گولاڑچی کا ہائر سیکنڈری سکول 21 سال سے سبجیکٹ سپیشلسٹ اساتذہ کا منتظر

postImg

رضا آکاش

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

گولاڑچی کا ہائر سیکنڈری سکول 21 سال سے سبجیکٹ سپیشلسٹ اساتذہ کا منتظر

رضا آکاش

loop

انگریزی میں پڑھیں

18 سالہ عبدالرحمان ناڈیہ کا تعلق ضلع بدین کی تحصیل گولاڑچی کے گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول میں انٹر پری میڈیکل کے طالب علم ہیں۔ وہ روزانہ اپنے گاؤں سے صبح سات بجے ایک چنگچی رکشے پر سوار ہو کر آٹھ کلومیٹر دور کھور واہ چوک آتے ہیں جہاں کچھ دیر انتظار کے بعد ایک لوکل وین میں سفر کرتے ہوئے تقریباً پونے نو بجے سکول پہنچتے ہیں۔ اس طرح علم کے حصول کی خاطر عبدالرحمان کو روزانہ 50 کلومیٹر طویل اور تکلیف دہ سفر کرنا پڑتا ہے۔

عبدالرحمان کے والد کاشت کار ہیں جن کے لیے شہر میں رہنا اور نجی تعلیمی ادارے میں بیٹے کو پڑھانے کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں۔ عبدالرحمان پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ سکول کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی۔

اسی سکول میں ایف ایس سی کے طالب علم عاطف علی کا تعلق ساحلی پٹی کے گاؤں چک 14 سے ہے۔ وہ بھی روزانہ مقامی ٹرانسپورٹ پر 20 کلومیٹر سفر کرنے کے بعد سکول پہنچتے ہیں۔ مگر سکول میں تدریسی عمل اور سہولیات کے فقدان کے باعث حاضری لگانے کے بعد عموماً جلد واپس آ جاتے ہیں۔

عاطف بھی ایک چھوٹے کاشتکار کے بیٹے ہیں۔ وہ شہر میں رہ کر معیاری نجی تعلیمی ادارے میں پڑھنے کے خواہش مند تھے مگر معاشی حالات نے اجازت نہ دی۔ انہوں نے بتایا  کہ دوسری کلاسز کے بعض اساتذہ انہیں اپنے خالی پیریڈ کے دوران پڑھانے آتے ہیں مگر زیادہ تر کلاسیں نہیں ہوتیں۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلبہ سکول نہیں آتے یا صرف حاضری لگا کر چلے جاتے ہیں۔ بیشتر طالب علم تو صرف امتحان دینے کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے یہاں داخلہ لیتے ہیں۔

 محکمہ تعلیم اور سکول انتظامیہ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس کی منظوری 1997ء میں ہوئی تھی۔ اس وقت کے گولاڑچی سے منتخب ممبر سندھ اسمبلی اور صوبائی وزیر اسماعیل راہو کی کوششوں سے 1998ء میں اس تعلیمی ادارے کی عمارت تعمیر ہوئی۔ اس میں دو بڑے ہال، دو کلاس روم اور دفاترکے لیے تین کمرے شامل ہیں۔ یہ عمارت جنوری 2002ء میں محکمہ تعلیم کے حوالے کی گئی اور اسی سال اگست میں یہاں ہائر سیکنڈری سیکشن میں ایف ایس سی کے داخلے ہوئے۔

2002ء سے 2023ء تک اس تعلیمی ادارے کو مطلوبہ سبجیکٹ سپیشلسٹ اور دیگر اسٹاف ہی فراہم نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تدریسی عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔

سکول کی عمارت کا بیشتر حصہ تیزی  خستہ ہوتا گیا۔ محکمہ ایجوکیشن ورکس نے خطرناک اور ناکارہ قرار دے کر 2010ء میں اسے ناقابل استعمال قرار دے دیا۔ اب اس عمارت کے آنگن میں طلبہ کے بجائے شہر کے آوارہ کتے اور گدھے بسیرا کرتے نظر آتے ہیں اور کھیل کے میدان میں شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والا گندا پانی جمع ہوتا رہتا ہے۔

سکول کے پرنسپل مقبول احمد گندرو نے بتایا کہ ادارے کی عمارت مکمل طور پر زبوں حال ہے۔ آنے والے طلبہ کو ہائی سکول سیکشن کے دو کمروں میں بٹھاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2006ء میں اس عمارت کی مرمت بھی کی گئی مگر ناقص مواد کے  استعمال سے دو سال بعد ہی عمارت کی حالت پھر خراب ہو گئی۔

پرنسپل کے مطابق  ادارے میں کیمسٹری، فزکس، ریاضی، باٹنی، زوالوجی، انگلش اور سندھی مضامین کے گریڈ 17 کے سبجیکٹ سپیشلسٹ کی تمام سات اسامیاں 21 برس سے خالی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس ادارے میں 19 گریڈ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تین اسامیاں خالی ہیں۔ گریڈ 17 کے ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن سمیت ایک لائبریرین، دو اسسٹنٹ اور چوکیدار کی تین اسامیاں بھی پُر نہیں ہوئیں۔ گریڈ 18 کے اسسٹنٹ پروفیسر کی چار اسامیاں ہیں جن میں سے فقط ایک پُر ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس 2023ء میں ایف ایس سی کی کلاس میں داخلے جاری ہیں۔ انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل اور پری انجنیئرنگ میں اس وقت 567 طالب علم زیرتعلیم ہیں، مگر باقاعدہ سے آنے والوں کی تعداد ان سے کئی گنا کم ہے جس کا سبب بیٹھنے کی جگہ کا نہ ہونا، اسٹاف اور اساتذہ کی کمی ہے۔

تعلقہ ایجوکیشن آفیسر ( ٹی ای او سیکنڈری ) یونس راحموں نے لوک سُجاگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کئی بار عمارت کا معائنہ کیا ہے اور حکام بالا کو اس کی  رپورٹ بھی بھیجی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سکول میں لائبریری، کمپیوٹر لیب اور سائنس لیب نہیں ہیں۔ یہ تعلیمی ادارہ بجلی اور پانی کی سہولیات سے بھی محروم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

تھرپارکر کا گرلز کالج: یہاں صرف فزکس، زوآلوجی، انگریزی، ریاضی، اردو، اسلامیات، سندھی اور مطالعہ پاکستان کے استاد نہیں ہیں

خیال رہے کہ گولاڑچی تحصیل میں کوئی سرکاری کالج نہیں ہے۔ شہر میں گرلز اور بوائز کے لیے دو  الگ الگ ہائر سیکنڈری سکول ہیں۔ سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے طالب علم زیادہ تر 30 کلومیٹر دور ضلع ہیڈ کوارٹر بدین کے نجی اور سرکاری اداروں میں پڑھنے کے لیے جاتے ہیں۔ جہاں ایک گورنمنٹ کالج اور کئی نجی کالجز ہیں۔ ہائر سیکنڈری سکولوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔

گولاڑچی سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر سندھ اسمبلی و سابق صوبائی وزیر اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے والد اور ہاری رہنما شہید فاضل راہو کے نام سے گولاڑچی شہر میں بوائز ہائر سیکنڈری سکول منظور کروایا تھا، مگر اس کے بعد 15سال اقتدار میں نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس ادارے کے لیے کچھ نہیں کر پائے۔

انہوں نے بتایا کہ اب سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نوجوان سبجیکٹ سپیشلٹ اور لیکچرر بھرتی ہو رہے ہیں، ہم کوشش کریں گے کہ ان کی یہاں پوسٹنگ ہو۔ انہوں نے کہا مستقبل میں ہم اپنی حکومت آنے کی صورت میں اس سکول کی عمارت کو دوبارہ تعمیر کروائیں گے اور دیگر مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔

سماجی کارکن اور وکیل جاوید اقبال بھٹی نے بتایا کہ گولاڑچی سمیت ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی حالت قابل رحم ہے۔ گولاڑچی تحصیل میں 419 سرکاری پرائمری سکول ہیں جن میں سے 150 سکولوں کی عمارتیں ہی نہیں ہیں۔ معصوم بچے کھلے آسمان کے تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت 13 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

رضا آکاش خانانی بدین سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ گذشتہ پندرہ سالوں سے صحافت سے وابستہ ہیں اور ساحلی علاقوں کے مختلف ماحولیاتی، سماجی، انسانی و ثقافتی مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔

thumb
سٹوری

بارشوں اور لینڈ سلائڈز سے خیبر پختونخوا میں زیادہ جانی نقصان کیوں ہوتا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

یہ پُل نہیں موت کا کنواں ہے

thumb
سٹوری

فیصل آباد زیادتی کیس: "شہر کے لوگ جینے نہیں دے رہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد
thumb
سٹوری

قانون تو بن گیا مگر ملزموں پر تشدد اور زیرِ حراست افراد کی ہلاکتیں کون روکے گا ؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر

تھرپارکر: انسانوں کے علاج کے لیے درختوں کا قتل

thumb
سٹوری

"ہماری عید اس دن ہوتی ہے جب گھر میں کھانا بنتا ہے"

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

دریائے سوات: کُنڈی ڈالو تو کچرا نکلتا ہے

thumb
سٹوری

قصور کو کچرہ کنڈی بنانے میں کس کا قصور ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

افضل انصاری
thumb
سٹوری

چڑیاں طوطے اور کوئل کہاں غائب ہو گئے ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنادیہ نواز

گیت جو گائے نہ جا سکے: افغان گلوکارہ کی کہانی

جامعہ پشاور: ماحول دوست شٹل سروس

ارسا ترمیم 2024 اور سندھ کے پانیوں کی سیاست پر اس کے اثرات: غشرب شوکت

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.