فیصل آباد میں شہریوں کو سرکاری معلومات کی فراہمی کا ذمہ دار ادارہ آگاہی کے حق میں خود رکاوٹ بن گیا

postImg

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

فیصل آباد میں شہریوں کو سرکاری معلومات کی فراہمی کا ذمہ دار ادارہ آگاہی کے حق میں خود رکاوٹ بن گیا

نعیم احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

محکمہ صحت پنجاب نے 16 جون 2023ء کوایک نوٹیفکیشن کے ذریعے یکم جولائی 2023ء سے فیصل آباد کی 114 میں سے 62 سرکاری ڈسپنسریاں بند کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

اس نوٹیفکیشن میں مذکورہ ڈسپنسریاں بند کرنے کے فیصلے کو صوبائی محتسب پنجاب کے "احکامات کی تعمیل" قرار دیا گیا تھا۔

تاہم جب اِس نمائندے نے اس بارے میں صوبائی محتسب پنجاب کے دفتر سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (آر ٹی آئی) کے تحت ان احکامات کی وجوہات معلوم کرنے کی درخواست جمع کروائی  تو انکشاف ہوا کہ صوبائی محتسب پنجاب کی جانب سے محکمہ صحت کو ایسا کوئی حکم سرے سے جاری ہی نہیں کیا گیا تھا۔

صوبائی محتسب نے اس پر پانچ جولائی 2023ء کو سیکرٹری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کو نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی جس پر محکمہ صحت کی جانب سے ڈسپنسریوں کو بند کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا اور یوں ہزاروں لوگ صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہونے سے بچ گئے۔

اسی طرح 2019ء میں آر ٹی آئی چیمپئن کا ایوارڈ حاصل کرنے والے جھنگ کے صحافی اکمل ملک کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست پر محکمہ صحت کی طرف سے نشاندہی کی گئی کہ جھنگ میں ہیپاٹائٹس کے سب سے زیادہ مریضوں کا تعلق  مکھیانہ گاوں سے ہے۔

اکمل ملک بتاتے ہیں کہ جب آرٹی آئی درخواست کے جواب میں ملنے والی معلومات پر مبنی ان کی رپورٹ شائع ہوئی تو محکمہ صحت کی ٹیمیں فوری طور پر اس گاؤں میں پہنچ گئیں اور مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے علاوہ انتظامیہ کو ترجیحی بنیادوں پر وہاں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن بنانا پڑی۔

واضح رہے کہ پنجاب میں شہریوں کو سرکاری معلومات تک بہتر رسائی فراہم کرکے حکومت کو جوابدہ بنانے کے لئے صوبائی اسمبلی نے 12 دسمبر 2013ء کو پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ منظور کیا تھا۔

اس قانون کے تحت کسی بھی سرکاری محکمے، خودمختار یا نیم خودمختار سرکاری ادارے اور حکومتی معاونت سے چلنے والے اداروں سے معلومات کے حصول کے لئے درخواست دی جا سکتی ہے جس پر متعلقہ سرکاری ادارے کا سربراہ یا پبلک انفارمیشن آفیسر آر ٹی آئی ایکٹ کے سیکشن 10 کی ذیلی شق 7 کے تحت 14 دن میں مطلوبہ معلومات کی فراہمی کا پابند ہے۔

پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ  کے تحت معلومات کی عدم فراہمی یا نامکمل معلومات کی فراہمی پر شہری صوبائی انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ کمیشن آر ٹی آئی ایکٹ کے سیکشن دو کے تحت کسی بھی شکایت کی وصولی کی تاریخ سے 30 دن یا ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر60 دن کے اندر فیصلہ کرے گا۔

اس عمل کو مزید آسان بنانے کے لئے پنجاب انفارمیشن کمیشن نے جنوری 2023ء میں صوبے کے دس بڑے شہروں کے ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں "ضلعی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ مرکز " قائم کئے تھے۔

تاہم فیصل آباد کا ضلعی آر ٹی آئی مرکز شہریوں کی معلومات تک رسائی میں آسانی فراہم کرنے کی بجائے ان کے جاننے کے حق کی راہ میں خود ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔

اس نمائندے نے 13 فروری 2023 کو اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں ہونے والے کرکٹ مقابلوں اور دیگر تقریبات کے بارے میں معلومات دینے کے علاوہ گزشتہ ایک سال کی آمدن اور اخراجات کے بارے میں جاننے کے لئے ایک درخواست ضلعی آر ٹی آئی مرکز میں جمع کروائی تھی۔

اس درخواست پر آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت دی گئی 14 دن کی مدت مکمل ہونے کے باوجود معلومات فراہم کرنے کی بجائے مختلف حیلے بہانے کیے گئے اور تقریباً ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد معلومات کی فراہمی سے انکار کر دیا گیا۔اس دوران ہر مرتبہ رابطہ کرنے پر یہی بتایا گیا کہ متعلقہ افسر دیگر ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔

ضلعی آر ٹی آئی مرکز کےانچار ج کاشف رضا اعوان کے اس رویے کے خلاف 7 مئی 2023 کو پنجاب انفارمیشن کمیشن میں شکایت درج کروائی گئی۔

اس شکایت پر کمیشن کی جانب سے انچارج  کو 30 مئی، 15 جون اور پھر 19 جون 2023 کو کمیشن میں پیش ہو کر وضاحت دینے کے لئے تین نوٹس جاری کئے گئے لیکن اس نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔

آخر کار 24 جون 2023 کو اس نے کمیشن کے حتمی نوٹس کے جواب میں اقبال سٹیڈیم فیصل آباد کو "نان پبلک باڈی" قرار دے کر معلومات کی فراہمی سے انکار کر دیا۔

انچار ج کی جانب سے جمع کروائے گئے اس جواب کے خلاف لیگل آرڈر جاری کرانے کے لئے اس نمائندے نے پنجاب انفارمیشن کمیشن کو تین جولائی 2023 کو دوبارہ اپیل دائر کر دی۔

اس اپیل پر کمیشن نے ضلعی آر ٹی آئی مرکز کےانچار ج کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے 31 جولائی 2023 تک معلومات فراہم کرنے کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ اقبال سٹیڈیم  فیصل آباد کی مینجمنٹ کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن، پنجاب حکومت کے ساتھ ہونے والے لیز ایگریمنٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کمیشن میں جمع کروانے کا حکم جاری کیا۔

اس دوران ضلعی آر ٹی آئی مرکز کےانچار ج کے ایما پر اقبال سٹیڈیم فیصل آباد کے کیئر ٹیکر نوید نذیر کی جانب سے آر ٹی آئی درخواست واپس لینے یا یہ لکھ کر دینے کے لئے مختلف ذرائع سے دباو ڈالا جاتا رہا کہ مطلوبہ معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔

بعدازاں 31 جولائی 2023ء کو پنجاب انفارمیشن کمیشن کی جانب سے مقرر تاریخ پر ضلعی آر ٹی آئی مرکز کےانچار ج کی طرف سے وعدہ کیا گیا کہ 16 اگست 2023ء تک مطلوبہ معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔

تاہم مقررہ تاریخ تک جب معلومات نہ ملیں تو اس نمائندے نے دوبارہ پنجاب انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کر دی جس پر 22 اگست کو ضلعی آر ٹی آئی مرکز کےانچار ج کی طرف سے جو معلومات فراہم کی گئیں ان میں صرف ایک سال کے دوران اقبال سٹیڈیم میں ہونے والے مقابلوں اور تقریبات سے حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیل موجود تھی جبکہ اقبال سٹیڈیم میں کام کرنے والے عملے، دکانوں کے کرائے و دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن اور اخرجات سے متعلق تفصیلات مہیا نہ کی گئیں۔

ضلعی آر ٹی آئی مرکز کے انچار ج کی طرف سے نامکمل معلومات کی فراہمی پر 23 اگست 2023ء کو پنجاب انفارمیشن کمیشن میں دوبارہ اپیل دائر کی گئی جس پر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

اسی طرح جب آٹھ مارچ 2023 کو ضلعی آر ٹی آئی مرکز کی کارکردگی سے متعلق جاننے کے لئے ایک درخواست جمع کروائی گئی تو ساڑھے تین ماہ تک کوئی جواب نہ آیا۔

بعدازاں 22 جون 2023 کو اسی حوالے سے ایک اور درخواست جمع کروائی گئی اور 14 یوم کی مدت گزرنے کے باوجود معلومات کی عدم فراہمی پر دس جولائی 2023ء کو پنجاب انفارمیشن کمیشن میں ضلعی آر ٹی آئی مرکز کے انچار ج کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔

اس نمائندے کی اپیل پر پنجاب انفارمیشن کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری ہونے پر 19 جولائی کو ضلعی آر ٹی آئی مرکزکے انچارج کی طرف سے کمیشن میں یہ جھوٹا جواب جمع کروایا گیا کہ درخواست گزار کو 15 مارچ 2023ء کو معلومات فراہم کر دی گئی تھیں۔

ضلعی آر ٹی آئی مرکز کے انچارج کی طرف سے جمع کروائے گئے اس جواب پر پنجاب انفارمیشن کمیشن میں 26 جولائی کو دوبارہ اپیل کی گئی جس میں کمیشن سے کہا گیا کہ ضلعی آر ٹی آئی مرکزکے انچارج کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب میں معلومات کی فراہمی کا جھوٹا دعویٰ کرنے اور سائل کو "عادی درخواست باز " قرار دے کر ہراساں کرنے کا نوٹس لیا جائے۔

یہ اپیل بھی پنجاب انفارمیشن کمیشن میں زیر التوا ہے اور تاحال اس پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

علاوہ ازیں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ضلعی انتظامیہ سے مختلف معاملات سے متعلق معلومات کے حصول کے لئے ضلعی آر ٹی آئی مرکز میں جمع کروائی گئی دس درخواستوں پر بھی تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں جس پر کمیشن میں اپیلیں دائر کی جاچکی ہیں اور تاحال وہاں سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ضلعی آر ٹی آئی مرکز کے انچار ج کی طرف سے تاحال ضلع کی سطح پر کام کرنے والے تمام سرکاری محکموں میں پبلک انفارمیشن افسروں کی نامزدگی کا عمل بھی مکمل نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے شہریوں کی طرف سے بھیجی جانے والی درخواستوں پر معلومات کی فراہمی میں بہتری نہیں آ سکی۔

واضح رہے کہ پنجاب ٹرانسپیرنسی  اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے سیکشن سات کے تحت ہر سرکاری ادارہ اس قانون کے اجراء سے 60 دن کے اندر اپنے اور اپنے ذیلی دفاتر میں حسب ضرورت ایک یا ایک سے زیادہ پبلک انفارمیشن افسروں کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا جو درخواست دہندہ شہریوں کو مقررہ مدت میں مطلوبہ معلومات فراہم کرے گا۔

اسی قانون کے سیکشن نو کے تحت ہر ادارہ یا دفتر ہر سال 31 اگست تک اس قانون پر گزشتہ سال کے دوران عملدرآمد اور کارکردگی کےحوالے سے الیکٹرانک یا دیگر شکل میں سالانہ رپورٹ شائع کرے گا۔ لیکن ڈپٹی کمشنر فیصل آباد یا دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے تاحال گزشتہ سال  کی سالانہ رپورٹیں شائع نہیں کی گئی ہیں۔

فیصل آباد کی رہائشی اور محکمہ صحت کی ملازمہ گلناز یعقوب نے اپنے علاقے میں صحت کی سہولیات سے متعلق معلومات کے حصول کے لئے اپریل 2023 میں میونسپل کارپوریشن اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں دو الگ الگ درخواستیں جمع کروائی تھیں۔

تاہم انہیں دونوں درخواستوں پر انہیں کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا جس پر انہوں نے مئی  2023ء میں دونوں محکموں کے خلاف پنجاب انفارمیشن کمیشن میں اپیلیں دائر کیں اور کمیشن کے نوٹس پر متعلقہ محکموں کی جانب سے انہیں معلومات فراہم کر دی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ خود ایک سرکاری محکمے میں ملازم ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

2021ء میں آر ٹی آئی چیمپئن کا ایوارڈ حاصل کرنے والی صحافی شازیہ محبوب تنولی کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں سے معلومات کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری محکموں میں یہ معمول بن گیا ہے کہ معلومات کی فراہمی میں تاخیر کی جائے اور جب تک معلومات دستیاب ہوتی ہیں اس وقت تک متعلقہ ایشو ختم ہو چکا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ خود گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے انفارمیشن کمیشن میں جمع کروائی گئی اپنی دو اپیلوں پر سماعت کی منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'چارہ گر کو چارہ گری سے گریز ہے'، خیبرپختونخوا میں معلومات کی فراہمی کا ذمہ دار محکمہ معلومات دینے سے گریزاں

2022ء میں آر ٹی آئی چیمپئن کا ایوار ڈ حاصل کرنے والی صحافی سعدیہ مظہر کے مطابق انفارمیشن کمشنرز کو ہمیشہ حکومت اور بیوروکریسی کی طرف سے عدم تعاون کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی سطح پر مختلف حیلوں بہانوں سے انفارمیشن کمیشنز کو غیر فعال کرنے کی بھی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے معلومات کی عدم فراہمی کے خلاف اس وقت کمیشن کے پاس 748اپیلیں زیر سماعت ہیں۔

علاوہ ازیں پنجاب انفارمیشن کمیشن کے قیام سے اب تک صرف 21 سرکاری افسروں کو معلومات کی عدم فراہمی پر جرمانے کئے گئے ہیں۔

پنجاب کے چیف انفارمیشن کمشنر محبوب قادر شاہ سمجھتے ہیں کہ شہریوں کی جانب سے معلومات تک رسائی کے حق کے بھرپور استعمال اور پنجاب انفارمیشن کمیشن کی اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں سے سرکاری افسروں کی جانب سے معلومات کی فراہمی میں رکاوٹوں یا تاخیر کا سدباب ممکن ہے۔

محبوب قادر شاہ کے مطابق آر ٹی ایکٹ کے تحت معلومات کے حصول میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ حکومت کی طرف سے اس کی اونر شپ نہ لینا اور سرکاری محکموں میں ڈیجٹائزیشن نہ ہونا ہے۔

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے حوالے سے عوامی آگاہی کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم سنٹرفار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشٹو کے پراجیکٹ مینجر فیصل منظور کھوکھر کہتے ہیں کہ شہری رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت معلومات کے حصول کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن جب انہیں متعلقہ محکموں سے جواب نہیں ملتا تو وہ مایوس ہو کر اپنے اس حق کا استعمال ہی ترک کر دیتے ہیں۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن کے سابق چیف انفارمیشن کمشنر مختار احمد علی کہتے ہیں کہ معلومات تک رسائی کے حوالےسے گزشتہ ایک عشرے کے دوران بتدریج بہتری آئی ہے لیکن اب بھی اس حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اس قانون پر عملدرآمد میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو سرکاری محکموں سے معلومات کے حصول میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

تاریخ اشاعت 5 ستمبر 2023

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

نعیم احمد فیصل آباد میں مقیم ہیں اور سُجاگ کی ضلعی رپورٹنگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کیا ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

thumb
سٹوری

تباہ کن بارشیں: 'ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بھاری مشینیں تو موجود ہیں لیکن ایندھن بھروانے کے لئے پیسے نہیں'

arrow

مزید پڑھیں

User Faceسید زاہد جان
thumb
سٹوری

گندم کی بے قدری کے بعد کپاس کی کاشت میں کمی، قیمت کون چکائے گا؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceمجاہد حسین خان

شمالی وزیرستان: علم کے چراغ بُجھنے نہ دیں گے

thumb
سٹوری

آزاد منڈی اور بندی کسان: روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceطاہر مہدی
thumb
سٹوری

طالبان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان آنے والی افغان مہاجر خواتین پر کیا بیت رہی ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی
thumb
سٹوری

صوابی کی دونوں سرکاری یونیورسٹیوں میں ماس کمونیکیشن کے شعبے کیوں بند ہو گئے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceوسیم خٹک

ہزارہ برادری: بزرگوں کے "باکولو" گروپ کی سترہ سالہ محنت رنگ لے آئی

thumb
سٹوری

خیبر پختونخوا: قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز اور سولر منی گرڈ منصوبہ، اتنی تاخیر کیوں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceاسلام گل آفریدی

کوہستان: لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف 3 فیصد

thumb
سٹوری

شانگلہ کے پہاڑوں میں کان کنی سے آبادی کے لیے کیا خطرات ہیں؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceعمر باچا

چمن: بچے ابھی تک کتابوں کے منتظر ہیں

thumb
سٹوری

شمالی وزیرستان میں تباہ کیے جانے والے سکول کی کہانی مختلف کیوں ہے؟

arrow

مزید پڑھیں

User Faceکلیم اللہ
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.
Copyright © 2024. loksujag. All rights reserved.