دریائے راوی پر نیا شہر بنانے کا منصوبہ: 'عوام سے زمین لے کر خواص کو دی جا رہی ہے'۔
English
English
sujag-logo
sujag-logo
ویڈیوز
کمیونٹی
ہوم
postImg

دریائے راوی پر نیا شہر بنانے کا منصوبہ: 'عوام سے زمین لے کر خواص کو دی جا رہی ہے'۔

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

postImg

دریائے راوی پر نیا شہر بنانے کا منصوبہ: 'عوام سے زمین لے کر خواص کو دی جا رہی ہے'۔

تنویر احمد

loop

انگریزی میں پڑھیں

پچھلے سال اگست میں راوی ریور فرنٹ منصوبے کا افتتاح کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اس پر 70 مرتبہ مختلف سطح کے اجلاس کر چکے ہیں۔ یہ دعویٰ ان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گِل نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان اس منصوبے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کئی اعلیٰ حکومتی عہدے دار ابھی سے اس منصوبے کی کامیابی کے گن گا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 29 مئی 2021 کو صوبہ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے نہ صرف راوی ریور فرنٹ کے نگران ادارے، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کی کارکردگی کی تعریف کی بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے ساحل پر واقع جزیروں پر تعمیرات کے لئے بھی اسی طرح کام کیا جانا چاہیے۔ 

لیکن حقیقت یہ ہے کہ راوی ریور فرنٹ کے افتتاح کے لگ بھگ دس ماہ بعد بھی نہ تو راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس کے لئے درکار زمین کا قبضہ حاصل کیا ہے اور نہ ہی اس کی کسی تعمیراتی سرگرمی کا آغاز کیا ہے۔ لیکن یکم جون 2021 کو ایوانِ وزیر اعلیٰ لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو عمران امین نے یہ انکشاف ضرور کیا ہے کہ انہوں نے حکومتِ پنجاب سے پانچ ارب روپے ادھار لیے ہیں تاکہ وہ اتھارٹی کے روزمرہ کے اخراجات اور اس کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کر سکیں۔ (ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم ڈیڑھ سال میں حکومت کو واپس کر دے جائے گی)
اس پریس کانفرنس میں انہوں نے راوی ریور فرنٹ کے دو ہزار ایکڑ پر مشتمل سیفائر بے نامی حصے پر ترقیاتی اور تعمیراتی کام کے آغاز کے لئے دی جانے والی بولی کا بھی ذکر کیا جس کے لئے اس سال اپریل میں نیوز میڈیا میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے۔ ان اشتہارات کے ذریعے ایسی نِجی کمپنیوں کو بولی دینے کے لئے مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے اس سے پہلے 10 ارب روپے مالیت کے کسی ترقیاتی منصوبے پر کام کیا ہو۔ اس عمل میں شامل ہونے کے لئے دی جانے والی درخوست کی فیس 30 لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔

اس بولی میں آٹھ مختلف کمپنیوں اور گروپوں نے حصہ لیا (جس سے اتھارٹی کو 24 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی)۔ پہلے مرحلے میں ان میں سے جاودان کنسورشیم، بحریہ ٹاؤن اور میٹراکان نامی تین ایسی کمپنیوں کا انتخاب کیا گیا جن کی بولی سب سے بہتر تھی۔ 28 مئی 2021 کو ہونے والے حتمی مرحلے میں جاودان کنسورشیم کی پیش کش قبول کر لی گئی۔ 
اس پیش کش کے مطابق یہ کنسورشیم راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو 10 ارب 75 کروڑ روپے نقد ادا کرے گا اور ترقیاتی کام مکمل کرنے کے بعد سیفائر بے میں 15 فیصد رہائشی پلاٹ اور 15 فیصد تجارتی پلاٹ بھی اتھارٹی کو فراہم کرے گا۔ ایک طرح سے اتھارٹی کنسورشیم کو دو ہزار ایکڑ زمین 53 لاکھ 75 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے دے رہی ہے لیکن جب اس زمین کو پلاٹوں میں تقسیم کر کے گھریلو اور تجارتی تعمیرات کے لئے بیچا جائے گا تو اس عمل میں کمائے جانے والے منافعے کے حصے کے طور پر ان پلاٹوں کی ایک مخصوص تعداد بھی اتھارٹی کو مِل جائے گی تا کہ وہ انہیں علیحدہ سے بیچ سکے۔

تاہم دریائے راوی کے ارد گرد پائی جانے والی زمینوں کے مالکان کے علاوہ سول سوسائٹی کے ارکان اور کئی وکلا اس بولی پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے راوی ریور فرنٹ پر عمل درآمد اس وقت تک مکمل طور پر روک رکھا ہے جب تک حکومتِ پنجاب اس کی حتمی ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ کی محکمہ تحفظِ ماحولیات سے منظوری نہ لے لے۔
منصوبے کے اندر شامل کی گئی زمین کے متعدد مالکان نے بھی لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں جمع کرا رکھی ہیں کہ اس کے لئے زمین کے حصول کا عمل روکا جائے۔ ان درخواست گزاروں میں ایک نِجی رہائشی سکیم بھی شامل ہے جس کے وکیل وقار امین شیخ سمجھتے ہیں کہ "عدالت کے حکمِ امتناعی کی موجودگی میں اتھارٹی کی جانب سے بولی کرانا توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے"۔

لیکن عمران امین اس سے بھی آگے جانے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگلے دو ماہ میں منصوبے کا ترقیاتی اور تعمیراتی کام شروع ہونے کی نوید سناتے ہیں۔ ابتدائے جون کی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ راوی ریور فرنٹ کی تکمیل میں 25 سال لگیں گے لیکن اس کے خدوخال اگلے چار سال میں واضح ہونے لگیں گے جبکہ اس کے پہلے مرحلے میں راوی کے اندر تین بیراج اور ایک جھیل بنانے کا کام مکمل کیا جائے گا۔ 

اس دعوے پر وقار امین شیخ سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ "اتھارٹی کے پاس ایسی کون سی طاقت ہے جس سے اسے یہ معلوم ہو گیا ہے" کہ عدالت راوی ریور فرنٹ پر چلنے والے تمام مقدمات کا فیصلہ دو ماہ میں کر دے گی اور وہ بھی اس کے حق میں"۔

عوام کا مفاد بمقابلہ خواص کا مفاد

عمران امین نے پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ پر مشتمل راوی ریور فرنٹ منصوبہ لاہور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر "وقت کی اہم ضرورت" بن چکا ہے اور یہ کہ اس کے تحت عام لوگوں کو عالمی معیار کی رہائشی اور کاروباری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

اسی طرح لاہور پریس کلب میں 21 جون 2021 کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راوی ریور فرنٹ کے افتتاح  سے پہلے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے پاس نِجی شعبے کی طرف سے 171 رہائشی سیکمیں بنانے کی درخواستیں آئی تھیں لیکن "ہم نے ان کا جائزہ لے کر انہیں پسِ پشت ڈال دیا کیونکہ (چھوٹی چھوٹی سکیموں کے بجائے) حکومت ایک ایسا نیا شہر بسانا چاہتی ہے جو دبئی اور سنگا پور کی طرز پر عالمی معیار کی سہولیات سے مزین ہو اور  جس کی تعمیرات کا شمار دنیا کے چند ایک شاہکاروں میں ہو"۔

لیکن وقار امین شیخ پوچھتے ہیں کہ کیا لاہور کو واقعی ایک نئے شہر کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق لاہور کے مغرب، جنوب اور مشرق میں کئی ایسی رہائشی سکیمیں موجود ہیں جو کئی سال سے چل رہی ہیں لیکن ان میں اب بھی بہت سی زمین خالی پڑی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ 30 سال پہلے شروع ہونے والی جوہر ٹاؤن نامی سرکاری رہائشی سکیم کا ایک بڑا حصہ ابھی مکمل آباد نہیں ہوا۔ اسی طرح ان کے مطابق ایل ڈی اے ایونیو نامی سرکاری سکیم میں بھی بہت کم تعمیرات دکھائی دیتی ہیں حالانکہ اسے شروع ہوئے پندرہ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جبکہ فیروز پور روڈ، رائیونڈ روڈ اور شرقپور روڈ کے ساتھ واقع مختلف نِجی سکیمیں مجموعی طور پر صرف 30 فیصد سے 40 فیصد تک آباد ہیں۔

وقار امین شیخ کہتے ہیں کہ "اگر راوی ریور فرنٹ لاہور کے لوگوں کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لئے بنایا جا رہا ہے تو یہ کام تو پہلے سے موجود کسی بھی رہائشی سکیم میں کیا جا سکتا ہے اور اس کے لئے ایک لاکھ ایکڑ سے زائد زمین کی ضرورت بھی نہ ہوتی"۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ منصوبہ دراصل "صرف اونچے طبقے کو نوازنے کے لئے بنایا گیا ہے" حالانکہ ان کے مطابق "اس طبقے کی اگلے 40 سال کی رہائشی ضروریات بھی ڈی ایچ اے کی رہائشی سکیموں سے پوری ہو سکتی ہیں"۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو قانونی حیثیت دینے کے لئے پنجاب اسمبلی میں منظور کیا گیا قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ یہ اتھارٹی صرف عوامی مفاد کے حصول کے لئے سرکاری اور نِجی زمینیں حاصل کر کے ان پر رہائشی اور تجارتی منصوبے بنا سکتی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس قانون کی منظوری کے دوران اسمبلی میں اس بات پر کوئی بحث نہیں کی گئی کہ آخر عوامی مفاد کا کیا مطلب ہے اور آیا زمین حاصل کر کے اسے نجی کمپنیوں کی ملکیت میں دے دینا عوامی مفاد کے زمرے میں آتا ہے یا کچھ مخصوص لوگوں کے کاروباری مفاد کے زمرے میں۔ 

تاہم وقار امین شیخ کے بقول سیفائر بے کے لئے بولی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ راوی ریور فرنٹ کا عوامی مفاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ، ان کے مطابق، اس بولی کی شرائط کے تحت رہائشی اور تجارتی پلاٹوں کی وصولی قبول کر کے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس منصوبے کی نگران بننے کے بجائے اس میں حصہ دار کا کردار اختیار کر لیا ہے جو "قانونی اعتبار سے درست نہیں"۔

راوی ریور فرنٹ سے متاثر ہونے والے کسانوں کی ایک تنظیم کے رہنما میاں مصطفیٰ رشید بھی اسے سرمایہ کاروں کے مفاد کا منصوبہ سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کو جیل میں ڈال کر یا دھمکا کر اس منصوبے کے لئے ان کی زمینیں لی جا رہی ہیں لیکن "ایسے حربے کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ کسان اس منصوبے کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے اور کسی قیمت پر بھی اس کے لئے اپنی زمینیں نہیں دیں گے"۔

اختیارات کا تصادم

جب 2013 میں اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے دریائے راوی پر شہر بسانے کا منصوبہ بنایا تو انہوں نے اسے پایہِ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری ایل ڈی اے کے سپرد کی۔ تاہم دو اگست 2013 کو ہونے والا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس اس نتیجے پر پہنچا کہ ایل ڈی اے کے پاس اتنے مالی اور انسانی وسائل موجود نہیں کہ وہ اتنے بڑے منصوبے کو مکمل کر سکے۔ 

لیکن پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے 2019 میں ایک اعلامیہ جاری کیا کہ ایل ڈی اے ہی اس منصوبے پر کام کرے گی۔ اس اعلامیے کے جاری ہوتے ہی اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں کئی درخواستیں دائر ہو گئیں جن میں کہا گیا کہ ایل ڈی اے کا فریضہ تعمیراتی منصوبوں کے لئے ترقیاتی کام کرنا نہیں بلکہ اس کا فریضہ صرف ایسے منصوبوں کی نگرانی کرنا ہے۔ ان درخواستوں میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ ایل ڈی اے کو کسی تعمیراتی منصوبے کے لئے زمین حاصل کرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی اس کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی پر تعمیراتی اور ترقیاتی کام کر سکے۔   

ان اعتراضات کے باعث 2020 میں پنجاب حکومت نے راوی پر شہر بسانے کا کام ایل ڈی اے سے واپس لے لیا اور اس مقصد کے لئے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کر دی۔

لیکن وقار امین شیخ کے مطابق اس عمل میں بہت سی قانونی پیچیدگیوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ مثال کے طور پر لاہور شہر کا ماسٹر پلان بنانے کی ذمہ داری ابھی بھی ایل ڈی اے کے پاس ہے (جس پر آج کل کام بھی کیا جا رہا ہے)۔ اس کے باوجود راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ راوی ریور فرنٹ کی حدود میں آنے والے علاقے کا ماسٹر پلان خود بنائے گی اور اس میں ضرورت پڑنے پر تبدیلیاں بھی کرتی رہے گی۔

اسی طرح منصوبے کے اندر آنے والے جو علاقے شیخوپورہ ضلعے کی حدود میں واقع ہیں وہاں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اختیارات مقامی حکومتوں کے اختیارات سے براہِ راست متصادم ہوں گے۔ اس کی ایک واضح مثال27  اپریل 2021 کو سامنے آئی جب اتھارٹی نے محکمہ مقامی حکومت کے سیکرٹری کو ایک خط لکھ کر اسے مقامی حکومتوں کو یہ ہدایت کرنے کے لئے کہا کہ وہ منصوبے کی حدود میں آنے والے علاقے میں کسی رہائشی یا تجارتی سکیم پر کوئی کارروائی نہ کریں۔لیکن اس خط کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے جون میں اس پر عمل درآمد معطل کر دیا۔

متنازعہ تقرریاں

سیفائر بے کی بولی جیتنے والے جاودان کنسورشیم کے 51 فیصد حصص کراچی کے عارف حبیب گروپ کے پاس ہیں جس کے مالک عارف حبیب راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بانی ارکان میں شامل تھے تاہم عمران امین نے ڈان اخبار کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ بولی کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی عارف حبیب نے بورڈ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

لیکن اس بورڈ میں کراچی کی معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی ابھی تک موجود ہے حالانکہ وہ نیا ناظم آباد نامی ایک متنازعہ تعمیراتی منصوبے میں عارف حبیب کے شراکت دار ہیں۔ 

تاہم راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں اس طرح کے تنازعات کوئی نئی بات نہیں۔مثال کے طور پر اس کے پہلے چیئرمین انجینئر راشد عزیز نے کچھ ماہ پہلے اس وجہ سے استعفیٰ دے دیا کہ عمران امین کی چیف ایگزیکٹو کے طور پر تقرری سے وہ بے اختیار ہو کر رہ گئے تھے۔  

ایس ایم عمران کی اتھارٹی کے ترجمان کے طور پر تقرری بھی شروع سے متنازعہ رہی ہے کیونکہ وہ بیک وقت ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کی تقرری کے ناقدین کا سب سے اہم اعتراض یہ ہے کہ وہ دین پراپرٹیز نامی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں جو  زمینوں کی خرید و فروخت کا کام کرتی ہے۔ اس لئے کسی ایسے سرکاری ادارے میں ان کی تقرری مفادات کے واضح تصادم کی مظہر ہے جو اسی شعبے سے منسلک ہو۔

یہ بھی پڑھیں

postImg

دریائے راوی: 'حکومتی اداروں کی نااہلی نے اسے شہر کا سب سے بڑا کوڑے دان بنا دیا ہے'۔

ان کے بارے میں یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ ان کی تقرری محض ان کی قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر نہیں کی گئی بلکہ ان کے خاندان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کا بھی اس معاملے میں کچھ نہ کچھ عمل دخل ہے کیونکہ ان کے والد ایس ایم منیر گزشتہ 25 سال سے وزیرِ اعظم کی والدہ کے نام پر بنائے گئے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز میں شامل ہیں۔ ایس ایم منیر دین گروپ نامی صنعتی اور کاروباری ادارے کے سربراہ بھی ہیں جو دوسرے کاروبار کرنے کے علاوہ زمینوں کی خرید و فروخت اور تعمیر و ترقی کا کام بھی کرتا ہے۔ 

محمد مشتاق نامی ایک شہری کی جانب سے راوی ریور فرنٹ منصوبے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ایک درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایس ایم عمران نے ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین کے طور پر عمران خان کو ایک حالیہ اجلاس میں بتایا تھا کہ لاہور کے رقبے میں اضافے پر توجہ دینے کی بجائے یہاں بلند و بالا عمارات بنائی جانی چاہئیں۔ ان کی اس تجویز کے بعد دس مرلے سے لے کر ایک کنال تک کے پلاٹ پر بنائی جانے والی عمارت کی قانونی اونچائی کی حد بڑھا کر 48 فٹ مقرر کی گئی اور کئی دیگر عمارتی قوانین بھی تبدیل کئے گئے۔ لیکن درخواست گزار کے بقول اب وہی ایس ایم عمران راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کی حیثیت سے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس سے لاہور کے رہائشی رقبے میں ایک لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہو جائے گا۔

یہ رپورٹ لوک سجاگ نے پہلی دفع 14 جولائی 2021 کو اپنی پرانی ویب سائٹ پر شائع کی تھی۔

تاریخ اشاعت 14 اکتوبر 2021

آپ کو یہ رپورٹ کیسی لگی؟

author_image

تنویر احمد شہری امور پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایم اے او کالج لاہور سے ماس کمیونیکیشن اور اردو ادب میں ایم اے کر رکھا ہے۔

اگلے جنم مجھے خواجہ سرا نہ کیجیو: 'ٹرانس جینڈر قانون میں مجوزہ ترامیم نہ تو آئینی ہیں اور نہ ہی اسلامی'۔

راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے کسانوں کا احتجاج: 'ہماری زمینیں جعل سازی سے چھینی جا رہی ہیں'۔