'اندازہ نہیں تھا کہ مجھے اس قدر ہراس کا سامنا کرنا پڑے گا'
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'اندازہ نہیں تھا کہ مجھے اس قدر ہراس کا سامنا کرنا پڑے گا'

فضا اشرف

postImg

'اندازہ نہیں تھا کہ مجھے اس قدر ہراس کا سامنا کرنا پڑے گا'

فضا اشرف

سمرا عدیل اور بشیر احمد پہلی بار چار سال پہلے ایک بس کمپنی میں مِلے جہاں سمرا ایک سفری میزبان کے طور پر کام کرتی تھیں اور بشیر ایک سکیورٹی گارڈ تھا۔ آہستہ اہستہ انہیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی اور بشیر نے سمرا سے وعدہ کر لیا کہ وہ جلد ہی ان سے شادی کر لے گا۔ 

لیکن دو سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود جب اس نے اپنا وعدہ وفا نہ کیا تو سمرا نے اس کے ساتھ اپنا ناتا ختم کر لیا۔ دوسری طرف بشیر شادی کے بغیر ہی اس تعلق کو جاری رکھنے پر اصرار کر رہا تھا لہٰذا جب سمرا نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تو اس نے انہیں بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ وہ انہیں دھمکیاں دیتا تھا کہ وہ ان کی تصویریں اور پیغامات پوری دنیا کو دکھا دے گا۔ 

ایک دن جب سمرا لاہور کے نیازی بس اڈے میں اس بس سے اتریں جس میں انہوں نے سفری میزبان کے فرائض انجام دیے تھے تو بشیر ان کا پیچھا کرنے لگا۔ وہ کہتی ہیں کہ "اس نے مجھے گالیاں دیں اور شدید نتائج کی دھمکیاں دیں۔ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں وہ مجھے جان سے ہی نہ مار دے"۔ 

جب اس طرح کے واقعات مسلسل ہونے لگے تو سمرا نے کمپنی انتظامیہ کو ان کے بارے میں زبانی طور پر آگاہ کیا لیکن انہیں یہ جان کر بہت مایوسی ہوئی کہ ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ ان کے مطابق بشیر کو صرف یہ کہا گیا کہ وہ انہیں تنگ نہ کیا کرے۔ وہ کہتی ہیں کہ "کمپنی نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا یہ جواز پیش کیا کہ وہ ایسی حرکتیں اس لیے کر رہا ہے کہ میرے اس سے تعلقات رہ چکے تھے"۔

سمرا اب شادی شدہ ہیں اور ان کے دو بچے بھی ہیں لیکن دو سال پہلے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے وہ ابھی بھی اس قدر خوف زدہ ہیں کہ ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنا اصلی نام پوشیدہ رکھا ہے۔ انہیں یہ بھی خدشہ ہے کہ اس موضوع کو خبروں میں لانے کی وجہ سے ان کی کمپنی کہیں انہیں نوکری سے ہی نہ نکال دے۔

طاہرہ خالد کو بھی اسی طرح ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک مرد نے ہراساں کیا۔ ان کی عمر تیس پینتیس سال کے لگ بھگ ہے اور وہ ایک نِجی کمپنی کی بزنس کلاس بسوں میں میزبان کے طور پر کام کرتی ہیں۔ نوکری چلے جانے کے خوف سے وہ بھی اپنا اصلی نام نہیں بتانا چاہتیں۔ 

اس سال اپریل کے وسط میں جب تحریکِ لبیک پاکستان نامی مذہبی جماعت نے ایک ملک گیر احتجاج کے دوران جگہ جگہ ٹریفک میں رخنے ڈالے تو ان کی بس کو وسطی پنجاب میں ننکانہ صاحب نامی شہر کے پاس رکنا پڑا۔ وہاں کچھ دیر انتظار کے بعد سب مسافر تو ایک ایک کر کے بس سے اتر گئے لیکن طاہرہ، ڈرائیور اور عملے کا ایک اور رکن، علی، بس کے اندر ہی موجود رہے۔

اس دوران علی نے طاہرہ سے ان کا فون نمبر مانگنا شروع کیا اور ان کے بار بار انکار کے باوجود انہیں تنگ کرتا رہا۔ وہ کہتی ہیں کہ "میں نے وہ تمام رات علی اور ڈرائیور کے ساتھ بس میں گزاری لیکن میں ایک لمحے کے لیے بھی سو نہیں سکی کیونکہ جب بھی میری آنکھیں بند ہونے لگتیں تو عدم تحفظ کا شدید احساس مجھے گھیر لیتا"۔ 

یہ سب کچھ سہنے کے باوجود طاہرہ نے کمپنی انتظامیہ کو کوئی شکایت نہ کی کیونکہ ان کے بقول "شکایت درج کرانے کے بجائے ہراساں کرنے والے شخص کو نظر انداز کرنا بہتر ہے"۔

لیکن مہوش ارشد نامی سفری میزبان کو پیش آنے والے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شکایت نہ کرنا  خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک وڈیو میں انہیں فیصل آباد کے ایک ویران بس اڈے میں بس کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ان کا ایک ساتھی ملازم، سکیورٹی گارڈ عمر دراز، انہیں زبردستی واپس کھینچ رہا ہے۔ اسے اونچی آواز میں دھمکیاں دیتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔ چند لمحوں میں ہی وہ مہوش کو گولی مار کر خون آلود حالت میں بس کی سیڑھیوں پر ہی چھوڑ کر چلا جاتا ہے جہاں ان کی موت ہو جاتی ہے۔

اس ہولناک واقعے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمر دراز مہوش کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ اس سے شادی کر لیں لیکن ان کی طرف سے مسلسل انکار پر وہ اس قدر غصے میں آ گیا کہ اس نے ان کا خون ہی کر دیا۔ تاہم مسلسل ہراساں ہونے کے باوجود مہوش نے کبھی کمپنی انتظامیہ کو آگاہ نہیں کیا کہ انہیں کس مصیبت کا سامنا ہے۔ 

ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ نِجی کمپنیوں کی بسوں میں میزبان کے طور پر کام کرنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھی ملازمین کی جانب سے جسمانی، جنسی اور ذہنی ہراس کا سامنا ہے۔ کئی میزبان خواتین کہتی ہیں کہ اکثر ڈرائیور انہیں خواہ مخواہ آنکھ مار دیتے ہیں یا جان بوجھ کر ایسے وقت میں بریک لگا دیتے ہیں جب وہ مسافروں کو کھانا یا مشروبات پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ الزام بھی لگاتی ہیں کہ ان کی کمپنیوں کی انتظامیہ انہیں اس طرح کے واقعات پر منہ بند رکھنے کا کہتی ہے جبکہ بیشتر کا کہنا ہے کہ وہ خود ہی ان حرکتوں کی شکایت نہیں کرتیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں معاشرہ ان کے کردار پر انگلیاں اٹھانا شروع نہ کر دے۔ 
ہوس ناک نظریں

جولائی 2021 میں ایک بس میں سفر کرنے والے چار مرد مسافروں نے ایک بیس سالہ سفری میزبان خاتون سے ان کا فون نمبر مانگا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے انکار کے باوجود یہ مسافر اپنے ناجائز مطالبے پر مصر رہے اور اپنی بات منوانے کے لیے انہیں دھمکاتے بھی رہے۔ ان کے مطابق ان مردوں نے ان کی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش بھی کی لیکن پیشتر اس کے کہ وہ ان کی تصویر اتارتے انہوں نے ڈانٹ ڈپٹ کر کے اپنی جان چھڑا لی۔ 

آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون کہتی ہیں کہ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ سفری میزبان کے طور پر ان کی نوکری بہت سخت ہوگی لیکن "یہ اندازہ نہیں تھا کہ مجھے اس قدر ہراس کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے"۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک 21 سالہ سفری میزبان بھی اسی طرح کی آزمائش سے گزر چکی ہیں۔ 

ایک ماہ پہلے  جب وہ لاہور سے ملتان جانے والی بس میں ڈیوٹی کر رہی تھیں تو ایک مسافر انہیں بار بار اپنے پاس بلا کر بے تکے سوالات کرتا رہا۔ جب بس ملتان پہنچنے والی تھی تو انہوں نے دیکھا کہ وہی مسافر ان کی تصاویر لے رہا ہے جس پر انہوں نے اسے ڈانٹا اور تصویریں مٹانے کو کہا۔ ان کی ڈانٹ سن کر پہلے تو اس مسافر نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ اس نے ان کی کوئی تصویر اتاری ہے لیکن بعد میں اس کا رویہ بگڑ گیا اور وہ کہنے لگا کہ وہ تصویریں مٹانے والا نہیں۔

انہوں نے اپنی کمپنی کے اعلیٰ حکام سے اس واقعے کے بارے میں شکایت بھی کی لیکن پھر بھی اس مسافر کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔

ایک اور خاتون کا کہنا ہے کہ بہت سے مرد مسافر سفری میزبانوں کی خفیہ طور پر لی گئی تصاویر استعمال کر کے ٹک ٹاک وڈیو بنا لیتے ہیں۔ ان کی ایک دوست کو اپنی اسی طرح بنائی گئی وڈیو کا اس وقت پتہ چلا جب وہ سوشل میڈیا پر عام ہو چکی تھی۔ 

قانونی تحفظ کا فقدان

پارلیمنٹ نے 2010 میں ایک ایسا قانون بنایا جس کے ذریعے ملازمت کرنے والی خواتین کو ان کی ملازمت کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط کے مطابق تمام نِجی اور سرکاری ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنے ہاں ملازم خواتین کے لئے ایک محفوظ اور صحت مندانہ ماحول فراہم کریں۔  
اگرچہ اس قانون کا دائرہِ کار پورے پاکستان پر پھیلا ہوا ہے لیکن حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ اس میں کئی ایسے سقم ہیں جن کے باعث اس کے نفاذ میں کئی رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔  

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی قانون دان شمائلہ خان ان رکاوٹوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس قانون میں دی گئی 'کام کی جگہ' کی تعریف بہت محدود ہے کیونکہ اس کا اطلاق نہ تو غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین پر ہوتا ہے اور نہ ہی کسی ادارے یا کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے ٹھیکے داروں یا اس سے غیر رسمی طور منسلک افراد پر ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے خیال میں اس قانون میں "فوری طور پر ترامیم کی ضرورت ہے"۔

تاہم دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان خامیوں کے باوجود یہ قانون ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں کمی لا سکتا ہے بشرطیکہ اس پر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں قانون کے شعبے سے منسلک حِبا اکبر کا کہنا ہے کہ "اس قانون کے تحت ہر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ایسی کمیٹی بنائے جس کے پاس ہراس کا شکار ہونے والی خواتین اپنی شکایات درج کرا سکیں"۔ 

ان کے خیال میں اگر یہ کمیٹی موجود ہو تو ایسی شکایات کو موثر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ اکثر سرکاری اور نِجی اداروں اور کمپنیوں میں یہ کمیٹی موجود ہی نہیں ہوتی۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ مثال کے طور پر فیصل موورز نامی نِجی بس کمپنی کے لاہور ٹرمینل کے مینیجر سہیل شہزاد تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے ہاں ایسی کوئی کمیٹی موجود نہیں ہے۔ سکائی ویز نامی بس کمپنی نے بھی جنسی ہراس سے نمٹنے کے لیے کوئی کمیٹی نہیں بنائی۔ اس کے لاہور میں واقع دفتر میں سفری میزبانوں کی انچارج کے طور پر کام کرنے والی خاتون روبینہ اسلم کا کہنا ہے کہ وہ خود ہی اس طرح کے مسائل بخوبی نمٹا لیتی ہیں۔

ان دو کمپنیوں کے برعکس ڈیوو ایکسپریس کے لاہور میں واقع مرکزی دفتر میں کام کرنے والی سینئر اہل کار ثنا شہزادی کہتی ہیں کہ ان کی کمپنی نے اپنی ملازم خواتین کو کام کے دوران ہراس سے بچانے کے لیے باقاعدہ کمیٹی بنا رکھی ہے۔ (تاہم انہوں نے اپنی کمپنی کی سفری میزبانوں کو اس موضوع پر سجاگ سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔) 

دوسری طرف 2010 کے قانون میں کوئی ایسی دفعہ موجود نہیں جس کا اطلاق مسافروں کی طرف سے سفری میزبانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر کیا جا سکے کیونکہ اس کا دائرہِ کار صرف ایک ہی کمپنی یا ادارے میں اکٹھے کام کرنے والے مردوں اور خواتین تک محدود ہے۔

لیکن اگر ملازم خواتین کو کام کے دوران کوئی ایسا شخص ہراساں کرے جوان کے ساتھ کام نہ کرتا ہو تو کیا ایسی صورت میں ان کے پاس کوئی قانونی راستہ موجود ہے؟ 

حبا اکبر کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بارے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 509 کے تحت شکایت کی جا سکتی ہے کیونکہ اس دفعہ کے مطابق کسی خاتون کی عزت پر حملہ کرنا ایک جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کسی خاتون پر آوازے کسنا، اس سے نامناسب گفتگو کرنا، اسے گندے اشارے کرنا اور اسے جسمانی، ذہنی اور جنسی طور پر ہراساں کرنا سب اس دفعہ کے دائرہِ کار میں آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ "یہ دفعہ نہ صرف کام کی جگہ پر بلکہ نجی جگہوں جیسے گھروں اور عوامی مقامات جیسے گلیوں ، بسوں ، بازاروں اور پارکوں میں بھی لاگو ہوتی ہے اس لئے جو سفری میزبان خواتین بسوں کے مسافروں کے ہاتھوں ہراساں ہوتی ہیں وہ اس دفعہ کو استعمال کر کے پولیس کے پاس اپنی شکایت درج کرا سکتی ہیں"۔ 

تاہم لاہور میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی سربراہ بشریٰ خالق کا کہنا ہے کہ دفعہ 509 کے تحت کرائی گئی شکایات پر عموماً کوئی عمل درآمد نہیں ہو پاتا کیونکہ پولیس خواتین کے ساتھ تعاون نہیں کرتی۔ ان کے مطابق اس دفعہ کے موثر استعمال کے لئے تھانوں کو ایسی جگہیں بنانا بہت ضروری ہے جہاں جاتے ہوئے خواتین کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور خوف محسوس نہ کریں۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 10 اگست 2021  کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 8 جنوری 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فضا اشرف نے اقراء یونیورسٹی اسلام آباد سے عالمی تعلقات میں ایم ایس سی کیا ہے۔ وہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔