2017 کی مردم شماری کے نتائج: پنجاب میں سرائیکی بولنے والوں کے تناسب میں اضافہ۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

2017 کی مردم شماری کے نتائج: پنجاب میں سرائیکی بولنے والوں کے تناسب میں اضافہ۔

طاہر مہدی

postImg

2017 کی مردم شماری کے نتائج: پنجاب میں سرائیکی بولنے والوں کے تناسب میں اضافہ۔

طاہر مہدی

پنجاب میں پنجابی کو اپنی مادری زبان کہنے والوں کا تناسب پہلے سے کم ہو گیا ہے۔

حال ہی میں جاری کردہ 2017 کی مردم شماری کے نتائج کے مطابق پنجاب کی 70 فی صد آبادی نے پنجابی کو اپنی مادری زبان قرار دیا ہے جبکہ صوبے میں بسنے والے 21 فی صد لوگوں نے کہا ہے کہ ان کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ یہ تناسب 1998 میں ہونے والی مردم شماری میں بالترتیب 75 فیصد اور 17 فی صد تھا۔ گویا بیس برس میں پنجاب میں پنجابی کو اپنی مادری زبان کہنے والوں میں پانچ فی صد کمی ہوئی ہے جبکہ سرائیکی کو مادری زبان کہنے والوں میں لگ بھگ اتنا ہی اضافہ ہوا ہے۔ 

کیا اس تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ سرائیکی خاندانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح پنجابی خاندانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح سے زادہ ہے؟

اس کا جواب ہاں بھی ہے اور نہیں بھی۔

مردم شماری 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے جن دس اضلاع کی آبادی میں 1998 کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جہاں سرائیکی بولنے والوں کی بڑی تعداد بستی ہے۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے چار اضلاع یعنی ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور لیہ اس فہرست میں بہت اوپر ہیں۔ ان اضلاع کی آبادی میں 1998 اور 2017 کے درمیان مجموعی طور پر 69 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس دوران پورے صوبے کی آبادی میں 49 فی صد اضافہ ہوا۔

لیکن اسی عرصے میں ضلع لاہور کی آبادی میں مجموعی طور پر 76 فی صد اضافہ ہوا ہے جو ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی آبادی میں اضافے سے زیادہ ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے چاروں اضلاع کی کل آبادی ضلع لاہور کی کل آبادی (ایک کروڑ  11 لاکھ) کے تقریباً برابر ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر جنوبی پنجاب کے ایک ایسے ڈویژن میں آبادی میں اضافہ صوبائی اوسط سے زیادہ رہا ہے جہاں زیادہ تر لوگ (80.3 فیصد) سرائیکی بولتے ہیں تو مرکزی پنجاب کے ایک ایسے ضلعے میں بھی آبادی میں اضافے کی شرح صوبائی اوسط سے بہت زیادہ رہی ہے جہاں غالب اکثریت (87 فی صد) پنجابی کو اپنی مادری زبان کہتی ہے اور جہاں سرائیکی بولنے والے بمشکل ایک فی صد ہیں۔ اس طرح سے یہ حساب برابر ہو جاتا ہے۔

پنجاب کے دو دیگر ڈویژنوں، بہاولپور اور ملتان، میں بھی بڑی تعداد میں سرائیکی بولنے والے رہتے ہیں۔ ان میں بہاولپور کے تین اضلاع کی آبادی میں مجموعی طور پر 50 فی صد اضافہ  ہوا ہے (جو صوبائی اوسط سے معمولی سا زیادہ ہے) جبکہ ملتان کے چار اضلاع کی آبادی میں 45 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے (جو صوبائی اوسط سے قدرے کم ہے)۔ لیکن دوسری طرف پنجابی بولنے والوں کی اکثریت پر مشتمل دو ڈویژنوں، گوجرانوالہ اور فیصل آباد، میں آبادی میں اضافے کی مجموعی شرح بالترتیب 41 فیصد اور 43 فی صد رہی ہے جو صوبائی اوسط سے کافی کم ہے۔ 

یہ اعداد و شمار یہ تو ظاہر کرتے ہیں کہ جنوبی اور مرکزی پنجاب میں آبادی میں اضافے کی شرح میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور رہا ہے لیکن کیا صرف یہی فرق پنجاب کی لسانی شناخت میں ایک واضح تبدیلی لانے کی واحد وجہ ہے؟

کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے ذرا ان اعداد و شمار پر بھی غور کریں۔

ضلع وہاڑی میں سرائیکی کو اپنی مادری زبان کہنے والوں کی آبادی میں 1998 اور 2017 کے درمیان 135 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا ذمہ دار کسی طور بھی شرحِ پیدائش میں اضافے کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جو بات اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ ضلع وہاڑی میں اس عرصے میں پنجابی بولنے والے لوگوں کی آبادی میں اضافے کی شرح انتہائی کم یعنی 25 فی صد رہی ہے۔ 

ان دونوں شرحوں میں اتنے واضح اور وسیع فرق کی ایک توجیہہ ہجرت ہوسکتی ہے یعنی ہو سکتا ہے کہ اس عرصے میں سرائیکی بولنے والے لوگ بڑی تعداد میں کسی جگہ کو چھوڑ کر وہاڑی میں آباد ہو گئے ہوں اور مقامی پنجابی بڑی تعداد میں یہاں سے کوچ کر گئے ہوں۔ اس مفروضے کے حق میں ہمارے پاس کوئی شواہد نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ بہتر معاش کی تلاش میں ہمیشہ بڑے شہروں کی جانب ہجرت کرتے ہیں لہٰذا جنوبی پنجاب کے اندر ہجرت کرنے والے لوگوں کو ملتان جانا چاہیے نہ کہ وہاڑی۔

چنانچہ اگر ہجرت کو خارج از امکان قرار دے دیا جائے تو دو مردم شماریوں کے درمیان وہاڑی کی سرائیکی اور پنجابی آبادیوں کی شرحِ اضافہ میں اتنے بڑے فرق کی ایک ہی توجیہہ ممکن ہے اور وہ یہ کہ لگ بھگ دو لاکھ مقامی افراد جو پہلے پنجابی کو اپنی مادری زبان کہتے تھے اب وہ سرائیکی کو اپنی مادری زبان قرار دے رہیں ہے۔

انہی اعداد و شمار کو ایک دوسرے طریقے سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1998 اور 2017 کے درمیان ضلع وہاڑی کی آبادی میں پنجابی کو اپنی مادری زبان کہنے والے حصے میں آٹھ فی صد کمی ہوئی ہے جبکہ اسی عرصے میں سرائیکی کو اپنی مادری زبان کہنے والے حصے میں اتنا ہی اضافہ ہوا ہے۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا۔

لسانی شناخت میں نیا رحجان

بہت سے معاشروں میں اقلیتی برادریاں چند نسلوں میں اپنی مادری زبان کھو دیتی ہیں اور اکثریتی برادری کی زبان اختیار کر لیتی ہیں لیکن وہاڑی میں صورتِ حال اس کے برعکس معلوم ہوتی ہے۔ اس ضلعے کی کل آبادی (29 لاکھ) کا تین چوتھائی اب بھی پنجابی کو اپنی مادری زبان کہتا ہے اور صرف 19 فی صد مقامی آبادی سرائیکی کو اپنی مادری زبان قرار دیتی ہے۔ ایسے میں ایک اقلیتی لسانی شناخت کا تنزلی کے بجائے ترقی اور اضافے کی جانب سفر کسی سیاسی عمل کا نتیجہ ہی ہو سکتا ہے۔

یہ رجحان ضلع وہاڑی تک محدود نہیں ہے۔ ضلع خانیوال کی آبادی میں بھی پنجابی بولنے والوں کا حصہ 1998 کے مقابلے میں آٹھ فی صد کم ہو گیا ہے جبکہ اسی عرصے میں سرائیکی بولنے والوں کا حصہ 13 فیصد بڑھ گیا ہے۔ اسی طرح ضلع بھکر میں بھی سات فی صد آبادی نے اپنی لسانی شناخت پنجابی سے بدل کر سرائیکی کر لی ہے۔ ضلع ملتان اور ضلع لیہ میں بھی یہ تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور اس کی شرح بالترتیب چار فیصد اور پانچ فی صد رہی ہے۔

لیکن اس ضمن میں سب سے نمایاں اور حیران کن تبدیلی ضلع میانوالی میں دیکھنے میں آئی ہے۔ 1998 میں اس ضلعے کی 74 فیصد آبادی نے اپنی مادری زبان پنجابی بتائی اور صرف 12 فی صد مقامی لوگوں نے کہا کہ ان کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ لیکن 2017 میں گویا کایا کلپ ہو گئی اور میانوالی کی تقریباً 15 لاکھ آبادی کے 76 فی صد حصےنے سرائیکی کو اپنی مادری زبان قرار دیا جبکہ محض نو فی صد مقامی باشندوں نے اپنے آپ کو پنجابی کہا۔ 

یہ تجزیہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ گذشتہ بیس برسوں میں سرائیکی شناخت معاشرتی سطح پر گہری اور مضبوط ہوئی ہے۔ تاہم یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ اس تبدیلی کا  سیاست پر کیا اثر ہو گا اور آیا یہ ایک علیحدہ سرائیکی صوبے کی تخلیق پر منتج ہو پائے گی یا نہیں۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفعہ 12 اگست 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 25 مئی 2022

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

طاہر مہدی ایک انتخابی تجزیہ نگار ہیں انہیں صحافت کا وسیع تجربہ ہے اور وہ سیاسی اور سماجی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔