انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت: 'صرف سیاسی اور انتظامی ادارے ہی دیرپا تبدیلی لا سکتے ہیں'
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت: 'صرف سیاسی اور انتظامی ادارے ہی دیرپا تبدیلی لا سکتے ہیں'

محمد فیصل

postImg

انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت: 'صرف سیاسی اور انتظامی ادارے ہی دیرپا تبدیلی لا سکتے ہیں'

محمد فیصل

پاکستان کے آئین کے تحت اعلیٰ عدلیہ کو لوگوں کے بنیادی حقوق کے معاملات پر ازخود نوٹس لینے اور حکومتی بدانتظامی کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم حالیہ سالوں میں یہ اختیار اس قدر تواتر سے استعمال کیا گیا ہے کہ اس کے ناقدین اعلیٰ عدلیہ پر اپنی آئینی حدود سے تجاوز  کرنے اور انتظامی امور میں بے جا مداخلت کا الزام لگانے لگے ہیں۔ 

سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو سابق چیف جسٹس صاحبان افتخار محمد چودھری اور ثاقب نثار کے دور میں از خود نوٹس لینے اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے عمل میں بہت تیزی دیکھنے میں آئی۔ موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد کے تحت بھی یہ عمل اسی تیزی سے جاری ہے۔ لیکن چونکہ ان کا تعلق کراچی سے ہے شاید اس لیے وہ کراچی میں تجاوزات اور غیرقانونی اور بے قاعدہ تعمیرات کے معاملات پر ملک کے دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے بھی انہوں نے کراچی میں تجاوزات کے بارے میں ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے شہر کے صدر بازار میں واقع تاریخی ایمپریس مارکیٹ کے گرد بنی ہوئی سینکڑوں دکانیں گرانے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ پانی کی فراہمی، آلودگی، ٹریفک، جرائم، بدعنوانی، زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ اور نکاسی آب سمیت درجنوں مسائل پر متعدد بار کراچی شہر اور صوبہ سندھ کی انتظامیہ کے افسران کو ان معاملات میں بہتری لانے کے لیے احکامات جاری کر چکے ہیں۔

ذیل میں کچھ ایسے ہی احکامات کی تفصیل دی گئی ہے: 

24 جنوری 2019: چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کراچی میں دفاعی مقاصد کے لیے الاٹ کی گئی زمینوں پر کی جانے والی تمام تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔

9 مئی 2019: سپریم کورٹ نے کراچی میں فوج کی ملکیت زمین پر شادی ہال قائم کیے جانے اور اسے تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں وفاقی سیکرٹری دفاع کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ مسترد کر دی اور شادی ہال گرانے کا حکم دیا۔

7 فروری 2020: چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں واقع دہلی کالونی، پنجاب کالونی اور گزری نامی علاقوں میں تعمیر کی گئی کثیرالمنزلہ عمارتیں گرانے کا حکم دیا۔ انہوں نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی زمین پر کوئی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی نہ بنائی جائے۔ اسی طرح انہوں نے شہری انتظامیہ کو کالا پل نامی جگہ کے دونوں اطراف میں واقع جھگیاں اور چار دیواریاں ختم کر کے ان کی جگہ ایک ماہ میں ایک پارک بنانے کی ہدایت کی اور ہاکس بے نامی علاقے میں ساحل سمندر کے ساتھ بنے تمام گھروں کو ناجائز قرار دے کر منہدم کرنے کا حکم جاری کیا۔

19 مئی 2020: سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں ہر قسم کی تعمیرات کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ایک پہاڑ پر واقع مونال ریستوران کا توسیعی حصہ مسمار کرنے کا حکم جاری کیا۔

10 اگست 2020: چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کمشنر کراچی کو حکم دیا کہ تمام سرکاری مقامات سے بل بورڈ اور سائن بورڈ ہٹا دیے جائیں۔ عدالت نے نجی املاک پر نصب خطرناک سائن بورڈز ہٹانے کا حکم بھی دیا۔

11 اگست 2020: سپریم کورٹ نے کراچی میں ایک نجی اسکول کی عمارت منہدم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس کی انتظامیہ سے کِڈنی ہل پارک کی زمین واگزار کرانے اور پارک کی زمین پر قائم دیگر بنگلوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا۔

12 اگست 2020: سپریم کورٹ نے اورنگی نالے اور گجر نالے سمیت کراچی کی تمام چھوٹی بڑی آبی گزرگاہوں کے کناروں پر قائم تعمیرات مسمار کرنے کا حکم دیا۔

25 ستمبر 2020: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کی انتظامیہ کو ہدا یت کی کہ وہ اپنے محکمے کی زمین ناجائز  قابضین سے واگزار کرائے۔ 

2 مارچ 2021: اسلام آباد میں وکلا کے غیر قانونی چیمبرز گرانے کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے شہر کے وسط میں واقع فٹ بال گراؤنڈ کو وکلا کے قبضے سے فوری طور پر بازیاب کرانے کا حکم دے دیا (جس پر وکلا نے شدید احتجاج کیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں گھس کر توڑ پھوڑ بھی کی)۔

9 اپریل 2021: سپریم کورٹ نے کراچی کے رہائشی علاقوں میں قائم تمام غیرقانونی شادی ہال گرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ جو علاقے کمشنر کراچی کی انتظامی حدود سے باہر ہیں وہاں بھی غیر قانونی شادی ہال گرائے جائیں۔

14 جون 2021: سپریم کورٹ نے کراچی کے گجر نالے اور اورنگی نالے کے گرد بنے ہوئے مکانات اور دکانوں کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں مسمار کرنے کی ہدایت کی۔

15 جون 2021: سپریم کورٹ نے کراچی کے الہ دین  پارک سے متصل شاپنگ سنٹر، پویلین اور کلب سمیت تمام تعمیرات دو روز میں گرانے  کا حکم دیا۔

16 جون 2021: چیف جسٹس گلزار احمد نے شاہراہ فیصل پر واقع کئی منزلہ رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے گرانے کا حکم جاری کیا۔

جھونپڑے مسمار، ٹاور برقرار

ان عدالتی احکامات پر تبصرہ کرتے ہوئے شہری امور کے ماہر عارف حسن کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات گرا کر شہروں کو پرانی حالت میں بحال کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ ڈان اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انہوں نے لکھا کہ تجاوزات گرانے کا عمل غریب دشمن ہے اور بغیر کسی منصوبہ بندی اور ایک امتیازی طریقے سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اس کے نتیجے میں ''ہزاروں چھوٹے کاروبار متاثر  ہوئے ہیں اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ صارفین الگ پریشان ہیں''۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ''اگر کئی دہائیاں پرانی تعمیرات کو گرا دیا جائے تو شہروں کا سماجی و معاشی ڈھانچہ تباہ ہوجائے گا اور سڑکیں بے گھر لوگوں سے بھر جائیں گی''۔

حقیقت یہ ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف مہمات میں عام طور پر غریب اور کم آمدنی والے لوگوں کے کاروبار اور گھر ہی متاثر ہوتے ہیں جنہیں ان کا متبادل بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں نالوں سے ملحقہ زمین پر تعمیر گھروں کو مسمار کیے جانے کا حکم اس کی ایک واضح مثال ہے۔ 

اس آپریشن میں بے گھر اور بے روزگار ہونے والے ہزاروں لوگوں نے کئی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ جگہ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن سے لیز پر لی تھی اور وہ کئی دہائیوں سے یہاں مقیم تھے۔ انہیں شکایت ہے کہ لیز کے اصلی یا جعلی ہونے کی تفتیش کیے بغیر ان کے گھر گرا دیے گئے ہیں جبکہ انتظامیہ نے ان کے گھر اور دکانیں توڑنے سے پہلے نہ تو انہیں کوئی نوٹس دیا اور نہ ہی ان کے لیے متبادل رہائش گاہوں کا انتظام کیا ہے۔

دوسری جانب کراچی کے ارد گرد موجود دیہاتی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے ہزاروں ایکڑ پر تعمیر کیے جانے والے بحریہ ٹاؤن پر 460 ارب روپے جرمانہ کر کے اسے قانونی حیثیت دے دی گئی ہے حالانکہ مقامی لوگوں اور شہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس زمین کی اصل قیمت کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کی اسلام آباد کے دیہی علاقے بنی گالا میں واقع غیرقانونی رہائش کو محض  12 لاکھ روپے کے جرمانے کی ادائیگی کے بعد جائز قرار دے دیا گیا حالانکہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسی علاقے میں تعمیر کیے گئے بہت سے دیگر گھر مسمار کر دیے تھے۔ اسلام آباد کے ماسٹر پلان کےمطابق بنی گالہ کورنگ دریا اور راول جھیل میں آنے والے بارشی پانی کا منبع ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقہ ہے اس لیے اسے ایک نیشنل پارک کا درجہ حاصل ہے۔ 

ایسے ہی ایک اور کیس میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں واقع گرینڈ حیات ٹاور کی لیز منسوخی کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے اسے ساڑھے 17 ارب روپے جرمانے کے عوض ایک قانونی تعمیر قرار دے دیا۔ اس ٹاور کے مالکان کو یہ سہولت بھی دی گئی کہ وہ جرمانے کی رقم آٹھ سال میں ادا کریں گے حالانکہ اسے مارگلہ نیشنل پارک کی حدود میں بنایا جا رہا ہے جہاں کاروباری مقاصد کے لیے تعمیرات کرنا غیرقانونی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر زیر تعمیر اس ٹاور میں وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف، سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ناصرالملک، سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر، سابق وفاقی وزیر احمد مختار (مرحوم)، اداکارہ و مصنفہ فریال گوہر، سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین، سینیٹ میں قائد حزب اقتدار شہزاد وسیم، ٹی وی ٹاک شو کی میزبان اور صحافی نسیم زہرا اخلاق اور سابق رکن قومی اسمبلی کشمالہ طارق سمیت بہت سی نمایاں شخصیات کے اپارٹمنٹ ہیں۔

غریب اور امیر علاقوں کے بارے میں عدالتی احکامات میں پائے جانے والے اس واضح تضاد کی وجہ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عدالتوں کا شہری امور میں مداخلت کرنا کس حد تک مناسب ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں چند کام تو ہو جاتے ہیں لیکن ان کے نتیجے میں کوئی دیر پا تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے کیونکہ ایسی تبدیلیاں سیاسی اور انتظامی ادارے ہی لا سکتے ہیں۔ ان کے بقول ''جب عدالتیں ایسے مسائل پر بات کرتی ہیں جن پر ان کی معلومات بسا اوقات محدود ہوتی ہیں تو ایسے میں دیے گئے احکامات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بہت سے فیصلے ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں''۔ 

لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ''ہمیں یہ تعین کرنے کی ضرورت ہے کہ عدالتی دائرہ کار کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام کہاں ہونا چاہیے۔ ایسا نہ کیا گیا تو معاملات الجھ سکتے ہیں اور ماضی میں الجھتے بھی رہے ہیں''۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 16 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 7 جون 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

محمد فیصل صحافی، محقق اور مترجم ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔