ن لیگ، پیپلز پارٹی، 'آزاد' اور ٹی ایل پی ضلع اٹک میں کس کی کیا پوزیشن ہے؟

postImg

ندیم حیدر

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ن لیگ، پیپلز پارٹی، 'آزاد' اور ٹی ایل پی ضلع اٹک میں کس کی کیا پوزیشن ہے؟

ندیم حیدر

loop

انگریزی میں پڑھیں

ضلع اٹک میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے یہاں سے دو قومی اور چار صوبائی نشستیں جیت لی تھیں مگر ضمنی الیکشن میں ایک قومی اور ایک صوبائی نشست کھو دی تھی۔

اس ضلعے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 13 لاکھ 49 ہزار 40 ہے جن میں چھ لاکھ 97 ہزار 362 مرد اور چھ لاکھ 51 ہزار 678 خواتین ووٹر ہیں۔

اٹک کی سیاست میں برادریوں اور دھڑے بندی کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ یہاں شیخ، کھٹڑ، سید، بنگش، وردگ، ارائیں، مغل، قریشی، کشمیری، اعوان (ملک)، پٹھان اور بھٹی برادری با اثر شمار ہوتی ہیں۔ تاہم ایک ایک برادری سے کئی کئی امیدوار ہونے کے باعث ان کا ووٹ اکثر اوقات تقسیم رہتا ہے۔

این اے 49 میں تحصیل اٹک، حضرو اور حسن ابدال کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ جہاں شیخ آفتاب احمد ن لیگ، خرم شہزاد پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کے میجر ریٹائرڈ طاہر صادق اور ملک امین اسلم آزاد امیدوار ہیں۔

 مسلم لیگ ن کے شیخ آفتاب احمد یہاں سے پانچ بار رکن قومی اسمبلی اور ایک بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں مگر پچھلا الیکشن طاہر صادق سے ہار گئے تھے۔ جبکہ ملک امین اسلم پی ٹی آئی کے وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔

طاہر صادق سابق ضلع ناظم اٹک ہیں جنہوں نے پچھلی بار اٹک کے دو قومی اور ایک صوبائی حلقے سے بھاری اکثریت سے الیکشن جیتا تھا۔ ضلع بھر میں ان کی کھٹڑ برادری کے علاوہ میجر گروپ کے نام سے ایک مضبوط دھڑا اور ذاتی ووٹ بینک ہے۔


اٹک نئی حلقہ بندیاں 2023

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 55 اٹک 1 اب این اے 49 اٹک 1 ہے
پنجاب میں قومی اسمبلی کا یہ پہلا حلقہ ہے جو  ضلع اٹک کی تحصیلوں حضرو، اٹک اور حسن ابدال کے کچھ علاقوں پر مشتمل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، یعنی 2018ء کے انتخابات کے وقت جو علاقے اس حلقے میں شامل تھے 2024ء کے انتخابات میں بھی وہی رہیں گے۔

2018 کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 56 اٹک 2 اب این اے 50 اٹک 2 ہے
یہ حلقہ جنڈ، فتح جھنگ اور پنڈی گھیپ کی آبادیوں پر مشتمل ہے۔ اس میں تحصیل حسن ابدال کے تین قانون گو حلقے قصبہ حصار، کوٹ پتھر گڑھ اور کوٹ سندکی بھی شامل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، 2018ء کے انتخابات کے وقت جو علاقے اس حلقے میں شامل تھے 2024ء کے انتخابات میں بھی وہی رہیں گے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 1 اٹک 1 اب پی پی 3 اٹک 3 ہے
یہ حلقہ اٹک تحصیل پر مشتمل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت کامرہ کینٹ کا علاقہ جو پہلے اس حلقے میں شامل تھا اسے نکال دیا گیا ہے۔ اس کی جگہ اکھوری اور بوٹا پٹوار سرکلز کو اس حلقے میں شامل کیا گیا ہے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 2 اٹک 2 اب پی پی 1 اٹک 1 ہے
یہ حضرو تحصیل کا صوبائی حلقہ ہے۔  اب اس میں کامرہ کینٹ کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے تحت اس حلقے سے تحصیل حسن ابدال کے پٹوار سرکلز خودا، اسلام گڑھ اور کوہیلہ کو نکال کر اس کی جگہ کامرہ کینٹ کو شامل کیا گیا ہے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 3 اٹک 3 اب پی پی 2 اٹک 2 ہے
یہ حسن ابدال تحصیل کا حلقہ ہے جس میں فتح جنگ میونسپل کمیٹی بھی شامل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں حسن ابدال تحصیل کے پٹوار سرکلز خودا، اسلام گڑھ اور کوہیلہ کو شامل کرلیا گیا ہے۔ فتح جنگ تحصیل کے پٹوار سرکلز فتح جنگ، جعفر، گگن، بھال سیداں اور تاجا بارا کو نکال دیا گیا ہے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 4 اٹک 4 اب پی پی 4 اٹک 4 ہے
یہ حلقہ پنڈی گھیب اور فتح جھنگ تحصیلوں کی دیہی آبادی پر مشتمل حلقہ ہے۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں سوائے میونسپل کمیٹی فتح جنگ اور باہتر قصبے کے قانون گو حلقے کے پوری فتح جنگ  تحصیل کو شامل کیا گیا ہے۔  جبکہ پنڈی گھیب تحصیل کے پٹوار سرکل سرکل ٹانویں اور کسراں کو نکال دیا گیا ہے۔

2018 کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 5 اٹک 5 اب پی پی 5 اٹک 54 ہے
یہ حلقہ جنڈ تحصیل کی آبادی پر مشتمل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں میں اس حلقے میں معمولی کی تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب اس میں  پنڈی گھیب تحصیل کے پٹوار سرکل ٹانویں اور کسراں کو شامل کر لیا گیا ہے جبکہ اٹک تحصیل کے اکھوری اور بوٹا پٹوار سرکل کو نکال دیا گیا ہے۔


ملک امین اسلم پی ٹی آئی کے سابق وزیر مملکت ہیں جن کی برادری کا حلقے میں بہت سا ووٹ ہے اور ان کے والد ملک اسلم کا بھی علاقے میں اچھا اثر و رسوخ تھا۔

اس نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار خرم شہزاد پہلی بار الیکش لڑ رہے ہیں جبکہ جماعت اسلامی، جے یو آئی اور تحریک لبیک کے امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔

مقامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے میاں عاطف بتاتے ہیں کہ اس حلقے میں شیخ آفتاب اور طاہر صادق کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنما نو مئی کے بعد منظر عام سے غائب ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتخابی مہم میں اس کا ن لیگ یا کوئی دوسرا امیدوار کتنا فائدہ اٹھا پاتا ہے۔

سابق ایم این اے طاہر صادق، ان کی صاحبزادی ایمان طاہر، اہلیہ ناز طاہر اور بیٹے زین الٰہی نے بھی مختلف حلقوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں۔ مگر مسز ناز طاہر کے سوا ابھی تک کوئی سامنے نہیں آیا۔

این اے 50 اٹک ٹو تحصیل پنڈی گھیب، جنڈ، فتح جنگ اور حسن ابدال کے کچھ علاقے آتے ہیں۔ یہ نشست بھی گزشتہ عام انتخابات میں طاہر صادق نے جیتی تھی لیکن ضمنی میں یہاں سے ن لیگ کے ملک سہیل کمڑیال جیت گئے تھے۔

اب اس حلقے میں 20 امیدوار دوڑ میں شامل ہیں تاہم ن لیگ کے ملک سہیل کمڑیال، پی ٹی آئی کی آزاد امیدوار ایمان طاہر، ٹی ایل پی کے صدر سعد رضوی اور پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر سردار سلیم حیدر تگڑے امیدوار ہیں۔

2018ء میں اس انتخابی حلقے سے ٹی ایل پی نے 62 ہزار سے زائد ووٹ لیے تھے اور تیسرے نمبر پر آئی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کی امیدوار سردار سلیم حیدر چوتھے نمبر پر تھے۔

پنڈی گھیب کےسماجی ورکر ریاض الدین اعوان بتاتے ہیں کہ نو مئی کے بعد ایمان طاہر اور ان کا خاندان منظر عام پر نہیں آیا۔ اگر 8 فروری تک یہی صورتحال رہی تو اس کا فائدہ ملک سہیل کمڑیال اور سردار سلیم حیدر خان کو ہوگا۔

 وہ کہتے ہیں کہ ٹی ایل پی بھی اس علاقے میں اپنا حلقہ اثر بنا چکی ہے جس کے مرکزی صدر سعد رضوی یہاں خود الیکشن لڑ رہے ہیں۔ مجموعی صورت حال کو دیکھا جائے تو اس نشست پر زبردست معرکہ ہو گا اور کسی بھی امیدوار کی جیت کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔

صوبائی حلقے پی پی 1، پی پی 2 اور پی پی 3 حلقہ این اے 49 جبکہ پی پی 4 اور پی پی 5 قومی حلقہ این اے 50 کے نیچے آتے ہیں۔

پنجاب کے پہلے صوبائی حلقے پی پی 1 میں تحصیل حضرو اور کامرہ کینٹ کاعلاقہ شامل ہے۔ جہاں 17 امیدوار انتخابی میدان میں اترے ہیں جن میں ن لیگ کے سابق ایم پی اے جہانگیر خانزادہ اور پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر قاضی احمد اکبر فرنٹ رنر ہیں۔

حضرو کے رہائشی نصیر خان بتاتے ہیں کہ دہشتگرد حملے میں سابق صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کی شہادت کے بعد اس نشست سے جہانگیر خانزادہ منتخب ہوئے اور پچھلی بار بھی وہی جیت گئے تھے۔ لیکن پی ٹی آئی کے قاضی احمد اکبر نے بھی خوب مقابلہ کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ احمد اکبر نو مئی کے بعد لوگوں میں دکھائی نہیں دیے تاہم اس بار بھی میدان جہانگیر خانزادہ اور قاضی احمد اکبر کے درمیان لگے گا۔ جماعت اسلامی، جمعیت علماءاسلام اور ایک آزاد امیدوار بھی اچھے ووٹ لے جائیں گے۔

پی پی 2 تحصیل حسن ابدال اور فتح جنگ کے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں گزشتہ عام انتخابات میں میجر طاہر صادق نے ن لیگ کے آصف علی خان کو ہرایا تھا۔ مگر ضمنی میں ن لیگ کے سردار افتخار احمد خان جیت گئے تھے۔

اس بار اس حلقے میں پیپلز پارٹی کے سردار ذوالفقار حیات خان، ن لیگ کے سردار افتخار احمد خان اور پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر سردار محمد علی خان (آزاد) اور میجر طاہر صادق کی اہلیہ ناز طاہر نمایاں امیدوار ہیں۔

اس حلقے میں ملک، اعوان، خان، چوہدری، سردار، طاہر خیلی اور کھٹڑ اکثریتی برادریاں ہیں جبکہ چاروں امیدوار کھٹڑ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نشست پر زور دار مقابلے کی توقع ہے۔

پی پی امیدوار سردار ذوالفقار حیات اٹک کے پرانے سیاسی خاندان کے فرد اور نامور پاکستانی سیاستدان سردار شوکت حیات مرحوم کے پوتے ہیں۔ اس فیملی کا علاقے میں خاصا اثر ہے جبکہ میجر گروپ کا بڑا ووٹ بینک ہے۔ اسی طرح  سردار افتخار  اور سردار محمد علی کے ساتھ پارٹی سپورٹ موجود ہے۔

سماجی کارکن اور صحافی چوہدری وقار بتاتے ہیں کہ سردار محمد علی میجر گروپ اور طاہر خیلی گروپ کی مکمل حمایت سے ہی جیت سکتے ہیں۔ اگر طاہر صادق کی اہلیہ  آخر تک الیکشن میں موجود رہیں تو اس کا فائدہ پی پی اور ن لیگ کو ہو گا۔

حسن ابدال کے رہائشی نعمان کہتے ہیں کہ سردار ذوالفقار حیات خان کی انتخابی مہم اور بے پناہ کام واضح نظر آ رہا ہے جبکہ سردار افتخار ضمنی انتخاب میں رکن صوبائی اسمبلی بننے کے بعد اب تک دوبارہ دکھائی نہیں دیے۔

پی پی 3 میں تحصیل اٹک کی آبادیاں اور کامرہ کینٹ کا علاقہ آتا ہے۔ 2018 ء کے عام انتخابات میں یہاں سے پی ٹی آئی کے سید یاور عباس بخاری منتخب ہوئے تھے جبکہ آزاد امیدوار ملک حمید اکبر دوسرے اور ن لیگ کے شیخ آفتاب کے بیٹے سلمان سرور تیسرے نمبر پر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

میانوالی کے دو سابق ارکان قومی اسمبلی جیل میں ہیں، متبادل امیدواروں اور روایتی سیاسی خاندانوں میں مقابلے

 اب کی بار اس نشست پر ملک حمید اکبر خان ن لیگ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اعجاز حسین بخاری آزاد جبکہ طاہر صادق کے بیٹے زین الٰہی بھی امیدوار ہیں۔ ان کے علاوہ پیپلز پارٹی، ٹی ایل پی اور دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔

اس نشست پر زین الٰہی کو میجر طاہر گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ اگر زین الٰہی اور اعجاز بخاری دونوں آخر تک الیکشن میں موجود رہے تو اس کا فائدہ ن لیگ کے ملک حمید اکبر کو ہو گا۔

پی پی 4 میں تحصیل فتح جنگ اور پنڈی گھیب کےعلاقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں بھی سماجی ڈھانچہ اور سیاسی دھڑے بندی اٹک کے دیگر حلقوں سے مختلف نہیں ہے۔

 گزشتہ انتخابات میں اس نشست پر پی ٹی آئی کے کرنل محمد انور نے چوہدری شیر علی کو ہرایا تھا۔ جبکہ ٹی ایل پی کے ملک امانت راول تیسرے اور ملک ریا ست چوتھے نمبر پر تھے۔

اب اس حلقے میں ن کے چوہدری شیر علی، پیپلز پارٹی کے ملک ریاست سدریال، پی ٹی آئی سے سردار شاہ نواز آزاد اور ٹی ایل پی سے ملک امانت خان راول امیدوار ہیں۔ جبکہ کرنل انور الیکشن نہیں لڑ رہے۔ یہاں سخت مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

پی پی 5 میں تحصیل جنڈ اور پنڈی گھیب کے کچھ علاقے آتے ہیں۔ یہ نشست پچھلے الیکشن میں پی ٹی آئی کے ملک جمشید الطاف نے جیتی تھی جبکہ ن لیگ کے ملک بہادر اور دوسری اور ٹی ایل پی کے احسن محمود گیلانی تیسری پوزیشن پر آئے تھے۔

 اب سابق ایم پی اے کے ملک جمشید الطاف آزاد، ملک اعتبار خان ن لیگ، عاطف حسین گیلانی ٹی ایل پی اور شہیر حیدر ملک پاکستان نظریاتی پارٹی کے امیدوار ہیں۔

پنڈی گھیب کے رہائشی آصف بتاتے ہیں کہ چاروں امیدوار یہاں کی بااثر ملک، سید اور اعوان برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں پارٹیوں اور ذاتی ووٹر کی سپورٹ بھی حاصل ہے۔ لگتا یہی ہے اس حلقے میں ن لیگ، پی ٹی آئی کے آزاد اور ٹی ایل پی کے امیدواروں میں فائنل ریس ہو گی۔

تاریخ اشاعت 23 جنوری 2024

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

ندیم حیدر کا تعلق اٹک شہر سے ہے۔ گزشتہ آٹھ سال سے ملکی سطح کے مختلف نیوز چینلز کے ساتھ بطورڈسٹرکٹ رپورٹر کام کر رہے ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.