نام بڑا اور درشن چھوٹے: تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے بنایا گیا مرکز اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

نام بڑا اور درشن چھوٹے: تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے بنایا گیا مرکز اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

نام بڑا اور درشن چھوٹے: تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے بنایا گیا مرکز اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام۔

فاطمہ رزاق

loop

انگریزی میں پڑھیں

منیزہ منظور بٹ ملتان میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کے مرکز (وی اے ڈبلیو سی) کی منیجر ہیں۔ تاہم یہ ان کا اصل کام نہیں ہے کیونکہ اس مرکز میں ان کی تقرری سینئر ماہر نفسیات کے طور پر ہوئی تھی۔ یہی نہیں وہ ضلع ملتان میں ویمن پروٹیکشن آفیسر کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔

یہ تین عہدے بیک وقت ان کے پاس ہونے کے باعث اس مرکز میں نہ تو کوئی کُل وقتی منیجر ہے اور نہ ہی کوئی کل وقتی سینئر ماہر نفسیات۔ اسی طرح یہاں کم از کم چھ دیگر بڑے عہدے بھی خالی پڑے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی وکیل حِبا اکبر نے اس مرکز کی افادیت پر کی گئی اپنی تحقیق میں اسی طرح کے انکشافات کیے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 2021 میں بیشتر عرصہ یہاں پر ایک بھی ڈاکٹر تعینات نہیں تھا اور ابھی بھی اس کی ایکس رے لیبارٹری کے لیے ریڈیالوجسٹ دستیاب نہیں ہے۔ 

اسی طرح مرکز کی پیتھالوجیکل لیبارٹری میں بھی کوئی عملہ متعین نہیں کیا گیا جس کے باعث یہاں خون کے بنیادی ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا سکتے۔

فروری 2021 میں ایک دن اِس لیبارٹری میں موجود فردِ واحد ایک ڈاکٹر ہے۔ اسے یہاں آنے والی متاثرہ خواتین کو میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تاہم وہ مرکز کا ملازم نہیں ہے بلکہ محکمہ صحت کے ضلعی حکام نے اسے عارضی طور پر یہاں بھیجا ہے۔

انہی وجوہات کی بنا پر تشدد کا نشانہ بننے والی جو خواتین اس مرکز میں آتی ہیں انہیں ایکس رے جیسا عام سا کام کروانے کے لیے بھی ملتان میں قائم سب سے بڑے سرکاری طبی مرکز نشتر ہسپتال میں بھیجا جاتا ہے۔ اس طرح انہیں مزید 13 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جو ان میں سے بہت سی خواتین اپنی طبی حالت یا جان کو لاحق خطرات کے باعث آسانی سے طے نہیں کر سکتیں۔ 

اونچی دکان پھیکا پکوان

پنجاب اسمبلی نے 2016 میں خواتین کے تحفظ کا قانون منظور کیا۔ اس قانون کے تحت کیے جانے والے اقدامات میں گھریلو اور جنسی تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے پنجاب کے مختلف حصوں میں خصوصی مراکز کا قیام بھی شامل تھا۔ ان مراکز کا مقصد تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کے لیے ایک ہی چھت تلے قانونی، عدالتی، طبی اور نفسیاتی سہولتیں فراہم کرنا تھا۔ اسی لیے اس مرکز کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ اس میں خواتین اہلکاروں پر مشتمل ایک پولیس تھانہ، وکلا کی ٹیم، ایک مخصوص عدالت، طبی عملہ، میڈیکل لیبارٹریاں، نفسیاتی مدد دینے کا اہل عملہ اور اُن متاثرہ خواتین کے لیے ایک پناہ گاہ جو اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکتیں سب اکٹھے موجود ہوں۔

پنجاب حکومت نے ابتدا میں صوبے کے جنوبی، وسطی اور شمالی حصوں میں ایک ایک مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ابھی تک ان میں سے صرف ملتان میں کام کرنے والا مرکز ہی قائم ہو سکا ہے۔ 

17-2016 میں 23 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا یہ مرکز شہر کے شمال میں خواتین کی یونیورسٹی کے قریب متی تال روڈ پر واقع ہے جس پر لگے چند تشہیری پوسٹر اِس کی طرف جانے والے راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے بیرونی دروازے پر کڑا پہرہ رہتا ہے۔ اس کے اندر جانے والے لوگوں کو اپنی آمد کی وجوہات دروازے کے ساتھ بنائے گئے ٹین کے ایک کمرے میں رکھے رجسٹر میں لکھنا ہوتی ہیں۔ اس کے پہرے دار 'سکیورٹی' وجوہات کی بنا پر موبائل فون یا کیمرا اِس کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ 

مرکز کے اندر داخل ہوں تو ایک بڑا سرسبز اور آراستہ لان نظر آتا ہے جس کے پار نیم دائرے کی شکل میں اس کی تین پرشکوہ عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں سے ایک عمارت کا شیشے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوں تو ایک چمکتے دمکتے ہال کمرے میں رکھی استقبالیے کی بڑی سی میز پر نظر پڑتی ہے جس کے اوپر جلی حروف میں وی اے ڈبلیو سی کا ماٹو "اب آپ محفوظ ہیں" لکھا ہوا ہے۔

مرکز میں 75 کلوز سرکٹ کیمرے نصب ہیں جن سے یہاں آنے جانے والے ہر فرد کی نگرانی کی جاتی ہے۔ استقبالیے پر ہونے والی تمام گفتگو بھی خفیہ مائیکروفون کے ذریعے ریکارڈ ہوتی ہے۔ تاہم اس کی شاندار عمارتیں اور اس میں نصب جدید ترین تکنیکی آلات یہ حقیقت نہیں چھپا سکتے کہ اس کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ 

منیزہ منظور بٹ کی نظر میں اس صورتِ حال کا بنیادی سبب مالی وسائل کی کمی ہے۔ ان کے مطابق "مرکز میں بھرتی کیے گئے 37 ملازمین کو کچھ عرصہ پہلے تک باقاعدہ تنخواہ بھی نہیں مل رہی تھی"۔ 

ان کا کہنا ہے کہ مالی وسائل کی عدم دستیابی کی ایک اہم وجہ یہ ہے قانون کے مطابق ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کو مرکز کے کام کی نگرانی کرنا تھی لیکن صوبائی حکومت یہ اتھارٹی بروقت قائم نہ کر سکی۔ جب 2019 میں بالآخر اسے قائم کر دیا گیا تو منیزہ منظور بٹ نے اس کی چیئرپرسن فاطمہ چدھڑ سے بات کی جنہوں نے انہیں یقین دلایا کہ مرکز کے موجودہ عملے کی تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کی جائیں گی۔ اس کے بعد ہی ان ملازمین کو نو مہینے کا کنٹریکٹ دیا گیا۔

یہ حالات سلمان صوفی کے لیے بھی پریشان کن ہیں۔ وہ اس مرکز کے قیام کے لیے کام کرنے والی پنجاب حکومت کی ٹیم میں پالیسی سے متعلق امور کے ماہر کی حیثیت سے شامل تھے اور کہتے ہیں کہ ''اگر اس ادارے کو مالی وسائل مہیا نہیں کیے جائیں گے، اس میں عملے کا تقرر نہیں ہو گا اور اس عملے کو تنخواہیں نہیں ملیں گی تو پھر اس سے نتائج کے حصول کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے''۔ 

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 18-2017 میں اس مرکز کی تعمیر اور اس کو فعال بنانا اس لیے ممکن ہو سکا کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ان کاموں میں ذاتی دلچسپی لے رکھی تھی۔ تاہم، ان کے مطابق، "اب حکومتی سطح پر یہ دلچسپی دکھائی نہیں دیتی"۔ ان کے خیال میں اس عدم دلچسپی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ چار سال میں بھی باقی دو مراکز نہیں بنائے جا سکے حالانکہ 2018 میں ہی ان کی تعمیر کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کر دیے گئے تھے۔ 

منیزہ منظور بٹ کے مطابق اس مرکز سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی ایک اور وجہ ایسے سرکاری محکموں کے ساتھ اس کے رابطوں کا فقدان ہے جن کے ساتھ تعاون اس کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے بقول "چونکہ ہر سرکاری محکمے کا عملے صرف اپنے ہی افسروں کو جواب دہ ہوتا ہے اس لیے وہ ہماری جانب سے بھیجی گئی درخواستوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے"۔ 

ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اس وقت تک موجود رہے گا جب تک پنجاب حکومت اس مرکز اور سرکاری محکموں کے مابین تعاون کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے قواعدوضوابط تشکیل نہیں دے دیتی۔ ان کے مطابق "ان قواعدوضوابط کے بغیر دیگر محکموں کی جانب سے کیے گئے تعاون کے تمام تر وعدے زبانی کلامی ہی رہیں گے جن پر کبھی عملدرآمد نہیں ہو پائے گا"۔ 

نہ مدعی نہ شہادت

مرکز کے پاس تاحال اپنی عدالت بھی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو خواتین اپنی شکایات لے کر یہاں آتی ہیں انہیں اب بھی وہی پرانے قانونی طریقہ ہائے کار اختیار کرنا پڑتے ہیں جن سے انہیں بچانے کے لیے یہ مرکز قائم کیا گیا تھا۔

ملتان سے تعلق رکھنے والی وکیل شازیہ ایوب مرکز کے اندر عدالت قائم کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہر خاص و عام کی رائے یہی ہے کہ روایتی عدالتی نظام خواتین کے ساتھ منفی امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس نظام کی خامیوں کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیتی ہیں جس میں ملتان میں کام کرنے والے ایک مجسٹریٹ نے ابتدائی سماعتوں کے دوران ہی ایک خاتون کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا مقدمہ یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ انہیں لگتا ہے کہ اس نے ملزم مرد کے ساتھ اپنی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ 

منیزہ منظور بٹ بھی شازیہ ایوب کی بات کی تائید کرتی ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ عام عدالتیں صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے مسئلے کی باریکیوں کو نہیں سمجھتیں اور اسی لیے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والے مراکز میں مخصوص عدالتی سہولت مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ اس سہولت کی عدم موجودگی میں "ہمارا مرکز صرف شکایت درج کرنے والا ادارہ بن کر رہ گیا ہے"۔ 

اس میں ابھی تک پناہ گاہ بھی موجود نہیں حالانکہ وہ اس کا لازمی اور بنیادی جز تھی۔ منیزہ منظور بٹ کہتی ہیں کہ "پناہ گاہ نہ ہونے کے باعث ہمیں متاثرہ خواتین کو ملتان میں واقع سرکاری ادارے، دارالامان، ، میں بھیجنا پڑتا ہے جہاں صرف تشدد کی متاثرین ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے قانونی اور عدالتی مسائل میں الجھی خواتین کو پناہ مہیا کی جاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں

postImg

جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملی ہیں: 'جنسی زیادتی کا شکار خواتین اپنے مخالفین کا مقابلہ نہیں کر پاتیں'۔

تاہم ان سب مشکلات کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ اس مرکز نے مارچ 2017 سے لے کر دسمبر 2021 تک چار ہزار تین سو 33 خواتین کو تحفظ اور بحالی کی سہولتیں مہیا کی ہیں۔ ان میں سے تین ہزار ایک سو 91 شکایات یا تو مزید کارروائی کے لیے دیگر سرکاری محکموں کو بھیجی گئی ہیں یا ان انہیں لے کر آنے والی خواتین کو طبی، نفسیاتی اور مالی مدد مہیا کی گئی۔

تاہم وہ اس بات کا ذکر نہیں کرتیں کہ مرکز میں موصول ہونے والی تمام شکایات میں سے صرف ایک سو 47 پر ہی ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی ہے۔ ان میں سے بھی 26 کو دوران تفتیش باطل قرار دے کر خارج کر دیا گیا ہے حالانکہ ان میں نو ایسی تھیں جن میں متاثرہ خواتین نے کہا تھا کہ انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب چار سو 83 شکایتیں ایسی ہیں جن میں شکایت کنندگان نے ملزموں سے صلح کر لی ہے۔

پنجاب میں خواتین کے حالات زندگی میں بہتری لانے کے لیے بنائے گئے کمیشن کی جانب سے 2018 میں تیار کردہ ایک رپورٹ میں اس صورتِ حال کا ذمہ دار مرکز کے اندر قائم تھانے کی انچارج افسران کو ٹھہرایا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق اس کے قیام کے پہلے ہی سال اس کے تھانے کے عملے نے سات سو 25 شکایات کسی کارروائی کے بغیر داخل دفتر کر دیں۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو ان کے "جواب بہت مبہم تھے"۔ 

باالفاظ دیگر یہ لوگ اُس مسئلے کو ہی حل کرنے میں ہی ناکام رہے جس پر قابو پانا ان کی بنیادی ذمہ داری تھی اور وہ یہ کہ مردانہ پولیس تھانوں میں متعین عملہ خواتین کی جانب سے کی گئی تشدد کی شکایات پر کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کرتا۔ 

اگر ان شکایات پر کی گئی عدالتی کارروائی کا جائزہ لیا جائے تو یہ مسئلہ اور بھی واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ مرکز کے اپنے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چار برس میں خواتین پر تشدد کے جتنے کیس عدالتوں کو بھیجے گئے ہیں ان میں سے صرف چار میں ہی عدالتی کارروائی شروع ہو سکی ہے جبکہ صرف ایک میں ملزموں کو سزا سنائی گئی ہے۔

خواتین کے حقوق کی کارکن مختاراں مائی، جو خود بھی جنسی حملے کا شکار ہو چکی ہیں، سمجھتی ہیں کہ عدالتوں کی جانب سے فیصلہ دینے اور سزا سنائے جانے کی اس قدر کم شرح خواتین پر تشدد کی روک تھام میں ہمیشہ ایک بہت بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس مرکز کو یہ مسئلہ برقرار رکھنے کے بجائے اسے حل کرنا چاہیے تھا۔ 

وہ ملتان سے متصل ضلع مظفرگڑھ کی رہنے والی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان دونوں اضلاع میں خواتین کے خلاف گھریلو اور جنسی تشدد کے بیشتر واقعات پولیس کو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اسی طرح، ان کے مطابق، "بہت سے ایسے واقعات میں متاثرہ خواتین سماجی، سیاسی اور معاشی دباؤ کی تاب نہ لا کر ملزموں سے صلح کر لیتی ہیں"۔

ان کی رائے میں اس مرکز کے قیام کے بعد اس صورتِ حال میں بہتری آنی چاہیے تھی لیکن "بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا"۔

تاریخ اشاعت 29 مارچ 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

فاطمہ رزاق مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر رپورٹنگ کرتی ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔