'راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قانون ایل ڈی اے ایکٹ 1975 اور آئین پاکستان سے متصادم ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

'راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قانون ایل ڈی اے ایکٹ 1975 اور آئین پاکستان سے متصادم ہے'۔

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

'راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قانون ایل ڈی اے ایکٹ 1975 اور آئین پاکستان سے متصادم ہے'۔

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم کا کمرہِ عدالت 6 اکتوبر 2021 کو وکلا، سائلین اور دوسرے متعلقہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ ان میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سمیت راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین بھی شامل ہیں۔

کمرے میں باتوں کا ایک مدھم مگر مسلسل شور اٹھ رہا ہے لیکن جیسے ہی وقار  اے شیخ نامی وکیل بولنا شروع کرتے ہیں، ہر کوئی خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ ایک شہری، محمد عبداللہ، کے وکیل ہیں جنہوں نے اس صوبائی قانون کے خلاف ایک درخواست دے رکھی ہے جس کے تحت 2020 میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی وجود میں آئی تھی۔

وقار  اے شیخ کہتے ہیں کہ "میرے وکالت کے 20 سالہ کیریئر میں کسی دوسرے  مقدمے میں میرے اوپر اتنا دباؤ نہیں ڈالا گیا جتنا اس درخواست کو واپس لینے کے لئے ڈالا جا رہا ہے لیکن میں معزز عدالت کے سامنے دباؤ ڈالنے والے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں گھبراؤں گا نہیں اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا"۔

یہ الفاظ سنتے ہی جسٹس شاہد کریم اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پینسل میز پر رکھ دیتے ہیں اور اپنے چہرے پر پہنا ہوا ماسک اتار کر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مخاطب کر تے ہیں: "احمد اویس صاحب سنیے وقار  اے شیخ کیا کہہ رہے ہیں، یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے"۔

احمد اویس: مجھے اس معاملے کا علم نہیں۔

جسٹس شاہد کریم : یہ حیران کن بات ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل اس بات سے لاعلم ہیں۔

احمد اویس: وقار  اے شیخ صاحب تفصیل سے بتائیں کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔

وقار  اے شیخ: مجھے لگتا ہے کہ مجھے ایک پٹیشن دائر کر کے عدالت کو بتانا پڑے گا کہ کس طرح کے معاملات چل رہے ہیں۔

جسٹس شاہد کریم : لگتا ہے کہ مجھے بھی ایک درخواست دائر کرنی پڑے گی۔

اس پر کمرہِ عدالت قہقوں سے گونج اٹھتا ہے اور جسٹس شاہد کریم مقدمے کی سماعت ایک دن کے لیے ملتوی کر دیتے ہیں۔

اگلے دن سماعت شروع ہوتے ہی وہ احمد اویس سے پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے اس دباؤ کے بارے میں کچھ معلوم کیا جس کا ذکر وقار اے شیخ نے کیا ہے۔ اس پر احمد اویس جواب دیتے ہیں کہ "وقار  اے شیخ کئی بڑے سرکاری اداروں کے وکیل رہ چکے ہیں۔ ان پر کوئی کیسے دباؤ ڈال سکتا ہے؟"۔

جواباً جسٹس شاہد کریم انہیں کہتے ہیں کہ "میں کھلی عدالت میں مزید کچھ کہنا نہیں چاہتا لیکن یہ سماعت ختم ہونے کے بعد آپ مجھ سے ملیں تا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ اس مقدمے کو کیسے ایک خاص ڈگر پر چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے"۔

مقامی حکومت بمقابلہ صوبائی حکومت

وقار  اے شیخ کے موکل نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قانون لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1975 اور آئیـنِ پاکستان کے تحت مقامی حکومتوں کو دیے گئے اختیارت سے متصادم ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ دریائے راوی کے ارد گرد راوی ریور فرنٹ نامی رہائشی اور کاروباری منصوبہ تعمیر کرنے کے لیے بنائی گئی راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اس قدر اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ یہ کسی دوسرے ادارے یا مقامی حکومت کی اجازت کے بغیر ہی نہ صرف میٹرو پولیٹن کارپوریش لاہور کی حدود میں بلکہ ان سے منسلک ضلع شیخوپورہ میں بھی زمین کا استعمال بدل سکتی ہے اور اسے رہائشی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اتھارٹی کو کئی ایسے کام بھی سونپ دیے گئے ہیں جو آئینی اور قانونی اعتبار سے مقامی حکومت کے دائرہِ اختیار میں آتے ہیں۔ ان میں صاف پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کا انتظام شامل ہیں۔

کئی دیگر لوگ بھی ان اعتراضات سے متفق ہیں۔ ان میں سے ایک لاہور کے لارڈ میئر کرنل ریٹائرڈ مبشر جاوید ہیں جو حال ہی میں ڈھائی سالہ معطلی کے بعد سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں اپنے عہدے پر بحال ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی "کو اتنے اختیارت دے دیے گئے ہیں کہ وہ پورے شہر کو اپنی جاگیر سمجھنے لگ گئی ہے"۔

وہ سوال کرتے ہیں کہ یہ اتھارٹی لاہور ہی کی حدود میں ایک نیا شہر کیسے بسا سکتی ہے جبکہ اس نے لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن سے اس کے بارے میں پوچھا ہی نہیں۔ ان کے مطابق اسی طرح ضلع شیخوپورہ کی مقامی حکومت سے بھی اس بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی حالانکہ یہ اتھارٹی اس ضلعے کی ہزاروں ایکڑ اراضی اپنے زیرِ استعمال لانا چاہتی ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے بھی 6 اکتوبر 2021 کو اتھارٹی کے وکلا سے استفسار کیا کہ اگر لاہور اور شیخوپورہ کی مقامی حکومتوں سے اس ضمن میں کوئی معاہدے کیے گئے ہیں تو وہ عدالت میں پیش کیے جائیں۔ ابھی تک یہ وکلا اس حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دوسری طرف مبشر جاوید کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں ایسا کوئی معاہدہ نہیں۔ ان کے مطابق اگر اتھارٹی نے ان کی معطلی کے زمانے (3 مئی 2019 سے لے کر 18 اکتوبر 2021) کے دوران کارپوریشن کے غیر منتخب ایڈمنسٹریٹر سے کوئی معاہدہ کیا بھی ہے تو وہ آئین کے آرٹیکل 140 اے کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت مقامی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کا حق صرف منتخب نمائندوں کو ہے۔

زاہد اسلام بھی اس نکتہِ نظر سے متفق ہیں کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر کے حکومتی خواہشات کے ٹانگے کو آئین کے گھوڑے کے آگے باندھا جا رہا ہے۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے غیر سرکاری شعبے کے متعدد ایسے تحقیقی کاموں سے وابستہ ہیں جن کا مقصد مقامی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور ان کے راستے میں حائل رکاوٹوں کی نشان دہی کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر ایسے تمام ادارے مقامی حکومتوں کے ماتحت ہوتے ہیں جو ان کی حدود میں مختلف شہری سہولتیں فراہم کرتے ہیں "لیکن راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے دائرہِ اختیار سے نکال کر براہِ راست صوبائی حکومت کے ماتحت رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ جہاں کہیں اس کے منصوبوں کے خلاف مقامی حکومتوں کی طرف سے کوئی مزاحمت کی جائے گی وہاں یہ صوبائی حکومت کا اختیار استعمال کرتے ہوئے اس مزاحمت کو نظر انداز کر سکے گی"۔

لاہور کے ماسٹر پلان میں تبدیلیاں

راوی ریور فرنٹ منصوبہ 2014 میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے زیرِ انتظام شروع کیا گیا لیکن اس کے لیے درکار مالی وسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب حکومت نے جلد ہی اسے ترک کر دیا۔ 2020 میں موجودہ حکومت نے اس پر دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی۔

لارڈ میئر مبشر جاوید کا کہنا ہے اس منصوبے کا اصلی مقصد راوی کے ارد گرد عمارات تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ اس کے اندر موجود پانی کے معیار اور مقدار میں اضافہ کرنا تھا۔ اس کے تحت راوی کو تازے پانی کی ایک ایسی جھیل میں بدلا جانا تھا جس سے ایک طرف تو لاہور کے تیزی سے گرتے ہوئے زیرِ زمین آبی وسائل کو بحال کیا جا سکے اور دوسری طرف دریا کے اندر پانی کے بہاؤ میں اضافہ کیا جا سکے اور اس میں پائی جانے والی آلودگی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو الٹی جانب سے شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں دریا کے پانی کی بحالی اور صفائی کے بجائے رہائشی اور کاروباری تعمیرات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو لاہور کی جامعہ منصوبہ بندی (ماسٹر پلاننگ) میں بھی اپنی مرضی سے تبدیلیاں کرنے کا اختیار دیا گیا ہے حالانکہ، مبشر جاوید کے بقول، قانون یہ تبدیلیاں کرنے کا حق صرف لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو دیتا ہے۔

لاہور کا آخری ماسڑ پلان ایل ڈی اے نے 2005 میں بنایا جب یہ لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ماتحت تھی (اگرچہ 2009 کے بعد اسے مقامی حکومت کے دائرہِ اختیار سے نکال کر صوبائی حکومت کے ماتحت کر دیا گیا اور وزیر اعلی کو اس کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا)۔

جسٹس شاہد کریم نے بھی ستمبر 2021 میں ایک سماعت کے دوران یہ سوال اٹھایا کہ کیا راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپنا علیحدہ ماسٹر پلان بنا رہی ہے یا ایل ڈی اے کے تیار کردہ اسی ماسٹر پلان کے مطابق کام کر رہی ہے۔ اس پر انہیں دو مختلف جواب ملے۔

وقار اے شیخ نے انہیں بتایا کہ راوی ریور فرنٹ منصوبے کے لیے کوئی علیحدہ ماسٹر پلان نہیں بنایا گیا۔ لیکن اتھارٹی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر  نے کہا کہ اس کے لیے علیحدہ ماسٹر پلان 23 دسمبر 2020 کو منظور کیا گیا اور 8 جون 2021 کو اس پلان میں شامل علاقے کی باقاعدہ سرکاری نشان دہی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

'ہمیں پینے کا پانی میسر نہیں جبکہ بجلی گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑے بڑے تالاب بنائے جا رہے ہیں'۔

ان کے مخالف وکلا نے اس پر نکتہ اٹھایا کہ اگر ایسا ہے تو اتھارٹی نے اس نشان دہی سے بہت پہلے اپنے منصوبے پر کام شروع کیوں کر دیا تھا کیونکہ اس کے لیے درکار ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی کے حصول کے لیے سرکاری نوٹیفیکیشن درحقیقت اکتوبر 2020 میں جاری کیا گیا جبکہ مارچ 2021 میں اس زمین کی قیمت طے کر کے اس کی اتھارٹی کے نام منتقلی کا کام بھی شروع کر دیا گیا (تاآنکہ لاہور ہائی کورٹ نے اس سارے عمل کو روک دیا)۔ یہی نہیں بلکہ 28 مئی 2021 کو سرکاری نشان دہی کے بغیر ہی اتھارٹی نے راوی ریور فرنٹ کے دو ہزار ایکڑ پر مشتمل حصے، سیفائر بے، میں تعمیرات کے لیے ایک نِجی کمپنی کی پیش کش بھی قبول کر لی۔

ان معلومات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد اتھارٹی کے وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ راوی ریور فرنٹ کے لیے ایل ڈی اے ہی کے بنائے گئے ماسٹر پلان کو معمولی رد و بدل کر کے اختیار کیا گیا ہے۔ تاہم یہ دعویٰ بدیہی طور پر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اتھارٹی اپنا ماسٹر پلان خود بنائے گی۔

وقار اے شیخ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا رد و بدل ہر حال میں غیر قانونی ہے کیونکہ ان کے مطابق "ماسٹر پلان پورے شہر کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے لہٰذا راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی شہر کے ایک چھوٹے سے حصے میں تعمیرات کے لیے پورے پلان میں تبدیلیاں نہیں لا سکتی"۔

اس موضوع پر 7 اکتوبر کو عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے ان کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایل ڈی اے کے ماسٹر پلان میں معمولی تبدیلیاں نہیں کر رہی بلکہ ایک ایسی زمین کا استعمال ہی بدل رہی ہے جیسے ماسٹر پلان میں کسی اور مقصد کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایل ڈی اے اور ضلع شیخوپورہ دونوں کے ماسٹر پلان میں راوی ریور فرنٹ کے مجوزہ علاقے کو "گرین ایریا" دکھایا گیا ہے۔ چنانچہ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں "رہائشی اور کاروباری تعمیرات کر کے اتھارٹی کس طرح کہہ سکتی ہے کہ اس نے ایل ڈی اے کے ماسٹر پلان میں محض معمولی رد و بدل کیا ہے؟"

تاریخ اشاعت 22 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔