافی ہیں۔ انسانی حقوق، سماجی مسائل، سیاحت اور معیشیت کے حوالے سے رپورٹنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا
thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ

آزاد کشمیر: احتجاج ختم ہو گیا مگر! مرنے والوں کو انصاف کون دے گا؟

thumb
سٹوری

ٹنڈو الہیار میں خسرہ سے ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری

ملتان، تھری وہیلر پائلٹ پراجیکٹ: بجلی سے چلنے والے 20 رکشوں پر مشتمل ایک کامیاب منصوبہ

thumb
سٹوری

موسموں کے بدلتے تیور کیا رنگ دکھائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceزبیر خان
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.