رہائشی اور تجارتی منصوبوں کے ذریعے دریائے راوی کی بحالی: 'اس سے دریا آباد ہونے کے بجائے برباد ہو جائے گا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

رہائشی اور تجارتی منصوبوں کے ذریعے دریائے راوی کی بحالی: 'اس سے دریا آباد ہونے کے بجائے برباد ہو جائے گا'۔

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

رہائشی اور تجارتی منصوبوں کے ذریعے دریائے راوی کی بحالی: 'اس سے دریا آباد ہونے کے بجائے برباد ہو جائے گا'۔

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

جون 2021 کے پہلے ہفتے میں ابو بکر نامی ایک نوجوان ملاح دریائے راوی کے کنارے اپنی کشتی صاف کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ کشتی پچھلے کئی ماہ استعمال نہیں کی۔ 

لاہور میں راوی کے پاس ہی واقع کریم پارک نامی علاقے میں رہنے والے ابوبکر سیر کے شوقین لوگوں کو اپنی کشتی میں بٹھا کر دریا کے بیچ واقع مغل شہزادے مرزا کامران کی تعمیر کردہ بارہ دری پر لے جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہر سال جون سے لے کر اگست تک کشتی کی سیر کرنے والے لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس عرصے میں دریا میں پانی کی مقدار سال کے باقی مہینوں کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق راوی میں آج کل بہنے والا زیادہ تر پانی دریائے چناب سے نکلنے والی رابطہ نہر کے ذریعے دریا میں آرہا ہے۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں ہونے والی بارشوں کی وجہ سے دریائی پانی کی مقدار میں اور بھی اضافہ ہونے والا ہے۔ 

لیکن اس نہری اور بارشی پانی کے ساتھ ساتھ راوی میں ایک اور طرح کا پانی بھی شامل ہو رہا ہے جس کی ناگوار بو سیر کرنے والوں اور ملاحوں کو سارا سال بھگتنا پڑتی ہے۔ دریا کے مٹیالے بہاؤ کے برعکس اس پانی کا رنگ کالا ہے اور یہ نالوں کی صورت میں کئی جگہ دریا  میں داخل ہوتا ہے۔ اس پانی کا منبع لاہور کی مختلف آبادیوں سے نکلنے والا مائع فضلہ اور فیکٹریوں کا پیدا کردہ کیمیائی مواد ہے جو شہر کے سیوریج سسٹم کے ذریعے دریا میں گرتا ہے۔  

دریا کے پاٹ پر جگہ جگہ اس پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی کے آثار محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اس میں شامل کیمیائی مادے اور انسانی فضلہ نا صرف راوی کے پانی کو بدبودار بناتے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے دریا میں اور اس کے ارد گرد جنگلی اور آبی حیات کا قریب قریب خاتمہ ہو گیا ہے اور اس کی جگہ کیچڑ، گوبر، کوڑے کے ڈھیروں اور پلاسٹک کے تھیلوں نے لے لی ہے۔ 

راوی پر ایک جدید شہر بسانے کا حکومتی منصوبہ بنانے والے حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ دریا کو اس ساری آلودگی سے پاک کر کے اسے صاف ستھرے پانی کی گزر گاہ میں بدل دیں گے۔ راوی ریور فرنٹ کے نام سے 414 مربع کلومیٹر پر ایک کروڑ 25 لاکھ لوگوں کے لئے بسایا جانے والا یہ مجوزہ شہر دریا پر سے گزرنے والی جی ٹی روڈ سے چند کلومیٹر شمال مشرق میں دریا کے دونوں کناروں پر واقع ہو گا۔

جب اگست 2020 میں وزیر اعظم عمران خان نے اس منصوبے کا افتتاح کیا تو اس پر عمل درآمد کے لئے خصوصی طور پر قائم کی گئی راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے تیزی سے اس پر کام شروع کر دیا۔ سب سے پہلا مرحلہ زمین کے حصول کا تھا جس کے لئے لاہور اور شیخوپورہ کی ضلعی انتظامیہ کو کہا گیا کہ وہ حصولِ اراضی کے قانون کے تحت نشان دہی کریں کہ کن رہائشی، صنعتی اور زرعی زمینوں کو ان کے مالکان سے خرید کر اس منصوبے میں شامل کیا جائے۔

لیکن اس عمل کے شروع ہوتے ہی لاہور کی متعدد شمالی بستیوں میں اس کے خلاف شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا جس کے باعث ان بستیوں میں زمیںوں کی نشان دہی کا کام روک دیا گیا- تاہم شیخوپورہ کی حدود میں نا صرف یہ کام بلا روک ٹوک جاری رہا بلکہ اس کی بنیاد پر زمین کے مالکان سے اس کی خریداری بھی شروع ہو گئی۔

اس دوران 31 دسمبر 2020 کو ہارون فاروق نامی ایک شہری نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی کہ راوی ریور فرنٹ پر کام بند کیا جائے کیونکہ اسے شروع کرنے سے پہلے حکومت قانونی طور پر اس کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کی پابند تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

اس درخواست پر اسی روز سماعت کرتے ہوئے عدالت نے حکومتِ پنجاب کو حکم دیا کہ وہ منصوبے پر عمل درآمد اس وقت تک روک دے جب تک وہ اس کے ماحولیاتی اثرات کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کی رپورٹ پنجاب کے محکمہ تحفظِ ماحولیات سے منظور نہیں کرا لیتی۔

نِجی کمپنی یا حکومتی ادارہ؟ 

عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لئے پنجاب حکومت نے 2011 میں قائم کی گئی انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز پنجاب پرائیویٹ لمیٹڈ کی خدمات حاصل کیں جو بظاہر ایک نِجی کمپنی معلوم ہوتی ہے لیکن اصل میں حکومتِ پنجاب کی ملکیت ہے۔ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی پنجاب حکومت کے اعلیٰ افسران شامل ہیں۔

انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز نے اپنی جائزہ رپورٹ چند دن میں ہی مکمل کر لی لیکن اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کا کام اس کمپنی کو دینا ایک مناسب اقدام نہیں تھا کیونکہ حکومت کی ملکیت ہونے کی وجہ سے اس کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ ایک حکومتی منصوبے کا آزادانہ جائزہ لے سکے۔ 

انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے اپنی ایک رپورٹ میں یہی نکتہ اٹھایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کا کام ایک ایسی کمپنی کو سونپا جائے جو ایک آزادانہ جائزہ لینے کی مہارت اور اہلیت رکھتی ہو۔ اسی طرح ماحولیاتی امور کی وکیل اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سرکاری طور پر قائم کیے گئے قومی کمیشن کی رکن صائمہ امین خواجہ کہتی ہیں کہ حکومتی ادارے نا تو ماحولیاتی مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور نا ہی وہ ان پر کبھی آزادانہ طور پر کام کر پاتے ہیں۔

انہیں اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ " انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز محکمہ تحفظِ ماحولیات کے ہاں رجسٹرڈ ہی نہیں حالانکہ قانون کی رو سے اس کا رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے"۔ 
تاہم سپریم کورٹ کے وکیل اور  انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز کے قانونی مشیر یاسین ہاتف ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پنجاب کے تحفظِ ماحولیات کے قانون مجریہ 1997 میں کوئی واضح ہدایت نہیں کی گئی کہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کا کام صرف آزادانہ طور پر  کام کرنے والی کمپنی کو ہی دیا جائے۔ ان کے مطابق اس قانون کی رو سے  "ایک مجوزہ عمارت کا مالک خود بھی ایسی رپورٹ جمع کروا سکتا ہے"۔

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ "کسی تعمیراتی منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے والی کمپنی کا محکمہ تحفظِ ماحولیات کے ہاں رجسٹرڈ ہونا بھی ضروری نہیں کیونکہ اس ضمن میں بنائے گئے قانونی ضابطے ابھی نامکمل ہیں اور کمپنیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے درکار گائیڈ لائن ابھی تک وضع نہیں کی گئی"۔

ایک منصوبہ، دو رپورٹیں

انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز کی رپورٹ میں استعمال کیے گئے زبان و بیان، اعدادوشمار اور حتیٰ کہ اس کے مواد کی ترتیب زیادہ تر وہی ہے جو 2014 میں مائن ہارٹ نامی سنگا پور کی کمپنی نے اسی قسم کے منصوبے کے تعمیراتی اور مالی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں استعمال کیے تھے۔ مائن ہارٹ کو یہ رپورٹ تیار کرنے کا کام اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے دیا تھا کیونکہ وہ بھی راوی پر ایک نیا شہر بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ تاہم اس رپورٹ کی تکمیل کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا کیونکہ منصوبے پر آنے والی مالی اور ماحولیاتی لاگت ان کی توقعات سے کہیں زیادہ نکلی تھی۔

انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز کی رپورٹ میں کچھ ایسے اعدادو شمار بھی شامل کیے گئے ہیں جو ناقابل یقین معلوم ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر مائن ہارٹ کی رپورٹ میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ راوی ریور فرنٹ منصوبہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا لیکن نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے سے 77 لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی۔

دونوں رپورٹوں میں ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ مائن ہارٹ کے تخمینے کے مطابق منصوبے کے لئے درکار کل زمین کا 41 فیصد زرعی اراضی پر مشتمل تھا جبکہ نئی رپورٹ میں یہ شرح 77 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس فرق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ منصوبے کی سابقہ اور موجودہ جغرافیائی حدیں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ مائن ہارٹ جس علاقے کا جائزہ لی رہی تھی اس میں لاہور اور شیخوپورہ ضلعوں کے دو دو گاؤں کی زمین شامل تھی لیکن موجودہ منصوبے میں 89 دیہات کی زمین شامل ہے جن میں سے 20 ضلع لاہور اور 69 شیخوپورہ ضلع کی تحصیل فیروز والا میں واقع ہیں۔ 

لیکن ان تبدیلیوں کے باوجود منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے دونوں رپورٹوں میں بہت کم فرق نظر آتا ہے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مائن ہارٹ کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے مجوزہ علاقے میں 109 اقسام کے جنگلی اور آبی جانور پائے جاتے ہیں لیکن نئی رپورٹ میں یہ تعداد 116 بتائی گئی ہے۔ اسی طرح مائن ہارٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ منصوبے کے مجوزہ علاقے میں پائی جانے والی نباتات 146 اقسام کی ہیں جبکہ نئی رپورٹ میں یہ تعدد 147 ہو گئی ہے۔ 

رپورٹ اعتراضات کی زد میں

انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز نے اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد اسے محکمہ تحفظِ ماحولیات کو دے دیا جس نے اعلان کیا کہ اس پر 20 فروری 2021 کو ایک عوامی اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ اس کے بارے میں منصوبے کے مجوزہ علاقے میں رہنے والے لوگوں کے تاثرات ریکارڈ کیے جا سکیں۔

اس اجلاس کے دوران ضلع شیخوپورہ کے متعدد کسانوں نے احتجاج کیا کہ ایک طرف تو انہیں اس میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی اور دوسری طرف اس میں کئی ایسے لوگ موجود ہیں جن کا راوی ریور فرنٹ منصوبے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اس اعتراض کا جواب دینے کے بجائے محکمہ تحفظِ ماحولیات کے حکام اس بات پر زور دیتے رہے کہ راوی میں صاف پانی فراہم کرنے اور اس کے آبی اور قدرتی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے درکار مالی وسائل صرف اسی صورت میں دستیاب ہو سکتے ہیں کہ دریا پر ایک شہر بسانے کے لئے نجی شعبے کو سرمایہ کاری کے لئے راغب کیا جائے۔

محکمے کے ترجمان نے جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے اپنی گفتگو کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ "جے راوی وچ پانی کوئی نئیں تے اپنی کہانی کوئی نئیں"۔ یعنی اگر راوی میں پانی نہیں ہو گا تو اس کے ارد گرد رہنے والے لوگوں کی زندگیاں بھی رک جائیں گی۔

لیکن صائمہ امین خواجہ کا کہنا ہے کہ اگر راوی ریور فرنٹ منصوبے کا سب سے اہم مقصد راوی میں صاف پانی لے کر آنا ہے تو پھر حکومت اس کے لئے ایک لاکھ ایکڑ کے قریب رہائشی، زرعی اور صنعتی اراضی کیوں حاصل کر رہی ہے۔ ان کے بقول یہ زمین یقینناً راوی کی بحالی کے لئے درکار پانی فراہم نہیں کر سکتی لہٰذا اس مقصد کے لئے حکومت کو کچھ دوسرے انتظامات کرنا ہوں گے۔  

دوسری طرف حکومتی منصوبہ سازوں کا کہنا ہے کہ راوی میں لایا جانے والا بیشتر صاف پانی انہی 14 نالوں سے لیا جائے گا جو انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز کے تخمینے کے مطابق 3000 کیوسک سے 4000 کیوسک گندہ پانی ہر روز لاہور شہر کے مختلف حصوں سے دریا میں منتقل کر رہے ہیں۔ اگرچہ راوی ریور فرنٹ کے ماحولیاتی اثرات کی جائزہ رپورٹ میں اس پانی کو صاف کرنے کے لیے سات ٹریٹمنٹ پلانٹ تجویز کئے گئے ہیں لیکن حکومتی منصوبہ سازوں کا ماننا ہے کہ یہ پلانٹ 2045 تک زیادہ سے زیادہ 1310 کیوسک پانی ہی صاف کر سکیں گے۔ باقی کا گندہ پانی نیا شہر بننے کے بعد بھی ابھی کی طرح راوی میں آلودگی پھیلاتا رہے گا۔ 

عوامی اجلاس میں شامل کسانوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نےاس بات کی نشان دہی بھی کی کہ نالوں کے پانی کی صفائی کے لئے درکار مشینری اس قدر مہنگی ہے کہ اسے لگانے سے مجوزہ شہر کی لاگت میں شدید اضافہ ہو جائے گا جس کے باعث نجی شعبے کا کوئی سرمایہ کار اس میں ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2011 میں راوی کی صفائی کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر بنائے گئے ماہرین کے ایک کمیشن نے گندے نالوں کا پانی صاف کرنے کے لئے ایسے پلانٹ لگانے کی تجویز یہ کہہ کر رد کر دی تھی کہ ان کی تنصیب نا صرف ایک بہت مہنگا کام ہے بلکہ حکومت کے پاس انہیں چالو رکھنے کے لئے درکار تکنیکی اور مالی وسائل بھی موجود نہیں۔ 

عوامی اجلاس کے دوران خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم، ویمن ایکشن فورم، کی رکن اور تعمیراتی ڈیزائن کی ماہر فوزیہ قریشی نے ریور فرنٹ منصوبے کے تحت دیواریں تعمیر کر کے دریا کے پاٹ کو تنگ اور تبدیل کرنے کے مجوزہ اقدام پر بھی اعتراض کیا کیونکہ ان کی نظر میں اس سے راوی کے آبی اور قدرتی ماحول پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

راوی ریور فرنٹ: دریائے راوی پر نیا شہر بسانا کس کے مفاد میں ہے؟

انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز کی رپورٹ میں در حقیقت یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ راوی ریور فرنٹ کے بننے سے اس کے مجوزہ علاقے کے 14 ماحولیاتی اشاریوں میں سے 12 پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم، صائمہ امین خواجہ کے مطابق، رپورٹ میں کہیں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان منفی اثرات کو دور کیسے کیا جائے گا۔

انہیں منصوبے سے منسلک حکومتی اداروں کی اہلیت پر بھی اعتبار نہیں اس لئے ان کا کہنا ہے کہ "جو ادارے لاہور کی موجودہ آبادی کو درپیش مسائل حل نہیں کر پارہے وہ نئے شہر میں فضائی اور آبی آلودگی کے مسائل کیسے حل کریں گے"۔

دو شہروں کی ایک کہانی

راوی ریور فرنٹ منصوبے کے مطابق نئے شہر میں بسنے والے لوگوں کے لئے روزانہ 890  کیوسک پانی درکار ہو گا جس کا 70 فیصد زمین کے اندر سے نکالا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں منصوبے کے مجوزہ علاقے میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گرتی رہے گی۔ بقایا 30 فیصد پانی نہری نظام سے لیا جائے گا جس سے زرعی آبپاشی کے لئے درکار پانی کی فراہمی میں کمی آ جائے گی۔

اسی طرح نئے شہر میں روزانہ گیارہ ہزار ٹن کوڑا پیدا ہو گا جسے اٹھانے اور تلف کرنے کے لئے اربوں روپے کی مشینری اور ہزاروں کارکن چاہئے ہوں گے۔ مزید برآں اس کوڑے کو سائنسی طریقے سے سنبھالنے کے لئے وسیع رقبے پر جدید تکنیک سے آراستہ جگہیں مختص کرنا ہوں گی۔ ورنہ نئے شہر کا حال بھی لاہور جیسا ہو گا جہاں سرکاری ادارے روزانہ ساڑھے پانچ ہزار ٹن کوڑا بھی نہیں سنبھال سکتے اور جہاں کوڑے کی تلفی کے لئے لکھو ڈہر اور محمود بوٹی کے علاقوں میں بنائی گئی جگہیں زیر زمین پانی کو آلودہ کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ 
ان اعداد و شمار کی بنیاد پر صائمہ امین خواجہ کا کہنا ہے کہ راوی ریور فرنٹ منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں راوی کے ارد گرد آبی اور فضائی آلودگی کے مسائل اس قدر بڑھ جائیں گے کہ لوگوں کے لئے سانس لینا دوبھر ہو جائے گا۔ 

لیکن دوسری طرف پنجاب حکومت کے ادارے دی اربن یونٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر ناصر جاوید راوی ریور فرنٹ کی حمایت کرتے ہوئے چین کے شہر شین زن کی مثال دیتے ہیں۔ ایک ٹی وی مباحثے میں ان کا کہنا تھا کہ 1984 میں شین زن کی آبادی چالیس ہزار تھی جو اب بڑھ کر ڈیڑھ کروڑ ہو گئی ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ شین زن کو آبادی کے پھیلاؤ کے بعد سنگین فضائی آلودگی کا سامنا ہے۔ انٹرنیشنل واٹر ایسوسی ایشن نامی تحقیقی ادارے کے مطابق اس شہر کو بیک وقت سیلاب اور پانی کی کمی کے مسائل بھی در پیش ہیں۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفع 18 جون 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 12 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔