ساہیوال میں زرعی زمینوں کی زرخیزی کم کیوں ہو رہی ہے؟

postImg

الویرا راشد

postImg

ساہیوال میں زرعی زمینوں کی زرخیزی کم کیوں ہو رہی ہے؟

الویرا راشد

ساہیوال کے کاشتکار بیدار بخت 20 ایکڑ زرعی اراضی کے مالک ہیں جہاں وہ پچھلے دس سال سے آلو، مکئی اور جانوروں کا چارا کاشت کر رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ بہت جلد ان کی زمینیں اچھی فصل دینے کے قابل نہیں رہیں گی کیونکہ پچھلے چند سال سے وہ اپنی فصلوں کو سیوریج کا پانی لگا رہے ہیں جس سے زمین کی ذرخیزی تیزی سے کم ہو تی جا رہی ہے۔

گاؤں 12/11 ایل چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والے بیدار بخت کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے اور نہری پانی کی کمی کے باعث ٹیوب ویل کا پانی انہیں آٹھ سو روپے فی گھنٹہ پڑتا ہے جبکہ سیوریج کا پانی فی گھنٹہ چار سو روپے میں مل جاتا ہے اس لیے وہ سستے پانی کو ترجیح دیتے ہیں۔

''ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم سیوریج کا پانی فصلوں کو نہ لگائیں تو اس پانی کا کیا کریں؟ کیونکہ گاؤں میں اس کو ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔''

وہ بتاتے ہیں کہ سیوریج کا پانی لگانے سے فصل کی نشوونما اچھی نہیں ہوتی، خصوصاً مکئی کے پودے چھوٹے رہ جاتے ہیں۔

فیصل جاوید اسی گاؤں کے رہائشی ہیں جو اپنی زمین پر مکئی اور چارے کے علاوہ کپاس اور  سرسوں بھی اگاتے ہیں۔ وہ پچھلے 20 سال سے اپنی فصلوں کو سیوریج کے پانی سے سیراب کر رہے ہیں۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ  گندے پانی میں موجود کیمیائی مادوں کی وجہ سے زمین خراب ہوتی جا رہی ہے۔

"گندا پانی ایک تو مضر صحت ہے دوسرا اس کی وجہ سے سبزیوں میں ذائقہ ختم ہو جاتا ہے"۔

انہوں نے بتایا کہ سیوریج کے پانی کی وجہ سے ان کی پیداوار کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل ایک ہی ہے کہ ہر گاؤں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں۔ جب یہ پانی صاف ہونے کے بعد فصلوں کو لگے گا تو تبھی پیداوار، صحت اور ذائقے کےمسائل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔''

غلام دستگیر پچھلے 30 سال سے اپنی فصلوں کو سیوریج کے پانی سے سیراب کر رہے ہیں جہاں وہ چری، گنا اور مکئی کی فصل کاشت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے "اگر ہم سیوریج کا پانی فصلوں میں استعمال نہ کریں تو پورا گاؤں گندے پانی میں ڈوب جائے جس سے خاص طور پر بچوں میں صحت کے سنگین مسئلے پیدا ہونے کا خدشہ ہے"۔

<p>سیوریج کے پانی سے فصلوں کو سیراب کیا جا رہا ہے<br></p>

سیوریج کے پانی سے فصلوں کو سیراب کیا جا رہا ہے

 عبدالجبار چک 12/11 ایل میں کام کرنے والی سماجی تنظیم ایکتا ویلفئر سوسائٹی کے بانیوں میں سے ہیں۔ اس علاقے میں سیوریج کے پانی کا نظام یہی تنظیم چلاتی ہے جو سالانہ 50 ہزار روپے کے عوض پانچ چھ کسانوں/ ٹھیکے داروں کو گندا پانی فروخت کرتی ہے۔ یہ ٹھیکیدار اس پانی سے نہ صرف اپنی فصلوں کو سیراب کرتے ہیں بلکہ  فی گھنٹہ کے حساب سے دیگر کسانوں کو بھی بیچتے ہیں۔ یہ تنظیم ٹھیکے کے پیسوں سے ڈسپوزل ٹیوب ویل کا بجلی کا بل ادا کرتی ہے۔

عبدالجبار نے بتایا کہ چیچہ وطنی کے دیگر دیہات میں بھی فصلوں کو سیوریج کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ بعض دیہات میں جہاں سیوریج کا نظام نہیں ہے وہاں لوگوں نے نالیاں بنائی ہوئی ہیں جن کے ذریعے گندا پانی گاؤں سے ملحقہ قریبی رقبے کو لگایا جاتا ہے۔

 ساہیوال میں زرعی اراضی اور پانی کی تجزیہ گاہ کے لیب انچارج رانا عمر حیات نے بتایا کہ  گاؤں 12 /11 ایل کی زمین کے تجزیے سے یہ سامنے آیا ہے کہ اس میں نامیاتی مادہ کمزور حالت میں جبکہ پوٹاش درمیانی حالت میں ہے۔

"نامیاتی مادہ زمین کی ساخت، پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت اور پودوں کو خوراک پہچانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اسے پودوں اور جانوروں کی باقیات سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے اور پودے اسے بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔''

یہ بھی پڑھیں

postImg

ساہیوال کے کسان سیوریج کو نہری پانی میں ملانے پر راضی نہیں، دیہات میں سیوریج نظام کا منصوبہ کیسے ناکام ہوا؟

رانا عمر نے بتایا کہ چک 12/11 کی زمین میں نامیاتی مادہ 0.86 فیصد ہے جبکہ اسے تین سے چھ فیصد کے درمیان ہونا چاہیے۔  

دوسری جانب پنجاب فوڈ اتھارٹی گندے پانی پر پیدا ہونے والی فصلوں کو مضر صحت قرار دیتے ہوئے انہیں تلف کر رہی ہے۔

ساہیوال میں اتھارٹی کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق محکمے نے پچھلے تین سال میں ضلعے کے 177 ایکڑ رقبے کا دورہ کیا اور سیوریج کے پانی سے کاشت شدہ   7.2 ایکڑ پر فصلیں اور سبزیاں تلف کیں جن میں کدو، پودینہ، پالک اور آلو شامل تھے۔

فوڈ اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشنز علی خرم بتاتے ہیں کہ پانی کی آلودگی انسانی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ گندے پانی سے سیراب ہونے والی سبزیاں کھانے سے گلے اور معدے کی بیماریاں، یرقان، سانس کی تکلیف اور کینسر جیسے امراض لاحق ہو سکتے ہیں اور یہ پانی جانوروں اور پودوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔

تاریخ اشاعت 11 مارچ 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

الویرا راشد کا تعلق ساہیوال سے ہے۔ پچھلے دس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ شہری مسائل اور زراعت ان کی دل چسپی کے موضوعات ہیں۔

154 سالہ پرانا مسیحی قانون کب بدلے گا؟

thumb
سٹوری

مہنگے پٹرول نے ای بائیکس کو پَر تو لگا دئیے لیکن اس کی اڑان کتنی لمبی ہو گی؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

الیکٹرک بائیک آلودگی کم کرنے کے لیے اچھی مگر سڑکوں پر دوڑتی تین کروڑ پرانی موٹرسائیکلوں کا کیا کرنا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعلیزہ خالد
thumb
سٹوری

گلگت بلتستان کا سولر الیکشن: سولر پینلز کی مفت تقسیم بجلی بحران حل کرے گی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceفہیم اختر
thumb
سٹوری

ہنوز ای وی دور است: الیکٹرک گاڑیوں کو رواج دینے کی پالیسی کس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

آصف محمود
thumb
سٹوری

باپ مرتے ہی بیٹیاں گھر سے باہر: ہندو خواتین کے وراثت کے حق کا قانون کب بنے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
thumb
سٹوری

عرب ممالک کے کیٹل فارمز کے لیے چارہ اگانے والے پاکستانی کسان اسے کب تک سٹوروں میں رکھ پائیں گے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاشفاق لغاری
thumb
سٹوری

بلوچستان: زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی کیا حکومت مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائی؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعاصم احمد خان
thumb
سٹوری

نہ ہو گا بانس، نہ بجے گی بانسری: سات ویمن کمیشن کی خالی آسامیوں کی ایک کہانی

arrow

مزید پڑھیں

User Faceشازیہ محبوب
thumb
سٹوری

درزی، درزن اور دراز ڈاٹ کام: ہم کیا پہنیں، یہ مقابلہ کون جیت رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمہرین برنی
thumb
سٹوری

اُشوجو زبان جسے بشیگرام کے صرف ڈیڑھ، دو ہزار افراد ہی بولتے ہیں

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوقار احمد
thumb
سٹوری

مہارے گھراں ناں پدھارو: تھر میں گونجتے لوک گیتوں کی زبان ڈھاٹکی کی داستان

arrow

مزید پڑھیں

جئہ پرکاش
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2026. loksujag. All rights reserved.