'ہاتھ پاؤں سلامت ہیں تو کان کن قیمتی، معذور ہو جائے تو کوئی پوچھتا بھی نہیں'

postImg

احسن قریشی

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

'ہاتھ پاؤں سلامت ہیں تو کان کن قیمتی، معذور ہو جائے تو کوئی پوچھتا بھی نہیں'

احسن قریشی

loop

انگریزی میں پڑھیں

تینتالیس سالہ منظور احمد  کالاباغ شہر کے محلہ' اتلا پتن' کے  رہائشی ہیں ۔ وہ چار کلومیٹر دور' سالٹ مائن ماڑی انڈس' میں کان کنی کرتے ہیں۔ وہ نو ماہ قبل سیکڑوں فٹ گہری سرنگ میں ڈرلنگ کے دوران شدید زخمی ہو گئے تھے۔

 وہ بتاتے ہیں کہ کان میں نمک کا منوں بھاری ٹکڑا ان کے پاؤں پر گر گیا تھا۔ قریب موجود ساتھیوں نے انہیں اٹھایا اور مقامی ہسپتال لے گئے۔ وہاں تین ماہ تک ان کا علاج چلتا رہا۔ ٹھیکیدار نے دس ہزار روپے دیئے تھے جو ایک ہی ماہ میں علاج پر لگ گئےتھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک تو علاج  پر پیسے لگ رہے تھے اور دوسرے ان کی آمدنی  بھی بند ہو چکی تھی۔ بیوی بچوں کا گزارہ کیسے ہوتا فاقوں تک نوبت پہنچ گئی۔ اس لیے صحتیاب ہوتے ہی وہ دوبارہ نمک کی کان میں مزدوری پر لوٹ آئے۔

 مگر منظور احمد  تبھی سے مسلسل اس خوف کا شکار ہیں کہ  کسی دن پھر کوئی حادثہ ان کی جان لے لے گا۔ کیوں کہ اس سے قبل ان کے بڑے بھائی  بھائی ظہیر احمد بھی سالٹ مائن میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان پر 15 فروری 2017ء کو واڈھا سیکش کی کان نمبر22 میں تودہ گر گیا تھا۔

منظور احمد کا کہنا ہے کہ یہاں کان کنوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ وہ ہر دن کو اپنا 'آخری دن'سمجھ کر کلمہ پڑھتے کان میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ سیکڑوں فٹ زیر زمین جا کر کھدائی کرتے ہیں۔ مگر ان کے تحفظ اور ان کے بچوں کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں۔

پاکستان  نمک ایکسپورٹ کرنے والے دنیا کے بارہ بڑے ملکوں میں شامل ہے اور اس سے سالانہ 80 ملین ڈالر سے زائد کماتا ہے۔ ملک میں تین بڑے سالٹ فیلڈ ہیں ان میں کھیوڑہ (پنڈ دادنخاں ضلع جہلم)، وڑچھہ (قائد آباد ضلع خوشاب) اور کالاباغ (ضلع میانوالی) شامل ہیں۔

فیصل احمد شاہ کالاباغ میں پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کے پروجیکٹ مینیجر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ میانوالی سے 50 کلومیٹر دور اس علاقے  میں برطانوی دور سے نمک نکالا جا رہا  ہے۔ یہاں  سالٹ مائننگ کے چار سیکشن (حصے یا بلاک) ہیں ۔ان میں ماڑی سیکشن دریائے  سندھ کے مشرق جبکہ کالاباغ ، وانڈہ ککڑانوالا  اور کچہ  بانگی خیل سیکشن دریا کے مغرب میں واقع ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کالاباغ فیلڈ میں مجموعی طور پر سو کے قریب مائنز  ہیں۔ یہاں سے مختلف کوالٹی کا نمک نکالا جاتا ہے۔ جن میں ریڈ یا گوشتی کلر،ڈارک پنک کلر اور لائٹ پنک کلر کی کوالٹی زیادہ اہم ہیں۔ پاکستان تینوں کوالٹی کا نمک مختلف شکلوں میں دنیا بھر میں برآمد کرتا ہے۔

فیصل احمد نے بتایا کہ مختلف کوالٹی کا نمک کھانے  اور صنعتی استعمال کے علاوہ  سوئمنگ پولز، باتھنگ ٹب میں ڈالا جاتا ہے۔ نمک کی ٹائلز سانس کی بیماری میں مبتلا مریضوں کے کمروں میں لگائی جاتی ہیں۔ نمک سے لیمپ اور دیگر آرائشی اشیاء بھی بنتی ہیں۔ جو کمپیوٹر سکرین کی ریڈی ایشن کو جذب کرتی  ہیں۔

کالا باغ  کی سالٹ مائنز میں ڈھائی ہزار سے زائد مزدور کام کرتے ہیں اور یہاں سے روزانہ چار سے پانچ سو ٹن نمک نکالا جاتا ہے۔ اسی فیلڈ کا  لگ بھگ ساڑھے  28ہزار ٹن نمک  ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اور ان پہاڑوں میں سو سال تک نمک نکالا جا سکتا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے مائن انجینیئر  محمد شعیب بتاتے ہیں کہ  ان کا محکمہ رائلٹی کے علاوہ نمک  کی مختلف کیٹیگریز پر ڈیڑھ سو روپے سے دو ہزار 751 روپے فی ٹن تک وصول کرتا ہے۔ پراجیکٹ مینیجر کے مطابق محکمے کو  پچھلے سال یہاں سے تین کروڑ 8  لاکھ  سے زائد آمدن ہوئی اور رواں سال کے  پہلےچھ ماہ پانچ کروڑ 20 لاکھ 83 ہزار روپے کی آمدنی ہو چکی ہے۔

کالا باغ کی سالٹ مائنز پی ایم ڈی سی کے زیر کنٹرول ہیں۔ تاہم  محکمہ  صرف مائنگ کو ریگولیٹ کرتا ہے اور  رائلٹی و ٹیکس وغیرہ وصول کرتا ہے۔ کانوں کا باقی کام ٹھیکے پر دے دیا جاتا ہے۔ یوں ٹھیکیدار بھی یہاں سے کروڑوں روپے کماتے ہیں۔

 پی ایم ڈی سی سالٹ مائن ورکر یونین کے مطابق محکمے کے اپنے ملازمین کی تعداد صرف 66 ہے۔ جبکہ دیگر ڈھائی ہزار مزدور ٹھیکیداروں کے پاس کام کرتے ہیں۔

کان کن منظور احمد بہت دکھی ہیں ۔انہیں شکوہ ہے کہ "جب تک ہاتھ پاؤں سلامت ہیں تب تک ہم ٹھیکیدار اور پی ایم ڈی سی دونوں کے لیے بہت قیمتی ہیں۔ خدا نخواستہ  ہم زخمی  ہو جائیں یا ہاتھ پاؤں کٹ جائیں تو کوئی نہیں پوچھتا۔ ان کانوں میں معذور ہونے والےکئی مزدور زندہ ہیں اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔"

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کان کنوں کی بہبود کے لیے اگر قوانین بنائے بھی جاتے ہیں تو  ان پر عمل نہیں کرایا جاتا۔ موجود ہ قوانیں کی پاسداری کی جائے تو شاید  مزدور 'خیرات ' کی طرف دیکھنے کے بجائے عزت سے نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔

عطا رسول کالاباغ میں پی ایم ڈی سی سالٹ مائن ورکر اتحاد یونین کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے لوک سجاگ کو بتایا کہ زیر زمین نمک کی کھدائی کرنے والے کان کن کو روزانہ اجرت ڈیڑھ ہزار روپے ملتی ہے۔ جبکہ ہول لگانے کے لیے ہتھی چلانے والےکو ہزار روپے ملتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ لوڈنگ کرنے والے  کی مزدوری 200 روپے فی ٹن ہے اور ٹھیکیدار ہر 15 روز بعد اجرت کی ادائیگی کرتے ہیں۔ سالٹ مائنز میں محرم اور عید کی چھٹیوں کے سوا کبھی کام بند نہیں ہوتا۔ البتہ ساون بھادوں (جولائی اگست) میں پیداوار بہت کم کر دی جاتی۔

 کان کنوں کے حفاظتی اقدامات سے متعلق عطا رسول نے بتایا کہ سب سے پہلے' مائن سردار' کان میں  مزدوروں کو لیڈ کرتا ہے اور چیک کرتا ہے کہ مائن میں کوئی بڑا پتھر گرنے والا تو نہیں۔ اگر وہاں کوئی خطرہ ہو تو سردار مزدوروں کو اندر کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ کان میں ہیلمٹ لازمی پہننا ہوتا ہے۔ تاہم مزدوروں کے پاس سیفٹی شوز نہیں ہوتے ان کے لیے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔ کسی حادثے کی صورت میں یہاں پی ایم ڈی سی کا ڈسپنسر موجود ہوتا ہے اور اگر کوئی  زیادہ زخمی ہو جائے تو انہیں کالا باغ سول ہسپتال میں منتقل کیا جاتا ہے۔

یونین جنرل سیکرٹری نے  بتایا  کہ فی الحال محکمے کی اپنی ایمبولنس نہیں ہے۔ اس لیے ضرورت پڑنے پر کالا باغ سول ہسپتال کی ایمبولینس لینی پڑتی ہے۔اب ہیڈ کوارٹرز سے یہاں کے لیے ایک ایمبولنس گاڑی کے ساتھ ایک بوٹ ایمبولنس کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔ جو دریا کے راستے زخمی کو ہسپتال پہنچائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

شانگلہ میں غیرقانونی کان کنی لوگوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن گئی، غریب آبادی بااثر ٹھیکیداروں کے سامنے بے بس

 یونین رہنما نے دعویٰ کیا کہ زخمیوں کے علاج  کا خرچ پی ایم ڈی سی ادا کرتی ہے۔ جبکہ حادثے میں ہلاکت کی صورت میں مزدور کے لواحقین کو پی ایم ڈی سی پانچ لاکھ روپے ادا کرتی ہے اور ورکرز ویلفیئر ٹرسٹ 12 لاکھ روپے معاوضہ دیتا ہے۔ البتہ بیماری کی صورت میں میڈیکل کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اولڈ ایج بینیفٹ  ایمپلائز انسٹی ٹیوٹ ( ای اوبی آئی) میں 139 ورکر رجسٹرڈ  ہیں۔ ان کےبچوں کو انہوں نے وظائف بھی دلائے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ اب زیادہ ورکرز کی  ای او بی آئی رجسٹریشن ہو جائے۔

 عطا رسول نے یہاں ڈسپنسری یا ہسپتال اور بچوں کے لیے کوئی سکول نہ ہو نے کا شکوہ کیا اور بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں لیبر ویلفیئر سے درخواست کی ہے، امید ہے بہتری ہو گی۔

تاہم پراجیکٹ منیجر فیصل احمد کا کہنا تھاکہ پی ایم ڈی سی اپنے ورکرز کو میڈیکل کی سہولت اور سال میں ایک مرتبہ راشن بھی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مائیننگ میں لیبر کے ساتھ مشینری  ٹریکٹر، کمپریسر ، ایکسیویٹر اور لوڈر بھی استعمال ہو رہی ہے۔ 

تاریخ اشاعت 25 اکتوبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

thumb
سٹوری

مرد کے لیےطلاق آسان لیکن عورت کے لیےخلع مشکل کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

ماہ پارہ ذوالقدر
thumb
سٹوری

بھنبھور: ہاتھی دانت کی صنعت کا سب سے بڑا مرکز

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحمد فیصل
thumb
سٹوری

وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی خوش خوراکی: 'وہ لوگ گوشت کھاتے اور دودھ سے بنی اشیا استعمال کرتے تھے'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمحمد فیصل
thumb
سٹوری

میدان جنگ میں عید: ایک وزیرستانی کا عید کے لیے اپنے گھر جانے کا سفرنامہ

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
thumb
سٹوری

پاکستان میں صنعتیں کلین انرجی پر چلانا کیوں مشکل ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceنعیم احمد

بلوچستان: عالمی مقابلے کے لیے منتخب باکسر سبزی منڈی میں مزدوری کر رہا ہے

thumb
سٹوری

گوڑانو ڈیم: تھر کول مائننگ کا پانی کیسے آبادیاں اور ارضیاتی ماحول تباہ کر رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceجی آر جونیجو

جھنگ: سیم اور تھور ہماری زمینوں اور گھروں کو نگل گیا

thumb
سٹوری

نارنگ منڈی میں فرقہ واریت کی آگ کون بھڑکا رہا ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

سجاگ رپورٹ

پہاڑ نے بدلے میں قدرتی جنگل سے نواز دیا

thumb
سٹوری

'قراقرم ہائی وے پر بڑھتے حادثات کی وجہ کیا ہے، انسانی غلطی یا کچھ اور؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

ضلع مہمند: "ہمارا وطن مشکلات کا وطن ہے"

Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.