ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے گلاسگو میں عالمی کانفرنس: 'ان مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوا'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے گلاسگو میں عالمی کانفرنس: 'ان مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوا'۔

زاہد علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے گلاسگو میں عالمی کانفرنس: 'ان مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوا'۔

زاہد علی

loop

انگریزی میں پڑھیں

موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصان دہ اثرات کی روک تھام کے لیے 197 ممالک کے نمائندے 31 اکتوبر 2021 کو سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں جمع ہوئے اور اگلے دو ہفتے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک معاہدہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ 12 نومبر کو جب چھبیسویں کانفرنس آف دی پارٹیز (سی او پی 26) نامی اس اجتماع کے لیے مختص کردہ دو ہفتے ختم ہو گئے تو وہ ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ چنانچہ منتظمین نے انہیں ڈیڑھ دن مزید دیا تاکہ وہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکال سکیں۔ یہ اضافی وقت استعمال کرنے کے بعد شرکا نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کر دیے جسے گلاسگو کلائمیٹ پیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔

اس معاہدے کے بارے میں عالمی رائے عامہ منقسم ہے۔

ایک طرف کچھ لوگ اور ملک اس بات پر خوش ہیں کہ کانفرنس مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئی بلکہ اس نے ایک ایسا معاہدہ تیار کر لیا ہے جس پر اس کے سبھی شرکا کم و بیش متفق ہیں۔ لیکن دوسری طرف اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع 2015 کے پیرس معاہدے کے تحت مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے ایک واضح طریقہ کار اور ٹائم ٹیبل وضع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ 

گلاسگو کلائمیٹ پیکٹ کے معترفین کا کہنا ہے کہ اس میں پہلی بار یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ زمین کے اندر سے نکالے جانے والے فوسلیاتی ایندھن (جن میں کوئلہ، تیل اور گیس شامل ہیں) کرہِ ارض کا درجہ حرارت بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ ممالک جہاں تیل اور گیس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں اس موضوع پر بات بھی نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن کانفرنس میں اس پر کھل کر بات ہوئی اور ریاستوں، شہری حکومتوں اور نجی کاروباری اداروں کا ایک ایسا اتحاد بھی وجود میں آگیا جو اپنی خوشی سے فوسلیاتی ایندھن کے استعمال کو کم کرنے اور اس استعمال کے نتیجے میں خارج ہونے والی ماحول دشمن گیسوں (خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین) کی مقدار میں کمی لانے کے ایسے اہداف مقرر کر سکتا ہے جن کی پابندی کرنا دوسرے ملکوں کے لیے لازم نہ ہو۔ 

لیکن معاہدے کے معترضین کا کہنا ہے کہ انڈیا، چین اور آسٹریلیا نے توانائی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کے استعمال کا مرحلہ وار خاتمہ معاہدے کا حصہ ہی نہیں بننے دیا بلکہ ان کے دباؤ کے نتیجے میں معاہدے میں 'مرحلہ وار خاتمے' کے الفاظ کی جگہ 'مرحلہ وار کمی' کے الفاظ درج کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس کے اخراج میں کمی لانے کے بجائے اس میں اضافے کا موجب بن سکتی ہے جس سے منفی ماحولیاتی تبدیلیوں کی رفتار میں اور بھی تیزی آ سکتی ہے۔ 

ان ناقدین کی نظر میں گلاسگو کلائمیٹ پیکٹ کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں 2030 تک زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ پر روکے رکھنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں کیونکہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے تمام ممالک کو یہ بات یقینی بنانا ہو گی کہ فضا میں خارج ہونے والی زہریلی گیسوں کی سالانہ مقدار 2010 میں ان کے اخراج کی مجموعی مقدار سے 45 فیصد کم رہے۔ فوسلیاتی ایندھن کے استعمال کے خاتمے کے لیے کسی واضح طریقہ کار کی غیر موجودگی میں ان گیسوں کے اخراج میں اس قدر کمی لانا قریباً ناممکن ہے کیونکہ اس ایندھن کا استعمال ہی ان گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔   

اسی وجہ سے عالمی غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے برطانوی گروپ وار آن وانٹ کے رہنما اسد رحمان  نے الجزیرہ نیوز ویب سائٹ کے ساتھ بات کرتے ہوئے گلاسگو کانفرنس معاہدے کو "لوگوں اور کرہ ارض کے ساتھ دھوکہ قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ موسمیاتی تبدیلی کے ان "اثرات سے چشم پوشی کرتا ہے جو اس وقت پوری دنیا میں رونما ہو رہے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں اور ان کے معاش کو تباہ کر رہے ہیں"۔ 

سویڈن کی نو عمر ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر کانفرنس کو ناکام قرار دیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ "ان مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوا"۔ کانفرنس کے باہر ہونے والے کئی عوامی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ماحول کو آلودگی سے بچانے کا اصل کام کانفرنس کے ایوانوں کے باہر سڑکوں اور چوک چوراہوں پر مظاہروں کی شکل میں جاری ہے اور ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے"۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس نے کانفرنس کے غیر واضح اہداف کے حصول میں بھی اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مطالبہ کیا ہے کہ اسے 2050 تک 100 ارب ڈالر کی مالی امداد دی جائے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اس حوالے سے گلاسگو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "قابلِ تجدید توانائی کے حصول کے لیے پاکستان کو بھاری عالمی مالی معاونت کی ضرورت ہے۔ اس امداد کے بغیر پاکستان کو مجبوراً کوئلے، پانی اور گیس سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر انحصار کرنا پڑے گا"۔ 

دل نا امید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے

سی او پی 26 کے بارے میں یہ کہنا غلط ہو گا کہ اس میں ایسے کوئی ٹھوس وعدے نہیں کیے گئے جو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات میں کمی لانے کا سبب بن سکیں۔ ذیل میں ایسے چند اقدامات کی تفصیل دی جا رہی ہے جن پر عمل درآمد یقیناً ان تبدیلیوں کی رفتار میں کچھ نہ کچھ کمی لا سکتا ہے (اگرچہ کانفرنس میں ان میں سے کسی ایک پر بھی مکمل اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا): 

1-    جنگلات کی کٹائی کا خاتمہ

جنگلات اور زمین کے استعمال سے متعلق ایک اعلامیے پر 141 سے زیادہ ممالک نے دستخط کیے ہیں جس کا مقصد اگلی دہائی میں جنگلات کا تحفظ اور ان کی بحالی ہے تاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کا کام آسان بنایا جائے۔ تاہم ہندوستان، بولیویا اور وینزویلا نے اس اعلامیے پر دستخط نہیں کیے حالانکہ ان تینوں کا شمار ایسے 20 ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ جنگلات پائے جاتے ہیں۔

اس اعلامیے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پر دستخط کرنے والے ممالک نے جنگلات کے تحفظ اور بحالی کے لیے 19.2 بلین ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا بڑا حصہ امیر ملکوں کی طرف سے غریب ملکوں کو امداد کی صورت میں دیا جائے گا۔ 

اس پر دستخط کرنے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس کی طرف سے سی او پی 26 میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق 'دس بلین ٹری سونامی' کے نام سے جاری منصوبے کے تحت 2040 تک ملک بھر میں اتنے درخت لگا لیے جائیں گے جو اس وقت تک اس کی معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں خارج ہونے والی ساری کی ساری کاربن جذب کر سکیں گے۔ (ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ 2040 میں اس کاربن کی کل مقدار 500 میٹرک ٹن ہو گی۔) 

موسمیاتی تبدیلی اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع پر کام کرنے والی محقق ہنیا اسعاد 'دس بلین ٹری سونامی' کے تسلسل کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "درخت لگانے کے اس منصوبے پر ہر سال ہونے والی لاگت تقریباً 800 ملین ڈالر ہے۔ فی الحال یہ اخراجات پاکستان کے قومی خزانے سے غیر مشروط طور پر کیے جا رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا حکومت کی تبدیلی کی صورت میں بھی یہ رقم دستیاب رہے گی"۔ وہ کہتی ہیں اگر 2023 کے عام انتخابات میں موجودہ حکمران جماعت ہار گئی تو اس منصوبے کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ، ان کے مطابق، "انتخابات میں جیتنے والی جماعت کی ترجیحات اور پالیسیاں موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے یقیناً مختلف ہوں گی"۔ 

2-    کوئلے کا بطور ایندھن خاتمہ

سی او پی 26 میں 40 سے زائد ممالک نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں کوئلے سے بجلی بنانے کے عمل کو مرحلہ وار ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ 23 ممالک نے ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس میں انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ کوئلے سے بجلی بنانے کے نئے منصوبوں کی تعمیر کے اجازت نامے جاری نہیں کریں گے۔ لیکن چین، انڈیا، امریکہ اور آسٹریلیا سمیت کوئلہ پیدا کرنے اور اسے توانائی کے لیے استعمال کرنے والے کئی ایسے ممالک نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے جو مجموعی طور پر کوئلے کی تین چوتھائی سالانہ عالمی کھپت کے ذمے دار ہیں۔

پاکستان بھی دستخط نہ کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ گلاسگو میں سربراہی اجلاس کے آخری دن کوئلے کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کرنے کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے ملک امین اسلم نے کہا کہ ترقی پذیر ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کو "کوئلے سے بنائی گئی سستی بجلی کی ضرورت ہے لہٰذا ہم ابھی اس کا استعمال ترک نہیں کر سکتے"۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اور وسائل: کیا امیر ممالک اپنے وعدے پورے کریں گے؟

ان کا یہ بیان بظاہر وزیر اعظم عمران خان کے اس وعدے سے متضاد ہے جس میں انہوں نے 12 دسمبر 2020 کو پیرس معاہدے کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک سربراہی اجلاس میں کہا تھا وہ کوئلے سے بجلی بنانے کے نئے منصوبوں پر پابندی لگا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس اعلان میں اتنی گنجائش ضرور رکھی تھی کہ صحرائے تھر میں پائے جانے والے مقامی کوئلے سے براہ راست بجلی بنانے کے بجائے پہلے اسے گیس یا تیل میں تبدیل کیا جائے گا۔  

ہنیا اسعاد ان کے اعلان کے اس حصے پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ "حیران کن بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے کوئلے کو مائع یا گیس میں تبدیل کر کے اس سے بجلی بنانے کے عمل کو موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی لانے کے منصوبے کے طور پر متعارف کروایا جب کہ یہ بات عالمی طور پر مسلم ہے کہ اس کے لیے نہ صرف بھاری رقم کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس سے شدید قسم کی آبی اور فضائی آلودگی بھی پیدا ہوتی ہے"۔ ثبوت کے طور پر وہ امریکی ریاست مسیسیپی میں سات ارب ڈالر کی لاگت سے لگائے گئے ایک ایسے کارخانے کا ذکر کرتی ہیں جو اس لیے بند کرنا پڑا کہ اس میں کوئلے کو گیس میں بدلنے کی وجہ سے شدید ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی تھی"۔

3-    میتھین کے اخراج کو کم کرنا

کاربن ڈائی آکسائیڈ کی طرح میتھین بھی زمین سے اٹھنے والی حدت کو خلا میں جانے سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یوں یہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ ستمبر 2021 میں امریکہ اور یورپی یونین نے ایک ایسا معاہدہ کرنے کی تجویز پیش کی جس کے تحت 2030 تک میتھین گیس کے فضا میں اخراج کو ایک ایسی سطح پر لایا جائے گا جو 2020 میں اس کے اخراج کی سطح سے کم از کم 30 فیصد نیچے ہے۔ گلاسگو میں کئی ممالک نے بالآخر اس معاہدے پر دستخط کر دیے لیکن سب سے زیادہ میتھین خارج کرنے والے تین ممالک، یعنی چین، روس اور انڈیا، ان میں شامل نہیں۔

تاریخ اشاعت 18 نومبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

زاہد علی ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فارسی ادب میں بی اے آنرز کیا ہے۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔